پولیس والوں نے میرے پاپا کو میرے سامنے چھت سے نیچے گرا کر مار دیا۔ 5 سالا بچے نے مبینہ طور پر پولیس والوں پر پاکستان۔ کی تاریخ کا سب سے دردناک الزام لگا دیا، اس ویڈیو میں کہے گئے بچے کے الفاظوں میں کتنی حقیقت ہے یہ اللہ کی زات جانتی ہے لیکن بچپن سے سنا ہے بچے من کے سچے ہوتے ہیں اس واقعے کے بعد باقاعدہ پولیس افسران کے خلاف درخواست جمع ہو چکی ہے اللہ پاک ملک پاکستان پر رحم فرمائے آمین 🤲🤲
@kashmirupdating او بھائی خدا کا واسطہ ہے پنجابی مزدوروں کو جس طریقے سے بی ایل اے والو نے قتل کیا ہے ان کی تو ویڈیوز ائی ہیں اس میں تو کوئی جھوٹ نہیں تھا خدا کا واسطہ ہے تم مے اتنا بغض کیوں ہے 😡
سرگودھا منتھا کیس میں جو لڑکا سی سی ڈی کی جانب سے مارا گیا تھا
اسکا ڈی این اے میچ نہیں ہوا وہ بےگناہ قتل کردیا گیا ۔۔
اصل مجرم سیاسی شخصیت اور اعلی سرکاری عہددار کی ہشت پناہی حاصل ہونے کے باعث ابھی تک دندناتے پھر رہے ہیں ۔۔
@Aadiiroy2@Aladeen_Pro@ARYNEWSOFFICIAL
بااثر افراد کی طرف سے زیادتی کرنے کی شکایت پر ملزمان نے بچے کو زندہ دفن کر دیا
😡😡🥺😥🙏🙏
سرگودھا:12/13سالہ بچہ غلام رسول ولد مظہر قوم ماچھی کل سے لاپتہ تھا۔
بچے کو ہوش آنے پر اس کے رونے کی آوازیں سن کر قریب کھیت میں موجود لوگوں نے پولیس کو اطلاع دی۔
ذرائع
بچے کوطبی امداد کے لیے ڈسٹرکٹ ہسپتال سرگودھا منتقل کردیا گیا
ملزم کی گرفتاری کے لیے پولیس کا چھاپہ تاحال گرفتار نہ
ہوسکا
چند روز قبل بچے نے زیادتی کی گئی
شکایت پر ملزمان نے بچے کو زندہ مٹی میں دفن کر دیا۔
ایس ایچ او جھال چکیاں
لواحقین کی طرف سے درخواست پر سخت کارروائی کی جائیگی۔ پولیس
🚨مجھ پر ظلم کرتے ہیں، یہاں مجھے کیڑے مکوڑے کاٹتے ہیں۔
لاہور کی ایک معروف نجی سوسائٹی میں مالک مکان ملازمہ کو گھر کے اندر بند کر کے چلا گیا۔ رات گئے اس کے جانے کے بعد گھر میں سے آوازیں باہر آئیں کہ مجھ پر ظلم کرتے ہیں، یہاں مجھے کیڑے مکوڑے کاٹتے ہیں۔ اہلِ علاقہ نے چیخوں کو سن کر مشکل سے بچی کو گھر سے نکال لیا۔
اللّٰہ معاف کرے اس معصوم بچی کی چیخیں کس کرب اور اذیت سے ہوں گی جس کو ایسے حالات میں رکھا گیا۔ ہمارے معاشرے کا ایک بہت بڑا المیہ ہی کہہ لیں کہ ہم سامنے والے غریب کے بچے کو انسان نہیں سمجھتے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ جیسے کیڑے مکوڑے جانتے ہیں کہ یہ غریب ہیں انہیں نہیں کاٹنا یا پھر ان کو اگر کسی نے کاث بھی لیا تو کُچھ نہیں ہو گا۔
یہی نام نہاد چند پیسے والے لوگ اپنے بچوں کا کتنا خیال کرتے ہیں آپ نے اردگرد دیکھا ہی ہو گا۔ یہ ظلم ہے، یہ بچے بھی اسی طرح نازک ہیں جیسے آپ کے بچے ہیں۔ اگر اس دنیا میں یہاں سے بچ بھی نکلے تو اگلے جہان میں اس رابِ ذوالجلال کی عدالت میں پیش ہونا ہو گا جس کے ہاں سب برابر ہیں۔ کسی گورے کو کالے پر برتری حاصل نہیں ہے۔ وہاں پھر حساب دینا ہی پڑے گا۔
خدا کاواسطہ ہے مجھے چھوڑ دو ۔۔تمھیں اللہ کاواسطہ ہے مجھ پر رحم کھاو ۔۔ میں منٹ کر رہی ہوں ۔۔ مگر ظالمو نے اک نہی سنی ۔اور اپنی ح و س کا نشانہ بنا ڈالا۔۔
وہ کانپتے ہاتھ جن کی دعا آسمان تک تو پہنچی مگر زمین پر کسی نے انکی سنی ۔۔
