میں لکھ کر دیتا ہوں کہ پاکستانی ریاست دہشت گردی کا خاتمہ نہیں چاہتی، یہ ریاست کی پالیسی ہے۔ اسی پالیسی سے ریاست کو اربوں، کھربوں روپے ملتے ہیں۔ لہٰذا گورنر راج اور ایمرجنسی محض بہانے اور ڈرامے ہیں۔ اصل مقصد عوامی اختیار، این ایف سی ایوارڈ اور اٹھارہویں آئینی ترمیم کو چھیڑنا، نئے انتظامی یونٹس اور نئے صوبے بنانا ہے۔
ایمل ولی خان
مرکزی صدر، اے این پی
#ANP | #AimalWaliKhan
پاکستانی سیاست میں منافقت کی انتہا دیکھ کر سیاست سے دل اٹھ جاتا ہےحکومت کو چھوڑیں تحریک انصاف میں ایسے ایسے منافق بیٹھے ہیں کہ فیصل واؤڈا کو اپنی ہی پارٹی کے خلاف پریس کانفرنس کرنے پر شاباش دیتے ہیں اور میڈیا پر تحریک انصاف کا دفاع کر رہے ہوتے ہیں جب انکے وارنٹ گرفتاری نکلتے ہیں تو فیصل واؤڈا کے پاس جا چھپتے ہیں
ایک دلچسپ واقعہ کا آنکھوں دیکھا احوال جب عمران خان نے وزیرداخلہ محسن نقوی کے ساتھ اڈیالہ جیل میں پرینک کھیلا جب وہ ان سے مذاکرات کررہے تھے؟
وزیرداخلہ محسن نقوی نے آج سینٹ میں پوری سنجیدگی سے اپنے تئیں عمران خان کی “غیرسنجیدگی” کا ایک دلچسپ واقعہ سنایا اور میں اس وقت پریس گیلری میں موجود تھا۔
چھبیس نومبر 2024 کو اڈیالہ جیل کا گیٹ کھلا۔ عمران خان نے بشری صاحبہ اور علی امین گنڈاپور اور عوام کے لیے ویڈیو ریکارڈ کرانی تھی جب وہ سب اسلام آباد سے باہر ہجوم کے ساتھ بیٹھے تھے۔ ڈیل کے تحت خان نے انہیں ڈی چوک جانے سے منع کرنا تھا۔
پہلے تو دو گھنٹے تک عمران خان نے ان سب کو انتظار کرایا اور پھر جب وہ ملے تو سرکاری فون کیمرہ آن ہوا تو کہا رکو ویڈیو بیرسٹر گوہر کے فون سے بنے گی۔
جب بیرسٹر گوہر کا کیمرہ آن ہوا تو خان نے پھر روک دیا۔ کہنے لگے ویڈیو پیغام یہاں نہیں وہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے کھڑے ہو کر ریکارڈ کرائیں گے۔
محسن نقوی صاحب اس پر بھی راضی ہوگئے اور عمران خان کو سلاخوں کے پیچھے لے جایا گیا۔ جب وہ سلاخوں پیچھے پہنچے اور کیمرہ آن ہوا تو پھر بولے رکیں۔
سب نے پوچھا اب کیا ہوا؟
عمران خان نے کہا آج ویڈیو ریکارڈ نہیں کراتے کل کرائیں گے۔
مکمل تفصیلات
👇
https://t.co/ePWjydgmZ5
پاکستانی سیاست میں کردار بدل جاتے ہیں کہانی نہیں بدلتی شہباز شریف چند سال پہلے گورنر راج لگانے پر صدر زرداری کو ڈاکو قرار دیا کرتے تھے اور تحریک انصاف پیپلز پارٹی کو گورنر راج کی دھمکیاں دیا کرتی تھی آج تحریک انصاف گورنر راج کی مخالف اور شہباز شریف حامی بن چکے ہیں 🙃
مزاحمت کرنے کی وجہ سے سہیل آفریدی کو وزیراعلیٰ بنایا گیا۔ سہیل آفریدی کو اپنے مینڈیٹ کا پتا ہے۔ وہ کبھی بھی اپنی وزارتِ اعلیٰ کو نہیں بچائیں گے، بلکہ اسے لات مار کر اپنی سیاست کو بچائیں گے، اور ان کی سیاست عمران خان سے جڑی ہے۔
عمران خان مزاحمت کرنا چاہتے ہیں، اس لیے سہیل آفریدی بھی مزاحمت کریں گے۔
سہیل آفریدی کو کرسی کے لیے ڈرانا، دھمکانا ب فضول ہے۔
مجبوراً ہمیں یہ کرنا پڑا ۰۰۰۰ ویر داخلہ محسن نقوی
مجبوری؟
