🔴 غزہ میں مردہ آخری اسرائیلی قیدی کو بھی اسرائیلی فوج کے حوالے کر دیا گیا۔
اب علاقے میں کوئی قیدی، زندہ یا مردہ، باقی نہیں رہا۔ معاہدے کے تحت اب دوسرے مرحلے میں داخل ہوا جائے گا۔
هنا يرقد جثمان حبيبنا الشهيد أنس جمال الشريف..
أنس الذي كان صوت شعبه، ودفع حياته ثمنًا لإيصال معاناة الأطفال الجوعى والأمهات الثكالى. أنس ابن فلسطين، وابن مخيم جباليا، الذي حلم يومًا أن يغادر المخيم عائدًا إلى بلدته الأصلية عسقلان.
اللهم اجعل هذا القبر روضةً من رياض الجنة.
⚡️BREAKING:
Afghan Muslim women supported the Islamic Emirate.
They are happy under the Islamic System, this video shows you the truth about the Afghan women.
"امریکا اپنے فوجیوں کو بچانے کے لیے دنیا کے قوانین روند دیتا ہے، لیکن کیا کسی اسلامی ملک نے کبھی کسی امریکی مجرم کو اپنی عدالت میں سزا دے کر انجام تک پہنچایا ہے؟
ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے لے کر گوانتانامو کے قیدیوں تک… یہ صرف مظلوموں کی داستان نہیں، بلکہ مسلم دنیا کی عدالتی بے بسی اور فکری غلامی کا نوحہ ہے!
کیا ہم استعمار کے قیدی ہیں یا اسلام کے وارث؟
اس سوال کا جواب سمجھنے کے لیے درج ذریل تحقیقی مضمون پڑھیں… اور خود سے جواب دیں۔"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر پڑھیں، سمجھیں، جواب دیں، محفوظ کریں اور دوسروں سے بھی شیئر کریں۔
امریکی جیلوں میں تڑپتی زندہ مسلم لاشیں؛ مسلم دنیا کی عدالتی خودمختاری کہاں ہے؟
تحریر نگار: کابل ڈائری / @KabulDiary
یہ نکتہ انتہائی اہم، عمیق اور فک��ی اعتبار سے قابلِ توجہ ہے۔ کیوں کہ یہ سوال محض قانونی یا سیاسی نہیں، بلکہ تہذیبی، دینی اور استعمار مخالف جہادی شعور سے جُڑا ہوا ہے۔
سوال یہ ہے کہ؛
“اگر امریکا کا کوئی فوجی شام و عراق یا غزہ و افغانستان میں قتلِ عام کرے اور وہ نظر میں آ جائے تو اُسے امریکی عدالت میں پیش کیا جاتا ہے، لیکن کیا کسی اسلامی ملک نے کسی امریکی مجرم کو اپنی عدالت میں سزا دی ہے؟ کیا مسلمانوں کی زمین پر بہنے والا خون اتنا بے قیمت ہے کہ اُس کا فیصلہ بھی دشمن کی میز پر ہوگا؟
جب امریکی عدالتیں اپنے فوجیوں کو بچانے کے لیے دنیا کے قوانین کو روند دیتی ہیں تو کیا مسلمانوں کے پاس بھی اپنے مظلوموں کے لیے کوئی باوقار عدالتی نظام موجود ہے؟
امریکا اپنے مجرموں کو اپنے قانون کے زیرِ سایہ محفوظ رکھتا ہے تو کیا اسلامی دنیا اتنی ہی بےبس ہو چکی ہے کہ وہ اپنے مجرموں پر بھی غیر کا حکم چلنے دے؟”
بات یہ ہے کہ امریکا کی سیاسی، فوجی اور عدالتی پالیسیوں میں ایک واضح تضاد اور استعماری ذہنیت موجود ہے۔
دیگر ممالک میں امریکی فوجی موجودگی کا معاہدہ کیا ہے؟
برسرِ تذکرہ واضح رہنا چاہیے کہ “Status of Forces Agreement” کو ’غیر ملکی فوجیوں کو حاصل عدالتی تحفظ ک�� معاہدہ‘ کہا جا سکتا ہے۔
یہ دراصل بین الاقوامی قانون کا وہ رخ ہے، جو استعماری طاقتوں کو قانونی تحفظ کی صورت میں اپنی موجودگی کا جواز دیتا ہے۔ اس معاہدے کے تحت خاص طور پر امریکا جیسے کسی طاقت ور ملک کو میزبان مسلم ریاست میں یہ حق حاصل ہو جاتا ہے کہ اُس کے فوجی اگر وہاں کسی جرم یا زیادتی کے مرتکب ہوں تو اُن پر مقدمہ میزبان ملک کی عدالت کے بجائے صرف امریکی نظامِ انصاف کے تحت ہی چلے گا۔
یوں قتلِ عام، جنسی زیادتی، اذیت رسانی یا انسانی حقوق کی پامالی جیسے سنگین جرائم جہاں وقوع پذیر ہوتے ہیں، وہاں کی زمین تو خون جذب کر لیتی ہے، مگر عدالت کو فیصلہ سنانے کا اختیار حاصل نہ��ں ہوتا۔ امریکا اس قانونی ڈھال کو محض نام نہاد امن کے تحفظ کے لیے نہیں، بلکہ اپنے تسلط، تکبر اور فوجی موجودگی کو دائمی بنانے کے لیے استعمال کرتا ہے۔ اسلامی دنیا کی عدالتیں یوں بے بس ہو کر خاموش تماشائی بن جاتی ہیں اور یوں انصاف بھی استعمار کا قیدی بن جاتا ہے۔
