آج #سانحہ_پکا_قلعہ کی 35 ویں برسی ہے، آج سے 35 برس قبل آج ہی کے دن 26 مئی 1990 کو حیدرآباد کے پکاقلعہ میں پیپ��زپارٹی کی حکومت نے محاصرہ کرکے مہاجروں کے خلاف ظالمانہ آپریشن کیا جو دو روز تک جاری رہا جس کے دوران علاقے کی پانی بجلی گیس اور ٹیلی فون لائنیں بند کرکےگھر گھر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے گئے، معصوم و بے گناہ مہاجروں کو وحشیانہ فائرنگ کرکے شہید کیا گیا دوسرے دن جب مہاجر ماؤں بہنوں نے گھروں سے نکل کر اپنے سروں پر قرآن مجید رکھ کر آپریشن بند کرنے کی دہائیاں دیں تو ظالم پولیس اہلکاروں نے ان پر بیدریغ گولیاں برسائیں، اس ظالمانہ آپریشن میں سو سے زائد معصوم وبے گناہ خواتین ، نوجوان بزرگ اور بچے شہید کردیئے گئے۔پکا قلعہ میں ظلم وستم کے جو پہاڑ توڑے گئے اس کی مثال نہیں ملتی۔ المیہ یہ ہےکہ سانحہ پکا قلعہ کے شہیدوں کے لواحقین کو آج تک انصاف نہ ملا اور وہ آج بھی پیپلزپارٹی کی حکومت کے ظلم کا شکار ہیں۔
میں اور میرے ساتھی سانحہ پکا قلعہ کے شہیدوں کو نہیں بھولے۔ میں انہیں خراج عقیدت پیش کرتا ہوں اور ان کے لواحقین کو یقین دلاتا ہوں کہ حقوق کے حصول تک ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔
شہدائے پکا قلعہ کو سلام عقیدت
مسلح افواج کے سربراہان سے پاکستان کی سلامتی وبقا ء کی بھیک مانگتا ہوں،
....................................................
اپنے ہم وطنوں سے دھونس دھمکیوں کے بجائے پیار محبت کی زبان میں بات کیجئے
.................................................
#سانحہ_پکا_قلعہ
پاکستان سے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے اعلانات اور اقدامات کرنے سے پہلے ہمیں یہ سوچناہوگاکہ پاکستان میں دہشت گردی کہاں سےآئی؟ہمیں یہ نہ��ں بھولناچاہیے کہ سوویت یونین اور امریکہ کی سرد جنگ جب افغانستان پہنچی تواس وقت پاکستان کی فوجی اسٹیبلشمنٹ نے دوسپرطاقتوں کے درمیان جنگ کاحصہ بننے کافیصلہ کیا۔سپرطاقتوں کے مفادکےلئے افغانستان میں جہاد کے نام پر پاکستان میں جہادی تنظیمیں اورجہادی مدرسے قائم کئے گئے، پاکستانیوں کی بھرتی کی گئی اور��نہیں ٹریننگ دیکر افغانستان بھیجاگیا جس کےلئے پاکستان کو بوریوں میں بھربھر کے ڈالرملے۔ حالانکہ اس جنگ سے پاکستان کاکوئی تعلق نہیں تھا۔سوویت یونین افغانستان سےچلاگیا۔جس کے نتیجے میں پاکستان میں دہشت گردی، اسلحہ اور منشیات کافروغ ہوا۔اس کے بعد بھی افغانستان کے جوحالات ہوئے، وہاں امریکہ اورمغربی اتحادی ممالک کی حمایت یافتہ حکومت قائم ہوئی۔اس کےخلاف طالبان بنائےگئے،ان کی سرپرستی کی گئی اور اب ان طالبان کے خلاف کارروائی کی جارہی ہے۔آج پاکستان جس قسم کےحالات کا شکار ہے وہ افغان جنگ کی پالیسیوں کانتیجہ ہے۔ پاکستان کی فوج نے کئی آپریشن کئے لیکن ملک سے دہشت گردی ختم نہیں ہوسکی ، آج بھی ملک میں طالبان موجود ہیں۔
فوج نے بلوچوں کے حقوق کی تحریکوں کو کچلنے کے لئے بلوچستان میں بھی کئی برسوں تک آپریشن کئے، انہیں لاپتہ کیاگیا، ماہ رنگ بلوچ نےلاپتہ بلوچوں کےلئے دھرنے اور پرامن احتجاجی مظاہرے کئے تواسے بھی گرفتارکرلیاگیااوراسے دہشت گرد اور علیحدگی پسند تنظیموں سے جوڑاجارہا ہے۔ جبکہ ماہ رنگ بلوچ نے ہمیشہ یہی مطالبہ کیا تھاکہ لاپتہ بلوچوں کورہاکیاجائے یاانہیں عدالتوں میں پیش کیاجائے ۔ماہ رنگ بلوچ نے آئین پاکستان کے تحت بلوچوں کے حقوق مانگےتھے۔افسوس کہ ماہ رنگ بلوچ کوبھی دہشت گرد قراردیاجارہاہے اوراس کے بارے میں غیرمناسب جملے استعمال کئے جارہے ہیں۔کئی آپریشنوں کے بعد اب بلوچستان میں ضرب عضب کی طرز پر فوجی آپریشن کرنے کی باتیں کی جارہی ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان اب کسی بھی فوجی آپریشن کامتحمل نہیں ہوسکتا۔ پاکستان کی صورتحال پہلے ہی خراب ہے۔لہٰذا آپریشن کی باتیں نہ کیجئے، پیار اور امن کادورچلائیے۔
اس وقت ملک کویکجہتی کی ��رورت ہے ۔بلوچ، پشتون،پنجابی، سندھی ، مہاجر، سرائیکی، کشمیری، گلگتی اوربلتستانی سب ایک گلدستےکے پھول ہیں، آدھا گلدستہ 1971ء میں ٹوٹ چکاہے، ہمیں باقی ماندہ گلدستے کوٹھیک رکھنا چاہیے۔لہٰذا میں مسلح افواج کے سربراہان سے پاکستان کی سلامتی وبقا ء کی بھیک مانگتاہوں، خدارا اپنے ہم وطنوں سے دھونس دھمکیوں کی زبان میں بات کرنے کے بجائے پیار محبت کی زبان میں بات کیجئے، ان کےخلاف طاقت استعمال کرنےکے بجائے ان سےبات کیجئے۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر فکری نشست نمبر 260 سے خطاب
24مئی 2025ء
https://t.co/5EpgjJGrxN
The ones who take credit of our nuclear power program are the ones who are our enemies in real!!!!!!
