جو اہلیت نہیں رکھتے، ایسے لوگوں کو قوم پر مسلط کر دیا جاتا ہے
کسی کو وزیراعلیٰ بنا دیا جاتا ہے اور کسی کو وزیراعظم
اب کھل کر بات کروں گا، کیونکہ مجھے آگے قبر نظر آ رہی ہے
یہ آواز حضرت علامہ اقبال رحمة اللہ علیہ کی اصل آواز ھ
جو کہ ریڈیو پاکستان کی لاٸبریری میں محفوظ تھی
اور حال ہی میں BBC نے آن اٸیر کی۔ علامہ صاحب ایک محفل میں اپنا کلام اپنی زبان سے سناتے ہوۓ🌺
اقبال کی شاعری کو اقبال ہی پڑھے تو سننے کا مزہ آتا ھے❤️
ہر پولیس اہلکار 2 منٹ نکال کر یہ پیغام ضرور سنے، ہو سکتا ہے کہ ظلم کرنے سے بچ جاو
" اگر کوئی حکم تمھیں قانون، آئین ، اخلاق ، دین اور تمھارے ضمیر کے خلاف ملتا ہے تو یہ مت سوچنا کہ حکم تمھیں کس نے دیا ہے بلکہ یہ سوچنا کہ کیا اس پر عمل کرکے تم اللہ کو جواب دے سکو گے ؟
کوئی غیر قانونی حکم نا ماننا اور ضمیر کی آواز سننا "
نماز کی اتنے پیارے انداز میں تشریح دیکھ کر دل خوش ہو گیا اس سے پہلے میں نے اتنے اچھے انداز میں اور اس طرح سمجھانا کسی فلم یا ڈرامے میں نہیں دیکھا
💖 بار بار دیکھنے کو دل کرتا ہے دیکھ کر
ناتمام
ہارون الرشید
عمران خاں کی تگ و تاز
مدو جزر بہت ہے۔ کوئی نہیں جانتا کہ آنے والا کل کیا لائے گا۔ یہ اس آدمی کی تگ و تاز دہرانے کا وقت ہے،، لاکھوں دل اور ہاتھ جس کےلئے دعا کو بے تاب رہتے ہیں۔
چالیس برس ہوتے ہیں۔لاہور کے پنج ستارہ ہوٹل میں پہلی بار اسے دیکھا۔ ہوٹل کے مسقف صحن میں ایک کھلاڑی سے گپ شپ جاری تھی۔ ماحول گرم گفتاری سے لبریز تھا کہ اچانک خاموشی چھا گئی۔ تجسس اور اشتیاق سے سب انکھیں ایک جانب مڑ گئیں ۔
یہ عمران خان تھے۔ ہمیشہ کی طرح شاہانہ بے نیازی سے چلتےہوئے۔ چائے کی دعوت دیتے والے دوستوں سے معذرت کرتے بڑے دروازے کی طرف لپکے۔ زبان سے ایک لفظ بھی نہ کہا اور اشارہ کیا" ورزش کے لئے جاتا ہوں "
لاہور میں پاک بھارت میچ برپا تھے ۔شہر جوش وخروش سے بھرا ہوا۔ پاکسان غالب تھا اور اہل لاہور اپنے ہیروز پہ نچھاور ہوئے جاتے تھے۔مرحوم کالم نگار عبدالقادر حسن نے جو ان دنوں بہت مقبول تھے، خان کے بارے میں لکھا: "یونانی دیوتاؤں جیسا جسم اور تیور" ۔
کچھ دن بیت گئے۔حفیظ اللہ خاں سے گاہے بہ گاہے ملاقات ہونے لگی۔ وہ خان کے بارے میں عجیب و غریب واقعات سناتے، ناقابل یقین ۔ کسی فاتح کی نہیں، ان واقعات سے ایک درویش کی سی تصویر بنتی اور یہ ناقبل فہم نہ تھا۔مثلآ شادی کے دن کسی دوست کی شیروانی پہن لی ۔اس تقریب کے لئے ہنری کسنجر سمیت ا مغرب کی ممتاز شخصیات جس میں شریک تھیں۔ دلہن کی والدہ کا تعلق برطانوی تاریخ کے ایک اساطیری کردار، صلاح الدین ایوبی کے حریف The lion heart سے تھا ۔ اس کے کھرب پتی والد گولڈ سمتھ دنیا کے ممتاز سیاستدانوں اور حکمرانوں کی طرح اخبارات اور جرائد میں جگمگاتے۔
وہ ایک کرشماتی کھلاڑی تو تھا مگر ہیرو؟ کرکٹ سے دل چسپی بھی اس سے زیادہ کبھی نہ تھی کہ بھارت سے پاکستان جیت جائے۔ ہماری آنکھیں ٹھنڈی ہوں ۔
