لہٰذا اللہ کی تسبیح کرو اُس وقت بھی جب تمہارے پاس شام آتی ہے، اور اُس وقت بھی جب تم پر صبح طلوع ہوتی ہے اور اُسی کی حمد ہوتی ہے آسمانوں میں بھی اور زمین میں بھی اور سورج ڈھلنے کے وقت بھی (اُس کی تسبیح کرو) اور اُس وقت بھی جب تم پر ظہر کا وقت آتا ہے۔
﴿سورۃ الروم،۱۷-۱۸﴾
ایک صاحب نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا:
اسلام کی کون سی حالت افضل ہے؟
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ کہ ( اللہ کی مخلوق کو ) کھانا کھلاؤ اور سلام کرو، اسے بھی جسے تم پہچانتے ہو اور اسے بھی جسے نہیں پہچانتے۔
(صحیح بخاری ،٦٢٣٦)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے اس مومن بندے کا جس کی، میں کوئی عزیز چیز دنیا سے اٹھا لوں اور وہ اس پر ثواب کی نیت سے صبر کر لے، تو اس کا بدلہ میرے یہاں جنت کے سوا اور کچھ نہیں۔“
(صحیح بخاری، ۶۴۲۴)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
جب کوئی قوم عہد توڑتی ہے تو ان میں قتل عام ہوجاتا ہے، جب کسی قوم میں فحاشی عام ہوجاتی ہے تو اللہ تعالیٰ ان پر موت کو مسلط کردیتا ہے اور جب کوئی قوم زکوٰۃ کی ادائیگی روک لیتی ہے تو اللہ تعالیٰ ان سے بارش روک لیتا ہے۔
(السلسلۃ الصحیحۃ، ۱۷۸۳)
اور وہی ذات ہے جس نے یہ زمین پھیلائی، اُس میں پہاڑ اور دریا بنائے، اور اُس میں ہر قسم کے پھلوں کے دو دو جوڑے پیدا کئے۔ وہ دن کو رات کی چادر اُڑھادیتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ان ساری باتوں میں اُن لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں جو غور و فکر کریں۔
﴿سورۃ الرعد، ۳﴾
حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اسلام کےعظیم خلیفہ فاتحِ فارس و روم، عدل و انصاف کےپیکر اور حق کےعلمبردار۔ آپؓکےدورِ خلافت میں اسلامی ریاست عظیم وسعت تک پہنچی مگر آپؓ کی سادگی، تقویٰ اور انصاف اپنی جگہ قائم رہا آپؓ کاعدل ایسا تھا کہ حاکم اور عام انسان قانون کی نظر میں برابرتھے
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا:
میری امت میں میرے ساتھ سب سے زیادہ محبت کرنے والوں میں وہ لوگ (بھی) ہیں جو میرے بعد ہوں گے ، ان میں سے (ہر) ایک یہ چاہتا ہوگا کہ کاش! اپنے اہل وعیال اور مال کی قربانی دے کرمجھے دیکھ لے۔
(مسلم، ۷۱۴۵)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”مومن کو کوئی کانٹا بھی چبھتا ہے، یا اس سے بھی کم کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس کا ایک درجہ بلند اور اس کے بدلے اس کا ایک گناہ معاف کر دیتا ہے“۔
(جامع ترمذی، ۹۶۵)
وَلَا تَدْعُ مَعَ اللَّهِ إِلَٰهًا آخَرَ ۘ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ۚ كُلُّ شَيْءٍ هَالِكٌ إِلَّا وَجْهَهُ ۚ لَهُ الْحُكْمُ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ
اور خدا کے ساتھ کسی اور کو معبود (سمجھ کر) نہ پکارنا اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اس کی ذات (پاک) کے سوا ہر چیز فنا ہونے والی ہے۔ اسی کا حکم ہے اور اسی کی طرف تم لوٹ کر جاؤ گے
سُورَةُ القَصَصِ - 88
قالَ النبی ﷺ:
بیشک سود کی سب سے سنگین صورت (سب سے بڑی زیادتی) یہ ہے کہ کسی مسلمان کی عزت و آبرو پر ناحق زیادتی کی جائے.
ابوداؤد 4876
(مسند احمد 1651؛ مشکوٰۃ 5045)
قالَ النبی ﷺ:
تین افراد کی مدد الله پر حق ہے:
(1) الله کی راہ میں جہاد کرنے والا،
(2) وہ غلام جو اپنی آزادی کا معاہدہ کرے، اور اُس کی نیت رقم ادا کرنے کی ہو،
(3) وہ شخص جو اپنی عفت کی حفاظت کی خاطر نکاح کرے.
ترمذی 1655
(نسائی 3220، 3122؛ ماجہ 2518؛ حبان 4030؛ مشکوٰۃ 3089)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ ان میں اپنے دین پر صبر کرنے والا آدمی ایسا ہو گا جیسے ہاتھ میں چنگاری پکڑنے والا“ ۔
(جامع ترمذی،۲۲۶۰)
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا:
میری امت میں میرے ساتھ سب سے زیادہ محبت کرنے والوں میں وہ لوگ (بھی) ہیں جو میرے بعد ہوں گے ، ان میں سے (ہر) ایک یہ چاہتا ہوگا کہ کاش! اپنے اہل وعیال اور مال کی قربانی دے کرمجھے دیکھ لے۔
(مسلم، ۷۱۴۵)
@AaqaSAWWkiBaten نبی کریم ﷺ جب اپنی سواری پر سیدھے ہو کر بیٹھتے تو اللہ اکبر کہتے، جب چڑھائی چڑھتے تو اللہ اکبر کہتے، اور جب نیچے اترتے تو سبحان اللہ کہتے تھے۔
سنن ابی داود: 2602
سیدنا ابو سعید خدریؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺنے ہمیں عصر کے بعد غروب آفتاب کے قریب تک خطبہ ارشاد فرمایا، اور جب سورج غروب ہونے کے قریب پہنچا تو فرمایا:
گزری ہوئی مدتِ دنیا اور باقی مدت دنیا کی مثال ایسے ہی ہے جیسے گزرے ہوئے دن کے مقابلہ میں دن کاباقی حصہ۔
(مسند احمد، ۱۱۰۸۶)
فَلَمَّا عَتَوْا عَنْ مَا نُهُوا عَنْهُ قُلْنَا لَهُمْ كُونُوا قِرَدَةً خَاسِئِينَ
غرض جن اعمال (بد) سے ان کو منع کیا گیا تھا جب وہ ان (پراصرار اور ہمارے حکم سے) گردن کشی کرنے لگے تو ہم نے ان کو حکم دیا کہ ذلیل بندر ہوجاؤ
سُورَةُ الأَعۡرَافِ - 166
لہٰذا اللہ کی تسبیح کرو اُس وقت بھی جب تمہارے پاس شام آتی ہے، اور اُس وقت بھی جب تم پر صبح طلوع ہوتی ہے اور اُسی کی حمد ہوتی ہے آسمانوں میں بھی اور زمین میں بھی اور سورج ڈھلنے کے وقت بھی (اُس کی تسبیح کرو) اور اُس وقت بھی جب تم پر ظہر کا وقت آتا ہے۔
﴿سورۃ الروم،۱۷-۱۸﴾
ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نیکی اور بدی کے بارے میں سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“ نیکی اچھے اخلاق کا نام ہے اور گناہ وہ ہے جو تمہارے دل میں کھٹک پیدا کرے اور لوگوں کا اس پر مطلع ہونا تم پر ناگوار گزرے“ ۔
(جامع ترمذی، ۲۳۸۹)