یتیم خانے اور شیلٹر ہومز کیا کررہے ہیں یہ تحریر ضرور پڑھیں۔ دل ہلا دینے والی باتیں۔
کل ملتان میں گاڑی کے ذریعے کچل کر قتل کردینے والا بھی ایسا ہی کیس تھا۔
ملتان میں یتیم بچے کو گاڑی سے کچلنے کا واقعہ آپ سب نے دیکھ لیا۔
اور یہ بھی پڑھ لیا ہوگا کہ بچہ "یتیم خانے" میں تھا۔ ہماری اصطلاح میں جسے شیلٹر کہتے آرہے ہیں۔
ہم آج تک یتیم بچوں کے ساتھ رویوں پر جو جو لکھتے اور دکھاتے آرہے ہیں یہ آپکو آج اسکی ایک جھلک نظر آگئی۔
اور یہ اللہ نے ان لوگوں کو بےنقاب کیا ہے جو لاوارث پر ظلم کرتے ہیں انکے حقوق مارتے ہیں۔
یتیم خانے نے اس بچے کے معاملے میں مبینہ طور پر قانون کی سخت خلاف ورزی کی ہے۔ اس ادارے کی مکمل تحقیقات کی جائیں تو بہت کچھ شاید سامنے آئے۔
آپ ہمارے کیسز اور آج کے واقعے کو سامنے رکھیں گے تو کافی حد تک سمجھ جائیں گے کہ ہم 2020 سے کس چیز کی نشاندہی کرتے آرہے ہیں۔ جن جن کو اپنوں سے ملایا وہ کیا رونا روتے رہے ہیں۔
خوف خدا نہیں ہے ان میں۔۔۔۔جب دیکھتے ہیں کے بچے کے آگے پیچھے کوئی نہیں ہے اس سے اسکا ہر قسم کا حق چھینتے ہیں۔
مہینے بھر جانوروں کی طرح کام کرواکر صرف چند پیسے دینا۔
اپنے ذاتی کام لینا ۔ تعلیم سے محروم کرنا ۔ شناخت مٹا دینا۔اسکو خوف زدہ رکھنا ۔ اپنے ایک اشارے کا تابع بنانا۔
اور جینے کا حق تک چھین لینا۔
ریاست کو چاہئے ایسے لاوارث بچوں کے لئے ایک منظم نظام لائے۔ ان کے لئے ایک الگ محکمہ قائم کریں۔ انکی مکمل پرورش اپنی تحویل میں کرے۔ ایک ایک قدم پر نظر رکھیں۔ یہ تمام بچے بہت ہی کار آمد شہری بنیں گے۔ اب بھی وقت ہے۔
#waliullahmaroof
ملتان میں یتیم بچے کو گاڑی سے کچلنے کا واقعہ آپ سب نے دیکھ لیا۔
اور یہ بھی پڑھ لیا ہوگا کہ بچہ "یتیم خانے" میں تھا۔ ہماری اصطلاح میں جسے شیلٹر کہتے آرہے ہیں۔
ہم آج تک یتیم بچوں کے ساتھ رویوں پر جو جو لکھتے اور دکھاتے آرہے ہیں یہ آپکو آج اسکی ایک جھلک نظر آگئی۔
اور یہ اللہ نے ان لوگوں کو بےنقاب کیا ہے جو لاوارث پر ظلم کرتے ہیں انکے حقوق مارتے ہیں۔
آپ ہمارے کیسز اور آج کے واقعے کو سامنے رکھیں گے تو کافی حد تک سمجھ جائیں گے کہ ہم 2020 سے کس چیز کی نشاندہی کرتے آرہے ہیں۔ جن جن کو اپنوں سے ملایا وہ کیا رونا روتے رہے ہیں۔
خوف خدا نہیں ہے ان میں۔۔۔۔جب دیکھتے ہیں کے بچے کے آگے پیچھے کوئی نہیں ہے اس سے اسکا ہر قسم کا حق چھینتے ہیں۔
مہینے بھر جانوروں کی طرح کام کرواکر صرف چند پیسے دینا۔
اپنے ذاتی کام لینا ۔ تعلیم سے محروم کرنا ۔ شناخت مٹا دینا۔اسکو خوف زدہ رکھنا ۔ اپنے ایک اشارے کا تابع بنانا۔
اور جینے کا حق تک چھین لینا۔
ریاست کو چاہئے ایسے لاوارث بچوں کے لئے ایک منظم نظام لائے۔ ان کے لئے ایک الگ محکمہ قائم کریں۔ انکی مکمل پرورش اپنی تحویل میں کرے۔ ایک ایک قدم پر نظر رکھیں۔ یہ تمام بچے بہت ہی کار آمد شہری بنیں گے۔ اب بھی وقت ہے۔
اس یتیم خانے نے بچے کےمعاملے میں مبینہ طور پر قانون کی خلاف ورزی کی ہے انکے خلاف بھی تحقیقات ہوں تو شاید مزید کچھ سامنے آجائے۔
#waliullahmaroof
ایک دفعہ میرے ایک پرانے دوست نے مجھے اپنے فارم ہاؤس پر بلایا‘ جو اس نے نیا نیا خریدا تھا۔ اس کے فارم کے باہر اتنی زیادہ قیمتی گاڑیاں کھڑی تھیں کہ مجھے پارکنگ کیلئے جگہ نہیں مل رہی تھی۔
میں بہت دور گاڑی پارک کر کے دس منٹ پیدل چلتا ہوا فارم تک گیا تو راستے میں پارک شدہ گاڑیوں کے ماڈلز دیکھ کر حیران ہوتا گیا کہ اتنی مہنگی اور نئے ماڈلز کی گاڑیاں بھی اس ملک میں لوگوں کے پاس ہیں۔ لوگوں کے پاس کتنی دولت ہے!
