مراد سعید صاحب!
جس طرح ہم عمران خان صاحب کے ساتھ ہر حال میں کھڑے ہیں، اسی طرح آپ کے ساتھ بھی کھڑے رہیں گے، کیونکہ عمران خان صاحب نے خود آپ کو اپنا سب سے وفادار ساتھی قرار دیا تھا۔ اسی لیے ہماری نظر میں آپ کی عزت اور احترام ہمیشہ برقرار رہے گا۔
لیکن اس کے باوجود آپ سے یہ توقع ضرور ہے کہ حالات کی نزاکت کو سمجھیں۔ ہم یہ ہرگز نہیں کہتے کہ آپ اپنی جان خطرے میں ڈال کر منظرِ عام پر آئیں، کیونکہ ہم یہ بات سمجھتے ہیں کہ آپ کی جان کو واقعی خطرہ ہو سکتا ہے۔ مگر جو کچھ آپ کے اختیار میں ہے، وہ ضرور کریں۔
پارٹی آج چند compromised لوگوں کی وجہ سے بکھرتی جا رہی ہے، جبکہ ہمیں یقین ہے کہ آپ اسے دوبارہ متحد کر سکتے ہیں۔ کارکنوں کو واضح لائحۂ عمل دیں، خیبرپختونخوا کی قیادت کو واضح ہدایات جاری کریں، اور اگر وہ ان ہدایات پر عمل نہ کرے تو ان سے استعفیٰ لے کر ذمہ داری ایسے لوگوں کو دیں جو واقعی عمران خان کے بیانیے اور جدوجہد کے ساتھ کھڑے ہوں۔
اگر آپ خود منظرِ عام پر نہیں آ سکتے تو پھر شفیع جان، مینا آفریدی، سہیل آفریدی، منتخب نمائندوں اور تنظیمی عہدیداروں کو واضح ہدایات کیوں نہیں دی گئیں کہ وہ اسٹریٹ موومنٹ کو مسلسل جاری رکھیں؟ کیا انہیں بھی کوئی واضح حکمتِ عملی نہیں دی گئی؟ یا انہیں صرف پروٹوکول دینے تک ہی محدود رکھا گیا؟
سہیل صاحب! بے حسی اور بے غیرتی کی بھی ایک حد ہوتی ہے، اور لگتا ہے آپ نے وہ حد بھی پار کر دی ہے۔ کیا آپ نے کارکنوں کو اتنا بے خبر سمجھ رکھا ہے کہ انہیں کچھ معلوم ہی نہیں؟ کارکن سب کچھ دیکھ رہے ہیں۔ عوام میں یہ تاثر مضبوط ہوتا جا رہا ہے کہ آپ اور آپ کی پوری قیادت سمجھوتوں کا شکار ہو چکی ہے۔
اگر واقعی آپ compromised نہیں ہیں تو عمران خان صاحب کی دی ہوئی وہ حکمتِ عملی کہاں ہے؟ اس پر عمل کیوں نہیں ہوا؟ آپ کی اسٹریٹ موومنٹ کیوں بند ہو گئی؟ کیا صرف ابتدائی چند ماہ کے لیے ہی احتجاج کا حکم تھا؟ آج وہ تحریک کہاں ہے جس کے بڑے بڑے دعوے کیے جا رہے تھے؟
اس سے پہلے سہیل آفریدی بھی یہی مؤقف اختیار کر چکے ہیں کہ "میری عمران خان صاحب سے ملاقات ہوگی، پھر ہی آگے بڑھوں گا۔" جبکہ سب جانتے ہیں کہ اس وقت عمران خان صاحب سے براہِ راست ملاقاتیں ممکن نہیں۔ ایسے میں بار بار یہی مؤقف دہرانا کارکنوں کے لیے مزید سوالات پیدا کرتا ہے۔
@MuradSaeedPTI
ایک اور بات، جب بھی خیبرپختونخوا کی قیادت کی کارکردگی پر سوال اٹھتا ہے تو آپ فرماتے ہیں کہ "میرا ان سے کوئی رابطہ نہیں۔" اگر واقعی رابطہ نہیں، تو پھر پارٹی کی حکمتِ عملی کس کے ذریعے چل رہی ہے؟ اور اگر رابطہ ہے، تو پھر کارکنوں کو عملی نتائج کیوں نظر نہیں آ رہے؟
ہماری گزارش صرف اتنی ہے کہ کارکنوں کے اعتماد کو بحال کیا جائے۔ واضح لائحۂ عمل دیا جائے، اسٹریٹ موومنٹ کو دوبارہ فعال کیا جائے، اور خیبرپختونخوا کی قیادت کو عملی ذمہ داری نبھانے پر مجبور کیا جائے۔ آج کارکن صرف بیانات نہیں، بلکہ عملی اقدامات دیکھنا چاہتے ہیں۔