یہاں قاتل دُکھ یہ ہے کہ اکثر مسلم حکمرانوں نے یہ معاہدے امریکی دباؤ، ذاتی سیاسی مفادات یا عسکری انحصار کے تحت کیے ہیں، جس سے یہ امریکا کو حاصل ہونے والا یہ “رضاکارانہ قانونی تحفظ” درحقیقت ایک ننگی استعمار پسندی کی توثیق بن گیا ہے۔
امریکی استعماری رویّے کی حقیقت:
لہذا ایک طرف جب کوئی امریکی فوجی عراق، افغانستان یا شام و غزہ میں جنگی جرائم، قتلِ عام یا انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا مرتکب ہوتا ہے تو امریکا اُسے کبھی اِن ممالک کی عدالتوں میں پیش نہیں کرتا۔ وہ “Status of Forces Agreement (SOFA)” جیسی شرائط کے تحت امریکی عدالتیں ہی ان پر فیصلہ کرتی ہیں۔
جیسے سال 2005 میں عراق کے صوبہ الانبار کے شہر حدیثہ میں ایک نہایت دل خراش واقعہ پیش آیا، جس میں امریکی میرین فوجیوں نے اندھا دھند فائرنگ کر کے 24 بے گناہ عراقی شہریوں کو شہید کر دیا تھا۔ ان مقتولین میں معصوم بچے، خواتین اور بزرگ شامل تھے۔ واقعہ اُس وقت شروع ہوا، جب سڑک کنارے نصب بم کے پھٹنے سے ایک امریکی فوجی مارا گیا۔ اس کے بعد امریکی فوجیوں نے انتقامی ��ور پر دھماکے کی جگہ کے قریبی گھروں پر دھاوا بول دیا اور کسی تفریق کے بغیر گولیاں برسا دیں۔ کئی افراد کو اُن کے گھروں کے اندر بچوں کے سامنے انتہائی قریب سے گولی مار کر قتل کیا گیا۔
گویا ایک امریکی کے بدلے 24 عراقی مسلمانوں کا خون بہایا گیا۔
اس کھلے قتلِ عام کے باوجود امریکا نے ان فوجیوں پر کوئی سخت قانونی کارروائی نہیں کی۔ اس کا مقدمہ صرف امریکا میں چلایا گیا اور نتیجتاً تقریباً تمام فوجیوں کو یا تو بری کر دیا گیا یا محض معمولی تادیبی سزا دی گئی۔ حیرت انگیز بات یہ تھی کہ جرم عراقی سرزمین پر ہوا، متاثرین عراقی شہری تھے، مگر عراقی عدلیہ کو اس معاملے میں بالکل بے دخل رکھا گیا۔ یہ واقعہ اس بات کی واضح مثال ہے کہ امریکی فوجی اگر کسی اسلامی ملک میں ظلم یا قتل کا ارتکاب بھی کریں تو وہ مقامی عدالتوں کے نہیں، بلکہ صرف امریکی قانون کے ماتحت سمجھے جاتے ہیں۔
یہ المیہ ہے کہ اکثر انصاف کے تمام تقاضے طاقت کے سامنے دم توڑ دیتے ہیں۔
ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا دُکھ:
ایسے ہی دوسری طرف جب کوئی ‘غیر امریکی شہری’ امریکا کے خلاف کسی کارروائی میں ملوث ہو (چاہے اس کا میدان امریکا سے باہر ہو) تو امریکا اُس شخص کو اغوا، خفیہ جیلوں یا گوانتانامو جیسے غیرقانونی ذرائع سے کھینچ کر اپنی عدالت میں لے آتا ہے۔
مثال کے طور پر ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا معاملہ اُن مظلوم مسلمانوں کی سب سے نمایاں مثال بن چکا ہے… جنہیں امریکا نے نہ صرف عالمی قانون، بلکہ انسانی شرافت کی تمام حدود پامال کرتے ہوئے ظلم کا نشانہ بنایا ہے۔
ڈاکٹر عافیہ صدیقی ایک تعلیم یافتہ پاکستانی خاتون کو سال 2003 میں پاکستان کے ساحلی شہر کراچی سے اغوا کیا گیا اور کئی سال تک خفیہ جیلوں میں رکھا گیا۔ حتی کہ اُن کی موجودگی کا سراغ افغانستان کے شہر بگرام کی امریکی جیل میں ملا۔ بعدازاں بغیر کسی شفاف قانونی کارروائی کے اُنہیں امریکا منتقل کر کے ایک ایسے مقدمے میں 86 سال قید کی سزا سنا دی گئی… جس میں جرم واضح تھا، گواہی مکمل تھی اور نہ دائرۂ اختیار درست تھا۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ وہ امریکی شہری تھیں اور نہ ہی (ناکردہ) جرم امریکی سرزمین پر ہوا تھا، مگر پھر بھی اُن پر امریکی قانون لاگو کیا گیا۔ اُنہیں اُن کے اپنے ملک کی عدالت یا وکیل تک میسر نہ آ سکے۔
