سندھ میں کوئی سڑک ٹوٹی ہوئی نہیں ہے یہ تو پیرس کی ایک سڑک ہے۔
شارہ بھٹو کے ساتھ کچے کا روڈ ہے اور یہاں بھی کراچی جیسے شہر میں کچے کے ڈاکوؤں
کا راج ہے
#pppchorhai
192 دن گزر گئے، ظلم تمام حدیں پار کر چکا ہے۔
نثار پنہوار کہاں ہیں؟محسن پنہوار کہاں ہیں؟
ہمیں انصاف چاہیے،ہمیں جواب چاہیے۔آخر ہمارے والد اور بھائی کو مہینوں سے لاپتہ کیوں رکھا گیا ہے؟ اس کے پیچھے کون ہے؟ خدارا انہیں فوری طور پر منظرِ عام پر لایا جائے۔ #ReleaseNisarAndMohsinPanhwar
@KElectricPk سالانی کا تو سمجھ آتا ہے پر @KElectricPk والو تم تمہھے دل سے گالیا ہی دی جاۓگی کچھ بی کرلو اس شدید گرمی میں 12 سے 16 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کر رہے ہو خدا کا خوف کرو وارنہ اللّه کی پاکر سے نہیں بچو گے
کتاب سادہ رہے گی کب تک ، کبھی تو آغازِ باب ہوگا
جنہوں نے بستی اجاڑ ڈالی ، کبھی تو ان کا حساب ہوگا
سحر کی خوشیاں منانے والوں سحر کے تیور بتا رہے ہیں
ابھی تو گھٹن ات��ی بڑھے گی کہ سانس لینا محال ہوگا
#11juneAltafhai
@AltafHussain_90 @OfficialMQM
11 جون 1978 کو جامعہ کراچی سے شروع ہونے والی جدوجہد محروم طلبہ اور مہاجر نوجوانوں کے تعلیمی و بنیادی حقوق کے حصول کے لیے تھی۔ یہی تحریک آگے بڑھ کر ایک عوامی سیاسی قوت میں تبدیل ہوئی۔ #11JuneAltafHai@AltafHussain_90@OfficialMQM
یہ لفٹیننٹ جنرل راجیو کمار ساہنی ہیں، بھارتی فوج کے DG(EME) جو تھائی لینڈ میں لیڈی بوائز (ہجڑوں) کے ہاتھوں پھوکٹ کے ریڈ لائٹ ایریا میں چھترول کروا رہے ہیں.
جنرل صاحب نے اپنے حالیہ بیان میں سندور 2 آپریشن میں سندھ کو پاکستان سے کاٹنے کی بات کی تھی
🤣🤣🤣🤣
متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی نے اپنے ایک بیان میں ایم کیو ایم کے تمام وفاپرست کارکنان و ہمدرد عوام کو سختی سے متنبہ کرتے ہوے کہا ہے ک�� “The Team MQM” نامی ایکس، فیس بک، ٹک ٹاک اور سوشل میڈیا کے دیگر پلیٹ فارم سے جاری کیے جانے والے منسلک پوسٹرز کا ایم کیو ایم کی پالیسی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
دریں اثناء رابطہ کمیٹی نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ “The Team MQM ” نامی اکاؤنٹس ایس ایم انعام نامی فرد چلا رہا ہے جس کا ایم کیو ایم سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہے جوکہ نہ صرف The Team MQM کے نام سے اکاؤنٹس بناکر ایم کیوایم کی پالیسی کے خلاف گ��راہ کن پوسٹس جاری کررہا ہے بلکہ وفاپرست کارکنان و عوام کو اپنے واٹس ایپ گروپ میں شامل کرنے کیلئے مکروفریب کرکے دعوت بھی دے رہا ہے لہٰذا تمام وفا پرست کارکنان کو سختی سے ہدایت کی جاتی ہے کہ ایسے جعلساز عناصر سے نہ صرف خود دور رہیں بلکہ دیگر کارکنان وعوام کو بھی ہوشیار کریں۔