مراد سعید صاحب سے چند سنجیدہ اور عوامی سوالات:@MuradSaeedPTI
مراد سعید صاحب! آپ کی حالیہ پوسٹس اور بیانات نے کارکنوں کے ذیہنوں میں کئی سوالات پیدا کر دیے ہیں۔ اگر آپ واقعی کارکنوں کا اعتماد بحال کرنا چاہتے ہیں تو ان سوالات کے جواب دینا ضروری ہیں۔
1۔ آپ بار بار کہتے ہیں کہ “میں صرف خان صاحب کے حکم پر باہر آؤں گا۔”
لیکن کیا آپ خود نہیں جانتے کہ اس وقت خان صاحب سے کسی کی ملاقات نہیں ہو رہی؟ پھر یہ “خان کے حکم” کا بیانیہ کس بنیاد پر دیا جا رہا ہے؟
یہی الفاظ پہلے سہیل آفریدی بھی استعمال کرتےرہے۔ جب سب جانتے ہیں کہ براہِ راست ہدایات لینا ممکن نہیں، تو کیا یہ کارکنوں کے جذبات سے کھیلنے کے مترادف نہیں؟
آپ نے اپنے ایک انٹرویو میں مذاہمت اور احتجاج کا لائحہ عمل بتایا اور بہت عمدہ پوائنٹس کے پی کے کی حکومت کو دئیے مگر افسوس کہ آپکی بات کو سنا ان سنا کر دیا گیا۔
2۔ آپ کو پارٹی کا ٹکٹ کس نے دیا؟
کیا یہ خان صاحب کی منظوری سے ملا تھا؟ اگر بعد میں آپ نے استعفیٰ دیا تو کیا وہ بھی خان صاحب نے منظور کیا؟
جب علیمہ خان نے سب رہنماؤں کو باہر آ کر اپنا کردار ادا کرنے کا کہا، تو آپ نے کیوں کہا کہ “جب تک خان صاحب کا حکم نہیں ہوگا، باہر نہیں آؤں گا”؟
مگر جو لوگ اقتدار میں ہیں آپ انکو ایک لائحہ عمل تو دے سکتے ہیں۔
3۔ آپ کا سوشل میڈیا اکاؤنٹس کون چلا رہا ہے؟
یہ سوال اس لیے کیونکہ جو الفاظ اور زبان چند ایک جگہ پہ استعمال کی گئی وہ آپکی سوچ اور بات سے مشابہت نئی رکھتی-
آج کل آپ کے اکاؤنٹ سے مسلسل وضاحتی پوسٹیں آ رہی ہیں۔ بعض پوسٹیں اچانک غائب ہو جاتی ہیں اور پھر واپس آ جاتی ہیں۔ عوام کو یہ جاننے کا حق ہے کہ آپ کا اکاؤنٹ کون ہینڈل کر رہا ہے؟
کے پی کے سے چند حلقوں سے مبینہ طور پہ اطلاعات کے مطابق یہ کام مشوانی صاحب کر رہے ہیں۔ اگر ایسا ہے تو کیا یہ درست ہے کہ وہ آپ کے نام سے بیانیہ جاری کریں؟
4۔ اگر آپ واقعی پی ٹی آئی کا حصہ ہیں تو شہزاد اکبر کو انٹرویو کیوں دیا؟
کیا پارٹی کے آفیشل پلیٹ فارمز پر اعتماد نہیں تھا؟
اگر آپ پارٹی کے ساتھ کھڑے ہیں تو پھر پارٹی سے ہٹ کر ایسے پلیٹ فارم کا انتخاب کیوں کیا گیا؟
5۔ آپ نے کہا تھا کہ آپ ارشد شریف شہید کے کیس اور اس سے متعلق شواہد کی وجہ سے منظرعام پر نہیں آ رہے۔
اگر واقعی آپ کے پاس ایسے ثبوت تھے تو کیا وہ متعلقہ اداروں یا عدالتوں تک پہنچائے گئے؟ اور جب کیس اپنی موجودہ قانونی صورتحال تک پہنچ چکا ہے تو اب بھی خاموشی کی کیا وجہ ہے؟
6۔ سب سے اہم سوال۔
آپ کی تمام توجہ اپنی وضاحتوں پر ہے، لیکن کیا آپ نے کبھی ان لوگوں سے بھی سوال کیا جو کل تک ایک سائیکل یا موٹر سائیکل پر چلتے تھے اور آج کروڑوں کی جائیدادوں اور پرتعیش زندگی کے مالک بن چکے ہیں؟
کیا آپ نے کبھی ان سے پوچھا کہ یہ دولت کہاں سے آئی؟
جب عام کارکن جیلوں میں تھے، قربانیاں دے رہے تھے، تب کچھ لوگ اپنے مفادات مضبوط کر رہے تھے۔ کیا ان کا بھی احتساب نہیں ہونا چاہیے؟