خیر‘ جب اندر گیا تو وہاں ایک اور دنیا آباد تھی۔ وہاں چند لوگ‘ جو مجھے جانتے تھے‘ میرے پاس آ کر بیٹھ گئے اور ملکی معیشت اور حالات پر بات کرنے لگے۔
میں اکثر اس طرح کے ہجوم میں خاموشی سے باتیں سنتا رہتا ہوں اور اپنی دانشوری کو قابو میں رکھتا ہوں۔ کبھی کوئی مجھے کہتا تھا کہ سنائیں جی! ملک کے کیا حالات ہیں‘ ملک کدھر جا رہا ہے‘ ہمارا کیا بنے گا‘ تو میں پوری ایمانداری اور سنجیدگی سے اپنی دانشوری شروع کر دیتا۔ ایک آدھ منٹ کے بعد وہ مجھے ٹوک کر کہتے کہ آپ رکیں‘ ہم بتاتے ہیں۔ پھر مجھے احساس ہوا کہ وہ میری بات نہیں سننا چاہتے تھے بلکہ مجھے متوجہ کرنے کیلئے ویسے ہی سرسری طور پر پوچھ لیتے کہ بتائیں کیا چل رہا ہے۔ مجھے دیر سے سمجھ آئی کہ دراصل وہ اپنی سنانا چاہتے ہیں۔ اب میں خاموش ہو کر ان کی سنتا ہوں۔
اُس محفل میں بھی یہی ہوا۔ جب انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ کیا چل رہا ہے تو میں نے اُلٹا ان سے کہا کہ آپ بتائیں‘ آپ سب کاروباری لوگ ہیں۔
پھر انہوں نے ملک اور معیشت کی وہ تصویر پیش کی کہ بندے کا دل کرے کہ بس دنیا ابھی ختم ہو جائے۔ کتنی بری زندگی یہ سب گزار رہے ہیں!