Only Abdul Qadeer Khan's dedication, far-sightedness, and hardwork gave us the power we have today after Almighty Allah!
میں شمالی وزیرستان کی تحصیل میرعلی کےگاؤں ہرمز میں ایک گھر پر کئےجانے والے ڈرون حملے میں ایک خاتون اور چار معصوم بچوں کی شہادت کے دلخراش واقعے کی شدید مذمت کرتا ہوں۔
#PashtunLivesMatter
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر سیکوریٹی فورسز کو کسی مطلوب دہشت گرد کو نشانہ بنانا مقصود تھا بھی تو اس کےلئے اپنے شہریوں کے گھروں پر ڈرون مارنا کیا درست ہے؟ اگر یہ فرض بھی کرلیا جائے کہ ان پشتون بچوں کےخاندان کے کسی فرد کا کسی جہادی گروپ سے تعلق تھا تو پھر یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ جن مطلوب دہشت گردوں کےلئے ڈرون مارا جائے تو وہاں دہشت گرد تو نہ مارے جائیں بلکہ معصوم پشتون بچے مارے جائیں؟ کیا اس ڈرون حملے میں شہید ہونیوالے یہ معصوم بچے دہشت گرد تھے؟ آخر ان معصوم پشتون بچوں کا کیا قصور تھا؟ کیا یہ سفاکانہ حملہ قدرت کے مکافات عمل کو دعوت نہیں دے گا؟ کیا اس کا بھگتان پورے ملک کو نہیں بھگتنا پڑے گا؟
میں اس وحشیانہ ڈرون حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہوں اور اس حملے میں شہید ہونے والے معصوم بچوں کے لواحقین سمیت میر علی کے اس گاؤں میں رہنے والے تمام افراد سمیت پوری پشتون قوم سے دلی تعزیت کا اظہار کرتا ہوں، اور اس سانحے پر انصاف کے حصول کے لئے جائز مطالبات میں ان کے ساتھ ہوں۔ میں اور میری ایم کیو ایم کا ایک ایک کارکن اس سانحہ پر غمزدہ ہے اور پشتون قوم کے غم میں برابر کا شریک ہے۔
میں مطالبہ کرتا ہوں کہ اس واقعے کی فی الفور غیر جاندارانہ تحقیقات کرائی جائے اور جنہوں نے یہ ڈرون حملہ کرایا ہے ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے ۔
انا للہ وانا الیہ راجعون
کراچی پریس کلب کےرکن اورسینئر صحافی مبشر فاروق کے والد محترم محمد فاروق حسین کےانتقال پردلی افسوس کااظہارکرتا ہوں اور مرحوم کے تمام سوگوار لواحقین سے دلی تعزیت کرتا ہوں۔
دکھ کی اس گھڑی میں مجھ سمیت ایم کیوایم کے تمام کارکنان سوگوارلواحقین کے ساتھ ہیں اور ان کےغم میں برابر کے شریک ہیں۔
میں دعا گو ہوں کہ اللہ تعالیٰ ، مبشر فاروق صاحب کے والد مرحوم کےصغیرہ کبیرہ گناہوں کی مغفرت فرما��ے،ان کے درجات بلند فرمائےاور تمام پسماندگان کو یہ صدمہ برداشت کرنے کا حوصلہ دے۔(آمین ثمہ آمین )
الطاف حسین
انا للہ وانا الیہ راجعون
کراچی ��ریس کلب کےرکن اورسینئر صحافی مبشر فاروق کے والد محترم محمد فاروق حسین کےانتقال پردلی افسوس کااظہارکرتا ہوں اور مرحوم کے تمام سوگوار لواحقین سے دلی تعزیت کرتا ہوں۔
دکھ کی اس گھڑی میں مجھ سمیت ایم کیوایم کے تمام کارکنان سوگوارلواحقین کے ساتھ ہیں اور ان کےغم میں برابر کے شریک ہیں۔
میں دعا گو ہوں کہ اللہ تعالیٰ ، مبشر فاروق صاحب کے والد مرحوم کےصغیرہ کبیرہ گناہوں کی مغفرت فرمائے،ان کے درجات بلند فرمائےاور تمام پسماندگان کو یہ صدمہ برداشت کرنے کا حوصلہ دے۔(آمین ثمہ آمین )
الطاف حسین
چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سید عاصم منیر کی فیلڈ مارشل کےعہدے پر ترقی پر تبصرہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک صحافی نے مجھ سے سوال کیا کہ اب آرمی چیف جنرل عاصم منیر صاحب کو فیلڈ مارشل بنادیا گیا ہے اس پر آپ کیا تبصرہ کرنا چاہیں گے؟
