@itsmyliffe2004 Every thing of human is respectable just like whole dead body. These things are part of human body which have been departed before death.
یہ بچی کل 3بجے سے لاپتہ ہے، مدرسے گئی تھی، اب تک واپس نہیں آئی۔😥
اللہ کا واسطہ ہے، صدقہ سمجھ کر شئیر کریں شاید میری لخت جگر مل جائے ایک ماں کی التجا ہے۔Contact# 0300759767
یہ بچی کل 3بجے سے لاپتہ ہے، مدرسے گئی تھی، اب تک واپس نہیں آئی۔😥
اللہ کا واسطہ ہے، صدقہ سمجھ کر شئیر کریں شاید میری لخت جگر مل جائے ایک ماں کی التجا ہے۔Contact# 0300759767
@khan_ki_pagli جنرل اسلم بیگ سابق آرمی چیف نے ایک انٹرویو میں انکشاف کیا کہ بینظیر بھٹو نے بوسینیا کے مسلمانوں کو ٹینک شکن میزائل فراہم کئے جس کے ذریعے بوسنیا کے عوام نے سربین کو شکست دی اللہ تعالیٰ بینظیر بھٹو کو اجر عظیم عطا فرمائے
دعا کیسے مقدر بدلتی ہے
اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت ایوب علیہ السلام کو پے پناہ دولت سے نوازا تھا۔ دنیا میں موجود کوئی ایسی چیز نہیں تھی جو حضرت ایوب علیہ السلام کے پاس نہ ہو۔ حضرت ایوب علیہ السلام اپنے وقت کے multi millionaire تھے۔ پھر اللہ پاک نے ان کو آزمایا۔ ان سے سب کچھ چھین لیا۔ ان کی بہت ساری اولاد تھی اور ساری ایک ساتھ فوت ہوگئی۔ وسیع و غریض رقبے پر ان کی فصلیں جل کر راکھ ہوگئی اور اللہ نے ان کو بے شمار بیماریاں لاحق کر دیں۔
پھر ایک دن حضرت ایوب علیہ السلام نے اللہ تبارک و تعالیٰ سے دعا کی اور اللہ سے رحم مانگا
وَاَيُّوۡبَ اِذۡ نَادٰى رَبَّهٗۤ اَنِّىۡ مَسَّنِىَ الضُّرُّ وَاَنۡتَ اَرۡحَمُ الرّٰحِمِيۡنَ●
"ایوب کو یاد کرو جب اس نے اپنے رب کو پکارا کہ مجھے بہت تکلیف ہو رہی ہے اور تو تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے"
(سورة الأنبياء، 83)
اللہ پاک نے ایوب علیہ السلام کی دعا قبول کرلی اور حضرت ایوب علیہ السلام کو صحت یاب کر دیا اور ان کو پہلے سے بھی کئی گنا زیادہ دولت اور شان و شوکت عطا کی۔
فَاسۡتَجَبۡنَا لَهٗ فَكَشَفۡنَا مَا بِهٖ مِنۡ ضُرٍّ وَّاٰتَيۡنٰهُ اَهۡلَهٗ
"ہم نے ان کی دعا قبول کرلی اور جو ان کو تکلیف تھی وہ دور کردی اور ان کو بال بچے بھی عطا فرمائے"
(سورہ الانبیاء، 84)
اس طرح اللہ نے قرآن میں حضرت زکریا علیہ السلام کی بے بسی کا واقعہ ذکر کیا۔حضرت زکریا علیہ السلام کی بیوی بانجھ تھی۔ وہ بچے پیدا نہیں کرسکتی تھی۔ حضرت زکریا علیہ السلام بوڑھے ہو گئے پوری عمر گزر گئی بیوی بچے پیدا نہیں کرسکتی تھی تو ایک دن گھبرا کر اپنے اللہ سے دعا کی یااللہ اب میں بوڑھا ہوگیا ہوں، میری بیوی بھی بچے پیدا نہیں کر سکتی، یا اللہ تو مجھے بڑھاپے کا سہارا دے دے اور اللہ نے دعا قبول کرلی اور ایسی بیوی میں سے بچہ دے دیا جو بچے پیدا کر ہی نہیں سکتی تھی اور پھر حضرت زکریا علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے کہا
