ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے پی ٹی آئی میں گھسائے گئے اپنے آخری کھلاڑی بھی کھل کر میدان میں اتار دیئے ہیں، یہ وہ کم ظرف اور گرے ہوئے لوگ ہیں جو دولت کے پجاری ہیں اور صرف دنیاوی زندگی پر یقین رکھتے ہیں، یہ فوج کا پی ٹی آئی پر آخری بڑا وار ہے اور بیشمار آستین کے سانپ بہتر مالی مستقبل کے لیے عمران خان کے نظریے کی نفی کرتے ہوئے آبپارہ کو اپنا خدا بنائے ہوئے ہیں، اس ایڈوینچر کے بعد عمران کی پی ٹی آئی میں صرف وہ نظریاتی لوگ رہ جائیں گے جو سالوں سے عمران خان کے نظریے کا بوجھ اٹھائے جیلوں میں ہیں فوج کے زیر عتاب ہیں روپوش ہیں جلا وطنی کی زندگی گزار رہے ہیں لاکھوں جان نثار کارکنان ہیں سوشل میڈیا رضا کار ہیں عوام ہے، نظریاتی انسان کبھی غدار نہیں ہوتے اور دولت کے شوقین کبھی وفادار نہیں ہوتے، عمران خان کی پی ٹی آئی کو ختم کرنا مشکل نہیں بلکہ ناممکن ہے نظریے کو کبھی ختم نہیں کیا جا سکتا ہے، دولت کے پجاری، عمران خان سے احسان فراموشی کرنے والے، بے حس فوجی مراعات کے شوقین لوگ فارورڈ گروپ بنا لیں ریورس گروپ بنا لیں مائنس پلس کر کے دیکھ لیں چاہے کچھ بھی بنا لیں عمران خان ہی پی ٹی آئی ہے اور پی ٹی آئی ہی عمران خان ہے۔
اپنے محسن یا مددگار کے ساتھ دھوکا، فریب یا دغا کرنے کو اردو زبان میں "نمک حرامی" یا "احسان فراموشی" کہا جاتا ہے، تاریخ اور ادب میں ایسے کرداروں یا واقعات کو بہت برے الفاظ میں یاد کیا جاتا ہے جہاں کسی نے اپنے ہی مربی یا محسن کی پیٹھ میں چھرا گھونپا ہو۔
ساڑھے چار سال گزر چکے ہیں کچھ سال اور گزر ہی جائیں گے لیکن تاریخ بہادروں کو ہی یاد رکھے گی، تاریخ عمران خان اور ان کے خاندان کو یاد رکھے گی تاریخ پی ٹی آئی کے شہداء کو یاد رکھے گی تاریخ ڈاکٹر یاسمین راشد، اعجاز چوہدری، میاں محمود الرشید، عمر سرفراز چیمہ، شاہ محمود قریشی، عالیہ حمزہ، آمریت کے زیر عتاب رہنماؤں اور کارکنان کو یاد رکھے گی تاریخ عمران خان کے سوشل میڈیا کے نامی اور گم نام رضا کاروں کو یاد رکھے گی اور وکٹ کے دونوں طرف کھیلنے والے تاریخ کے کوڑے دان میں پھینک دیئے جائیں گے، رزق کی خاطر ہاتھ گندے کرنا برا نہیں ہے مگر رزق کی خاطر نیت اور ضمیر گندا کرنا اور اپنے محسن کے ساتھ دھوکہ بہت برا ہے۔
غصہ نہ کریں میری معروضات پر ہمدردانہ غور کریں۔
مقتدرہ اپنی بدنصیبی سمجھے کہ اس کے پاس پاکستان کو بچانے کے لیے عمران خان کے علاوہ کوئی اور چوائس موجود ہی نہیں ہے۔
