مدرسے کا طالبعلم صف اوّل کا سپاہی بن کر لڑنے کا عزم رکھتا ہے
ہم آپکے شانہ بشانہ لڑنے کا اعلان کر چکے ہیں
آپ کب ہمارے مدارس کو اپنا پاکستانی سمجھیں گے۔۔۔؟
میری گفتگو کو صرف سیاسی نا سمجھا جاۓ
مولانا کی اسمبلی میں للکار
اسرائیل نے مسجد پر بم گرایا اور بہت سے لوگ شہید ہو گئے اس ویڈیو کو اتنے دور دور تک پھیلائے واٹس ایپ پر گروپوں میں شیئر کریں تاکہ اسرائیل کا ظالم جو مسلمانوں پر اج کل کر رہے ہیں لوگوں کو دنیا والوں کو پتہ چل جائے
اب مک بھر میں براہ راست عوامی اسمبلیاں لگیں گی ، بلوچستان اسمبلی ہو یا پارلیمنٹ ہو ، اسمبلیوں میں یہ عوام کے نمائندے نہیں ہیں، یہ اسٹیبلشمنٹ اور جرنیلوں کے نمائندے ہیں،مجرم کو مجرم کہنا پڑے گا مجرم کو بے نقاب کرنا پڑے گا اور انشااللہ العزیز ہم جو بات کر رہے ہیں وہ ڈنکے کی چوٹ پر کر رہے ہیں، ہم نے یہ بات مصلحتوں کا شکار ہو کر نہیں کی ہے اب عوام براہ راست اسمبلیاں منعقدکریں گے۔مولانا فضل الرحمان
#عوامی_اسمبلی_پشین
کچے کے ڈاکوؤں کی فرعونیت
بچے کو اغوا کرکے اس کی ویڈیو بنوا کر تاوان مانگ رھے ھیں.پاکستان آرمی ان کے خلاف آپریشن کرے اور ایک بھی شخص کو زندہ نا چھوڑے۔
#مقبوضہ_سندھ_آزاد_کراؤ
08 فروری 2024 کے عام انتخابات کے اسٹیبلشمنٹ نے کرپشن کے ستر سالہ ریکارڈ توڑ دئے ہیں، براہ راست مداخلت کر کے ایک ایک حلقے سے اپنی مرضی کے نمائندوں کو سلیکٹ کیا، اس طرح کے انتخابات سے آنے والے اراکین کو عوام کا نمائندہ نہیں کہا جاسکتا، ایسی صورت میں پھر پارلیمنٹ کے اہمیت ختم ہوجاتی ہے،وہاں بیٹھے ہوئے اراکین پر انگلیاں اٹھتی رہیں گی، دفاعی قوت جب سیاسی قوت بن جائے تو پھر ہم بھی میدان میں آئیں گے۔
ہم نے آئین اور جمہوریت کے لئے قربانیاں دی ہیں، آئین پر ہمارے اکابرین کے دستخط ہیں، اس لئے آئین کا تحفظ اپنی ذمہ داری تصور کرتے ہیں، لیکن آئین صرف ایک کاغذ کا ٹکڑا ہے، اس کی کوئی حیثیت نہیں رہی، جمہوریت اپنا مقدمہ ہار رہی ہے، وہ جمہوریت جو آئین کے ماتحت قرآن و سنت کے تابع ہے، اللہ تعالیٰ کی حاکمیت اعلیٰ ہوگی،پارلیمنٹ کی اکثریت بھی قرآن و سنت کے خلاف فیصلہ نہیں کر سکے گی، لیکن یہاں تو پارلیمنٹ کی بھی حاکمیت نہیں ہے، یہاں تو ملازمین کا تسلط قائم ہے، ہم ایسے نظام کے ساتھ کس طرح چلیں گے؟ ہمیں آگے چلنا ہے،یہ ملک کسی کی جاگیر نہیں ہے،وردی میں عزت نہیں ہے بلکہ عزت اس کردار میں ہے جو ملک کے آئین اور عوام کی فلاح ہو بھبود کے لئے ہو، جب عوام کی بھلائی کے بارے تشکیل کردہ پارلیمان میں عوام کی نمائندگی نہ ہو، جب عوام کی نمائندگی ملازمین کی رحم و کرم پر ہو تو پھر ہمیں بھی فیصلہ کرنا ہوگا،
اس لئے ہم غیر پارلیمانی سیاست کرنے پر سوچ رہے ہیں، مرکزی جنرل کونسل اس کا فیصلہ کرے گی،ہم عوام میں جائیں گے،اور پھر فیصلے ایوان میں نہیں میدان میں ہوں گے۔
نہ حکومت کی کوئی وضاحت ہمیں قبول ہے، نہ عدالت کی وضاحت قبول ہے۔ مولانا
عقیدہ ختم نبوت ہمارے ایمان کا مسئلہ ہے، اور ہم اس عقیدے پر مرمٹنے کیلئے تیار ہیں۔
یہ مقدمہ ہم خود لڑیں گے۔
قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن
#سندھ_بچانےنکلو