لم اَكُنۡۢ بِدُعَآٮِٕكَ رَبِِّ شَقِيًّا
"اے میرے رب میں تجھ سے مانگ کر کبھی محروم نہیں رہا"
(سورہ مریم آیت نمبر 4)
اِذۡ نَادٰى رَبَّهٗ نِدَآءً خَفِيًّا●
"جب اس نے اپنے رب کو آہستہ سے پکارا"
قَالَ رَبِّ اِنِّىۡ وَهَنَ الۡعَظۡمُ مِنِّىۡ وَاشۡتَعَلَ الرَّاۡسُ شَيۡبًا●
"اور کہا اے میرے رب میری ہڈیاں بڑھاپے کے سبب کمزور ہو گئی ہیں اور سر بڑھاپے کی وجہ سے شعلہ مارنے لگا"
وَاِنِّىۡ خِفۡتُ الۡمَوَالِىَ مِنۡ وَّرَآءِىۡ وَكَانَتِ امۡرَاَتِىۡ عَاقِرًا فَهَبۡ لِىۡ مِنۡ لَّدُنۡكَ وَلِيًّاۙ●
:اور میں اپنے بعد اپنے بھائی بندوں سے ڈرتا ہوں اور میری بیوی بانجھ ہے تو مجھے اپنے پاس سے ایک وارث عطا فرما"
يٰزَكَرِيَّاۤ اِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلٰم ۨاسۡمُهٗ يَحۡيٰىۙ●
:اے زکریا ہم تجھے خوشی سناتے ہیں ایک لڑکے کی جن کا نام یحییٰ ہے"
قَالَ رَبِّ اَنّٰى يَكُوۡنُ لِىۡ غُلٰمٌ وَّكَانَتِ امۡرَاَتِىۡ عَاقِرًا وَّقَدۡ بَلَـغۡتُ مِنَ الۡـكِبَرِ عِتِيًّا●
"عرض کی اے میرے رب! میرے لڑکا کہاں سے ہوگا میری عورت تو بانجھ ہے اور میں بڑھاپے سے سوکھ جانے کی حالت کو پہنچ گیا ہوں:
قَالَ كَذٰلِكَۚ قَالَ رَبُّكَ هُوَ عَلَىَّ هَيِّنٌ وَّقَدۡ خَلَقۡتُكَ مِنۡ قَبۡلُ وَلَمۡ تَكُ شَيۡـًٔـا●
"حکم ہوا کہ اسی طرح ہوگا کہ مجھے یہ آسان ہے اور میں پہلے تم کو بھی تو پیدا کرچکا ہوں اور تم کچھ چیز نہ تھے"
(القرآن، سورہ مریم)
پھر قرآن میں اللہ نے حضرت یونس علیہ السلام کا واقعہ ذکر کیا کہ جب وہ مچھلی کے پیٹ میں گئے تو بے بسی کا یہ عالم تھا قرآن کہہ رہا کہ وہ تین اندھیروں کے پیٹ میں تھے ایک رات کا اندھیرا، دوسرا سمندر کے نیچے گہرائی کا اندھیرا اور تیسرا مچھلی کے پیٹ کا اندھیرا اور پھر حضرت یونس علیہ السلام نے بے بسی میں اللہ کو پکارا
فَنَادٰى فِىۡ الظُّلُمٰتِ اَنۡ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنۡتَ سُبۡحٰنَكَ ۖ اِنِّىۡ كُنۡتُ مِنَ الظّٰلِمِيۡنَ
"اندھیرے میں اللہ کو پکارنے لگے کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔ تو پاک ہے بے شک میں ہی قصوروار ہوں"
(القرآن، سورۃ الانبیاء، 87)
اللہ پاک فرما رہے ہم نے یونس علیہ السلام کی call کو answer کیا اور انکو وہاں سے نکالا جہاں سے نکلنے کے سارے راستے بند تھے۔
فَاسۡتَجَبۡنَا لَهٗۙ وَنَجَّيۡنٰهُ مِنَ الۡـغَمِّؕ
"تو ہم نے ان کی پکار سن لی اور انکو غم سے نجات بخشی" (القرآن)
میرے دوستو اللہ پاک نے یہ واقعات قرآن میں اس لیے ذکر کیے کہ میرے بندو مجھ سے کبھی نہ امید نہ ہونا میں نے موسیٰ کو فرعون کی گود میں پال کر دکھایا، اسماعیل کو چھری کے نیچے بچا کر دکھایا، ابراہیم کو جلتی آگ میں بچا کر دکھایا، مریم کو بن باپ کے بیٹا دے کر دکھایا، یوسف کو ایک قیدی سے بادشاہ بنا کر دکھایا، موسیٰ کو سمندروں میں خشک راستے نکال کر دکھایا۔
👇
شہد کا پیالہ _._ ایک سبق آموز واقعہ ...