نظام کے انہدام (collapse) کا رونا رونے والوں کو بتانا ہے کہ وطن عزیز پر تنی قیامت کی اس گھڑی میں نظام کو مارو گولی، ریاست بچانے کی فکر کرو۔ وطن کی فکر کر ناداں، مملکت کا شیرازہ بکھرنے کو ہے۔
دو رائے نہیں کہ جمہوریآئینی، پارلیمانی، عدالتی نظام یقیناً کھنڈر بن چکا ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کھنڈر بنایا کس نے؟ گستاخی معاف، یہ انہدام آپ لوگوں کی محنت اور کاوشوں کا مرہونِ منت ہی تو ہے۔ قائداعظم کا پاکستان قصۂ پارینہ بننے کو ہے۔
بلوچستان مسلسل جل رہا ہے، دہائیوں سے سلگ رہا تھا، آج آسمان کو چھوتے الاؤ میں ہے۔ کشمیر میں پہلی دفعہ پاکستان کے خلاف احتجاج اور پاکستان سے چھٹکارے کے حق میں نعرے بلند ہو رہے ہیں۔ چند سال پہلے گلگت بلتستان سے بھی پاکستان کے خلاف ایک ٹریلر چل چکا ہے۔ سندھ سے کوئی قومی منصوبہ پاس کروانا اب آپ لوگوں کے لیے جوئے شیر لانا ہے، پکی ناں ہی سمجھیں۔ زرداری اور بلاول نظامِ ریاست چلانے والوں کی کمزوریوں سے آگاہ ہیں۔ ان کا فائدہ اٹھا کر نظام کے گھس بیٹھیوں کے سندھ میں گھسنے پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔ اب جبکہ خیبر پختونخوا فتح کر لیا ہے، ساری زمین قبضے میں ہے، مگر ساڑھے چار کروڑ عوام، 99 فیصد، ریاست کے خلاف یکسو ہو چکی ہے۔ پنجاب کے اندر آپ جناب لوگوں کی قدرومنزلت بھی اُترائی کے آخری زینے پر ہے۔ تیرا بنے گا کیا؟ مجھے اس کی فکر ہےنہ پروا، مجھے اپنے وطن کی فکر گھائل کر رہی ہے۔
جو کوئی بھی ہے، جو نظامِ ریاست چلا رہا ہے، اُس کے گوش گزار کرنا ہے کہ پاکستان عدم استحکام کے آخری درجے کو چھو چکا ہے اور اب disintegration کی طرف سرک رہا ہے۔
نظام کھنڈر بن چکا ہے، بحال کیسے ہو گا ۔
خدا کے واسطے! پاکستان کو Unity, Faith, Discipline کی آڑ میں اپنی ذاتی ترقیاں حاصل کرنے کی بھینٹ نہ چڑھائیں۔ التجا ہے کہ پاکستان کو اپنی نوکری پر ترجیح دیں۔ اس ملک نے ہمیں بہت کچھ دیا ہے۔
نظام کو منہدم کرنے والے ذمہ داران سے درخواست ! پاکستان کھلونا نہیں ہے آپ کے ذاتی غصے، عناد اور ego کی تسکین کے لیے استعمال میں رہے۔ سانحہ 1971 آپ کے غصے اور عناد کی نذر چڑھا تھا۔ اگر آپ 25 کروڑ عوام الناس سے مخلص ہیں تو مملکت آپ کی ترجیح ہوتی، تو جو ملکی حالات جس نہج پر ہیں، مملکت آپنی ترجیح بنایں۔
قومی قیادت کھڈے لائن یا اپنے اپنے مفادات میں اپ لوگوں کی تابعداری میں ہے۔نواز شریف مایوس اور لاتعلق ، داتھی نوکری پیشہ اختیار کر چکے ہیں۔ بلاول کے پاس زرداری صاحب کااسکرپٹ ہے، صوبۂ سندھ کا مقدمہ لڑ رہا ہے۔ سندھ میں داخلے پر پابندی کے بعداب آپ لوگوں کو خیبر پختونخوا کی دلدل میں اہتمام کے ساتھ دھکیل چکا ہے۔
