متحدہ قومی موومنٹ رابطہ کمیٹی کی جانب سے حیدرآباد سینٹرل جیل میں سینئر و بزرگ کارکن شہید محمد سعید گدی عرف سعید مہاجر کے دورانِ حراست موت کی شدید مذمت
شہید محمد سعید گدی عرف سعید مہاجر کا حیدرآباد جیل میں انتقال محض مجرمانہ غفلت نہیں بلکہ ایک ماورائے عدالت حراستی قتل ہے: رابطہ کمیٹی
ماضی میں بھی ایم کیو ایم کے متعدد کارکنان کو سندھ بھر کی مختلف جیلوں میں بنیادی طبی سہولتوں سے محروم رکھ کر ماورائے عدالت زیرِ حراست قتل کیا گیا ہے: رابطہ کمیٹی
لندن۔۔۔ 5 جولائی 2026ء
متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی نے ایم کیو ایم حیدرآباد زون، سیکٹر ایف کے سینئر و بزرگ کارکن شہید محمد سعید گدی عرف سعید مہاجر کے حیدرآباد سینٹرل جیل میں دورانِ حراست انتقال پر گہرے دکھ، افسوس، شدید غم و غصے اور دلی رنج کا اظہار کیا ہے۔
اپنے ایک بیان میں رابطہ کمیٹی نے کہا کہ 19 مارچ 2026ء کو شہید محمد سعید گدی عرف سعید مہاجر اور دیگر کارکنان کے خلاف ایک جھوٹی، من گھڑت اور سیاسی بنیادوں پر قائم کی گئی ایف آئی آر درج کی گئی۔ بعد ازاں 27 مارچ 2026ء کو جب مرحوم دیگر کارکنان کے ہمراہ انسدادِ دہشت گردی عدالت نمبر 1، سینٹرل جیل حیدرآباد میں پیشی کے لیے پہنچے تو انہیں دیگر 8 کارکنان کے ساتھ لاپتہ کردیا گیا۔ کئی روز تک لاپتہ رکھنے اور شدید تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد 14 اپریل 2026ء کو انہیں تھانے میں ظاہر کرکے جیل کسٹڈی میں دے دیا گیا۔
رابطہ کمیٹی نے کہا کہ لاپتہ کیے جانے کے دوران شہید محمد سعید گدی عرف سعید مہاجر کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا، حالانکہ وہ بزرگ تھے اور دل کے عارضے، ذیابطیس، اسکن ڈیزیز Cellulitis سمیت متعدد بیماریوں میں مبتلا تھے۔ اہلِ خانہ اور متعلقہ افراد کی جانب سے بارہا جیل انتظامیہ کو ان کے علاج و معالجے اور طبی معائنے کے لیے درخواستیں کی گئیں، لیکن جیل انتظامیہ اور سندھ حکومت نے مجرمانہ غفلت، بے حسی اور مہاجر دشمنی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کی تشویش ناک طبی حالت کو مسلسل نظر انداز کیا۔
رابطہ کمیٹی نے کہا کہ عدالتی حکم کے بعد جیل کسٹڈی میں موجود کسی بھی قیدی کو بنیادی انسانی حقوق، بالخصوص علاج و معالجے اور طبی معائنے کی سہولت فراہم کرنا ریاست، سندھ حکومت اور جیل انتظامیہ کی قانونی، آئینی اور اخلاقی ذمہ داری ہے، لیکن شہید محمد سعید گدی عرف سعید مہاجر کے معاملے میں نہ ان کی بزرگی کا خیال رکھا گیا، نہ ان کی بیماریوں کی سنگینی کو محسوس کیا گیا اور نہ ہی انہیں بروقت علاج فراہم کیا گیا۔
رابطہ کمیٹی نے واضح کیا کہ ایم کیو ایم کے نزدیک شہید محمد سعید گدی عرف سعید مہاجر کا حیدرآباد جیل میں انتقال محض مجرمانہ غفلت نہیں بلکہ ایک ماورائے عدالت حراستی قتل ہے، جس میں حیدرآباد جیل انتظامیہ، جیلر، میڈیکل آفیسر اور متعلقہ ذمہ داران کی مجرمانہ غفلت اور بے حسی شامل ہے۔