امریکا کا یہ رویّہ اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ جب معاملہ کسی مسلمان کے خلاف ہو تو امریکا پوری دنیا کو اپنا دائرۂ اختیار میں سمجھتا ہے، لیکن جب امریکی شہری کہیں اَور جرم کرے تو مقامی عدالتیں اُس کے لیے غیر متعلق ہو جاتی ہیں۔
اگرچہ اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکا “عدالت کی خودمختاری” کے حق کو صرف اپنے لیے محفوظ رکھتا ہے، مگر ساتھ ہی یہ امر بھی افسوس ناک ہے کہ بعض مسلم ریاستوں کی داخلی کمزوری یا اُن پر خارجی دباؤ کے باعث اُن میں اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے وہ استقلال نظر نہیں آتا، جس کی ایک خودمختار عدالتی و سیاسی نظام سے توقع کی جاتی ہے۔
مسلم ممالک کا بے وزن دماغ و عمل:
یہاں آپ کو بجا طور پر یہ سوال اٹھانا چاہیے کہ کیا مسلم ممالک نے ‘عسکریت کے نکتہ نظر’ سے کسی امریکی شہری، فوجی یا جاسوس کو اپنی عدالت میں سزا دی ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ بیشتر مسلم ممالک یا تو امریکا کے سیاسی و عسکری دباؤ میں ہیں یا ان کے اندر وہ سیاسی خوداعتمادی، فقہی بلندی اور نظریاتی استقامت موجود ہی نہیں ہے کہ وہ دشمن کے “جرم” پر خود کے “قانونی حق” کے طور پر سزا لاگو کر سکیں۔
یہ مسلم ممالک کی صرف قانونی کمزوری نہیں، بلکہ جہادی و دینی شعور کی عدم موجودگی کا تاریک مظہر ہے۔
دینی و جہادی پہلو سے یہ مسلّمہ اصول ہے کہ اسلامی فقہ کی رو سے جو ظلم اور قتل کسی مسلم سرزمین پر ہوا ہو اور اس کا مرتکب غیر مسلم ہو تو دارالاسلام کو اُسے کیفرِ کردار تک پہنچانے کا شرعی اختیار حاصل ہوتا ہے۔
ہم خلافتِ راشدہ کے دور سے لے کر سلطنتِ عثمانیہ تک دیکھتے ہیں کہ کوئی دشمن چاہے کتنا ہی طاقت ور ہو، اگر اُس نے مسلمانوں کے جان و مال پر حملہ کیا ہے تو اُس کا محاسبہ دارالاسلام کے دائرہ میں ہی ہوتا تھا۔
البتہ آج عدلیہ آزاد ہے، فقہی روایت کو بروئے کار لایا جا رہا ہے اور نہ ہی اسلامی غیرت و حمیت کو سیاسی فیصلوں کا محور بنایا جاتا ہے۔ مزید المیہ یہ ہے کہ مسلم ممالک کے حکمران بجائے خود اپنے شہریوں کو امریکا کے ہاتھ فروخت کرنے کا دھندہ کرتے اور امریکی استعماری جرم میں برابر کے شریک ہیں۔
موریطانیہ کے محمدو کی الم ناک داستان:
‘محمدو ولد الصلاحي’ موریطانیہ کا ایک تعلیم یافتہ نوجوان، باصلاحیت انجینئر اور حافظِ قرآن تھا۔ اس نے 1990 کی دہائی میں افغانستان میں سوویت قبضے کے خلاف جہاد کے دوران کچھ عرصہ گزارا تھا۔ یہاں افغان جہاد کے دوران اُس کے کچھ عرب مجاہدین سے رابطے تھے۔
سال 2001 میں 11 ستمبر کے واقعات ک�� بعد امریکا نے محض پرانے روابط کی بنیاد پر اُس پر القاعدہ سے تعلق کا الزام لگا دیا۔ حالانکہ اُس کے خلاف القاعدہ سے تعلقات کے کوئی واضح ثبوت پیش نہ کیے جا سکے تھے۔ چناں چہ 2001 میں اُسے موریطانیہ سے اغوا کر کے خفیہ طور پر اُردن منتقل کیا گیا، جہاں کئی ماہ تک اُس سے سخت تفتیش کی گئی۔ اس کے بعد اسے افغانستان لے جا کر بگرام جیل میں قید کر دیا گیا۔ کچھ عرصے بعد اُسے گوانتانامو بے (کیوبا) منتقل کر دیا گیا۔ وہاں اُس پر بدترین جسمانی اور ذہنی تشدد کیا گیا، جیسے نیند سے محرومی، زنجیروں میں جکڑ کر مارپیٹ، دھمکیاں اور نفسیاتی دباؤ، جسے بعد میں خود امریکی دستاویزات میں بھی تسلیم کیا گیا تھا۔
اُس بے چارے کو چودہ برس تک بغیر کسی مقدمے، فردِ جرم یا عدالتی فیصلے کے قید رکھا گیا۔ موریطانیہ کی عدالت کو اُس کے معاملے میں کوئی اختیار دیا گیا، کسی اسلامی ملک نے اس کی رہائی کے لیے کوئی سنجیدہ دباؤ ڈالا اور نہ ہی OIC نے ایک مسلمان کی کفار سے آزادی کے لیے کوئی کردار ادا کیا۔ بالآخر 2016 میں (تقریباً 14 سال بعد) اُسے رہا کر دیا گیا۔
اسلامی جمہوریہ موریطانیہ کی بدقسمتی ہے کہ امریکا نے اپنے اس 14 سالہ ��یرقانونی جرم کی معافی مانگی، معاوضہ دیا اور نہ ہی اس قید کو غیرقانونی تسلیم کیا۔ یہ المیہ ہے کہ بے گناہ محمدو پر اُس کی رہائی تک امریکی قانون ہی لاگو رکھا گیا۔
