@DrMuradPTI جناب والا آپ کے خلاف کب ایکشن ہو گا کہ اور آپ کو کب ڈ��ونڈ ا جاۓ گا جو آپ ظلم پیف پارٹنرز پر کر رہے ہیں انکا حساب آپ کو دینا پڑے گا غریب پارٹنرز کے پاس سحری اور افطاری کے لئے بھی نہیں اور بھیک مانگنی نہیں آتی اور بتائیں کیا کریں
مآشاءاللہ بہت خوب درست فرمایا آپ نے لیکن مراد راس صاحب اور ایم ڈی پیف شمیم آصف صاحب کو کون سمجھائے اللہ تبارک و تعالی سے دعا ہے کہ ان دونوں کو ہدایت دے یا ہماری ان سے جان چھڑوائے سب کہو آمین
حالانکہ تمام محکموں نے کرونا ایمرجنسی اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے آخری تاریخوں میں توسیع کر دی تھی۔اس کے بعد پیف نے آخری تاریخ میں 31 مئی تک توسیع کا سرکلر بھی جاری کر دیا مگر صاحب بہادر بضد ہیں کہ کاٹیں گے۔
غلط مت سمجھیں وہ کتے کی طرح نہیں کاٹیں گے بلکہ پیمنٹ کاٹیں گے۔
پاگل 🐕 کاٹ لے تو ویکسین ہوتی ہے یا چودہ ٹیکے لگتے ہیں۔
ایم ڈی پیف کاٹ لے تو کیا کرنا چاہئیے؟؟؟
ب فارم جمع کروانے کی آخری تاریخ 31 مارچ تھی۔ 15 مارچ کو سکول بند ہو گئے 24 مارچ کو نادرا دفاتر بھی بند ہو گئے اور صاحب کو 31 مارچ کو ب فارم لازمی چاہئیے تھے اب بضد ہیں کہ کاٹیں گے
کمینے جب عروج پاتے ہیں
اوقات اپنی بھول جاتے ہیں
کتنے کم ظرف ہیں یہ غبارے
چندسانسوں میں پھول جاتے ہیں
تین ماہ سے پیمنٹ بند
لاک ڈاٶن میں کہاں سے گزارا کریں
کوٸی شرم ہوتی ہے مراد راس
کوٸی حیا بھی ہوتی ہے
@SaifUrRehmanBWN@JavedMayo11
یہ حکومت کے خلاف سازش کر رہے ہیں ایم ڈی پیف۔
جو تنخواہ مارچ میں ملنی تھی وہ ابھی تک نہیں ملی ہزاروں سکول مالکان اور لاکھوں اساتذہ کو لاک ڈاؤن توڑ کر سڑکوں پر نکلنے پر مجبور کیا ��ا رہا ہے۔
ایک تو تنخواہیں نہیں دے رہے اوپر سے جرمانے کی دھمکیاں۔
با اختیار حلقے نوٹس لیں۔
کرونا وائرس کی وجہ سے ملک میں لاک ڈاؤن ہوا، تو امتحان منسوخ، تعلیمی ادارے بند، بنکو�� کے قرضے جمع کروانے کی تاریخوں میں توسیع ہو گئی۔
پیف کی طرف سے بچوں کے ب فارم جمع کروانے کی آخری تاریخ 31 مارچ تھی۔ جو 31 مئی کر دی گئی۔سکول بند، نادرا دفتر بند مگر ایم ڈی جرمانہ لگانے پر بضد۔