رابطہ کمیٹی نے کہا کہ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے؛ ماضی میں بھی ایم کیو ایم کے متعدد کارکنان کو سندھ بھر کی مختلف جیلوں میں علاج، طبی امداد اور طبی معائنے کی سہولتوں سے محروم رکھ کر موت کے منہ میں دھکیلا گیا، جو بنیادی انسانی حقوق، آئین، قانون اور انصاف کے تقاضوں کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی اس قیامت خیز واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے اور مطالبہ کرتی ہے کہ شہید محمد سعید گدی عرف سعید مہاجر کے دورانِ حراست موت کی فوری، شفاف اور اعلیٰ سطحی عدالتی تحقیقات کروائی جائیں۔ حیدرآباد جیل انتظامیہ، جیلر، میڈیکل آفیسر اور اس مجرمانہ غفلت میں ملوث تمام ذمہ داران کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے اور انہیں قرار واقعی سزا دی جائے۔
رابطہ کمیٹی نے چیف جسٹس آف پاکستان، چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ، انسانی حقوق کی تنظیموں، وکلاء برادری، میڈیا، سول سوسائٹی اور تمام متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا فوری نوٹس لیں اور جیلوں میں قید افراد کے بنیادی حقوق، جان و صحت کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔
رابطہ کمیٹی نے شہید محمد سعید گدی عرف سعید مہاجر کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ شہید کی مغفرت فرمائے، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور لواحقین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔
⭐️⭐️⭐️⭐️⭐️
آج سے 24 سال قبل بانی وقائد @AltafHussain_90 نے مظلوم کشمیری عوام کو کیا مشورہ دیا تھا؟
الطاف حسین بھائی کاجنت نظیرکشمیر کیلئےجو مؤقف کل تھاآج بھی وہی مؤقف ہے
کشمیر کی قسمت کا فیصلہ کشمیری عوام کی خواہشات اور امنگوں کے مطابق کیا جائے
1997ء کےایک خطاب سے اقتباس
کشمیرسے فوج واپس بلائی جائے، جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی پر عائد پابندی ہٹائی جائے، جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے تمام جائزمطالبات پورے کئے جائیں۔ الطاف حسین
#RightsMovementAJK
کشمیرکے نوجوانوں میں جب یہ شعور بیدار ہوا کہ کشمیری عوام کوحق حاکمیت حاصل نہیں ہے اور ان کے وسائل کولوٹا جارہا ہے تو انہوں نے کشمیر کے حقوق اورحق حاکمیت حاصل کرنےکےلئے ”جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی“ بنائی جس میں سیاسی وابستگی سے بالاترہوکرتمام کشمیری عوام شامل ہیں، اس ایکشن کمیٹی نے 2023ء سے کشمیر کے حقو ق کے لئے آوازبلند کرنا شروع کی، بڑے بڑے احتجاجی مظاہرے کئے، پہیہ جام کیا تو ان کے جمہوری احتجاج کودبانے کے لئے فوج کااستعمال کیا گیا، ان پر گولیاں چلائی گئیں، کشمیریوں کوشہید وزخمی کیا گیا، وہ کشمیری مائیں، بہنیں اوربزرگ جوپاکستان کے نام پر تڑپتے تھے،جب انہوں نے دیکھا کہ اپنا حق مانگنے پران کے بچوں کی لاشیں دی جارہی ہیں توان کے جذبات مزید بھڑکے۔ یہ دیکھ کرحکومت نے ان سے مذاکرات کی بات کی اورلوگوں کے جذبات ٹھنڈے کرنے لئے مطالبات مان لئے لیکن ان کاایک بھی مطالبہ پورانہیں کیا گیا جس پر کشمیرکی جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے ایک بارپھراحتجاج شروع کیا تو حکومت نے جوائنٹ ایکشن کمیٹی پر پابندی لگادی ہے، اس وقت پورے آزادکشمیر کوپیراملٹری رینجرز کے حوالے کردیا گیا ہے، وہاں انٹرنیٹ کی سروس معطل کردی گئی ہے، احتجاج کرنےوالوں پرگولیاں چلائی جارہی ہیں، یہ ظلم ہے، یہ نہ کیاجائے۔ میں پوچھتا ہوں کہ کیا آزادکشمیر میں انڈیا کی فوجیں آگئی ہیں کہ آزادکشمیرکو فوج کے حوالے کردیا گیا ہے؟ آخرکشمیری عوام کوان کی محبت کایہ صلہ کیوں دیا جارہا ہے؟ آج کی تاریخ میں میری بات نوٹ کرلی جائے کہ اگر وفاق پاکستان کا آزادکشمیر کے مظلوم عوام کے ساتھ یہی ظالمانہ رویہ رہا تو کشمیریوں کی نئی نسل کسی بھی صورت پاکستان کے ساتھ شامل ہونے کے لئے تیار نہیں ہوگی۔
ایک طرف آزاد کشمیر میں یہ صورتحال ہے اوردوسری طرف گلگت بلتستان کے الیکشن میں پری پول رگنگ کاآغازکردیا گیا ہے، زرداری اورنوازشریف کے پورے خاندان اورپیپلزپارٹی اورمسلم لیگ ن کے تمام رہنماؤں کوگلگت بلتستان میں جانے اورسیاسی سرگرمیوں کی اجازت دی گئی لیکن تحریک انصاف کو وہاں جانے کی اجازت نہیں ہے۔ یہ ظلم وجبر ہے، زیادتی ہے، آپ ایسے اقدامات سے، کشمیر میں فوج کشی کرکے لوگوں کے دلوں میں نفرت کا لاواابال رہے ہیں،کشمیر کی فضاؤں میں نفرت کا بارود بھررہے ہیں۔ میں اب بھی پاکستان کی سلامتی وبقاء کی خاطر وفاق پاکستان کے طاقتورحکام سے کہتا ہوں کہ خدارا کشمیر میں فوج کشی اورطاقت کا استعمال بند کریں، ہرچیز کاحال بات چیت میں ہے، یہ دنیا کامسلمہ اصول ہے کہ جو جہاں رہتاہے اس علاقے کے وسائل پر پہلاحق وہاں کے رہنے والوں کاہوتاہے، کشمیری عوام بھی اپناحق حاکمیت مانگ رہے ہیں، خدارا کشمیریوں پر ظلم وزیادتی بند کریں۔ کشمیرسے فوج واپس بلائی جائے، جوائنٹ ایکشن کمیٹی پر عائد پابندی ہٹائی جائے، ایکشن کمیٹی کے تمام جائزمطالبات پورے کئے جائیں۔
میں ریاستی مظالم کانشانہ بننے والے کشمیریوں سے مکمل ہمدردی اوریکجہتی کااظہارکرتا ہوں اور کشمیری عوام کویقین دلاتا ہوں کہ میں کل بھی آپ کے ساتھ تھا، آج بھی ہوں اورآپ کے حق کے لئے لڑتارہوں گا، کشمیری میرے بھائی ہیں، مجھے ان سے پیار ہے۔ میں دنیا بھر میں رہنے والے کشمیریوں سے کہتا ہوں کہ وہ اپنے اپنے ممالک کے ارکان پارلیمنٹ، اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کوخطوط لکھیں، انہیں کشمیریوں سے ہونے والی زیادتیوں سے آگاہ کریں، جہا ں جہاں ممکن ہو وہاں احتجاج کریں، آپ کے پرامن احتجاج میں ایم کیوایم کے کارکنان بھی آپ کے ساتھ شریک ہوں گے۔