جی ہاں مجبوری تھی کہ ہم عمران خان سے ایک ملاقات نہیں کرا
سکتے تھے اور اس لئیے صوبے کے عوام کا مینڈیٹ چوری کرنا پڑا
دل ہی کٹ گیا یہ خبر سن کر 🥲🥲
ایک ہونہار بچی جس نے گولڈ میڈل کیا باپ دودھ بیچتا وہ بیرون ملک پڑھنے جانا چاہتی تھی کسی کنسلٹنٹ نے 70 لاکھ مانگے پلاٹ اور ماں کا زیور بیچ کر رقم اکھٹی کی مگر فراڈ ہو گیا بچی نے دل برداشتہ ہو کر خودکشی کر لی
اللہ رحم کر 🙏🥲
کیمرہ،مشہوری،دولت اور اسٹارڈرم سنبھالنا ہر ایک کے بس کی بات نہیں ہے۔ کیمرہ آپ کا دماغ خراب کر دیتا ہے۔کسی نے سیلفی لے لی تو اپن ہی بھگوان والی فیلنگز آنا شروع ہوجاتی ہے۔حیرانی ہے نانا پاٹیکر نے کیسے سب کچھ ہینڈل کیا؟ اس دن کی کہانی جب ایک ہی مزاج کے دو لوگ ٹکرے تو پھر کس ٹریجڈی نے جنم لیا۔۔؟
👇
https://t.co/1hVwXdstd5 via @YouTube@NeoNewsUR@fawadnb@NasrullahMalik1@nanagpatekar #NanaPatekarSaab
وہ جو پیٹرول کی رعایت دی تھی اس کے خاتمے کی شرط پر حکومت نے آئی ایم ایف سے ڈیل کر لی ہے
مزید قرضے کے لیے عوام کو دی سہولت ختم کر دیں گے
فرعون صفت تجربہ کار حکومت
میرا کالم/رئوف کلاسرا
بندر،کھوتا اور عوام
ایک چیز کی داد دیں کہ ہمارے افسران اور حکمران نہ صرف ہر قسم کے حالات میں لوگوں کی جیبوں سے پیسہ نکلوانے اور خود اپنی چونچ گیلی کرنے کے فن میں ماہر ہو چکے ہیں بلکہ الٹا عوام کو بدنام بھی کرتے رہتے ہیں کہ لوگ ٹیکس نہیں دیتے۔
موٹر وے پر چھ سالوں میں 179 ارب روپے (سالانہ تیس ارب روپے) ٹیکس اکٹھا کرنے کے باوجود کہتے ہیں کہ لوگ ٹیکس نہیں دیتے۔
حکایت ہے کہ ایک گھر میں گدھا اور بندر تھے۔ رات کو بندر کچن میں جا کر آٹا کھا جاتا اور واپسی پر کچھ آٹا لا کر گدھے کے منہ پر مَل دیتا۔اگلی صبح مالک گدھے کے منہ پر آٹا لگا دیکھ کر اس کی ٹھکائی کرتا۔
یہی کچھ عوام کے ساتھ ہو رہا ہے۔ سیاستدان‘ وزیر اور افسران ہمارے اربوں روپے کھا پی کر ہمارے منہ پر آٹا مَل دیتے ہیں کہ یہ ٹیکس نہیں دیتے اور روز ٹھکائی کرتے ہیں۔
مکمل کالم
👇
https://t.co/HsGP0AtB3F
🚨مہران یونیورسٹی جامشورو کے سابق وائس چانسلر سید مظفر علی شاہ کی بیوی یتیم خانے میں وفات پا گئیں
ایک بیٹا فخر علی شاہ امریکہ سے تعلیم یافتہ ہے ایک بیٹی ڈاکٹر ہے اور دوسری بیٹی فرح ناز فیصل بینک کی وائس پریذیڈنٹ ہے دوسرا بیٹا قلندر علی شاہ کاروبار زمینیں اور باغات سنبھالتا
بھانجے طلحہ پٹھان نے علاج کے بہانے انہیں ٹنڈو جام لے جا کر یتیم خانے میں چھوڑ دیا جہاں وہ سات مہینے اپنی اولاد کے انتظار میں راہیں تکتے تکتے وفات پا گئیں ہیں
اتنی پڑھی لکھی اور بڑے عہدوں پر فائز اولاد ہو اور ماں لا وارثی میں یتیم خانے میں مرے تو ایسی اولاد کو "ڈوب. مر جانا چاہیے
ایسی دنیا کی پڑھائی ایسی دولت ایسی مصروفیت ایسی زندگی اور ایسی اولا پر افسوس کہ جس کے حاصل ہونے کے باوجود انسان انسانیت سے گر جائے
یہ ان ماں باپ کے لیے سبق ہے جو بچوں کو دنیا کی پڑھائی کے لیے امریکا یورپ اسٹریلیا دنیا کے کونے کونے میں میں کہاں کہاں نہیں بھیجتے اور دین کی تعلیمات سے دور اور محروم رکھتے ہیں تو آخری میں پیرنٹس کا یہ انجام ہوتا ہے 😢