میں نے کچھ دیر تک ان کا یہ منظرنامہ برداشت کیا اور پھر کہا کہ اگر پاکستان اتنا ہی برا ہے یا اکانومی تباہ ہو گئی ہے تو یہ سب پیسہ آپ نے کہاں سے کمایا ہے؟
میرے اس دوست نے‘ جس کے فارم ہاؤس پر ہم بیٹھے ہیں اور جس کی قیمت کم از کم ایک ارب روپے ہو گی‘ یہ پیسہ کہاں سے کمایا ہے؟ آپ لوگوں کی سینکڑوں لگژری گاڑیاں جو باہر پارک ہیں‘ آپ نے کہاں سے خریدی ہیں؟ پاکستانیوں نے دبئی میں دس ارب ڈالرز کی جائیدادیں خریدیں‘ یہ سب پیسہ کہاں سے آیا؟
خواجہ آصف کے بقول‘ آج کل پاکستانی افسر پرتگال میں جائیدادیں خرید رہے ہیں۔ اپوزیشن لیڈر اچکزئی نے تو اسمبلی میں کہا ہے کہ تیس ہزار افسروں نے بیرونِ ملک شہریت لے رکھی ہے۔ کینیڈا پاکستانی افسران اور ان کے بچوں سے بھرا پڑا ہے۔ یہ سب پیسہ کہاں سے آیا جو انہوں نے باہر منتقل کیا؟
میں آپ سب کو جانتا ہوں۔ آپ ارب پتی نہیں تو کروڑ پتی ضرور ہیں۔ دس کروڑ سے کم قیمت کی گاڑی باہر نہیں کھڑی۔ آپ سب کی گاڑیوں میں سب سے پرانی گاڑی میری ہے‘ وہ بھی دفتر کی دی ہوئی ہے۔ اس کے باوجود آپ سب لوگ اس ملک اور اس کی معیشت سے مایوس ہیں؟ حیرت ہے! اور ناشکری کسے کہتے ہیں‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں کہا ہے کہ انسان ناشکرا ہے۔ جو گفتگو آپ کر رہے ہیں یہ ناشکری ہے۔
تھوڑی دیر کیلئے وہاں خاموشی سی چھا گئی اور وہ سب مجھے اکیلا چھوڑ گئے۔ پھر کسی نے نہ پوچھا کہ اس ملک کا کیا بنے گا۔
یہ تین سال پہلے کی بات ہے۔ تین سالوں میں وہ سب دوست مزید اربوں کما کر بھی یہی گفتگو کرتے ہوں گے کہ ملک تباہ ہو گیا‘ رہنے کے قابل نہیں رہا۔
مکمل کالم لنک
https://t.co/4FNVnYK39h
@DunyaNews@roznamadunya
اس خاتون کا نام صاحبہ ہے ۔ سال 1995 سے 97 کے درمیان سات سال کی عمر تھی۔ کراچی کے علاقے گلشن حدید میں رہائش تھی اور ایک اسکول میں تیسری جماعت کی طالبہ تھی۔ ایک روز صاحبہ اپنی ایک کلاس فیلو مہوش بلوچ کے ساتھ اسکول سے گھر/گھر سے اسکول جارہی تھی راستے میں ایک مرد اور ایک عورت نے انکو کچھ پوچھنے کے بہانے سے روک لیا۔اور دونوں کو اغو*اء کرلیا۔
دونوں کو اپنے ساتھ فیصل آباد لائے اور وہاں فروخت کردیا۔ مہوش کو الگ اور صاحبہ کو الگ بیچ دیا۔
صاحبہ ابھی جنکے پاس موجود ہے وہ انکے تیسرے خریدار ہیں۔
نکاح ہوچکا ہے ۔ بال بچے ہیں۔
صاحبہ کے والد کا نام محمد رفیق ہے ۔ والدہ کا نام شمیم اختر ہے۔
بھائیوں کے نام: عمران، عرفان، کامران، راحیل، دانش اور عادل ہیں۔
بھائی عمران کپڑے کی مل میں کام کرتا تھا۔
عرفان فرنیچر کا کام کرتا تھا۔
- بہنوں کے نام: شبانہ، شبنم، رحیلہ اور انا۔
نانا کو باؤ سلطان کے نام سے پکارا جاتا تھا جن کا گھر سندھ کے کسی گاؤں میں تھا۔
پھوپھی ایک کا نام اللہ رکھی تھا، جبکہ دوسری کا نام یاد نہیں۔
گھر غالباً پاکستان اسٹیل ملز کے آس پاس علاقے میں تھا۔
گھر گلی نمبر 5 میں گھر تھا۔
صاحبہ کو اپنے گھر کے قریب اسکول کا نام "سید ان"(syed inn) یاد ہے۔ لیکن جس اسکول میں پڑھتی تھی اس اسکول کا نام یاد نہیں(شاید سرکاری اسکول ہو)۔
- والد ریٹائرڈ تھے، لیکن ان کی ملازمت کی نوعیت معلوم نہیں۔
آپ تمام دوستوں سے اپیل ہے کہ اس بہن کی فریاد سنیں اور اپنی بین سمجھ کر اس پوسٹ کو خوب زیادہ شئیر کریں۔
آپکا ایک شئیر ایک انسان کو انکے پیاروں سے ملانے کا باعث بن سکتا ہے۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
03162529829
(صرف وٹس ایپ پر رابطہ ہوسکےگا)۔
19 oct 2026
#waliullahmaroof