صحافی مح��رم کے پوچھے گئے سوال پر میرا جواب ہےکہ یہ ملک بھی میرا ہے، پاکستان کی فوج بھی میری ہے اور چیف آف آرمی اسٹاف جنرل عاصم منیر صاحب بھی میرے تھے ، اب وہ ماشااللہ سے فیلڈ مارشل بنادیئے گئے ہیں تو فیلڈ مارشل کی حیثیت سے بھی جنرل سید عاصم منیر صاحب میرے ہیں۔
حکومت پاکستان کی جانب سے بیرون ملک بھیجے جانے والے سفارتی وفد میں اپوزیشن ارکان کو شامل نہ کرنا نہایت افسوسناک ہے۔ کیا اپوزیشن ��ے ارکان پاکستانی نہیں ہیں؟
#IndiaPakistanConflict
پاکستان اوربھارت کے درمیان عارضی جنگ بندی ہوئی ہے۔ الطاف حسین
#IndiaPakistanWar
ہرجنگ کو آخری جنگ سمجھ کرآرام سے بیٹھ جانا دانشمندی اور صحت مند قوم کی نشانی نہیں
آرمی چیف جنرل عاصم منیر اورتمام جرنیل حکومت کوانڈیا سے مذاکرات کرنے دیں ، آپ امریکہ کی اسٹیبلشمنٹ اوراعلیٰ ایجنسیوں کے اقدامات اور پالیسیوں پرنگاہ رکھیں
لندن…15 مئی 2025ئ
ایم کیوایم کےبانی وقائدجناب الطاف حسین نےکہاہے کہ پاکستان اوربھارت کے درمیان عارضی جنگ بندی ہوئی ہے،اگرکوئی یہ سمجھتاہ��کہ یہ جنگ بندی مستقل ہے توایسا سمجھنا دانشمندی نہیں۔اپنے ایک تازہ وڈیو بیان میں جناب الطاف حسین نے کہا کہ اگر پاکستان کی 78 سالہ تاریخ کا جائزہ لیں تو اس دوران پاکستان اوربھارت کےمابین کئی جنگیں ہوئی ہیں، ہم نے ہرجنگ کو آخر ی جنگ سمجھا لیکن ہرجنگ کےبعد دوسری جنگ ہوئی۔ہرجنگ کو آخری جنگ سمجھ کرآرام وسکون سے بیٹھ جاناکسی بھی طرح ایک دانشمندی اورایک صحت مند قوم کی نشانی نہیں۔
جناب الطاف حسین نے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل عاصم منیر، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی اورتمام جرنیلوں سے کہاہے کہ آپ موجود حکومت کوانڈیا سے مذاکرات کرنے دیں تاہم آپ کے تعلقات امریکہ کی اسٹی��لشمنٹ اوراعلیٰ ایجنسیوں سے ہوتے ہیں، وہی پوری دنیا کی پالیسیاں بناتےہیں ،آپ کو ان کے اقدامات اور پالیسیوں پرنگاہ رکھناچاہیے۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ ان حالات کی روشنی میں اس وقت پاکستان کو ایک مضبوط قوم کی ضرورت ہے، ملک کوایسا بناناچاہیے جہاں سب کوایک نگاہ سےدیکھاجائے، سب کے ساتھ برابری کا سلوک کیا جائے۔لہٰذامیری گزارش ہے کہ پاکستان کے اتحاد کیلئے تمام سیاسی قیدیوں کےلئے جیل کے دروازے کھول دیئے جائیں، انہیں آزادکیاجائے،رہائی پانے والوں اوران سمیت جلاوطن رہنماؤں کو بھی بلایا جائے اورسب کے ساتھ ملک کودرپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لئے مشاورت کی جائے۔ کیونکہ سب ملکرہی ملک کوبچاسکتے ہیں، کوئی اکیلا ملک کونہیں بچاسکتا۔ یہ میری تمام ارباب اختیارسے دردمندانہ اپیل ہے۔میری بات مانیں تواس میں سب کابھلاہے اوراگرنہ مانیں توآپ کی مرضی ہے۔
پاکستان اور انڈیاکی جنگ کے حوالے سے پاکستان کی حکومت، اس کے وزرا، خصوصاً وزیرخارجہ، بڑے بڑے اینکرز نے برطانیہ کے اخبارڈیلی ٹیلی گراف کی ایک جعلی خبرپیش کرکے نہ صرف قوم سے جھوٹ بولا ہے بلکہ دنیابھر میں پاکستان کاامیج خراب کیاہے۔