ورلڈ بنک نے پاکستان کو سائوتھ ایشیا سے نکال کر مڈل ایسٹ اور نارتھ افریقہ کے ساتھ ملا دیا۔ ساری رپورٹ خلط ملط ہوگئی لیکن پاکستان کی غربت کا برا حال ہے۔ ہر چوتھا پاکستانی تین ڈالر کی غربت کا شکار ہے اور ہر دوسرا پاکستانی چار ڈالر کی غربت کا شکار ہے۔
بھارتی ایکٹر نانا پاٹیکر کی موت کا سن کر افسوس ہوا ہے۔ انہیں برسوں سے فلموں میں دیکھتے اور سراہتے آئے۔ مجھے یاد نہیں پڑتا ان کی کوئی فلم مس کی ہو۔
میں نے ان کی پہلی فلم “پرہار”دیکھی تھی اور پھر کبھی کوئی فلم مس نہ کی۔ وہ ایک born actor تھے۔
شاید وہ پہلے اداکار تھے جنہوں نے اس متھ کو بریک کیا کہ فلمی ہیرو/مرکزی اداکار کو خوبصورت ہونا چاہیے۔ انہوں نے ثابت کیا اگر آپ کے اندر جان ہے تو ایوریج پرسنلٹی /چہرے کے ساتھ بھی بڑا ایکٹر بنا جاسکتا ہے۔ انہوں نے اداکاری کے زور پر خود کو منوایا خوبصورتی سے نہیں۔
کبھی نہ لگا وہ ایکٹنگ کررہے ہیں بلکہ ہمیشہ لگا یہ حقیقی زندگی کا کوئی کردار ہمارے سامنے سکرین پر فر فر بول رہا ہے۔ ہمارے ہاں اکثر اداکار یا عام لوگ شروع میں camera shy ہوتے ہیں لیکن نانا پاٹیکر کے کیس میں مجھے یوں لگتا ہے جب وہ بولنا شروع کرتے ہوں گے تو شاید کیمرہ بھی ان کے سامنے گھبرا جاتا ہو ۔
ان کا فطری جارحانہ انداز ہمیشہ دلوں کو بھایا۔ وہ سکرین پر بھی سادہ /عام انسان لگتے تھے جو پوری دنیا سے ظلم کے خلاف لڑنے کے لیے نکلا ہے اور شاید حقیقی زندگی میں بھی۔
ان کی بعض سین میں طنزیہ مسکراہٹ اور غصہ دلاتے قہقے الگ سے فلم کو چار رنگ لگاتے تھے۔
پرہار، پرندہ، کرانتی ویر، یشونت، غلام مصطفے، ویلکم جیسی فلموں میں ان کے کردار لازوال رہے۔ امیتابھ بچن کے بعد وہ فلموں میں ایک ایسے اینگری مین بن کر ابھرے جن کے منہ سے سکرین پر شعلے نکلتے محسوس ہوتے تھے۔ آپ کو انہیں سنتے ہوئے goosebumps محسوس ہوتے تھے۔ آپ کے اندر ایک انرجی سی بھر جاتی۔ ایک بڑا اداکار رخصت ہوا جس کی اداکاری نے سب کو متاثر کیا۔
May he rest in peace.
#nanapatekar
بالی وڈ کے لیجنڈ اداکار نانا پاٹیکر انڈیا کے شہر گووا میں 75 برس کی عمر میں وفات پا گئے ۔۔۔۔لیکن ان کے کچھ ڈائیلاگ ہر دور کے حالات پر فٹ آتے ہیں ۔۔۔
زرا ان مکالموں کو سنئیے
ایک طرف ہم پاکستان کی سفارتی کامیابیوں اور میزائل پاور پر بڑا فخر کرتے ہیں دوسری طرف عالمی بنک کی ایک تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان خطے کے اُن ممالک میں شامل ہے جہاں خط غربت سے نیچے افراد کی تعداد میں بہت اضافہ ہو چکا ہے اور خطے کے غریب ترین افراد کی تعداد میں سے 48 فیصد پاکستان میں رہتے ہیں
3 لاکھ زرعی قرض ادا نا کرنے پر سرگودھا میں 80 سالہ بزرگ کو ہتھکڑیوں میں جکڑ کر گرفتار کر لیا گیا جبکہ اس ملک میں اربوں روپے کے ڈیفالٹر آزاد گھوم رہے ہیں اُنکو عدالتیں بھی ریلیف دیتی ہیں جبکہ غریب کے لیے کوئی ریلیف نہیں