مکہ پہنچتے ہی محترم زبیر ریاض صاحب نے رابطہ کرکے ہمیں مدینہ میں دعوت دی تھی۔۔جو انکا بڑا پن ہے۔
آج مدینہ کی پہلی صبح تھی۔ فجر کی نماز کے بعد ہماری ملاقات کل سے طے تھی۔۔ ہم بےتابی سے انتظاہ گاہ میں منتظر تھے۔
آپ ہمیں لینے آئے اور عربی ناشتے کے لئے ایک ریسٹورنٹ کی طرف گئے۔ساتھ بیٹھے بہت خوبصورت گفت و شنید ہوئی۔۔بہت حوصلہ افزائی فرامائی اور ہمارے کام پر قیمتی مشوروں سے نوازا۔
جنکی ویڈیوز دیکھ کر ایمان تازہ ہوتا ہے آج ان سے ملاقات ہمارے لئے کسی بڑی خوشخبری سے کم نہ تھی۔
آپکی محبت اور خلوص نے ہمیں آپکا مزید شیدائی بنادیا۔
اللہ آپکو شاد و آباد رکھے اور خوب کامیابیاں عطا فرمائے آمین یارب العالمین۔
(پارکنگ میں تھے روانگی سے قبل یہ سیلفی بطور یادگار لی)۔
بعد ازاں ایک پہاڑ کی بلندی پر لیجاکر مدینہ منورہ کی فضائی سیر کروائی۔۔ان شاءاللہ اسکی ویڈیو جلد دیکھ سکیں گے۔
#waliullahmaroof
اس لڑکے کا نام کاشف علی ہے اور والد کا نام سلیم ہے۔
والدہ زہرہ بتول ۔۔دو بھائی حسن اور ریحان ہیں۔
رہائش قائد آباد کراچی کا بتاتا ہے۔ کم عمری میں گم ہوا تھا۔
گھر کے پاس بڑی مسجد تھی زرد رنگ کا گیٹ تھا۔
برائے مہربانی زیادہ سے زیادہ شئیر کریں
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
03162529829
18 oct 2026
#waliullahmaroof
آپ کی بات بالکل درست ہے کہ باہر کی دنیا میں غیر ملکیوں خصوصا مسلمانوں کے لئے زمین بہت کی جارہی ہے، میں خود باہر میں اس کا مشاہدہ کررہا ہوں
@UmarCheema1
پاکستانی ہر وقت اس غم میں مبتلا رہتے ہیں کہ لوگ باہر کیوں جا رہے ہیں، باہر بارے باہر جا کر پتہ چلتا ہے مسائل کا تبادلہ ہے، جو مسائل پاکستان میں ہیں وہ باہر نہیں اور جو وہاں ہیں وہ پاکستان میں نہیں، دوسرا یہ کہ مغرب میں بیرونی دنیا سے (اور بالخصوص مسلمانوں کیلئے) نفرت بڑھ رہی ہے وہاں انتہا پسند سیاسی جماعتیں اسی نعرے پر ووٹ لے رہی ہیں کہ وہ آکر ان “گھس بیٹھیوں” کو واپس بھیجیں گے، لہذا آنے والے وقت میں پاکستان سمیت تیسری دنیا کے دیگر ممالک (بالخصوص مسلمان) پر مغرب کے دروازے اگر بند نہیں بھی ہونگے تو جگہ ضرور تنگ کر دی جائے گی، میں کئی ایسے پاکستانی خاندانوں کو جانتا ہوں جو پاکستان میں صرف اسلئے گھر خرید رہے ہیں کہ اگر وہاں ریفارم پارٹی آ گئی تو اِنکا برطانیہ میں رہنا محال ہو جائے گا یہی صورتحال فرانس میں نیشنل ریلی جماعت کی ہے جس کے ۲۰۲۷ الیکشن جیتنے کے روشن امکان ہیں اور کچھ ایسا ہی معاملہ جرمنی کا ہے جہاں ہٹلر کی پیروکار جماعت گزشتہ الیکشن میں دوسرے نمبر پر آئی ہے باقی سب جماعتوں نے اسکا بائیکاٹ کیا ہوا ہے وہاں کی انٹیلیجنس ایجنسی اسے انتہا پسند جماعت قرار دے چکی ہے (اسکی روشنی میں جرمن پارلیمنٹ اس جماعت پر پابندی لگا سکتی ہے لیکن اس ڈر سے نہیں لگا رہے کہ وہ اور زیادہ مقبول ہو جائے گی) اگلے الیکشن میں وہ بھی سب سے بڑی جماعت بن سکتی ہے انکا بھی ایجنڈا یہی ہے کہ “گھس بیٹھیوں” کو نکال باہر کرنا ہے
الحمدللہ کراچی سے گم ہونے والا بٹکرام کا بچہ 16 سال بعد شیلٹر سے مل گیا ❤️🩹
مکمل ویڈیو Waliullah Maroof یوٹیوب چینل پر دیکھیں اور شئیر کریں ۔۔۔
#Battagram#karachi#shelter#waliullahmaroof
یہ سال 1995 کی بات ہے جب سخت سردیوں کے دن چل رہے تھے۔
صوبہ پنجاب کے ضلع شیخوپورہ کے علاقے فاروق آباد میں مقامی لوگوں نے ایک سفید کار دیکھی۔۔
کار بہت تیزی میں آئی رکی۔۔اور کچھ پھینک کر تیزی کے ساتھ نکل گئی۔
گاؤں والے تجسس میں دوڑتے ہوئے وہاں پہنچے۔۔یہ دیکھنے کے لئے کہ کار والے نے کیا پھیکا ہوگا۔۔!!