جب22 اپریل 2025ء کوانڈین کشمیر کے علاقے پہلگ��م میں دہشت گرد حملہ ہوا میں نے تازہ ترین حالات کے بارے میں اپنے بیانات، وڈیولاگزاورفکری نشستوں میں پاکستان کے صدر، وزیراعظم، آرمی چیف اورتمام جرنیلوں اورارباب اختیارکو پکارپکارکرکہتارہاکہ یہ ملک میں قومی یکجہتی کا ایک بہترین موقع آیاہے، آپ سیاسی بنیادوں پر جیلوں میں بندکئے گئےسیاسی رہنماؤں بشمول عمران خان، سب کو رہاکریں، سب کو ایک ساتھ بٹھائیں اورسب ملکر ملک کو درپیش چیلنجزسے نمٹنے کےلئے مشترکہ لائحہ عمل بنائیں لیکن افسوس کہ میری درخواستوں پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ میں نے یہ بھی بارہاکہاکہ قوم کوگمراہ نہ کیاجائے۔ جب جنگ شروع ہوئی، 10مئی کوجب پاکستان کی جانب سے بھارت پر حملہ کیاگیا تو پی ٹی وی سمیت پاکستان کے تمام نیوزچینلز پر بیٹھے نیوزکاسٹرز، اینکرز اوردفاعی تجزیہ نگار قوم کویہ بتارہے تھے کہ پاکستان کے جنگی طیاروں نے انڈیا کےفلاں فلاں اڈے، فلاں ایئربیس اورڈپوتباہ کردیے ہیں۔ ایسا لگاجیسے پورا انڈیاتباہ ہوگیاہے۔ قوم کو بتایا گیا کہ بھارت نے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیرپکڑکر ان سے جنگ بندی کرائی ہے۔ یہ باتیں اس شدت سے اور اس قدر بڑھا چڑھاکرپیش کی گئیں ک�� ہم جیسے لوگ بھی ان پر یقین کرنے لگے۔ہم نے بھی یہ باتیں سنکر آپ کو شاباش پیش کی۔
بھارت نے پاکستان میں جن مقامات پر میزائل مارے تھے انہوں نے اس کی تفصیلات بتانے کے ساتھ ساتھ دنیاکے سامنے اس کی سیٹلائٹ سے لی گئی تصاویر بھی بطورثبوت پیش کیں۔ لیکن پاکستان کی حکومت اورمسلح افواج نے انڈیامیں حملوں اور��باہی کے بارے میں جو دعوے کئے تھے انہوں نے اس کے سیٹلائٹ امیجزیاتصاویردنیا کے سامنے پیش کیوں نہیں کیں؟
فارم 47 کی پیداوار جعلی حکومت نے اس قدرسفید جھوٹ بولاکہ اس کے ڈپٹی وزیراعظم اور وزیرخارجہ اسحق ڈارنے قومی اسمبلی میں اپنی تقریرمیں یہ دعویٰ کیاکہ پوری دنیا نے پاکستان کی فضائیہ کی برتری تسلیم کرلی ہے اوراسے فضاکابے تاج بادشاہ قراردیا ہے۔اس کے لئے وزیرخارجہ اسحق ڈارنے یہ دعویٰ کیاکہ برطانیہ کے بڑے اخبار ٹیلی گراف نے اپنے فرنٹ پیج پرفل پیج پر یہ خبر شائع کی ہے کہ،
Pakistan Air force: The Undisputed King of skies
( پاکستان کی فضائیہ غیرمتنازعہ طورپر آسمانوں کی بادشاہ ہے)
لیکن آج پاکستان کے سب سے بڑے انگریزی اخبار ڈان نے وزیرخارجہ اسحق ڈار کی جانب سے پیش کی گئی ٹیلی گراف کی اس خبر کی تحقیق کی ہے اور اپنی تحقیقی رپورٹ میں بتایاہے کہ جس خبرکوٹیلی گراف کی فرنٹ پیج اسٹوری بناکرپیش کیاگیاہے اورجسے پاکستان کے کئی اینکرز، صحافیوں اورسوشل میڈیا ایکٹوسٹ نے پوسٹ کیااورجسے بہت بڑی تعداد میں شیئرکیا گیا لیکن جب اس کی تحقیق کی گئی توپتہ چلاکہ یہ خبر جعلی ہے، ٹیلی گراف نے یہ خبرسرے سے شائع ہی نہیں کی۔ڈان نے اپنی تحقیقاتی رپوٹ میں ٹیلی گراف کے10مئی کے اخبار کے اصل فرنٹ پیج کاعکس بھی شائع کیاہے جس میں ایسی کوئی خبرنہیں ہے۔ ڈپٹی وزیراعظم اوروزیرخارجہ اسحق ڈار نے قو می اسمبلی کے فلور پر ایک جعلی خبرپیش کرکے اوراسے ٹیلی گراف سے منسوب کرکے قوم سے جھوٹ بولااور قوم کوگمراہ کیا۔ جب ملک کا ڈپٹی وزیراعظم اور وزیرخارجہ اتنے بڑے منصب پر فائز ہوکر قوم سے جھوٹ بولے اور اسے گمراہ کرے تودنیامیں ملک کی بدنامی ہوتی ہے۔
جب حکومت اور پاکستان کے ادارے قوم کو یہ جھوٹ دکھائیں گے تو کیایہ پاکستان سے محبت، وفا یا دیانتداری کہلائےگی ؟ یہ چاہتے ہیں کہ قوم پاکستانی اینکرپرسنز اور دفاعی تجزیہ نگاروں سے اڑن کھٹولا اور اڑن قالین کی طلسماتی قصے کہانیاں سنتی رہے، آج پنجاب کے لوگ ایسی ہی جھوٹی اور جعلی باتوں میں آکرجشن منارہے ہیں، آخر کس بات کا جشن منایاجارہا ہے؟ آخرجھوٹ بول کر قوم کوکیوں گمراہ کیاجارہاہے؟ یہی کچھ 1965ء کی جنگ کےوقت کیاگیا، ایسا ہی جھوٹ 1971ء میں قوم سے بولاگیا اور اب بھی قوم کو گمراہ کیا جارہا ہے۔اگر جھوٹ، مکروفریب اور قوم کو گمراہ کرنے کا یہ سلسلہ جار�� رہے گا تو یہ عمل ملک وقوم کے لئے صحیح نہیں ہوگا۔