محمدو نے اپنی اس اذیت ناک داستان کو ‘Guantánamo Diary’ کے نام سے کتابی شکل بھی دی ہے۔
یہاں الم ناک حقیقت یہ تھی کہ محمدو کو گرفتار کر کے امریکا کے حوالے کرنے والا کوئی اَور نہیں، بلکہ موریطانیہ کی سکیورٹی فورس تھی۔
یہ واقعہ امریکی استعماریت اور مسلم دنیا کی بے حسی کی ایسی تلخ علامت ہے کہ امریکا جب چاہے، کسی بے گناہ مسلمان کو عالمی قوانین اور انسانی حقوق کو روند کر اپنی مرضی سے دنیا کے کسی کونے سے اغوا کر سکتا ��ے، برسوں قید میں رکھ سکتا ہے اور اسلامی دنیا محض تماشائی بنی رہتی ہے۔
گوانتانامو کے سائے میں اسلامی غیرت کا امتحان:
موریطانیہ ایک اسلامی جمہوریہ ہے، جس کا آئین اسلام کو ریاست کا بنیادی ستون قرار دیتا ہے۔ یہاں اکثریت مسلمان ہے۔ مگر جب محمدو ولد الصلاحي جیسے حافظِ قرآن موریطانی شہری کو امریکا نے بغیر کسی ثبوت کے اغوا کر کے خفیہ جیلوں اور گوانتانامو جیسے بدنامِ زمانہ عقوبت خانے میں قید رکھا تو موریطانی حکومت کی طرف سے کوئی مؤثر قانونی کارروائی ہوئی اور نہ بین الاقوامی سطح پر آواز بلند کی گئی۔
یہ خاموشی صرف ایک شہری کی بے توقیری نہیں، بلکہ ایک مسلم ریاست کی خودمختاری، اسلامی غیرت اور عدالتی اختیار کی نفی تھی۔ اسلامی تشخص رکھنے والی ریاست جب اپنے مظلوم شہری کے لیے بھی کوئی عملی اقدام نہ اٹھائے تو پھر امت کی اجتماعی بے بسی اور فکری زوال پر سوال اٹھانا ناگزیر ہو جاتا ہے۔
مسلم دنیا کہاں ہے؟
امت کی فکری خودمختاری صرف جذبات سے نہیں، ادارہ جاتی خودمختاری سے بھی جُڑی ہے۔ افسوس کہ مسلم دنیا کی نمائندگی کرنے والے OIC یا عرب لیگ جیسے بین الاقوامی فورمز مظلوموں کے حق میں قراردادوں سے آگے نہیں بڑھتے۔ گویا ظلم کی گونج تو سنائی دیتی ہے، مگر اس کے خلاف عملی طور پر آگے بڑھنے والے مضبوط قدم اور کچھ کر��ے والے آہنی ہاتھ موجود نہیں ہیں۔
اگر امت مسلمہ اپنی عدالتی، سیاسی اور فکری خودمختاری قائم نہ رکھے تو یہ دین کے استحکام کی جنگ میں ایک بڑا نقصان ہوگا۔ اب وقت ہے کہ ہم نہ صرف استعماریت کو پہچانیں، بلکہ اسے روکنے کے لیے عملی قدم اٹھائیں۔
ایک فکری مقدمے کی ضرورت ہے:
لہذا اب آپ کو اس صورتِ حال کے سادہ مشاہدے سے گزر کر اِسے ایک فکری مقدمے کی بنیاد بنانا ہوگا۔
اگر امریکا کو اپنے فوجیوں کے لیے عدالتی خودمختاری کا حق حاصل ہے تو کیا مسلمانوں کو اپنی عدالتیں نہیں چلانی چاہی��ں؟
اگر امریکا اپنے دشمنوں کو دنیا بھر سے گھسیٹ کر اپنے عدالتی کٹہرے میں کھڑا کر سکتا ہے تو کیا مسلمانوں کو بھی اپنا سیاسی، جہادی اور شرعی اختیار استعمال نہیں کرنا چاہیے؟
اگر ایسا نہیں ہو رہا تو آپ یہ سوال مت کریں کہ ‘ایسا کیوں نہیں ہو رہا’، بلکہ سوال اُٹھائیں کہ ‘اسلامی قیادتوں کی اصل وفاداریاں کس کے ساتھ ہیں؟’
اب یہ مسئلہ عدالتوں یا قوانین کی سطح سے بلند ہو کر امت مسلمہ کی فکری خودمختاری اور شرعی غیرت کا بن چکا ہے۔
اگر اسلامی دنیا امریکا کی طرح اپنے دشمنوں پر اسلامی عدالتی، نظریاتی اور عسکری اختیار نہ جتائے تو یہ صرف کمزوری نہیں، بلکہ صاف طور پر ‘دینِ اسلام کی بالادستی کے تصور سے انحراف’ ہے۔
تحریر کا ویب لنک:
https://t.co/WKzkQ6Co7Y
ما فرّق الأمة وأوقد في جسدها نار الفتنة أعظم من بدعةٍ قلبت وظيفة الدعوة رأسًا على عقب، فانتقل الخطاب من رحمةٍ تُقرّب إلى الله إلى تنفيرٍ يصدّ عن سبيله، ثم إلى تكفيرٍ يستبيح الدماء، حتى انتهى إلى تفجيرٍ يمزّق الأوطان.
إننا وُرثةُ نبوّةٍ جاءت رحمةً للعالمين، ولسنا قضاةً نصدر أحكام الإعدام على العباد، وإنما دعاةٌ نُحيي القلوب ونرشد العقو��، ونفتح للناس أبواب الرجاء قبل أن تُغلقها يد الغلوّ والجهل.