میں مسلح افواج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیرسے کہتاہوں کہ آپ دنیا میں تو تنازعات کے حل کےلئےفریقین میں مصالحت اورمفاہمت کروارہے ہیں، لیکن پاکستان میں اپنے ہی لوگوں کے خلاف طاقت کے استعمال کی پالیسی پر عمل کیاجارہا ہے جوکسی بھی طرح ملک کے مفاد میں نہیں ہے، میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ میرے پاس 48 سال کاتجربہ ہے، آپ مجھ سے رابطہ کریں، میں ملک میں موجود ایشوز کاایساحل بتاؤں گاکہ ملک وقوم کو درپیش یہ مشکلات ختم ہوسکتی ہیں۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 413 ویں فکری نشست سے خطاب
6 جون 2026ء
(مکمل خطاب سنئے 👇)
https://t.co/HOHGQ5bWHF
169 دن گزر گئے مگر نثار پنہور اور محسن پنہور کی تاحال کوئی خیر خبر نہیں۔ میرے والد کی سچائی، ایمانداری اور خلوص کی مثالیں ہر شخص دیتا ہے، ادارے بخوبی جانتے ہیں کہ انہوں نے کس شخصیت کو اٹھایا ہے۔
میرا پیارا بھائی محسن صرف 29 سال کا ہے، ایک نوجوان جس کا قصور صرف اپنے والد کے لیے آواز اٹھانا تھا۔ کیا اپنے باپ کے حق کے لیے بولنا جرم ہے؟ ایک بیٹے کو صرف اس لیے لاپتا کر دینا کہ وہ اپنے والد کی رہائی مانگ رہا تھا، ظلم کی انتہا ہے۔
رمضان، عید اور زندگی کی بے شمار خوشیاں ان دونوں نے قید اور بےخبری میں گزار دیں، مگر ان کا حوصلہ نہ ٹوٹا۔ خدارا ہوش کے ناخن لیں، چند کم ظرف اور مفاد پرست لوگوں کی خاطر سچے اور باکردار لوگوں کی زندگیاں برباد نہ کریں۔
ہمارا صرف ایک ہی مطالبہ ہے 📢: نثار پنہور اور محسن پنہور کو فوری اور بحفاظت رہا کیا جائے۔
#ReleaseNisarAndMohsinPanhwar
#Pakistan
پاکستان کی تمام قومیتوں کےطلبا وطالبات سےاپیل
#11JuneComingSoon
APMSOکے 48ویں یوم تاسیس کےموقع پر
QRکوڈ اسکین کریں اور رجسٹریشن فارم پُرکرکے
قائدتحریک جناب الطاف حسین کےقافلےمیں شامل ہوجائیں
یہ قافلہ ملک سےفرسودہ جاگیردارانہ نظام کے خاتمے کی منزل پر پہنچ کر دَم لے گا۔
عمران خان اور ان کی پارٹی کے خلاف آج جو ہورہا ہے وہ قانون قدرت ہے جسے Karma یا مکافات عمل کہاجاتا ہے۔
جب الطاف حسین نے کرپٹ جرنیلوں اور جاگیرداروں کی آمریت اورظالمانہ اقدامات کے خلاف آواز اٹھائی تو ستمبر2015ء میں لاہورہائی کورٹ کے ذریعے الطاف حسین کی تحریر، تقریر، تصویر حتیٰ کہ میڈیا پر میرا نام تک لینے پر پابندی عائد کردی گئی، اس وقت عمران خان آزاد تھے اور ان کی پارٹی صوبہ خیبرپختونخوا میں برسراقتدار تھی، اس وقت عمران خان اور ان کی پارٹی الطاف حسین اوراس کی ایم کیوایم کے بارے میں اسٹیبلشمنٹ کے بیانیہ کو دہرارہے تھے، وہ 34 سال سے جلاوطن بے گناہ الطاف حسین کو دہشت گرد کہا کرتے تھے۔ 