حکمرانوں کوچاہیے کہ وہ خداکے لئے ملک وقوم پر رحم کریں اورجھوٹ بول کرقوم کوگمراہ نہ کریں بلکہ انہیں حقائق بتائیں، سیٹلائٹ کی تصاویر جاری کرکے قوم کو بتایاجائے کہ بھارت کا کیا کیا تباہ کیاگیا ہے، اینکرپرسنز بھی میڈیا کے ذریعے قوم کویہ سیٹلائٹ تصاویر دکھائیں۔اگر الطاف حسین کوئی غلط بات کہے توبے شک نہ مانیں لیکن اگر وہ کوئی صحیح بات کہے تو اس پر توجہ دی جائے۔ 1/2
2/2
ہمارے اپنے اقدامات دوسروں کوہم پر انگلیاں اٹھانے کاجوازفراہم کرتے ہیں۔ انڈیا نے پاکستان میں ایک مدرسے پر میزائل مارا اور دعویٰ کیا کہ اس ��ے دہشت گردوں کے ٹھکانے پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں وہاں ہلاکتیں ہوئیں تو ان کی نمازجنازہ میں فوج کے اعلیٰ افسران کوشرکت نہیں کرنے چاہیے تھی، آپ شرکت کرکے خود ثبوت فراہم کررہے ہیں۔
آج ہی بھارتی وزیردفاع راج ناتھ سنگھ نے کہا ہےکہ ''یہ جنگ ابھی رکی ہے ختم نہیں ہوئی ہے، ہم نے تو ابھی ٹریلردکھایا ہے پوری جنگ تو ابھی باقی ہے''۔ ان حالات میں پاکستان کے حکمرانوں کو حقیقت پسندی اورہوشمندی کامظاہرہ کرناچاہیے۔
میں کسی کادشمن نہیں، میں پاکستان میں حقیقی جمہوریت چاہتاہوں، میں کل بھی پاکستان پر چند خاندانوں کی اجارہ داری اورسیاست میں فوج کی مداخلت کےخلاف تھا اورآج بھی ہوں۔ ماضی میں میرے حق پرستانہ مؤقف پرصوبہ پنجاب کے عوام مجھے غدار کہا کرتے تھے لیکن آج پنجاب کے عوام بھی تسلیم کررہے ہیں کہ ��لطاف حسین صحیح تھا اور سچائی بیان کرتا تھا۔ میں کل بھی ملک کی بھلائی اورعوام کے حقوق چاہتا تھا اور آج بھی چاہتا ہوں۔ خدا، حکمرانوں کوسچ سننے، اسے تسلیم کرنے اور اس کے مطابق عمل کرنے کی توفیق عطافرمائے۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 255ویں فکری نشست سے خطاب
16 مئی 2025ئ
پاکستان، انڈیا کی جنگ بندی عارضی ہے، پاکستان کو مضبوط قوم کی ضرورت ہے، اتحاد کی خاطر سیاسی قیدیوں کیلئے جیل کے دروازے کھول دیں۔ پاکستان کے ارباب اختیار سے اپیل
#IndiaPakistanWar
پاکستان کے اعلیٰ عسکری حکام سے گزارش کرتاہوں کہ پاکستان کے ایئر ڈیفنس سسٹم پربھرپور توجہ دیں اور ہنگامی بنیادوں پر ایئر ریڈ سسٹم حاصل کرنے کی کوشش کریں۔
یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ انڈیا کے ڈرونز پاکستان کے مختلف شہروں تک پہنچ جائیں اور ہمارا ایئر ڈیفنس سسٹم انہیں روکنے میں ناکام رہتا ہے۔
ہمیں پاکستان کی حفاظت اور سلامتی کے لئے کوئی خانہ خالی نہیں چھوڑنا چاہیے۔
جنگ کے باعث پاکستان کو قومی یکجہتی کی ضرورت ہے، جیلوں میں قید سیاسی رہنماؤں کو رہا کیا جا��ے، ان پر عائد پابندیاں ختم کی جائیں ۔
پاکستان بھارت جنگ پر تازہ وڈیو بیان
@HarrisUsmani @Wafa_Parast1 @SarfarazA_54@aaliaaaliya@mirzaiqbal80@wwasay@Rizzvi73 پاکستان کی تاریخ گواہ ہے۔ کہ جب جب مہاجروں نے ملک کی خدمت میں اپنی استطاعت سے بڑھ کر کام سر انجام دیئے ہیں۔ اس ملک کی اشرافیہ نے سارشوں کے تحت اس مخلص انسان ہو شرمندہ کیا ہے۔ کہ جو صرف اپنے ملک کی بقاء ، استحکام اور سلامتی کے لیئے چپ کا روزہ رکھ لیا ہے
میں کل بھی ملک کی سلامتی و بقا اور ت��قی چاہتا تھا اور آج بھی ملک کی بقا اور ترقی چاہتا ہوں ۔
میں اپنےاوپر اور MQM پر ڈھائے جانے والے تمام تر مظالم کو ایک طرف رکھ کر آج بھی رات دن ملک کو بچانے کی فکر اور کوشش میں ہوں۔
لندن میں یوم تاسیس کے اجتماع سے خطاب