शरजील इमाम की मां पिछले 2007 दिनों से बिना रोए नहीं सोई हैं! हर दिन अल्लाह के सामने गिड़गिड़ा कर अपने बेटे की आज़ादी की दुआ मांगी! उन्होंने 5 साल से ईद नहीं मनाई, घर से बाहर नहीं निकली, घर की शादियां में जाना छोड़ दिया, लंबे वक्त से एंटी डिप्रेशन दवाइयों पर वक़्त गुज़ार रही हैं!
رثاء الأمة لا رثاء #أنس_الشريف و #محمد_قريقع و #التغطية_مستمرة 🇵🇸 🍃
فلتخلع الروحُ الشريفة جسمَها
ولتمضِ ما دامت هناك طريقُ
وليخلعوا ثوبَ الرجولة إنه
بك أنت وحدك في الخطوب يليقُ
كلّفت جسمك والكروب جسيمةٌ
ما ليس نفس ٌ في الأنام تطيقُ
فاخلعه، روحُكَ دون جسمك حرّةٌ
هي تلك من تحت الرمادِ تُفيقُ
أخذتْ بكف�� محمد من موته
وعرجتما والثالثُ الفينيقُ
وهو اليتيم وأمّه صدّيقةٌ
وإذا تكلّم إنه الصديق ُ
ما زال يبرىء صمتَنا لكنه
لم يحيي قلباً بالموات حقيقُ
لم يصلبوه وإن تكاثر جمعهم
لكنّ أشباه الرجال تُحيقُ
والليل موحشُ والدروب طويلةٌ
والفجر أمّ غادرت ورفيقُ
سيعود يوما كي يحصّل ثأرهم
ويكونُ من دون الضياء حريقُ
عجبا فحتى في الرحيل كلاكما
رغم الجراح مهندمٌ وأنيق ُ
أبو عبيدة : يا قادة الامة العربية ونخبها وعلمائها، أنتم خصومنا أمام الله، أنتم خصوم كل طفل يتيم، وكل طفلٍ مجوع، خذلتموهم بصمتكم ألا تسطيع أمة عظيمة ومجيدة إدخال طعام ودواء وماء للمجوعين في غزة 🇵🇸
مسلم خاتون کا حجاب صرف کپڑے کا ٹکڑا نہیں، ایک مزاحمتی بیانیہ ہے
تحریر: محمد افغان
گزشتہ دنوں X (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک ویڈیو نظر سے گزری۔
اُس میں منظر تھا آئرلینڈ کے ایک پارک کا، جو غالباً کسی ریسٹورنٹ سے منسلک تھا۔ اُس پارک میں مکمل حجاب میں ملبوس ایک مسلمان خاتون اپنے معصوم بچوں کو جھولا دے رہی تھی۔
وہ وہاں کوئی نعرہ بازی کر ہی تھی، وہ کسی احتجاج میں مصروف تھی اور نہ ہی کوئی بینر اٹھائے اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے مظاہرہ کر رہی تھی۔ وہ بس ایک ماں تھی، جو اپنے بچوں کی تفریحی دنیا میں مگن پارک میں آئی ہوئی تھی۔
وہیں دوسری جانب ایک نیم برہنہ غیرمسلم خاتون ریسٹورنٹ کی کھڑکی سے اُس مسلمان ماں کی ویڈیو بنا رہی تھی۔ ایکس پر گردش کرتی اُس ویڈیو کے کیپشن میں لکھا تھا:
“افسوس ناک طور پر آئرلینڈ 1600 سال پیچھے جا رہا ہے۔”
سوال یہ ہے کہ آخر کوئی ایک خاموش، پُرامن اور معمول کے طور پر مذہبی حکم کی تابع داری سے خود کو اتنا غیر محفوظ کیوں محسوس کر سکتا ہے��
لیکن یہ سوال اتنا سادہ نہیں ہے، جتنا بظاہر یہ نظر آتا ہے۔
اس لیے کہ اسلام کے نکتہ نظر سے اور خصوصاً آج کی دنیا میں حجاب صرف ایک حکم کی تابع داری نہیں، بلکہ ایک مکمل بیانیہ بن چکا ہے۔ اب یہ ایک بھرپور مزاحمت، ایک مکمل انکار اور ایک پُرزور دعوت بھی قرار پایا ہے۔
اس لیے کہ ہم آج جب عالمی منظر نامے میں “اسلامی مزاحمت” کا لفظ سنتے ہیں تو فوراً سے پہلے ہمارے ذہن میں عسکریت، جنگ، مجاہدین، فدائی حملے یا بم دھماکے آ جاتے ہیں۔
درحقیقت ایک طرف اسلامی مزاحمت کا یہ ایک محدود تصور ہے۔ جب کہ دوسری طرف ہمارے دماغوں کا یہ ردِعمل محض اتفاقی یا غیر ارادی نہیں ہے۔ یہ ایک منظم فکری یلغار کا نتیجہ ہے، جسے سال ہا سال سے مغربی ذرائع ابلاغ، فلموں، تعلیمی نصاب اور سیاسی بیانیوں کے ذریعے مسلم اذہان میں پیوست کر دیا گیا ہے۔
اسلامی مزاحمت کی یہ عسکری تعبیر محض ایک جزوی رُخ ہے، جسے وسیع المفہوم ��زاحمت کے باقی تمام پہلوؤں سے کاٹ کر پیش کیا گیا ہے۔
مغرب کی طرف سے اس ذہن سازی کا بنیادی مقصد یہی رہا ہے کہ دنیا اسلام کو صرف ایک ‘خطرناک تصور’ کے طور پر جانے… نہ کہ ایک جامع فکر، ضابطۂ حیات اور اصلاحی نظام کے طور پر اس سے برتاؤ کرے۔
اسی منفی پروپیگنڈے کی ایک نمایاں مثال اسلامی حدود و قصاص اور تعزیرات کے معاملے میں سامنے آتی ہے۔
اسلام دشمن عناصر اور لبرل طبقات شریعت کی طرف سے مختلف جرائم کے لیے مقرر سزاؤں کو “وحشیانہ” یا “غیر انسانی” قرار دے کر نہ صرف ان کے نفاذ کو روکنے کی مہم چلاتے، بلکہ اسلامی نظامِ عدل کو ایک غیر مہذب ڈھانچے کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں۔
تاہم، قرآن کی صراحت کے مطابق اسلامی حدود انسانی جانوں اور معاشرے کے تحفظ کا ذریعہ ہیں:
“وَلَكُمۡ فِي ٱلۡقِصَاصِ حَيَوٰةٞ يَٰٓأُوْلِي ٱلۡأَلۡبَٰبِ…”
اور اے عقل والو، قصاص میں تمہارے لیے زندگی ہے!
