دہشت گردی کی آندھی۔
آہ۔۔۔۔۔
۔۔۔باجوڑ۔۔۔
جب گزر جائے یہ آندھی تو صبا دیکھ کے آ۔
بجھ گیا کتنے گھرانوں کا دیا دیکھ کے آ۔
چھت اڑی کس کی تو کس کس کی گری ہے دیوار۔
��ن گھرانوں سے اٹھی آہ و بکا دیکھ کے آ۔
دیکھنا اڑ گئی کس کس کے ہے سر سے چادر۔
در بدر ہوگئی کس کس کی حیاء دیکھ کے آ۔
کتنے آئینے ہوۓ ٹوٹ کے کرچی کرچی
خاک میں چہرہ ہے کس کس کا اٹا دیکھ کے آ۔
باغ میں کتنے نشیمن ہوۓ تنکا تنکا۔
لے اڑی کتنے پرندوں کو قضا دیکھ کے آ۔
کتنے اشجار گرے کتنی اڑی ہیں بیلیں۔
ہوگئے کتنے چمن زار فنا دیکھ کے آ۔
کتنے بچے مرے گرتی ہوئی دیواروں سے۔
کتنی ماؤں کا کلیجہ ہے پھٹا دیکھ کے آ۔
رل گیا خاک میں کس کس کا اس آندھی میں شباب۔
چھوٹا کس کس سے بڑھاپے کا عصا دیکھ کے آ۔
شہر کا شہر ہے مصروف فغان و فریاد
ہوا باجوڑ میں کیا حشر بپا دیکھ کے آ۔
غم زدوں کو کوئی دیتا ہے دلاسا کہ نہیں۔
جب بھی تھم جائے یہ طوفان بلا دیکھ کے آ۔
اے صبا دیکھ کہ ہے غمزدہ کتنا سلمان۔
مجھ سے دیکھا نہیں جائے گا تو جا دیکھ کے آ۔
سید سلمان گیلانی۔
#30_جولائی_شہدائے_باجوڑ
#ہم_نہیں_بھولیں_گے
#شہدائے_باجوڑ
#رہبر_ورہنما_مولانا
#سروس_یا_پروپیگنڈا
#پٹرولیم_لیوی_نامنظور
#کشمیر_کو_امن_دو
#ادارے_بدنام_ناکرو