2018ء کے انتخابات میں PTI کامیاب ہوئی اور عمران خان وزیراعظم بن گئے تو کیا انہوں نے فوج کےکرپٹ جرنیلوں، افسرشاہی اورقومی خزانہ لوٹنے والے سیاستدانوں کے دور میں الطاف حسین پر لگائی گئی پابندی کی مخالفت کی یا کرپٹ جرنیلوں اور جاگیرداروں کے جھوٹے بیانیے کو دوہرایا؟ حتیٰ کہ عمران خان نے وزیراعظم کی حیثیت سے قومی اسمبلی کے فلور پر بھی الطاف حسین کو ڈرون حملے میں قتل کرنے کی دھمکی دی۔
قدرت کا مکافات عمل دیکھئے کہ عمران خان فوجی جرنیلوں کی خوشامد اور ان کے قریب آنے کیلئے الطاف حسین کو ملک دشمن اور دہشت گرد کہا کرتے تھے، وہی الزامات عمران خان پر بھی لگائے گئے، کل الطاف حسین پر پابندی لگائی گئی، اس کانام تک لینے پر پابندی عائد کی گئی، آج عمران خان پر بھی میڈیا پر پابندی ہے حتیٰ کہ عمران خان کا نام لینے پر بھی پابندی ہے۔ اگر عمران خان صاحب ظلم کو ظلم کہتے اور ایم کیوایم اور الطاف حسین پر مظالم کے خلاف آواز اٹھاتے تو انہیں آج جیل کی سلاخوں کے پیچھے زندگی نہیں گزارنی پڑتی۔ عمران خان سمجھ رہے تھے کہ وہ کرپٹ جرنیلوں کی نظرمیں اچھا بننے کے چکر میں الطاف حسین کے خلاف جھوٹے الزامات دہرا کر قدرت کے مکافات عمل سے بچ جائیں گے لیکن وہ قدرت کے مکافات عمل سے نہیں بچ سکے لیکن افسوس ماضی کے تلخ تجربات سے نہ تو فوج نے کوئی سبق سیکھا اور نہ ہی پی ٹی آئی نے کوئی سبق حاصل کیا۔
تحریک انصاف کے رہنما کہتے تھے کہ MQM والے الطاف حسین کے حق میں باہر نہیں نکلتے تو اگر عمران خان صاحب بہت مقبول ہیں تو PTI کے لیڈران، عہدیداران اور کارکنان ان کے حق میں باہرکیوں نہیں نکلتے؟
وہ اگر عمران خان اور پی ٹی آئی کے خلاف حکومت کے ظالمانہ اقدامات کو ظلم کہیں گے لیکن ایم کیوایم اور الطاف حسین کے خلاف ظلم کو ظلم قرار نہیں دیں گے تو
میں یہ واضح کردینا چاہتا ہوں کہ اگر تحریک انصاف کے رہنماؤں کی جانب سے بددیانتی کا یہ عمل جاری رہے گا تو پاکستان میں انصاف کا نظام اور سچی جمہوریت نہیں آسکتی۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 399ویں فکری نشست سے خطاب
8، مئی 2026ء
@wazir_gulalai@AltafHussain_90@MohsinnaqviC42@OfficialDGISPR@OfficialMQM عائشہ گلا لائی باجی آداب آپ نے مظلوموں کے سچے بہادر انقلابی رہبر بانی وقائد محترم الطاف حسین بھائی کیلئے جو اپنے جذبات اور خیالات کا اظہار کیا ہے آپ نے تمام الطاف حسین بھائی کے چاہنے والوں کے دل جیت لئیے ہیں بہت شکریہ اللہ آپ کو ہمیشہ خوش رکھے آمین
@wazir_gulalai@AltafHussain_90@MohsinnaqviC42@OfficialDGISPR@OfficialMQM Ayesha Gulalai Baji Aadab. You have expressed your feelings and thoughts for the true and brave revolutionary leader of the oppressed, the respected Altaf Hussain Bhai. You have won the hearts of all Altaf Hussain Bhai's fans. Thank you very much.