یعنی جب کسی مجرم کو اس کے جرم کے مطابق سزا دی جاتی ہے تو وہ سزا صرف فرد کے خلاف کارروائی نہیں ہوتی، بلکہ پورے معاشرے کے لیے عبرت اور تحفظ کا ذریعہ بنتی ہے۔
یعنی جب کسی مجرم کو اس کے جرم کی بنیاد پر حدود یا قصاص کے عمل سے گزارا جاتا ہے تو اس عمل کو دیکھنے والے لوگ اس سے عبرت حاصل کرتے اور جرائم سے کنارہ کش ہو جاتے ہیں، جو معاشرے میں بگاڑ، ظلم، اجتماعی فساد اور انجام کار حدود و قصاص کے نفاذ کا باعث بنتے ہیں۔
یعنی یہاں اصل مقصد بجائے خود حدود و قصاص جیسی سزاؤں کا نفاذ نہیں، بلکہ معاشرے میں امن، عزت و ناموس کا ت��فظ اور اخلاقی و مالی خوش حالی کو برقرار رکھنا ہے۔
لہذا اسلام اپنے احکامات کے ذریعے صرف جرائم کا خاتمہ نہیں چاہتا، بلکہ اُن نفسیاتی، تہذیبی اور فکری وجوہات کا بھی علاج کرتا ہے، جو جرائم کو جنم دیتی ہیں۔
یہی اسلامی مزاحمت کا اصل تصور ہے۔ یعنی ظلم اور غیر فطری نظام کا خلاف صرف تلوار سے نہیں، بلکہ کردار، قانون اور تہذیب سے بھی مقابلہ کرنا ہے۔
لہذا واضح رہنا چاہیے کہ مزاحمت صرف بندوق اور اُس سے جڑی ہوئی موت و حیات کی کشمکش کا نام نہیں ہے۔ یہ اسلامی فکر و خیال، ثقافتی کردار اور تہذیبی طرزِ حیات کی بقاء کا بھی نام ہے۔ یہ ایک جامع شعور ہے، جو فکر میں آزادی، کردار میں استقامت، جسم و روح میں پاکیزگی اور تہذیب میں خودداری پر مشتمل ہوتا ہے۔
چناں چہ ایک باحجاب مسلم خاتون صرف ایک مذہبی حکم کی پابند نہیں ہوتی، بلکہ وہ بے حیائی، اخلاقی انحطاط اور عورت کو محض نمائش کا ذریعہ بنانے والی سوچ کے خلاف ایک خاموش، مگر پُراثر مزاحمت کی علامت ہوتی ہے۔ اس کا حجاب صرف کپڑے کا ٹکڑا نہیں، بلکہ ایک نظریاتی بیانیہ ہے ک�� عورت کی عزت، حیا اور وقار کسی فیشن شو یا اشتہار کی زینت نہیں، بلکہ وہ ایک امانت ہے، ایک حرمت ہے، ایک ذمہ داری ہے۔
باپردہ مسلم عورت کا وجود ان تمام نظریات کو چیلنج کرتا ہے، جو عورت کو نام نہاد طور پر “آزاد” کہہ کر بازار، اسکرین اور اسٹیج کی زینت بناتے ہیں۔ اسی لیے ایک باحجاب عورت اپنے طرزِ لباس سے صرف اللہ کے حکم کی بندگی نہیں کر رہی ہوتی، وہ درحقیقت اس پورے نظامِ فکر کے خلاف مزاحمت کر رہی ہوتی ہے، جو عورت کو غیروں کی نظروں کا غلام، اُن کی ہوس کا کھلونا اور اُن کی شیطنت کا پیروکار بنا دینا چاہتا ہے۔
اب یہ سوال کہ “آخر کوئی ایک خاموش، پُرامن اور معمول کے طور پر مذہبی حکم کی تابع داری سے خود کو اتنا غیر محفوظ کیوں محسوس کر سکتا ہے؟”
اس تمام بحث سے اس کا جواب واضح ہو جاتا ہے کہ آج آزادیِ اظہار کے دعوے داروں کا ایک حجاب سے، ایک عربی لفظ سے، ایک مسجد سے… حتیٰ کہ ایک سادہ دینی دعوت سے بھی خوف زدہ ہونا ہرگز کوئی اتفاق یا اَنہونا عمل نہیں، یہ ایک سیاسی و فکری اور تہذیبی زلزلہ ہے، جس کی تھرتھراہٹ یورپ کی بنیادوں کو ہلا رہی ہے۔
لہذا، ہمیں اپنی مزاحمت کے وسیع مفہوم کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ کیوں کہ ہماری جنگ صرف عسکری نہیں، بلکہ فکری، ثقافتی، اخلاقی اور روحانی بھی ہے۔ ہماری مزاحمت کی بنیاد سب سے پہلے اسلام پر ثابت قدمی ہے۔ اسی کے ساتھ اگر ہم حجاب کو اپنائیں، سچائی پر قائم رہیں، عزت و وقار سے جئیں اور ظلم پر مبنی نظام کو رد کریں تو یہ سب ہمارے دور کی حقیقی اور لازمی مزاحمتیں ہیں۔
درحقیقت، یہی مزاحمت، جسے مغرب و لبرل طبقہ “1600 سال پیچھے جانا” کہتا ہے، انسانیت کی اصل سَمت اور فطری منزل ہے۔
لہذا سولہ سو سال پیچھے جا کر انسانیت کی حقیقی منزل تلاش کرنے کے لیے ویسے ہی فہم و ادراک کی ضرورت ہے، جیسا شعور قصاص میں پوشیدہ زندگی تلاش کرنے میں درکار ہے۔
تحریر کا لنک:
https://t.co/wbhX1XC65l
فلسطین کے حوالے سے 'ابراہیمی معاہدے' کی تفصیلات کیا ہیں؟
تحریر: محمد افغان