جب موقع پر پہنچتے ہیں تو کیا دیکھتے ہیں۔۔۔ سانسیں لیتی ہوئی نیلے رنگ کی فراک میں ملبوس حضرت حوا کی ایک بیٹی۔۔۔
جسکی عمر تقریبا دو سال تک تھی۔۔بھیڑ میں سے ایک نیک دل انسان نے بچی کو اٹھاکر ہر طرف سے دیکھا خیریت دریافت کی اور گلے سے لگاکر کار کی طرف دیکھ کر پیچھا کرنے کا سوچا لیکن تب تک کار اپنی تیزی سے اٹھنے والی دھول میں گم نظروں سے اوجھل ہوگئی تھی۔
سو منہ اور سو باتیں ہورہی تھیں۔۔۔لیکن وہ نیک دل انسان بچی اپنے گھر لایا۔۔اسکی اچھی پرورش کی۔۔اس گھر میں جوان ہوئی اور گھر بس گیا۔۔ پرورش کرنے والے بہت ساری نیکیاں لیکر دنیا سے رخصت ہوگئے۔ اب بنت حوا کا امتحان شروع ہوا۔
پرورش کرنے والے والدین دنیا سے رخصت ہوگئے۔۔اپنے ماں باپ کون تھے کیسے تھے؟ابھی کہاں کس حال میں ہونگے؟ بہن بھائی کیسے ہونگے؟ یہ سوالات اندر سے کھائے جارہے تھے۔
دوسری طرف بات بات پر گندے خون اور لاوارث جیسے الفاظ کے طعنے بھی ملنا شروع ہوگئے اللہ اس بہن پر رحم فرمائے۔
ہمیں یہ اسٹوری سن کر غالب گمان ہے کہ یہ اغ*واء کا کیس ہوگا۔ کسی نے کہیں سے اٹھاکر راستے میں بچی کو پھینک دیا ہوگا۔
آپ تمام دوستوں سے اپیل ہے کہ اپنی اس بہن کے دکھ درد کا احساس کرتے ہوئے اس پوسٹ کو دنیا بھر میں خوب عام کریں۔
بچی کی جو تصویر دی گئی ہے یہ اس کے ملنے کے کچھ عرصے بعد کی ہے گھر والے دیکھ کر ضرور پہچانیں لیں گے۔
آپکا ایک شئیر ایک لاچار بہن کو اپنوں سے ملانے کا سبب بن سکتا ہے۔ خوب زیادہ شئیر کریں۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
+923162529829
یہ پوسٹ 16 اکتوبر 2026 کو بوقت صبح حرم مکی میں بیٹھ کر لکھی ہے۔خاندان ملنے کی دعا کے ساتھ ساتھ آپ سب کے لئے بھی بہت ساری دعائیں۔
#waliullahmaroof
O Allah, save the oppressed Muslims in Yemen from the usurping Houthis Militia, count them and kill them one by one, and do not leave a single one of them behind.
We continue to face terrorist attacks from externally-sponsored groups such as the TTP and BLA and its Majeed Brigade which operate with impunity from Afghan soil with the active support of India. This terrorism has resulted in the grievous loss of more than 4,700 innocent Pakistanis in just the last three years.
No country can tolerate such brazen attacks on its citizens. Pakistan has been compelled to respond with precise, well-planned and calibrated CT operations against terrorist infrastructure and safe havens along our western border, based on credible intelligence. These strikes are strictly targeted at TTP and BLA terrorists and are carried out with high precision and accuracy to avoid civilian casualties. We categorically reject any allegations or insinuation to the contrary.
Pakistan's statement on Agenda Item 112: “Measures to Eliminate International Terrorism” delivered in the Sixth Committee of the UN General Assembly