”عاصم منیر پر اتنا خوف طاری ہے کہ ایکسٹینشن کے ساتھ اپنے لیے تاحیات استثنی بھی لیا۔ عمران خان کو جعلی مقدمات میں پھنسا کر جیل میں قید رکھا گیا ہے، کیونکہ انہیں خوف ہے کہ اگر وہ باہر آ گیا تو ان کا کچھ نہیں رہے گا۔ عمران خان کو جیل میں جس اذیت سے گزارا جا رہا ہے یہ میڈیکل رپورٹ اس کا معمولی سا اعادہ کر رہی ہے۔ عمران خان پر قاتلانہ حملہ کروایا، جعلی کیسز کیے، 3 سال سے قید میں رکھا ہوا ہے اور اب قید تنہائی، یہ سب کچھ عمران خان استقامت سے برداشت کر چکا ہے۔“ عمران ریاض خان
عمران خان کی طبی رپورٹس تشویشناک ہیں۔ میں نے کئی ماہرین سے مل کر ان کا جائزہ لیا ہے، اور یہ سادہ الفاظ میں لکھ رہا ہوں تاکہ ہر پاکستانی سمجھ سکے کہ اصل صورتحال کیا ہے۔
ترتیب کے لحاظ سے جو چیز مجھے سب سے زیادہ پریشان کر رہی ہے وہ ہے ان کی ذہنی دباؤ اور اضطراب کی کیفیت ہے، دل کی دھڑکن میں بے ترتیبی، اور بڑہتا ہوا بلڈ پریشر۔ رپورٹ میں نیند کی کمی کا ذکر نہیں، مگر ادویات دیکھ کر یہ بھی تقریباً یقینی لگتا ہے۔
میں عمران خان کو 35 سال سے زیادہ عرصے سے جانتا ہوں۔ ذہنی دباؤ کبھی ان کی کمزوری نہیں رہا۔ مگر اب یہ عروج پر ہے، خود بتا رہا ہے کہ تین سال کی قید اور مکمل تنہائی نے ان پر کیا اثر ڈالا ہے۔
اس کی وجوہات سمجھنا مشکل نہیں: ملک کی صورتحال، جیل میں مقید ساتھی، شہید ہونے والے اور ان کے سوگوار خاندان۔ خود ان کی اپنی تنہائی، نہ اخبار، نہ کتابیں، باہر کی دنیا سے مکمل بےخبری۔ اور بلاشبہ بشریٰ بی بی، اپنی بہنوں، کارکنوں اور پارٹی کے بارے میں ان کی فکرمندی۔
دوائیوں کو دیکھیں، کیونکہ تشخیص تو موجود ہی نہیں۔ انہیں
Citani اور Lexotanil
دن میں تین بار دی جا رہی ہیں۔ یہ نیند کی کمی کا علاج نہیں۔ یہ دن کے وقت کے اضطراب کا علاج ہے۔
ان کی دل کی دھڑکن 54 فی منٹ ہے۔ ڈاکٹر اسے "نارمل" کہیں گے۔ لیکن ان کے لیے یہ نارمل نہیں۔ ان کی آرام کی حالت میں دل کی دھڑکن ساری زندگی 40 کی دہائی کے ابتدائی ہندسوں میں رہی ہے، جو ایک تاحیات فٹ کھلاڑی کی نشانی ہے۔ 54 تک پہنچنا ایک تبدیلی ہے۔
ا
نہوں نے دل کی دھڑکن میں بے ترتیبی کی شکایت کی ہے۔ یہ ایسی بات نہیں جسے نوٹ کر کے نظرانداز کر دیا جائے۔ اس کے لیے فوری طور پر 24 گھنٹے کے لیۓ ہولٹر مانیٹر لگانا ضروری ہے، تاکہ اس کی تعداد معلوم ہو اور صحیح دوا تجویز کی جا سکے۔ یہاں تک کہ پاکستان سے باہر رجسٹرڈ ایپل فون سے منسلک ایپل واچ بھی