مولانا فضل الرحمان کو آپ لوگ پچھلی تین دہائیوں سے دوسری سیاسی جماعتوں کے ہاتھوں توہین کا نشانہ بنوا کر مولانا کی قومی سیاست کو کمزور کر چکے ہو۔ جماعتِ اسلامی کنفیوزڈ ہے۔
عمران خان کو آپ لوگوں کی طرح اپنی ذات سے عشق ہے،وہ اپنی ذات کے حصار میں بند کہ اس کی تربیت ہی یہی رہی ہےکہ عمران خان کی ذات، مملکت، نظریے، ہر چیز پر مقدم ہے۔ وہ اپنی ذات کے سحر سے نکلے گا، ناممکن ہے کیونکہ اب وہ مقبولیت کے جس مقام پر ہے ایسی مقبولیت فکشن اور ناولوں میں جبکہ تاریخ کی کتابوں میں صدیوں زندہ رکھتی ہے ۔ ذہنی طور پر وہ آپ لوگوں سے زیادہ مضبوط ہے، لڑ کر مر جائے گا، ذہنی طور پر نہیں ٹوٹے گا۔
آپ لوگوں کا عمران خان پر غصہ بجا، مگر آپ پاکستان کی خاطر اپنا غصہ تھوک پائیں گے، بظاہر ناممکن ہے، کیوں کہ آپ لوگ بھی اپنی ego اور عناد کے حصار میں ہیں۔ عمران خان اپنی سیاسی مقبولیت کے عروج پر ہے، مقبولیت ساتویں آسمان پر ہے۔ ماننے میں شرم و حیا مانع نہ ہو تو وطنی تاریخ میں پہلا پاکستانی جو بلوچستان، سندھ، فاٹا، کشمیر اور گلگت بلتستان کے گاؤں گاؤں، قریہ قریہ، پہاڑوں، گھاٹیوں، صحراؤں اور کچے کی دلدلوں میں بدرجۂ اتم موجود ہے، غیر معمولی مقبولیت کے جھنڈے گاڑھے ہوئے ہے۔
مان لیں؛ عمران خان کی مقبولیت آپ لوگوں کی محنتِ شاقہ اور کوششوں نتیجہ ہے۔ اب فرسٹریٹ ہونے کی ضرورت نہیں۔ آپ لوگ عمران خان کے مرجعِ خلائق ہونے اور غیر معمولی مقبولیت کے مقام کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے، بہتر ہے کہ پاکستان کے حق میں عمران خان مقبولیت کے استعمال کی ترکیب بنائیں ۔
مملکت بچانے کا واحد راستہ عمران خان کو آن بورڈ کرنا اورایک قومی حکومت بنانا ہے۔ اگر قومی حکومت نہ بنی تو مملکت کو بچانا مشکل، خوابِ خیالی ہی رہنی ہے۔ باقی؛ قومی مایوسی بہت جلد ہم آپ سب کے گلے دبوچنے کو ہیں، اور پھر داستان تک نہ ہوگی داستانوں میں۔
میری آسودگی اتنی پہلی دفعہ ”ہماں یاراں دوزخ“۔
گانڈوپور اپنی اوقات دکھاتے ہوئے۔۔۔
اور اس کلپ کو پاکستانی میڈیا + لفافیوں میں آئی ایس پی آر نے وائرل کیا۔
پی ٹی آئی قیادت سے اس کلپ کی صداقت کی تصدی مانگی تو جواب ملا کہ سچ ہے۔
علی امین اپنے فوجی مالکوں کے کہنے پر لانگ مارچ میں گند گھولنا چاہتا ہے۔
آخر وہی ہوا جیسا کہا تھا
وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا شاہانہ لائف سٹائل... ہیلی کاپٹر میں ٹانگ پے ٹانگ رکھ کر کافی انجوائے کر رہے ہیں اور پائلٹ کی ڈیوٹی لگی ہوئی وہ ڈرائی فروٹس چھیل کر پیش کر رہا.....