میں اس پوسٹ کے ساتھ ایک ویڈیو بطور ثبوت شیئر کر رہی ہوں۔ اسے ضرور دیکھیے۔ اس میں ان لوگوں کے بارے میں ایسے حقائق موجود ہیں جن پر سوال اٹھنا چاہیے۔ مزید ثبوت بھی وقت آنے پر سامنے لاؤں گی۔
آخر میں ایک بات۔
مراد سعید صاحب، آپ کی حالیہ پوسٹس پی ٹی آئی کو فائدہ نہیں بلکہ نقصان پہنچا رہی ہیں۔ اگر آپ اس وقت اپنے قائد عمران خان کے لیے عملی کردار ادا نہیں کر سکتے تو کم از کم ایسا بیانیہ بھی نہ دیں جو کارکنوں میں مزید مایوسی اور تقسیم پیدا کرے۔
اور اگر واقعی مشوانی صاحب آپ کا اکاؤنٹ چلا رہے ہیں تو انہیں بھی سوچنا چاہیے کہ وہ پارٹی کی خدمت کر رہے ہیں یا مزید انتشار پیدا کر رہے ہیں۔ کارکنوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ پوچھیں:
کیا مراد سعید کے نام سے آنے والی ہر پوسٹ واقعی مراد سعید کی اپنی رائے ہے، یا کوئی اور ان کے نام پر بیانیہ چلا رہا ہے؟
اگر ایسا ہی چلتا رہا تو ورکرز اور سوشل میڈیا کارکنان صرف آپکے ویڈیو بیان پہ ہی اعتماد کیا کریں گے۔
اور یہ بہترین عمل ہے اس بہانے ہم آپکو دیکھ بھی لیا کرے گے
ہمیں آپکی سیکورٹی اور جان کی حفاظت بہت عزیز ہے لہذا ان دنوں میں جس طرح سے سوشل میڈیا پہ شور اٹھا اسے آپ ایک کلپ کے ذریعے وضاحت کر سکتے ہیں
جب دنیا مکمل لاک ڈاؤن کی بات کر رہی تھی، عمران خان دیہاڑی دار مزدور کی روٹی کی فکر کر رہا تھا۔
آج وہی انسانیت کی آواز قید میں ہے۔
غریب شہر... تیرا خیر خواہ قید میں ہے۔
غـداری، ایسے کیسے
نورین نیازی کا بیان اگر ملکی مفادات کے برعکس ہے تو پھر اِن بیانات کا کیا کرنا ہے؟
• کارگل میں پاکستان فوج نے میری پیٹھ میں خنجر گھونپا (نواز شریف)
• ممبئـی حمـلوں میں پاکستان کا ہاتھ ہے (نواز شریف)
• ایک يا دو افراد پوری فوج نہیں ہیں، ایک یا دو افراد ادارہ نہیں ہوتے بلکہ ادارے کی بدنامی کا باعث بنتے ہیں (مریم منیر)
• یہ جو دہـشت گردی ہے اسکے پیچھے وردی ہے (مریم منیر کے جلسے میں نعرے)
• ڈان لیکس کی ماسٹر مائنڈ بھی مریم منیر تھی
• پاکستان نے 65 ہاری، 71 ہاری، کارگل ہارا (خواجہ آصف)
• ہنـدوستان کے حملـے کے وقت آرمی چیف کی ٹانگیں کانپ رہی تھیں اور ماتھے پر پسینہ تھا (ایاز صادق)
• پاکستان فوج کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے (آصف زرداری)
• تمہارے کون سے شہداء، تم تو تنخواہ دار ہو (فضل الرحمن)
اگر نورین نیازی کا بیان غـداری ہے تو یہ بیانات کیا ملکی مفاد ہیں؟
نورین نیازی کو تو نیشنل سائبر کرائمز انویسٹیگیشن ایجنسی نے طلب کرلیا ہے لیکن یہ بیانات جو دوسروں نے دیئے ہیں اِن میں سے کتنوں کو اور کب کب طلب کیا گیا ہے اور کیا سزائیں ہوئی ہیں؟
اب ISPR نورین نیازی پر تو پوری پریس کانفرنس کردے گا لیکن جن لوگوں نے ماضی میں اس پورے ادارے کو نشانہ بنایا اُن لوگوں کو اسی ادارے نے نہ صرف عہدے دیئے بلکہ پورے کا پورا الیکشن ہی چوری کرکے اِنکی گود میں رکھ دیا.
