ہر چند اختلاف کے پہلو ہزار تھے
وا کر سکا مگر لبِ گویا نہ تُو نہ مَیں
نوحے فصیلِ ضبط سے اونچے نہ ہو سکے
کھل کر دیارِ سنگ میں رویا نہ تُو نہ مَیں
خالد احمد~
اِک گھڑی اور ٹھہر __کہ جاں باقی ہے
شب کےچہرے پہ چڑھا رنگ سویرے کا، تو کیا؟
ڈھلتے خوابوں میں ابھی اپنا جہاں باقی ہے
یوں بچھڑ کے تُو مجھ سے، نہ سزا دے خود کو
ابھی ہاتھوں سے تیرے ، جرم و گناہ باقی ہے
کِھلتے پھولوں کا فسانہ تو بس، بہانہ تھا
بُجھتے شعلوں کی داستاں ابھی باقی ہے
شاید زندگی سے
میرا رشتہ کچھ کمزور پڑ گیا ہے
بہت دنوں سے ہم ایک دوسرے سے الجھے نہیں
دیر تک جاگنے کی عادت نے
مجھے اتنا بوجھل کر دیا ہے
کہ تازہ دم ہونے کے لیے سوچتا ہوں
کیوں نا
زندگی کو کچھ جنموں کے لیے ملتوی کر دوں
انجم سلیمی~
اُبھر رہا ہوں میں سطح عدم سے نقش بہ نقش
تری ہی جلوہ گری ہوں ذرا اُجال مُجھے
یہاں تو حَبس بہت ہے سو گرد بادِ جنوں
مدار وقت سے باہر کہیں اُچھال مُجھے
عرفان ستار
زندگی پاؤں نہ دَھر جانبِ انجام ابھی
مرے ذمے ہیں ادُھورے سے کئی کام ابھی
اِک نظر اور اِدھر دیکھ مسیحا میرے
ترے بیمار کو آیا نہیں آرام ابھی
رات آئی ہے تو کیا ، تم تو نہیں آئے ہو
مری قسمت میں کہاں لِکھا ہے آرام ابھی
عدیم ہاشمی
تُو ملا ہے تو یہ احساس ہوا ہے مجھ کو
یہ مری عمر محبت کیلئے تھوڑی ہے
اک زرا سا غمِ دوراں کو بھی حق ہے جس پر
میں نے وہ سانس بھی تیرے لئیے رکھ چھوڑی ہے
پیار کا بن کے نگہبان تجھے چاہوں گا
میں تو مر کر بھی مری جان تمہیں چاہوں گا