#41FoundationDayWithAltaf
پاکستان پر جنگ کے بادل منڈلارہے ہیں، ہمیں اس بات کی فکر کرنی چاہیےکہ پاکستان کو کیسے بچایاجائے
#41FoundationDayWithAltaf
پاکستان پر جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں اور ملک شدیدخطرے میں ہے، ایسے میں ملک کی سیاسی وعسکری قیادت کوجوڑنے اور فوج اورعوام میں فاصلے ختم کرنے کی ضرورت ہے،لہٰذا میں چیف آف آرمی اسٹاف جنرل عاصم منیر، تینوں مسلح افواج کے سربراہان سےکہتا ہوں کہ ہم آپس کے مسئلے بعد میں حل کرلیں گے، ابھی ہمیں اس بات کی فکرکرنی چاہیے کہ پاکستان کوکیسے بچایاجائے۔ یہ وقت کی اشدضرورت ہے کہ ریاست اورعوام ایک پیچ پر آجائیں ۔
ریاست کاکردار ماں کی طرح ہوتاہے جواپنے بچوں کی بھوک پیاس�� دکھ ،درد اور تکلیف کومحسوس کرتی ہے اور اس کی تکلیف کو دورکرنے کےلئے سب کچھ کرتی ہے لیکن کیا ہماری ریاست ایک ماںکی طرح اپنے بیٹوں کے درد کااحساس کررہی ہے؟ ان کی چیخ وپکارپر توجہ دے رہی ہے؟ آج بلوچستان میں کیاہورہا ہے، خیبرپختونخوا میں کیاہورہا ہے، ہمیں یہ سوچناچاہیےکہ بلوچستان میں لوگ بندوق اٹھانے پرمجبورکیوں ہوئے؟ صورتحال آج اس نہج پر کیسے پہنچی؟ اسے ٹھیک کرنے کی ذمہ داری کس کی تھی؟کیاہماری ریاست نے اپناکردارادا کیا؟ المیہ یہ ہے کہ ہم نے 1971ء میں ملک توڑنا گوارا کرلیالیکن عوام کے مینڈیٹ کوتسلیم نہیں کیا۔آج پھرپاکستان اسی دوراہے پر کھڑاہے۔
میں کہتارہا کہ امریکہ اورروس کی جنگ ہماری جنگ نہیں ہے، ہمیں افغان جنگ میں نہیں پڑناچاہیے، ہمیں طالبان اورجہادی گروپ نہیں بنانےچاہئیں لیکن میری بات پر توجہ نہیں دی گئی، آج کے حالات اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ کی غلط پالیسیوں کانتیجہ ہیں۔آج ملک کی سلامتی شدید خطرے میں ہے کیونکہ انڈیااورپاکستان کی ��رحدوں پر جنگ کے بادل منڈلارہے ہیں۔ لہٰذا میں آرمی چیف سمیت مسلح ا فواج کے سربراہاں سے کہتاہوں کہ ہم آپس کے مسئلے بعد میں حل کرلیں گے۔ ہمیں اس وقت اس بات پر توجہ دیناچاہیے کہ ملک کوکیسے بچایاجاسکتا ہے۔ میں فوج کے کورکمانڈرزاوردیگرافسران سے کہتاہوں کہ ملک کودرپیش حالات کے پیش نظر فوری طورپر تمام سیاسی جماعتوں کی گول میز کانفرنس کی جائے، جس میں عمران خان کوبھی شریک کیاجائے اورالطاف حسین کی ایم کیوایم کوبھی مدعو کیاجائے۔ جوملک کی ایک اہم سیاسی حقیقت ہے۔میں مطالبہ کرتاہوں کہ عمران خان سمیت تمام سیاسی قیدیوں کورہاکیاجائے اورتمام لاپتہ افراد کوبازیاب کیاجائےاوران��یں ان کے اہل خانہ کے حوالے کیاجائے۔
میں یہ بھی اپیل کروں گاکہ مجھ پرعائد تمام غیرآئینی وغیرقانونی پابندیاں ختم کی جائیں، ایم کیوایم کو سیاسی سرگرمیوں کی مکمل آزادی دی جائے اوراس کے مرکزنائن زیرو سمیت ایم کیوایم کے تمام دفاترکھولنے کی اجازت دی جائےتاکہ اگر جنگ کی صورتحال ہوتوجیسے ایم کیوایم نے 2005ء میں کشمیرکے قیامت خیز زلزلے کے موقع پر کئی ماہ تک امدادی سرگرمیاں انجام دی تھیں اوراگردوبارہ ایساوقت آیا��و ایم کیوایم وہی کرداراداکرے گی، الطاف حسین کواپنا کردار اداکرنےدیاجائے،ایم کیوایم کوسیاسی سرگرمیاں کرنے دی جائیں۔ میں اپنے اوپر لگائےگئے تمام ترالزامات اورمظالم کوایک طرف رکھ کرخود بھی رات دن ملک بچانے کی فکر میں ہوں، میں کل بھی پاکستان کی سلامتی وبقا اورترقی واستحکام چاہتا تھا اور تمام ترزیادتیوں اوراپنی تحریک او رعوام پر ڈھائےجانے والے مظالم کے باوجودآج بھی پاکستان کی بقاء ، سلامتی اور ترقی چاہتاہوں۔