@Neelam_804 کسی بھی ریاست کی طاقت انصاف سے ہوتی ہے، دوہرے معیار سے نہیں۔ اگر قانون واقعی سب کے لیے برابر ہے تو پھر اپنے شہریوں کو بھی وہی قانونی حقوق ملنے چاہییں جو ہر ملزم کو حاصل ہوتے ہیں۔
بھائی، میرے پاس اتنا وقت نہیں کہ ہر فضول الزام اور بے بنیاد بات کا ایک ایک کرکے جواب دیتا پھروں۔ اگر آپ کے پاس کسی بھی دعوے کا ثبوت ہے تو پیش کریں، ورنہ صرف نام گنوانے اور الزامات لگانے سے حقیقت نہیں بدلتی۔ عثمان بزدار، محمود خان، علی زیدی، فیصل واوڈا، گنڈاپور، سہیل آفریدی یا کسی اور کا نام لے لینے سے یہ ثابت نہیں ہو جاتا کہ عمران خان پر لگائے گئے تمام الزامات درست ہیں۔ اور آخر میں ایک بات، آپ نے تو ابھی بہت کم الزامات گنوائے ہیں۔ برسوں سے نہ جانے کتنے الزامات لگائے گئے، مگر آج تک ایک بھی الزام ایسا ثابت نہیں ہو سکا جسے عدالت میں حتمی طور پر ثابت کیا جا سکا ہو۔ آپ کی اپنی عدالتیں بھی وہ ثابت نہ کر سکیں جو آپ سوشل میڈیا پر دعویٰ کرتے ہیں۔ آئینہ تو آپ کو پہلے ہی دکھایا جا چکا ہے، اب اس سے زیادہ اور کیا دکھایا جائے؟
انسان کی اصل عظمت اُس کی دولت، عہدے یا شہرت میں نہیں، بلکہ اس کردار میں ہوتی ہے جو وہ دوسروں کے لیے جیتے ہوئے دکھاتا ہے۔ پیسہ کمانا مقصدِ حیات نہیں، اصل مشن اپنی قوم کی خدمت، مظلوم کا ساتھ، انصاف کا قیام اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک بہتر معاشرہ چھوڑ جانا ہے۔ یہی سوچ زندہ قوموں کی پہچان بنتی ہے۔
دی لیجنڈ عمران خان 🇵🇰❤️
یاد رکھو، جیسا رویہ تم دوسروں کے ساتھ رکھو گے، ویسا ہی تمہارے ساتھ بھی رکھا جائے گا۔ X پر بیٹھ کر یہ مت سمجھو کہ جس کے بارے میں جو مرضی کہہ دو گے اور کوئی جواب نہیں دے گا۔ میں کبھی کسی کی ماں یا بہن کو گفتگو میں نہیں لاتا، کیونکہ میری تربیت اس کی اجازت نہیں دیتی۔ لیکن تمہاری زبان اور انداز خود بتا رہا ہے کہ تم دلیل سے نہیں، صرف کردار کشی سے کام لیتے ہو۔ پہلے اپنے اخلاق درست کرو، پھر دوسروں کو نصیحت کرنا۔
@FurqanHamedxon@ImranKhanPTI آپ تھوڑی سی غیرت کر لیتے ہمت کر لیتے اپنے اصل اکاؤنٹ سے مجھے کمنٹ کرتے میں آپکو دیتا ہوں جواب ان ساروں کے یہ فیک اکاؤنٹ کا سہارا نہ لیا کرو فیک اکاؤنٹ سے اگر آپ ایسا کام کرو گے تو ہم سمجھیں گے آپ ڈرے ہوئے لوگ ہیں اگر اپ میں ہمت ہے تو اصل اکاؤنٹ سے آؤ میں آپ کو دیتا ہوں جواب۔
تین سال گزر گئے، کارکن قربانیاں دیتے رہے، مگر سہیل آفریدی اور جنید اکبر آج تک کوئی مؤثر اور مسلسل اسٹریٹ موومنٹ کھڑی نہ کر سکے۔ ہر روز اسپیسز، لمبی لمبی تقاریر اور دعوے، مگر میدان خالی۔ سہیل آفریدی خود کہتے ہیں، "اگر اسلام آباد جانا پڑا تو جائیں گے۔" سوال یہ ہے کہ آخر کب پڑے گا؟ اگر عمران خان کی رہائی واقعی اولین ترجیح ہے تو اسلام آباد جانے سے کون روک رہا ہے؟ ہر بار نئی تاویل، نیا بہانہ اور نئی تاریخ دینا بند کریں۔ کارکنوں کو اب الفاظ نہیں، عملی قیادت چاہیے۔ اگر آپ خود کو تحریک کا ہراول دستہ کہتے ہیں تو میدان میں اتریں، ورنہ کارکنوں کے سوالوں کا سامنا کریں۔
@SohailAfridiISF
سہیل آفریدی، بیرسٹر گوہر اور جنید اکبر صاحب!