“ابراہیمی معاہدہ” اسرائیل اور کئی عرب ممالک کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے طے پانے والے معاہدوں کا ایک سلسلہ ہے۔ یہ معاہدے سال 2020 میں امریکا کی ثالثی میں طے پائے گئے تھے۔ ان کا مقصد مشرقِ وسطیٰ میں امن اور تعاون کو فروغ دینا تھا۔ اس معاہدے کا نام بائبل کے پیغمبر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے نام پر رکھا گیا تھا، جو یہود، مسیحی اور مسلمانوں کے لیے مشترکہ پیغمبر ہیں۔
ابراہیمی معاہدے کو سال 2020 میں طے کرتے وقت اس کے اہم فریق اسرائیل، متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش تھے۔
اس میں مرکزی فریق کے طور پر اسرائیل تھا، جس کی ضرورت تھی کہ وہ عرب ممالک کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرے۔ جب کہ متحدہ عرب امارات (UAE) پہلا عرب ملک تھا، جس نے ستمبر 2020 میں اس معاہدے پر دستخط کیے۔ متحدہ عرب امارات کے فوراً بعد بحرین اس میں شامل ہوا۔ جب کہ (شمالی مسلم اکثریتی) جمہوریہ سوڈان اکتوبر 2020 میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے پر رضامند ہوا تھا۔ 5ویں فریق کے طور پر مراکش نے دسمبر 2020 میں اس معاہدے پر دستخط کر کے اس میں شراکت اختیار کی تھی۔
ریاستہائے متحدہ امریکا نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پہلی ٹرم کی انتظامیہ کے دور میں بطور ثالث کردار ادا کرنے کے لیے اس معاہدے کے مذاکراتی سلسلوں اور نفاذ میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ دوسری طرف مصر اور اردن پہلے ہی اسرائیل کے ساتھ امن معاہدوں (1979 اور 1994) پر دستخط کر چکے تھے، لیکن انہوں نے بھی ابراہیمی معاہدے کی حمایت میں اپنا کردار ادا کیا تھا۔
اس معاہدے کے تناظر میں فلسطین حقیقی فریق تھا، جسے اس معاہدے میں کسی طرح کی رائے دہی کے لیے شریک نہیں کیا گیا تھا۔ البتہ فلسطین نے اس معاہدے کی سخت مخالفت کی تھی۔ فلسطین کی مخالفت کا بنیادی مقصد “اسرائیل عرب تعلقات کا قیام” تھا کہ عرب ممالک اپنے مسلم بھائی فلسطین کے دشمن اسرائیل کے ساتھ بھائی چارہ بڑھا رہے ہیں۔
یہ واضح رہے کہ یہ معاہدہ دراصل الگ الگ دوطرفہ معاہدوں کا مجموعہ تھا، جس میں ہر عرب ملک نے اسرائیل کے ساتھ علیحدہ معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ جب کہ امریکا نے ان تمام معاہدوں کو “ابراہیمی معاہدات” کے نام سے یکجا طور پر پیش کیا تھا۔
اس کی وضاحت یہ ہے کہ ابراہیمی معاہدہ درحقیقت ایک واحد کثیرالجہتی معاہدہ نہیں تھا، بلکہ یہ الگ الگ دوطرفہ معاہدوں کا مجموعہ ہے۔ اس میں ہر عرب ملک نے اسرائیل کے ساتھ علیحدہ مذاکرات کر کے اپنے تعلقات کو معمول بنایا تھا۔ امریکا نے ان تمام معاہدوں کو ایک ہی عنوان “ابراہ��می معاہدات” کے تحت پیش کیا، تاکہ انہیں ��یک بڑی سفارتی کامیاب کے طور پر دکھایا جا سکے۔
یہی وجہ ہے کہ متحدہ عرب امارات (UAE) اور اسرائیل نے اس معاہدے پر 15 ستمبر 2020 کو معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ اس معاہدے میں اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کا مقصد باہمی تعلقات معمول بنانے، اقتصادی تعاون اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں شراکت داری پر اتفاق کرنا تھا۔
بحرین اور اسرائیل نے اپنے مابین 15 ستمبر 2020 کو UAE کے ساتھ ہی دستخط کر کے معاہدہ کنفرم کیا تھا۔ بحرین اور اسرائیل کے معاہدے کا مقصد باہم سفارتی تعلقات، تجارت اور سلامتی کے میدان میں تعاون قائم کرنا اور بڑھانا تھا۔
سوڈان اور اسرائیل نے اکتوبر 2020 میں غیر رسمی طور پر معاہدہ پر دستخط کیے تھے۔ اس معاہدے کے بعد سوڈان کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا گیا، جس کے بدلے امریکا نے سوڈان کو “دہشت گردی کی حامی ریاست” کی فہرست سے نکال دیا۔
مراکش اور اسرائیل نے 10 دسمبر 2020 کو معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ اس معاہدے میں مراکش نے اسرائیل کو تسلیم کیا، جس کے بدلے میں امریکا نے مراکش کی جانب سے “مغربی صحارا” پر مراکش کے ملکیتی دعوے کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا تھا۔
ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ نے ان معاہدوں کو اپنی “مشرق وسطیٰ پالیسی” کے حوالے سے بڑی کامیابی قرار دیا تھا۔
مذکورہ مسلم ممالک کے اسرائیل کے ساتھ الگ طور پر معاہدے ہونے کی وجہ ہر مسلم ملک کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی شرائط اور مفادات مختلف تھے۔ مثال کے طور پر مراکش کو مغربی صحارا پر امریکی حمایت چاہیے تھی، جب کہ سوڈان معاشی پابندیوں سے نجات چاہتا تھا۔ بحرین اور متحدہ عرب امارات کا مقصد اقتصادی و سفارتی تعلق اور سلامتی کے شعبے میں باہم تعاون کا قیام تھا۔
ابراہیمی معاہدے کے فریق ممالک میں سے کسی بھی ملک نے فلسطین کے ساتھ مشترکہ پلیٹ فارم پر بات چیت نہیں کی تھی۔ کیوں کہ یہ معاہدے بنیادی طور پر “فلسطین سے الگ ہو کر” طے پائے تھے۔
فلسطینیوں اور کچھ عرب ممالک کا کہنا ہے کہ یہ الگ الگ معاہدے “فلسطین کی قومی جدوجہد کو کمزور” کرنے کی کوشش ہیں۔ کیوں کہ ان معاہدوں میں فلسطین کے حقوق یا اسرائیلی قبضے کے خاتمے پر کوئی بات نہیں کی گئی ہے۔ اسرائیل نے ان معاہدوں کو “علاقائی قبولیت” حاصل کرنے اور فلسطین کے مسئلے کو “پس پشت ڈالنے” ک�� لیے استعمال کیا ہے۔
ابراہیمی معاہدے کے پسِ منظر میں اگرچہ ہر ملک کے اپنے مخصوص مفادات تھے، البتہ کچھ ایسے اس معاہدے کے بین السطور میں کچھ ایسے مفادات بھی کارفرما تھے، جن پر معاہدے کے شریک ممالک کا مکمل اور مشترکہ اتفاق تھا۔
مثال کے طور پر کچھ عرب ممالک نے ایران کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے خلاف اسرائیل کے ساتھ تعاون کو ترجیح دی تھی۔ جس جا مقصد عرب ممالک کے تناظر میں ایران کے بڑھتے تزویراتی اور نظریاتی زور کو توڑنا تھا۔ اس کے لیے خطے کی سطح پر مذکورہ چار عرب ممالک کو اسرائیل سے بڑھ کوئی کوئی مناسب فریق نظر نہیں آ رہا تھا۔
فلسطینیوں کے تناظر میں یہ معاہدہ اُن کے حقوق کے خلاف سمجها جا رہا ہے۔ کیوں کہ یہ معاہدہ فلسطین کے مسئلے کو حل کیے بغیر اسرائیل کو عرب ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات قائم کرنے کی اجازت دے رہا ہے۔ فلسطینیوں کا موقف ہے کہ یہ معاہدہ ان کے حقوق کو نظرانداز کرتا اور اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم کو تقویت دیتا ہے۔ فلسطینیوں کے علاوہ عرب دنیا میں بھی عوامی سطح پر اس معاہدے کی مخالفت کی گئی ہے۔ ایک سروے کے مطابق 88% عرب شہریوں نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے اس معاہدے کو مسترد کر دیا تھا۔
دوسری طرف اس معاہدے کے بعد اسرائیل اور عرب ممالک کے درمیان تجارت اور سفارتی تعلقات میں اضافہ دیکھنے م��ں آیا ہے۔ مثال کے طور پر متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان تجارتی حجم میں نمایاں اضافہ ہوا۔
تحریر کا ویب لنک:
https://t.co/mGtCc6UDsA
ملک کے وزیر خارجہ نے چار سالوں میں امارت اسلامیہ کی 40 بڑی کامیابیوں کا خاکہ پیش کر دیا۔
مولوی امیر خان متقی کا 15 اگست کو کابل کی فتح کی چوتھی سالگرہ کے موقع پر لویہ جرگہ ہال میں منعقدہ تقریب سے خطاب۔
🇮🇳79th #IndependenceDay 🇮🇳
On this historic day, we remember the countless sacrifices made by our freedom fighters, scholars, and leaders who dedicated their lives to the independence and unity of our beloved India.
Jamiat Ulama-i-Hind reaffirms its commitment to the values of #justice, #equality, #harmony, and #patriotism, which are the foundation of our nation.
Let us work together to strengthen the bonds of brotherhood, uphold the Constitution, and protect the diversity that is India’s greatest strength.
Wishing every citizen a Happy Independence Day!
– Jai Hind!