علیمہ خان کا آج کا سب سے زیادہ ضروری بیان 🚨
اگر اب بھی ہم نہ نکلے اور عمران خان کو باہر نہ نکالا تو یہ اسے ختم کر دیں گے۔۔۔
ہم کس چیز کا انتظار کررہے ہیں۔۔۔؟
رپورٹر: کیا آپ نیتن یاہو کو گرفتار کرنے کے حوالے سے سنجیدہ ہیں؟
ممدانی: جی ہاں، سو فیصد
رپورٹر: ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایسا نہیں کریں گے۔
ممدانی: ان کے خلاف جنگی جرائم کا وارنٹ موجود ہے، ہو سکتا ہے ٹرمپ انہیں بچا لیں، لیکن میں ایسا نہیں کروں گا۔
علی محمد خان ہر روز شیروانی استری کروا کے، بالوں کو جیل لگا کے، تسبیح ہاتھ میں پکڑ کے ایم این اے کی سیٹ پہ بیٹھ جاتے ہیں۔
جو کام علی محمد خان جیسے لوگوں کو کرنا چاہئیے تھا وہ علیمہ خان اکیلی کر رہی ہیں
مطیع اللہ جان کی گفتگو 🔥
🚨 ہار ماننا تاریخ نہیں، بانی پی ٹی آئی کی رہائی اور بنیادی حقوق کی بحالی تک مزاحمت ہمارا حق ہے! 🚨
جب ظلم حد سے بڑھتا ہے، تو مٹ جاتا ہے... لیکن جب غیرت مند قومیں اپنے حقوق کے لیے کھڑی ہوتی ہیں، تو تاریخ کا رخ بدل جاتا ہے!
بانی پی ٹی آئی صرف ایک سیاسی جماعت کے سربراہ نہیں، بلکہ اس ملک کی خودداری، حقیقی آزادی اور قانون کی بالادستی کی علامت ہیں۔ انہیں دیوار سے لگانے اور قید میں رکھنے کی ہر کوشش ناکام ہوگی، کیونکہ سچائی اور عوام کی طاقت کو کبھی مغلوب نہیں کیا جا سکتا۔
🔥 ہماری جدوجہد کے بنیادی مطالبات اور مزاحمت کے مقاصد:
فوری اور باعزت رہائی: تمام سیاسی اور بے بنیاد مقدمات کو ختم کر کے بانی پی ٹی آئی کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔
طبی حقوق اور ذاتی معالجین تک رسائی: بانی پی ٹی آئی کی صحت پر کوئی سمجھوتہ قبول نہیں۔ حکومت کو فوری طور پر ان کے ذاتی معالجین (Personal Doctors) کو ان سے ملنے اور مکمل معائنے کی اجازت دینی چاہیے۔
آنکھوں کے علاج کی فوری فراہمی: بانی پی ٹی آئی کی آنکھ کے علاج کے حوالے سے لاپرواہی برتنا سراسر ناانصافی ہے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ان کی مرضی کے ڈاکٹرز سے ان کی آنکھ کا فوری اور تسلی بخش علاج کروایا جائے، یہ ان کا بنیادی قانونی اور انسانی حق ہے۔
اصولوں کی بقا کے لیے: مفاہمت کا مطلب اپنے بنیادی بیانیے کا سودا کرنا ہے، اور بانی پی ٹی آئی نے ہمیشہ سکھایا ہے کہ مصلحت کے آگے سر نہیں جھکانا۔
آئین کی بالادستی کے لیے: یہ جدوجہد پاکستان میں قانون کے احترام، ووٹ کی عزت اور آئین کی حکمرانی کے تحفظ کے لیے ہے۔
عوامی مینڈیٹ کا دفاع: عوام کے فیصلے پر ڈاکہ ڈالنے والوں کے خلاف مستقل، پرامن اور بے خوف آواز اٹھانا ہی حقیقی جمہوریت کی بنیاد ہے۔
"حقیقی آزادی نہ تو مانگنے سے ملتی ہے اور نہ ہی مصلحتوں کی پلیٹ میں رکھ کر دی جاتی ہے۔ یہ چھیننی پڑتی ہے، اور اس کا واحد راستہ آئینی حدوں میں رہتے ہوئے پرامن اور بے خوف مزاحمت ہے۔"
📢 ہمارا عہد:
جب تک بانی پی ٹی آئی کو باعزت رہا نہیں کیا جاتا، ان کے علاج معالجے کے بنیادی انسانی حقوق بحال نہیں ہوتے، اور عوام کے حقیقی مینڈیٹ کو تسلیم نہیں کیا جاتا، ہمارا آئینی اور سیاسی احتجاج جاری رہے گا۔ ہم قانون کی بالادستی کی اس جنگ میں نہ جھکنے والے ہیں اور نہ ہی پیچھے ہٹنے والے ہیں!
علیمہ خانم جتنی ایکٹو ہوں گی تحریک انصاف کی دستیاب لیڈر شپ اتنی ایکسپوز ہو گی۔۔ مرکزی حکومت اور اسٹییبلشمنٹ کے لیے علیمہ بی بی کوئی خطرہ ہوں یا نہ ہوں۔۔عمران خان کے نام پر ووٹ کے کر اسمبلیوں میں مراعات کے بل پاس کروانے اور سرکاری گاڑیوں والوں کے کیے خطرہ ضرور بن جائیں گی۔
عمران خاں کی رہائی ملک کے بہترین مفاد میں ہے۔بلوچستان اور کشمیر میں لگی آگ وہی بجھا سکتا ہے۔افغانستان کے ساتھ مصالحت اور ایران سے مراسم میں گہرائی کا امکان جنم لے گا۔عرب دنیا، ترکیہ۔اور بنگلہ دیش میں غیر معمولی مقبولیت ۔حکومتیں اس کا احترام کریں گی۔امریکہ سمیت مغرب کو اس کی بات سننا ہو گی کہ لیڈر نہیں اب وہ ایک اساطیری شخصیت ہے۔
ویسے میں پارٹی معاملات میں دخل اندازی نہیں کرتا لیکن میرا خیال ہے جس جس کو علیمہ خان صاحبہ کی سٹریٹ موومنٹ سے پریشانی ہو اسے فوری پارٹی چھوٹ دینی چائیے اور گھر پر ریسٹ کرنا چاہیے. جب کوئی اور کچھ نہیں کر پا رہا پھر بہنوں نے تو اپنے بھائی کو بچانا ہی ہے.