آج کاواحدحل یہ ہے کہ ریاست اورعوام ایک پیج پر آجائیں، ریاست کوبھی اپنی غلطیاں ماننی چاہئیں۔77سالوں سے عوام ہی فوج کی مانتے آئے ہیں، اب وقت آگیاہے کہ ملک کو بچانے کےلئے فوج کو بھی عوام کی بات سننا چاہیے۔
میرانعرہ جنگ سے نفرت اورامن سے محبت ہے، میں پہلگام حملے میں بے گناہ شہریوں کی ہلاکت پر بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی سےافسو س کا اظہار کرتاہوں اوران سےکہتاہوں کہ سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کافیصلہ واپس لیاجائے، میں پاکستان کے حکمرانوں سے بھی مطالبہ کرتا ہوں کہ جنگ کے خطرات ٹالنےکےلئے انڈیا سے بات چیت کی جائے اورپہلگام حملے میں ملوث دہشت گردوں کوپکڑنے میں ان کی ہرممکن مدد کی جائے۔
الطاف حسین
لندن میں ایم کیوایم کے 41ویں یوم تاسیس کے اجتماع سے اہم خطاب
26 اپریل 2025
پہلگام میں دہشت گردحملہ علاقائی امن اور خطے کی صورتحال کے لئے نہایت سنگین اورتباہ کن ہوسکتا ہے
#pahalgamattack#Pahalgam#PahalgamTerrorAttack#PahalgamTerroristAttack
………………………………………………
انڈین کشمیر کےعلاقےپہلگام میں دہشت گرد حملہ اوراس میں نیوی کےافسران اور سمیت دودرجن سے زائد سیاحوں کی ہلاکت زخمی ہونےکاواقعہ انتہائی قابل مذمت ہے۔میں اس دہشت گردحملے کی شدیدالفاظ میں مذمت کرتاہوں اورحملے میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین سے دلی تعزیت کااظہارکرتاہوں۔
میں سمجھتاہوں کہ دہشتگردی کایہ واقعہ نہ صرف حملہ کرنے والے دہشت گردوں اور اس حملے کی منصوبہ بندی کرنے والوں کے لئے تباہ کن ہوسکتاہے بلکہ علاقائی امن اور خطےکی صورتحال کےلئے بھی نہایت سنگین اورتباہ کن ہوسکتاہے۔
میڈیاکی اطلاعات کےمطابق دہشت گردوں نےپہلگام کے اس سیاحتی مقام کونشانہ بنایا جہاں ہندوؤں کے مقدس ٹیمپل بھی واقع ہیں۔ دہشت گردوں نے سیروتفریح اور عبادت کےلئے وہاں آنے والوں کونشانہ بنایاجن میں سیاحوں کے ساتھ ساتھ فوج کے افسران بھی شامل ہیں۔بعض میڈیا اطلاعات کے مطابق دہشت گردوں نے نہتے لوگوں سے باقاعدہ ان کےنام اورمذہب پوچھ کر انہیں گولیاں ماریں جس نےاس واقعہ کواوربھی سنگین بنادیا ہے۔
اس دہشت گرد حملےکے بعدانڈیامیں حکمرانوں، سیاسی رہنماؤں، سیاسی ودفاعی تجزیہ نگاروں اورعوام میں شدیدغم وغصہ دیکھنے میں آرہاہے اوروہ اس دہشت گرد حملےکےحوالے سے پاکستان پرالزام لگارہے ہیں اوریہ کہہ رہےہیں کہ یہ حملہ پاکستان ��ے آنےوالے افرادنے کیاہے،وہ اس حملےکا بدلہ لینےکامطالبہ کررہے ہیں جس سے صورتحال مزید کشیدہ اورانتہائی سنگین ہوگئی ہے۔
میں سمجھتا ہوں کہ جنہوں نے یہ دہشت گردحملہ کرایاہے اورجن دہشت گردوں نے یہ حملہ کیاہےاورمعصوم انسانوں کونشانہ بنایا ہےانہو ں نےاپنےلئےبہت مشکل پیداکرلی ہے۔
یہ انتہائی سنگین اورمذموم واقعہ ہےجس کی جتنی بھی مذمت کی جائےکم ہے۔ امریکہ، برطانیہ ،روس اور چین سمیت پوری دنیا اس دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کررہی ہے اورامریکہ کے صدرڈونلڈ ٹرمپ نے دہشت گردوں سے نمٹنے کےلئےانڈیا کو ہر قسم کے تعاون کایقین دلایاہے۔
آج سےچھ روز قبل 16 اپریل 2025ء کو حکومت پاکستان نے اسلا آبادمیں اوورسیز پاکستانیوں کاایک کنونشن منعقد کیا تھا جس سےوزیراعظم شہبازشریف کے علاوہ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل حافظ عاصم منیرصاحب نےبھی خطاب کیاتھا۔اس پر میں آرمی چیف اوردیگرجرنیلوں کی خدمت میں کچھ گزارشات کرناچاہوں گا۔
محترم چیف آف آرمی اسٹاف جنرل حافظ عاصم منیر صاحب!