Atrial Fibrillation
اور دھڑکن کی بے ترتیبی کو حقیقی وقت میں ظاہر کر سکتی ہے (کیونکہ یہ فیچر پاکستان میں غیر فعال ہے)۔
اب وہ بلڈ پریشر کی تین الگ الگ دوائیں لے رہے ہیں۔ اس کے لیے روزانہ صبح و شام باقاعدہ نگرانی درکار ہے تاکہ خوراک درست کی جا سکے، ہفتہ وار اندازوں پر نہیں چلا جا سکتا۔ انہیں کولیسٹرول کم کرنے والی دوا بھی دی جا رہی ہے۔ اس عمر میں بڑھا ہوا کولیسٹرول جینیاتی اور ذہنی دباؤ دونوں وجوہات سے ہو سکتا ہے، اور اسے خوراک، ورزش اور دوا کے امتزاج سے قابو کرنا ضروری ہے، جیسا کہ بلڈ پریشر کے لیے بھی۔ کم نمک۔ زیادہ حرکت۔ حقیقی نگرانی۔
درج ذیل ٹیسٹ اب بغیر کسی مزید تاخیر کے ہونے چاہئیں:
۱) اسٹریس ٹیسٹ
۲) ایکو کارڈیوگرام
۳) کارڈیک ایم آر آئی
۴) Cardiac Artery Calcium CAC اسکین — بڑھے ہوئے کولیسٹرول کی وجہ سے، تاکہ شریانوں میں جمع کیلشیم کے ذخائر معلوم ہوں جو براہِ راست دل کے دورے یا اسٹنٹ کی ضرورت کا باعث بنتے ہیں۔
۵) کارڈیک سی ٹی انجیوگرام اور، اگر ضرورت پڑے تو، دیگر ٹیسٹ۔
میں سخت پریشان ہوں۔ تنہائی ان کے جسم پر جسمانی اثرات مرتب کر رہی ہے۔ اگر اسے فوری طور پر حل نہ کیا گیا تو نقصان ناقابلِ تلافی ہو سکتا ہے۔
عمران خان کو اب فوری طور پر ہسپتال کے ماحول میمنتقل کیا جانا لازمی ہے، ایک آزاد اور غیرجانبدار طبی بورڈ کی نگرانی میں۔ ان کا خاندان اور پاکستان کے سرکاری ڈاکٹروں پر بلکل اعتماد نییں کرتے ہیں۔ سب پہلے بھی دیکھ چکے ہیں کہ رپورٹس میں ردوبدل کیا گیا، اعداد و شمار بڑھا چڑھا کر یا دبا کر پیش کیے گئے، پلیٹلیٹس کا معاملہ اس کی ایک مثال ہے۔
اگلے تین ماہ بہت اہم ہیں اور پتہ چلے گا کہ ان کی حالت بہتر ہوتی ہے یا مستقل نقصان میں بدل جاتی ہے۔
ہم سب پریشان ہیں۔
ملک کو آج ان کی ضرورتہے، پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔
اللہ انہیں صحت مند رکھے۔ آمین۔
پورے پاکستان میں صرف ایک شخص ہے جسے ہم کہہ سکتے ہیں کہ "آزادی مبارک"اور وہ ہے عمران احمد خان نیازی۔ عرفان جیلانی
#pakistan@IrfanJlaniPTI
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
خان صاحب کل رات میرے خواب میں آئے اور انہوں کہا کہ شہباز میرا یہ پیغام اکبر ایس بابر کو پہنچا دو: پیغام ہے:
“اکبر ایس بابر آپ بھی بے غیرت ہو اور آپ کے ہینڈلر بھی۔ اور خصوصا ٹیبل سٹوری کرنے والے ہینڈلر ز کے پالتو صحافی بھی “