آپؐ اپنے اصحاب کے ساتھ بیٹھ کر کبھی کبھار گپ شپ اور مزاح فرمایا کرتے تھے۔ یوں بھی ہوتا کہ وہ مجلس مستقل ایک واقعہ اور قصہ بن جایا کرتی۔
ایک مرتبہ نبی کریمؐ اپنے رفقاء سیدنا ابوبکر صدیق، عمر فاروق اور عثمانؓ کی معیت میں علیؓ کے گھر تشریف لے گئے۔
سیدنا علیؓ کی اہلیہ سیدہ فاطمہؓ نے شہد کا ایک پیالہ ان حضرات کی مہمان داری کی خاطر پیش کیا۔ شہد اور خوبصورت چمکدار پیالہ۔۔۔ اتفاق سے اس پیالے میں اک بال گرگیا۔
آپؐ نے وہ پیالہ خلفائے راشدین کے سامنے رکھا اور فرمایا: آپ میں سے ہر ایک اس پیالے کے متعلق اپنی رائے پیش کرے۔
ابوبکر صدیقؓ فرمانے لگے کہ میرے نزدیک مومن کا دل اس پیالے کی طرح چمکدار ہے، اور اس کے دل میں ایمان شہد سے زیادہ شیریں ہے، لیکن اس ایمان کو موت تک باحفاظت لے جانا بال سے زیادہ باریک ہے۔
عمرؓ فرمانے لگے کہ حکومت اس پیالے سے زیادہ چمکدار ہے اور حکمرانی شہد سے زیادہ شیریں ہے لیکن حکومت میں عدل وانصاف کرنا بال سے زیادہ باریک ہے۔
عثمانؓ فرمانے لگے کہ میرے نزدیک علم دین، اس پیالے سے زیادہ چمکدار ہے، اور علم دین سیکھنا شہد سے زیادہ میٹھا ہے لیکن اس پر عمل کرنا بال سے زیادہ باریک ہے۔
علیؓ نے فرمایا: میرے نزدیک مہمان اس پیالے سے زیادہ چمکدار ہے اور اس کی مہمان نوازی شہد سے زیادہ شیریں ہے اور ان کو خوش کرنا بال سے زیادہ باریک ہے۔
سیدہ فاطمہؓ فرمانے لگیں کہ یارسول اللہ، اگر اجازت ہو تو میں بھی کچھ عرض کروں؟ آپؐ کے اجازت دینے پر فرمانے لگیں کہ عورت کے حق میں حیا اس پیالے سے زیادہ چمکدار ہے۔ اور اس کے چہرے پر پردہ شہد سے زیادہ میٹھا ہے اور غیر مرد کی اس پر نگاہ نہ پڑے یہ بال سے بھی زیادہ باریک ہے ۔
کیا خوب ہی محفل تھی، جب خلفائے راشدین اپنی رائے کا اظہار کرچکے تو آپؐ کی طرف متوجہ ہوئے۔
ادھر سرکار دو عالمؐ کے لب مبارک ہے تو زبان نبوت سے یہ الفاظ مبارک نکلے کہ معرفت اس پیالے سے زیادہ چمکدار ہے اور معرفت الٰہی کا حاصل ہونا اس شہد سے زیادہ میٹھا ہے، اور معرفت الٰہی کے بعد اس پر عمل کرنا، بال سے زیادہ باریک ہے۔
ادھر زمین پر یہ مبارک محفل سجی تھی ادھر رب ذوالجلال سے جبریلؑ بھی اجازت لے کر آپہنچے اور فرمانے لگے کہ ’’میرے نزدیک راہ خدا چمکدار سے زیادہ روشن ہے اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنا اور اپنا مال و اپنی جان قربان کرنا شہد سے زیادہ شیریں اور اس پر استقامت بال سے زیادہ باریک ہے۔‘‘
جب زمین پر سجی اس محفل میں سب اپنی رائے کا اظہار کرچکے تو جبریل امین فرمانے لگے کہ یارسول! اللہ تعالیٰ بھی کچھ کہنا چاہتے ہیں، فرمایا کہ جنت اس پیالے سے زیادہ چمکدار ہے اور جنت کی نعمتیں اس شہد سے زیادہ شیریں ہیں، لیکن جنت تک پہنچنے کے لیے پل صراط سے گزرنا بال سے زیادہ باریک ہے۔
بلاشبہ یہ مجلس بھی مبارک اور ہر ایک کی گفتگو بھی مبارک، اس مجلس میں جہاں آقا نامدارؐ تھے وہیں صحابہ بھی تھے، آپ کی یہ مجلس اور اس میں ہونے والی گفتگو ہم سب کیلیے مشعل راہ ہے۔
(بکھرے موتی ص 938)
اے الیکشن کمیشن والے محترم سکندر سلطان راجہ بھائی کیا ایسا ہی ووٹ تمام پاکستانی ڈال رہے ہیں یا ڈال سکتے ہیں جیسا نواز شریف اپنے پولنگ بوتھ میں ڈال رہے ہیں کہاں گیا آپ کا ووٹ کا تقدس پولنگ بوتھ کے اندر مکمل privacy کی گارنٹی آج جب یہ تماشہ رچایا جارہا تھا تو کہاں گیا وہ پرازائڈنگ آفیسر آپکا نام نہاد فول پروف نظام