حماس قیادت کی صیہونی حملوں میں شہادتوں کی ایک طویل تاریخ ہے،اسماعیل ہنیہ نہ پہلا شہید ہے اور نہ آخری۔
حماس ایک مزاحمتی تحریک ہے،اس نے شہادتوں کے بعد مزید ترقی کی،
یہ تحریکیں افراد سے متعلق نہیں ہیں، اور ہنیہ کی شہادت سے ان پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
مدارس کے رجسٹریشن کے سلسلے میں خود ہماری براہ راست آرمی چیف،وزیراعظم سے ملاقات ہوئی، وزیراعظم نے قانون پر دستخط کر دیے ۔
لیکن جب نفاذ کا وقت ایا تو اچانک ٹیلی فون آجاتا ہے جس کو یہ روک دیا جائے ۔
ہم یہ سلوک برداشت کرتے رہے کب تک ہم مدارس کو ذلیل کرتے رہےگے ۔
مدارس کی ازادی اور خود مختاری کا ہر قیمت پر تحفظ کرنا ہے اور کوئی طاقت دنیا ہمیں اسے نہیں روک سکتی حقیقت یہ ہے کہ بیرونی ایجنٹ ایجنڈے پر ہمارے ہاں بہت سے کام ہوتے ہیں
اور یہ سمجھ لیجیے کہ کسی شخص کو یا کسی ادارے کو ایک حد تک ہی دبایا جا سکتا ہے ایک حد ایسی اتی ہے کہ جس کے بعد وہ دبنا قبول نہیں کرتا مجھے ڈر لگتا ہے کہ کہیں وہ ان حکومت کے اور فوج کی طرف سے ان اقدامات کے نتیجے میں وہ حد میں نہ ا جائے۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا؛
’’ جو شخص اس حال میں مرا کہ اس نے جہاد نہیں کیا اور اپنے دل میں بھی جہاد کی نیت نہیں کی تو وہ نفاق کی ایک شاخ پر مرا ۔“
(سنن ابوداؤد ، ۲۵۰۲)
مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد تقی عثمانی کو میں بالکل ٹھنڈے مزاج کا سمجھتا رہا ہوں لیکن آج سن کر حیران رہ گیا
کسی شخص اور ادارے کو دبانے کی ایک حد ہوتی ہے 👊👊
ہانیہ کا بیٹا عبدالسلام کا کہنا ہے کہ میرے باپ کی شہادت کا آرزو پوری ہوئی،ہم حالت جنگ میں ہے،اور جنگ لڑ رہے ہیں،دشمن کبھی یہ نا سوچے کہ ہماری شہادتوں سے یہ جنگ روک جائے گی۔۔۔
کیا ایمان سے لبریز لوگ ہیں ۔۔۔♥️