عمران خان کا stress management کے بارے میں الفاظ سنیں!!
اللہ تعالیٰ نے عمران خان جیسا مظبوط لیڈر چنا ہے, 25 کروڑ پاکستانیوں کے مستقبل سنوارنے کے لیے!!🙏
سخن طواف میں ہے بالعموم اُس کے گِرد
مچی ہوئی ہے مِری ساری دھوم اُس کے گِرد
کمال شخص تھا وہ مجھ سے اِس طرح ہارا
کہ میں اکیلا کھڑا تھا ہجوم اُس کے گِرد
نعیم ضرار
جب میری حکومت گرائی گئی تو سب سے زیادہ خوشیاں اسرائیل اور بھارت میں منائی گئیں تھیں، میری حکومت گرا کر اسرائیل اور بھارت کا فائدہ کیا گیا۔ سابق وزیر اعظم عمران خان
#FascismUnderAsimLaw#RegimeChangeInPakistan
https://t.co/0VGOEPSsru
#سالگرہ_مبارک_قیدی_نمبر_804!
پوری قوم عزم و استقلال کی علامت، جابر کے سامنے ڈٹ جانے والے اپنے عظیم لیڈر عمران خان کو سلام پیش کرتی ہے۔ سالگرہ مبارک پیارے کپتان، دُعا ہے کہ آپ جلد اپنی قوم کے درمیان واپس لوٹ آئیں، آمین!
میں نو سال کا تھا تو لاہور سٹیڈیم میں ٹیسٹ میچ دیکھنے گیا- میں نے ��الدہ کو کہا میں ٹیسٹ کرکٹر بننا چاہتا ہوں-
پھر جب ٹیسٹ کرکٹر بنا تو میں پاکستان کو بہترین ٹیم بنانا چاہتا ہوں- وہ بھی بنا کر دکھایا-
#سالگرہ_مبارک_قیدی_نمبر_804 #HappyBirthdayImranKhan
پاکستانیوں کا لیڈر صرف عمران خان ہے ۔۔۔۔ نہ خان صاحب کا کوئی نعم البدل ہے نہ ہوگا ✌
نہ سر جھکا کر جیے، نہ منہ چھپا کر جیے،
ہم ستم گروں کی نظروں سے نظریں ملا کے جیے،
راہ حق میں ایک دن کم بھی جیے تو کیا ہوا،
مگر ساتھ تو ان کے ہیں، جو سر اٹھا کے جیے،
عمران خان - پاکستان کا ناقابل شکست ہیرو!
وہ کرکٹر، جس نے 1992 میں ایک خواب کو حقیقت بنایا،
وہ محسن، جس نے شوکت خانم کے ذریعے غریبوں کے زخموں پر مرہم رکھا،
وہ وزیرِاعظم، جس نے ظالم کے سامنے کلمہِ حق بلند کیا اور پاکستان کے وقار کو دنیا میں سر بلند کیا۔
آج وہ قیدی نمبر 804 ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ لوہے کی سلاخیں ان کے حوصلے کو قید نہیں کر سکتیں۔
ان کا وژن زندہ ہے، ان کا حوصلہ قائم ہے، اور اللہ پر ایمان ناقابلِ شکست ہے۔
یہ خراج ہے اس مردِ مومن کو، جو صرف ایک لیڈر نہیں، بلکہ امتِ مسلمہ کی آواز ہے،
امن کا پیامبر ہے، اور پاکستان کی اصل پہچان ہے۔
عمران خان کی زندگی کا ہر باب لہو، محبت اور ایمان سے لکھا گیا ہے۔
یہ تحریک اُس وقت تک نہیں رُکے گی جب تک خوابِ پاکستان مکمل نہ ہو جائے۔
#HappyBirthdayImranKhan —
ہمارے دلوں کے کپتان، ہماری نسلوں کے رہنما!
“مجھے بار بار ڈیل آفر ہوئی اور کہا گیا کہ ملک چھوڑ کر چلا جاؤں یا خاموش ہو جاؤں تو میرے کیسز ختم کر دئیے جائیں گے، لیکن پہلے دن سے میرا موقف ہے کہ میں ان مقدمات کا سامنا عدالتوں سے کر کے ہی باہر آؤں گا کسی ڈیل کے نتیجے میں ہرگز نہیں۔ اسی لیے مجھ پر بے بنیاد 300 ��قدمات بنائے گئے ہیں۔ کوئی بھی اور شخص ہوتا تو ان مقدمات کا سامنا نہیں کر پاتا لیکن میں جانتا ہوں کہ میں بے گناہ اور حق پر ہوں۔
اب توشہ خانہ کا جھوٹا کیس بھی مکمل طور پر زمین بوس ہو چکا ہے۔ پراسیکیوشن کی جانب سے پیش کیے گئے گواہان برگیڈیر احمد اور کرنل ریحان نے اقرار کیا ہے کہ توشہ خانہ کے تحفے میرے گھر نہیں گئے بلکہ توشہ خانہ میں جمع کروائے گئے اور ان کے کاغذات مکمل ہیں۔
اب اس مقدمے میں ایک دن میں بریت ہو جانی چاہیئے، خصوصی طور پر بشرٰی بیگم کی ضمانت تو ہو جانی چاہیئے کیونکہ وہ خاتون ہیں اور اس کیس میں ان پر aiding and abetting کا ہی جھوٹا الزام ہے۔
مجھے معلوم ہے کہ چھبیسویں ترمیم والی عدالتیں اوپر سے لکھے لکھائے فیصلے ہی سناتی ہیں جو قانون کے مطابق نہیں عاصم لأ کے مطابق ہوتے ہیں۔ ترتیب بھی یوں رکھی جائے گی کہ پہلے توشہ خانہ 2 میں سزا سنائی جائے گی پھر القادر میں ضمانت کا فیصلہ آئے گا۔ یہی سکرپٹ ہے اور عدلیہ فی الحال قانون کے بجائے سکرپٹ پر ہی چل رہی ہے”
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں اہل خانہ اور وکلأ سے گفتگو(24 ستمبر، 2025)
2/2