ڈائریکٹرجنرل آئی ایس آئی
کورکمانڈر اور آپریشنل کمانڈرصاحبان
السلام علیکم آداب،
میں آپ کا پاکستان کاایک جلاوطن بیٹا جو 33برسوں سے برطانیہ میں جلاوطنی کی زندگی گزاررہا ہے،آج کے واقعہ نے مجھے مجبورکردیاہے کہ میں آپ کے سامنے اپنی التجا رکھوں۔
جنرل عاصم منیرصاحب!
16 اپریل 2025ء کوآپ نےاسلام آباد میں اوورسیزپاکستانیوں کےکنونشن سے اپنے خطاب میں دوقومی نظریہ کےحوالےسے ہندوؤں اورمسلمانوں کوالگ قوم قراردیا۔دوقومی نظریہ کی بحث برسوں سےچل رہی ہے اورچلتی رہے گی لیکن آپ کوتقریر میں ہندو اور مسلمان کالفظ استعمال نہیں کرنا چاہیے تھاکیونکہ ہندو اور مسلمان توآج بھی انڈیامیں ایک ساتھ رہتے ہیں اورایک دوسرے کےہاں آتے جاتے ہیں۔
جنرل عاصم منیرصاحب اوردیگرجرنیل صاحبان کوسوچناچاہیےکہ 1947ء سے قبل آپ کے دادا، پردادا، نانا، پرنانا کہاں رہتے تھے؟ وہ غیرمنقسم ہندوستان میں ہندوؤں کے ساتھ ہی رہتے تھے،اس وقت پاکستان یابنگلہ دیش کاوجود نہیں تھا بلکہ ایک متحدہ ہندوستان تھا۔تقسیم توانگریزوں کی سازش کےتحت ہوئی جس پر بحث کی جاسکتی ہے۔
جنرل عاصم منیرصاحب!
آپ نےاپنے خطاب میں کہا تھا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔ تازہ واقعہ کے حوالے سےانڈیا میں آپ کی تقریرکاحوالہ دیاجارہا ہے۔اس حوالےسے ��ہ بات منظر عام پر آچکی ہے کہ 2019ء میں اس وقت کے آرمی چیف جنرل قمرباجوہ نے انڈین کشمیر پربھارت کا حق تسلیم کرتے ہوئے انڈیاسےدس سال کاغیراعلانیہ خفیہ معاہدہ کرلیاتھا کہ ہم دس سال تک انڈیا سے کوئی جنگ نہیں کریں گے۔ پاکستان کی شہ رگ تواسی دن کٹ گئی تھی جب انڈیانے 2019ء میں آرٹیکل 370کوختم کرکے جموں کشمیر کو بھارت کے جغرافیہ کاحصہ بنالیاتھا۔جب انڈیانے جموں کشمیر کوانڈیا کےجغرافیہ میں شامل کیااور پاکستان کی شہ رگ کاٹ لی تواس وقت انڈیاکے خلاف کوئی اقدام کیوں نہیں اٹھایا گیا؟ 1/2
پہلگام میں دہشت گردی کے واقعہ کے بعد سرحدوں پر پہلے سے موجودہ خطرات بہت بڑھ گئےہیں، ان حالات میں موجودہ حکمرانوں، وزیراعظم اور چیف آرمی اسٹاف کوچاہیے کہ تمام پارٹیوں کویکجا کریں، انہیں ایک ساتھ بٹھائیں۔وقت کا تقاضہ ہے کہ فوری طورپر تمام سیاسی جماعتوں کی گول میز کانفرنس بلائی جائے جس میں تمام جماعتوں کوشرکت کی دعوت دی جائے، کانفرنس میں عمران خان کوبھی شریک کیا جائے، میں خود بھی لندن سے اس کانفرنس میں زوم کے ذریعے شریک ہوسکتا ہوں یا اپنے نمائندوں کواس کانفرنس میں بھیج سکتا ہوں۔ یہ وقت ہے کہ ہم ملکر بیٹھیں اورغور کریں کہ آنے والےوقت سے کیسے نمٹاجائے
#Pahalgam