ایک ماں کے کانپتے ہوئے ہاتھ کیا ہوتے ہیں؟ وہ ہاتھ جو صبح سویرے اٹھتے ہیں اپنے بچوں کا پیٹ بھرنے کے لیے، وہ ہاتھ جو اینٹوں کے بھٹے کی آگ میں جھلستے ہوئے بھی نہیں رکتے، وہ ہاتھ جو رات کو سوتے بچوں کے ماتھے پر پیار سے رکھے جاتے ہیں اور وہ ہاتھ جو اس روز اللہ کی طرف اٹھے تھے، بار بار اٹھے تھے، لرزتے کانپتے ہوئے اٹھے تھے، مگر درندوں کو کوئی خوف نہ آیا، کوئی رحم نہ جاگا۔
لاہور کے گجرپورہ میں ایک غریب مزدور عورت اپنے پسینے سے اپنے بچوں کا رزق کماتی تھی۔ وہ عورت جسے معاشرے نے کبھی پوچھا نہیں، جسے سیاست کے گلیاروں نے کبھی نہیں دیکھا، جس کا نام کسی طاقتور کی فہرست میں نہیں تھا، آج اس عورت کی چیخیں پوری انسانیت کے ضمیر کو جگا رہی ہیں۔
تین اوباشوں نے اسے زبردستی کھیتوں میں گھسیٹ لیا۔ اور جب وہ بار بار کہتی رہی کہ اللہ کے واسطے مجھے چھوڑ دو، اللہ کے واسطے، تو ان درندوں نے اس واسطے کی بھی پرواہ نہ کی۔ ظلم ڈھایا اور پھر اس ظلم کی ویڈیو بنا کر اسے ہمیشہ کے لیے زنجیروں میں جکڑ دیا۔
یہ ویڈیو ایسی ہے تکلیف دہ ہے کس طرح سے عورت منٹ سماجت کر رہی ہوتی اس کے ہونٹ کانپ رہے ہوتے ہیں کبھی کسی کے پاوں مپر ہاتھ لگا رہی تھی تو کبھی کسی کے ۔
یہ ویڈیو خود نہ صرف جرم کا ثبوت ہے بلکل اس پورے نظام کا منہ بولتا ثبوت ہے جو غریب کو ہر روز پیس کر رکھ دیتا ہے اور طاقتور کو ہر روز آزاد چھوڑتا ہے۔
جب ایک صحافی خاتون نے اس مظلوم سے پوچھا کہ وہ کیا چاہتی ہے تو اس نے جو کہا وہ کوئی جملہ نہیں تھا، وہ ایک پورے معاشرے کے منہ پر طمانچہ تھا۔ اس نے کہا کہ میں انہیں معاف کرنا چاہتی ہوں۔
یہ معافی نہیں تھی۔
یہ ایک ایسی عورت کی بے بسی تھی جو جانتی ہے کہ اس کے پاس لڑنے کے لیے نہ پیسہ ہے نہ اثر و رسوخ، نہ کوئی سفارشی نہ کوئی وکیل۔ اس کا شوہر ذہنی طور پر معذور ہے، گود میں ڈیڑھ سال کا بچہ ہے اور سینے میں ایک ایسا زخم ہے جو کبھی نہیں بھرے گا۔
اس نے کہا کہ میری عزت واپس نہیں آ سکتی۔
اس نے کہا کہ میرے ساتھ کوئی نہیں ہے۔
جب ایک ماں یہ جملہ بولتی ہے تو سمجھ لو کہ پورا معاشرہ اپنی آزمائش میں ناکام ہو چکا ہے۔
این اے ایک سو بیس اور پی پی ایک سو اکاون کے نمائندو، آپ عوام کے ووٹوں پر اسمبلیوں تک پہنچے ہو۔ شاید اس عورت نے آپ کو ووٹ نہیں دیا، شاید اسے ووٹ کی طاقت کا علم بھی نہ ہو، مگر وہ آپ کے حلقے کی ایک بیٹی ہے اور آج وہ تنہا کھڑی ہے۔
کیا آج آپ اس کے ساتھ کھڑے ہو سکتے ہیں؟
یہ گجرپورہ کی زمین کا المیہ ہے کہ چند سال پہلے سیالکوٹ موٹروے پر بھی یہاں کے قریب ایک ماں کو اس کے بچوں کے سامنے ظلم کا نشانہ بنایا گیا تھا، مناواں میں ایک معذور خاتون کو ایک وردی پوش نے درندگی کا نشانہ بنایا اور آج پھر وہی کہانی، وہی درد، وہی بے بس عورت، وہی خاموش نظام۔
آخر کب تک؟
آخر کب تک اس خطے کی سڑکیں اور کھیت عورتوں کے خوف کی علامت بنتے رہیں گے؟
جو خوف ان درندوں کے دلوں میں ہونا چاہیے تھا، وہ خوف آج معصوم عورتوں کے دلوں میں ہے۔ یہ ترتیب بدلنی ہوگی۔ قانون کو اتنا مضبوط اور اتنا تیز ہونا چاہیے کہ کوئی ملزم ظلم کی ویڈیو بنانے سے پہلے اپنے انجام کو یاد کرے اور ہر درندہ یہ جان لے کہ اس کا کوئی رشتہ دار، کوئی سفارشی، کوئی جیب میں رکھا نوٹ اسے اس آگ سے نہیں بچا سکے گا۔
اور کوئی ماں یہ جملہ نہ بولے کہ میرے ساتھ کوئی نہیں ہے۔
کیونکہ اگر ایک بھی ماں یہ جملہ بولے تو ہم سب ناکام ہیں ہمارا معاشرہ ناکام ہے، ہمارا نظام ناکام ہے اور ہم سب اس ناکامی کے حصہ دار ہیں۔