گھر ہمارا مگر ٹاور لگے گا ٹیلی کام کمپنی کا ورنہ 5 کروڑ کا جرمانہ!
قومی اسمبلی سے پاس ہونے والا یہ بل جاہلانہ بھی ہے اور غاصبانہ بھی، یہ عوام کے بنیادی حق پر ڈاکا ہے۔ اس بل کی منظوری قومی اسمبلی میں بیٹھے ارکان کی اہلیت ،اور قابلیت کا شاندار اظہار بھی ہے کہ وہ آئین سے متصادم بل پاس کررہے ہیں! مکان تو چھوڑیں اس طرح کے ٹاورز کھیل کے میدانوں اور پارکس میں بھی کمیونٹی کی مرضی کے بغیر نصب نہیں ہونا چاہیے۔ سوال یہ ہے کہ عوامی مفاد کے خلاف اس بل پر آئی ٹی اور ٹیلی کام کی وزیر اور کمیٹی کے سربراہ کو کیا ان عہدوں پر موجود رہنا چاہیئے؟
عمران خان صاحب جیسے جعلسازوں کو بے نقاب کیے بغیر عوام کے مسائل کیسے حل ہو سکتے ہیں؟ ہر بیس پچیس سال بعد کوئی بہروپیا جرنیلوں کی گود میں بیٹھ کر آتا ہے اور پھر ملک کے بیس پچیس سال برباد کرنے کے بعد انقلابی بن جاتا ہے۔۔۔ بھٹو سے لے کر نواز شریف اور نواز شریف سے لے کر عمران خان۔۔۔ جب تک دائروں کا یہ سفر نہیں رکے گا، عوام کے مسائل کیسے حل ہوں گے؟
پیپلزپارٹی کے چیئرمین سینیٹ کے لیے 9 کروڑ کی مہنگی گاڑی خریدی گئی ہے، ن لیگ کی وزیر اعلٰی کے لیے 11 ارب کا طیارہ! جبکہ غریب عوام پر پٹرول بم گرا دیا۔ عوام سے قربانی کا مطالبہ کرنے والے حکمران عوام کے ٹیکسوں پر عیاشیاں کررہے ہیں
مرتضی وہاب اگر یہ سمجھتے ہیں کہ وہ میڈیا پر آکر بیان بازی کے ذریعے جماعت اسلامی کے کاموں کو کم کرسکتے ہیں تو یہ ان کی بھول ہے،
ساڑھے تین کروڑ شہریوں کے لیے صرف 400بسیں چل رہی ہیں اور شہر میں ٹرانسپورٹ کا عملاً کوئی نظام نہیں
منعم ظفر خان امیر جماعت اسلامی کراچی
@monemzafarkhan
#Karachi
The nation is rising and the narrative is shifting!
It’s time to amplify the call “Badal Do Nizam” as we move closer to the historic Ijtama-e-Aam, approaching the decisive moment for the transformational change!
#اجتماع_عام_مینار_پاکستان
پشاور میں جماعت اسلامی کے تحت شاندار غزہ مارچ ہوا۔ پاکستان کے عوام اہل غزہ اور حماس کے ساتھ ہیں۔ اسرائیل کو جنگ بندی معاہدے پر عمل کا سختی کے ساتھ پابند بنایا جائے۔ اسرائیل اور اس کے سرپرست امریکا اور دیگر مغربی ممالک سے غزہ کی تباہی کا تاوان وصول کیا جائے۔ حماس ایک legitimate resistance موومنٹ ہے جسے بین الاقوامی سفارتی سطح پرتسلیم کیا جائے اور اسلام آباد میں حماس کا دفترُکھولا جائے۔
#GhazaMarchPeshawar
مجھے خوشی ہے کہ عمران خان کی جانب سے اسرائیل کی مذمت نہ کئے جانے کا سوال اب عوام کے ساتھ ساتھ سیاسی راہنما بھی پوچھ رہے ہیں۔ یہاں تک کہ خود پی ٹی آئی کارکن اور سپورٹر بھی فکرمند ہیں کہ جب عمران خان کے ٹوئیٹر اکاؤنٹ سے ہر طرح کی ٹوئیٹ ہو رہی ہے تو اسرائیل کی مذمت کیوں نہیں؟