خان سے ملاقات کرکٹ سے دستبرداری کے چار برس بعد ہوئی۔ لٹیرے سیاست دانوں سے نجات کے لئے خلق خدا اس کی طرف دیکھنے لگی تھی۔ اس مکروہ مخلوق سے اکتائے ہوئے ہم بھی تھے۔
خبر سننے میں آتی رہی ۔ تفصیل ایک دن جنرل حمید گل مرحوم نے بیان کی۔ان دنوں مسلسل جن سے ملاقات رہا کرتی۔ اپنے ہاتھوں سے تراشے گئے فریب کار نواز شریف سے بیزار وہ خاں صاحب کو سیاست میں لانے کے لئے بے تاب تھے۔مدید تکبیر محمد صلاح الدین مرحوم اور عبدالستاد ایدھی کی مدد سے ۔منصوبہ یہ تھا کہ لاہور کے موچی دروازے میں ایک عظیم عوامی اجتماع ہو۔ پہلے سے تحریک چلائی جائے۔اس اجتماع میں خلق خدا امڈ آئےتو ہجوم کا رخ زماں پارک کی طرف موڑ دیا جائے۔ خان سیاست میں کود پڑنےکا اعلان کر دے۔ نئے امکانات کا در کھلے۔
" ملک کو تباہی سے بچانے کا یہ بہترین نسخہ ہے" جنرل نے کہا ، آئی ایس آئی کی سربراہی کے دور سے جو سیاسی جوڑ توڑ کے چسکے کا عادی ہو چکا تھا"
مگر وہ مانتا نہیں" جنرل نے کہا۔
کیوں نہیں مانتا؟ اس کے خیال میں سیاست آدمی کا دامن آلودہ کرتی ہے۔
" قائد اعظم نے سیاست سے عزت پائی اور تاریخ کی لوح پر دائم دمکتےرہیں گے۔ ابرہام لنکن سیاست دان تھا۔ اخلاقی عظمت کا لہکتا ہوا استعارہ کہ امریکی تاریخ میں کوئی اس کا ہم سر نہیں"فرمان رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ ہے : بنی اسرائیل کے انبیا سیاست کیا کرتے تھے۔
" یہ کڑے دلائل ہیں ۔ اس سے ملو اور اسے قائل کرنے کی کوشش کرو" جنرل نے کہا۔"ایاز قدر خود بشناس" میں نے سوچا " میں کیا اور میری بساط کیا" تاہم ان کے اصرار
پہ وعدہ کرلیا۔ دل چسپ یہ کہ اس اثنا میں خان نے جنرل کو تیاگ دیا اور پارٹی بنانے کا اعلان کر دیا۔ لاہور گیا۔تجاویز مرتب کیں کہ نئی پارٹی کا لائحہ عمل کیا ہونا چاہیے۔ حفیظ اللہ خاں کی عنایت سے علیحدگی میں خان سے کا ملا۔ خوش دلی سے اس نے خیر مقدم کیا
یہ ایک رفاقت کا آغاز تھا رفتہ رفتہ جو بے تکلفی میں بدل گئی۔نشیب سرفراز سے گزری کہ ہمیشہ اتفاق رائے ممکن نہ تھا۔
اخبار نویسوں میں حاسدتھےاور اس کی پارٹی کے لیڈروں میں بھی۔ وہ خان کو بدظن کرنے کی کوشش میں لگے رہتے۔ حسد ایک مستقل ذہنی بیماری ہے۔ کم لوگ اس سے بچتے ہیں۔
کھلاڑی، Philanthropist اور سیاست کار پہ ارادہ تو کتاب لکھنےکا تھا ۔ اس کی علالت کی خبر سن کر جی بے تاب ہوا ہے کہ یہ داستان ابھی دہرا دی جائے۔ اس آدمی کی کہانی جو طوفانوں میں رسان سے لنگر انداز ہوتا ہے۔
جسے قتل کرنے کی کئی کوششیں کی گئیں۔کوئی نہیں جانتا کہ آنے والے والا کل اس کے لئے ، اس کے وطن کے لئے کیا لائے گا ۔عمر بھر جو طوفانوں سے کھیلتا رہا۔ ترک امید البحر خیر الدین باربروسا کی طرح جو سمندر کو جھیل بنا دیتا تھا۔
مدو جزر بہت ہے۔ یہ اس آدمی کی تگ و تاز دہرانے کا وقت ہے، لاکھوں دل اور ہاتھ جس کے لئے دعا کو بے تاب رہتے ہیں۔
یہ علاج پاکستانی ڈاکٹرز کیوں نہیں بتاتے ؟
پہلی بات کیونکہ پاکستان میں 100 میں سے 50 پرسنٹ ڈاکٹرز سرے سے ھوتے ھی نہیں ھیں اور جو ڈاکٹرز ھوتے ھیں یا تو انکو یہ علاج معلوم ھی نہیں یا وہ یہ علاج اسلیے نہیں بتاتے کیوں۔۔۔