آج قوم کا سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ جب علیمہ خان اکیلی سڑکوں پر نکل سکتی ہیں، تو آپ سب آخر کہاں ہیں؟
خیبرپختونخوا میں حکومت بھی موجود ہے، تنظیم بھی موجود ہے، کارکن بھی موجود ہیں، وسائل بھی موجود ہیں، پھر بھی عمران خان کی رہائی کے لیے وہ بھرپور مزاحمت، وہ قیادت اور وہ عملی جدوجہد کیوں دکھائی نہیں دے رہی جس کی قوم کو امید تھی؟
سہیل آفریدی صاحب!
عمران خان نے آپ پر اعتماد کیا، آپ کو ذمہ داری دی، اس امید کے ساتھ کہ مشکل وقت آئے گا تو آپ فرنٹ لائن پر کھڑے ہوں گے۔ مگر آج قوم تقریروں سے نہیں، کردار سے فیصلہ کر رہی ہے۔ عوام یہ دیکھ رہی ہے کہ کون میدان میں کھڑا رہا، کون خاموش رہا، اور کون صرف بیانات تک محدود ہو گیا۔
آپ بار بار کہتے ہیں کہ میں کمپرومائز نہیں ہوں، مگر ایسے حالات میں عوام کا حق ہے کہ وہ عملی اقدامات کی بنیاد پر اپنی رائے قائم کرے۔ تاریخ دعووں سے نہیں، عمل سے لکھی جاتی ہے۔
بیرسٹر گوہر صاحب اور جنید اکبر صاحب!
اگر قیادت خود میدان سے پیچھے ہٹ جائے تو کارکنوں سے ہر بار قربانی، گرفتاری اور مزاحمت کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے؟ کارکنوں کا حوصلہ قیادت کے عمل سے بنتا ہے، صرف پریس کانفرنسوں اور بیانات سے نہیں۔
آج عمران خان دو سال سے زائد عرصے سے قید میں ہیں۔ ایسے وقت میں قوم کو صرف بیانات نہیں بلکہ واضح، مؤثر اور مسلسل قیادت کی ضرورت ہے۔ اگر قیادت خود خاموش یا غیر متحرک دکھائی دے تو مایوسی بڑھتی ہے اور تحریک کمزور پڑتی ہے۔
یاد رکھیں!
عمران خان کے ساتھ وفاداری کا دعویٰ کرنا آسان ہے، مگر اس وفاداری کا اصل ثبوت مشکل وقت میں میدان میں کھڑے ہو کر دیا جاتا ہے۔
تاریخ عہدوں کو نہیں، کردار کو یاد رکھتی ہے۔
تاریخ بیانات کو نہیں، قربانیوں کو سلام کرتی ہے۔
تاریخ خاموش رہنے والوں کو نہیں، حق کے لیے ڈٹ جانے والوں کو یاد رکھتی ہے۔
عمران خان کے نام پر سیاست کرنا آسان ہے...
مگر عمران خان کے لیے ہر دباؤ، ہر خطرے اور ہر مشکل کے باوجود ڈٹ کر کھڑا ہونا ہی اصل امتحان ہے۔
@SohailAfridiISF@JunaidAkbarMNA@BarristerGohar
عمران خان نہ کبھی اللہ کے سوا کسی کے آگے جھکے، نہ ہی اپنی قوم کو جھکنا سکھایا۔
انہوں نے ہمیشہ اپنی قوم کو خودداری، حق اور حقیقی آزادی کا درس دیا، اور یہ پیغام دیا کہ ایک آزاد قوم صرف اسی وقت سر اٹھا کر جیتی ہے جب اس کا سر صرف اللہ کے حضور جھکے۔
"لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰه" — یہی وہ نظریہ ہے جو غلامی سے آزادی، خوف سے ہمت، اور مایوسی سے امید کی طرف لے جاتا ہے۔