یہ 65 کی جنگ ہارے، 71 کی جنگ ہارے، سیاچن ہارے، کارگل ہارے…خواجہ آصف
فوج نے آج تک ایک بھی علاقہ فتح نہیں کیا
خواجہ آصف
اب خواجہ صاحب آپ ایک باپ کی اولاد ہیں تو اسی بیان پر ڈٹ کر دوبارہ یہی ُکچھ اسمبلی میں کہیں ہم مان جائیں گے.😂
یہ مریم نواز ایوارڈ لینے کے لیے "اپنی چھت، اپنا گھر" منصوبے کی تقریب میں موجود ہیں اور یہ وہ گھر ہیں جو عمران خان کے دور میں بنے، جن پر انہوں نے واردات کر کے تختیاں بدل کر اپنا منصوبہ بنا لیا اور بلین ٹری سونامی منصوبہ بھی اپنے نام کر لیا، جیسے عثمان بزدار اور چوہدری پرویز الٰہی کے منصوبوں پر اپنی تختی لگا کر شریف خاندان کے نام لکھ دیے۔۔
یہ ویڈیو ذرا عظمیٰ بخاری صاحبہ کو بھی دکھا دیں جو فرما رہی تھیں کہ یہ عمران خان کا نہیں بلکہ مریم نواز کا شاہکار ہے! دوسروں کے مکمل شدہ منصوبوں اور گھروں پر اپنے نام کی تختیاں لگا کر عالمی سطح پر کریڈٹ لیتے ہوئے شرم بھی نہیں آتی؟ عمران خان کے بنائے ہوئے گھروں اور لگائے ہوئے درختوں پر اپنے نام کا ٹھپہ لگا کر ایوارڈ وصول کرنا شریف خاندان کی روایت بن چکی ہے۔۔
🚨ایک وقت تھا کوئی بھی خبر نامہ رحمان ملک کی خبروں سے خالی نہیں ہوتا تھا وہ پاکستان کے سب سے ایکٹیو اور سب سے زیادہ اہم شخص ہوا کرتے تھے،
انہوں نے پیپلزپارٹی کا سارا وزن اپنے کندھوں پر اٹھائے رکھا تھاپھر جب وفات ہوئی، تو پارٹی کا کوئی ایک راہنماء بھی ان کے جنازے میں شریک نہ ہوسکا
مشاہد اللہ تند گو تھے، باتوں کو مڑوڑنا اور طنز کے تیر برسانا خوب جانتے تھے،
حب شریفین میں اتنے مست تھے کہ پارلیمنٹ کے فلور پر بھی بازاری جملے کسنے سے نہ جھجھکتے
انکی وفات پر چند تعزیتی پیغام آئے اور وہ ہمیشہ کےلئے یادوں سے فراموش کردیئے گئے۔
عرفان صدیقی کاتب شریفین رہے،
نواز شریف نے اپنے کل سیاسی کریئر میں جتنے بھی جملے ادا کئے ان میں سے 60 فیصد عرفان کے قلم سے ہی تراشے گئے تھے،
وہ بے دام غلام تھے
جو آقا کے ہر سیاہ کو سفید کرنے میں لگے رہے یہاں تک کے وفات ہوگئی مگر پارلمان کا سیشن اہم تھا، انکو بیمار ہی بتایا جاتا رہا
ناں تو نواز شریف نا ہی شہباز شریف نے ان کے جنازے میں شرکت کی حتی کہ شریف خاندان سے کوئی فرد بھی شامل نہ ہوا
ان تین تصویروں میں ایک پیغام مشترک ہےآپ تب تک اہم ہیں جب تک ضرورت ہیں
غلام ابن غلام 🔥🔥💯دوبارہ پوسٹ پڑھ لیں غور سے 👍