ہاتھ میں تسبیح زبان پر ایاک نعبد وایاک نستعین مگر کام توبہ توبہ!
قوم کو ہر وقت دوسروں کی کرپشن کا سبق سنانے والی عمران خان کی کرپشن کی پوری کتاب منظر عام پر،سارہ کچا چٹھا کھل گیا، عمران خان کس طرح ملکی قوانین کی دھجیاں اُڑاتے رہے؟
کیا مولانا فضل الرحمن پنجاب میں وڈیرہ نظام کے خلاف نکل پڑے
قصور میں اس جلسہ میں مولانا صاحب اپنے خطاب کے زیادہ تر حصہ میں وڈیرہ نظام کو کیوں للکارتا رہا
کسی جابر نے اگر آپ کے گریبان میں ہاتھ ڈالا تو وہ ہاتھ توڑ دیں گے
خیبرپختونخوااور بلوچستان کے وڈیرے کی خدائی کو زمیں بوس کرنے کے بعد پنجاب کے وڈیرے کی خدائی کو بھی زمیں بوس کرینگے
مقتدرہ سےکہنا چاہتا ہوں کہ آپ بھی کوئی غیر نہیں ہیں،آپ بھی ہمارے پاکستانی ہیں،آپ بھی ہمارے کلمہ گو بھائی ہیں۔لیکن ملک کے اندر رہنا ہے تو میرے لیے بھی ایک دائرہ ہے، مجھے اپنے دائرے سے باہر نہیں جانا چاہیے۔ پارلیمنٹ کا بھی ایک دائرہ ہے، ہر محکمے کا ایک دائرۂ اختیار ہے، اسی طرح فوج کا بھی ایک دائرۂ اختیار ہے۔ فوج کی بھی ایک ذمہ داری ہے، اپنی ذمہ داری پر نظر رکھو۔
ملک اجڑ رہا ہے۔ خیبر پختونخوا میں آج کوئی حکومت نہیں ہے،مغرب کا سورج غروب ہونے کے بعد، صبح سورج طلوع ہونے تک پولیس اپنے تھانے سے باہر نہیں آتی۔ اور جب پولیس تھانے سے باہر نہیں آئے گی تو پھر سڑکیں مسلح گروہوں کے سپرد ہوں گی، پھر سڑکیں اور راستے ڈاکوؤں کے رحم و کرم پر ہوں گے۔
آپ کی حاکمیت کو میں اپنے صوبے میں جانتا ہوں، تمہاری کوئی حکومت نہیں ہے۔ تم صرف دارالحکومتوں میں اپنے اپنے بڑے بڑے بنگلوں کے اندر بیٹھے ہوئے ہو، ٹانگ پر ٹانگ ڈال کر سمجھتے ہو کہ ہم حکمران ہیں۔ کم از کم میرے صوبے میں تمہاری کوئی حکومت نہیں ہے۔
اور یہ بات سن لو، دل کے کان کھول کر سن لو، یہ حقائق ہیں۔ میں کوئی اسٹیج پر خطابت نہیں دکھا رہا ہوں۔
بلوچستان میں بلوچ علاقوں میں بغاوتیں تھیں، پورا بلوچ علاقہ پاکستان کے اختیار سے نکل چکا تھا۔آج بھی وہاں پر پاکستان حکومت کی کوئی رٹ موجود نہیں ہے۔لیکن ہم تو بلوچ علاقے کو رو رہے تھے،اب تو پشتون علاقہ بھی خون میں نہا رہا ہے۔پشتون علاقے میں ہم نے دو تین دن کے اندر پچاس سے زیادہ لاشیں وصول کی ہیں۔ ہم نے بازاروں میں ایک ہی کام کیا کہ اپنے پیاروں کے لیے کفن خرید سکیں۔ ہم نے صرف ایک ہی کام کیا کہ اپنے پیاروں کے جنازے پڑھ سکیں۔
یہ کیا پاکستان کے عوام کی قسمت میں ہے کہ ہم نے یہاں پر خون دے کر وقت گزارنا ہے؟ نہ میرا بچہ اسکول پڑھنے کے لیے گھر سے باہر نکل سکتا ہے،نہ میرے صوبے کا غریب انسان روزی مزدوری کے لیے گھر سے باہر جا سکتا ہے، اور اگر گھر سے باہر نکلتا ہے تو وہ اپنے آپ کو محفوظ نہیں سمجھتا۔
پھر کہتے ہیں، ہمارے جوان جو شہید ہو رہے ہیں۔ او بابا! تیرے جوانوں نے پٹی اسی لیے باندھی ہے، تنخواہ اسی کے لیے لے رہے ہیں کہ اس نے ملک کی سلامتی کے لیے لڑنا ہے۔ تم اپنے خون کا میرے اوپر کیا احسان ڈالتے ہو؟ تم میرے خون پسینے کے ٹیکس سے اسی بات کے لیے تو تنخواہ لے رہے ہو، لیکن ہمیں کہتے ہو کہ تم لشکر نکالو، تم اسلحہ لے کر مسلح گروہوں کے خلاف لڑو۔
میں نے کوئی تنخواہ نہیں لی، میں کوئی لشکر نہیں بناؤں گا۔ تم چلے جاؤ گے، تم میری سرزمین کو آنے والی نسلوں تک ذاتی دشمنیوں کی طرف دھکیل رہے ہو، ہمیشہ ہمیشہ کے لیے قتل و غارت گری کی طرف دھکیل رہے ہو۔ یہ سیاست کسی اور کو سمجھاؤ، یہ ہمیں مت سمجھایا کرو۔
آپ نے اگر سیاست کرنی ہے تو وردی اتار کر آئیے، الیکشن میں حصہ لیجیے، پتہ چل جائے گا کہ وردی والے کو لوگ کیا ووٹ دیتے ہیں۔ یہ آپ کا اختیار ہے کہ آپ جس کو چاہیں حکومت دیں گے، اور جس سے چاہیں گے حکومت چھین لیں گے۔
امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا قصور پنجاب میں جلسے سے خطاب
Jamiat ulema e Islam @juipakofficial chief Maulana Fazlur Rehman @MoulanaOfficial has urged the govt to resolve problems with #Afghanistan through negotiations and diplomacy. “There may also be disagreements regarding Afghanistan, but every issue can NOT be resolved through the use of force. Many issues can be addressed more effectively through negotiations and diplomacy,” the #JUI chief told a public meeting in Kasur, Punjab, Saturday night. He said #Pakistan faces various internal and external challenges. “There are issues concerning relations with neighbouring countries, trade, and diplomacy. My position is that these problems cannot be solved through confrontation, but through effective diplomacy, dialogue, and mutual respect,” the Maulana said. Talking about the situation in #Baluchistan and #Khyber #Pakhtunkhwa, he said it is not only Balochistan, but also the #Pashtun areas that are drenched in blood. “In just a few days, dozens of lives have been lost. People have had to go to markets to buy shrouds for their loved ones, and they have had to leave their homes to carry the coffins of their relatives,” the JUI chief told thousands. He said serious questions are raised about government authority and control in some areas.
ہم نے اگر بلوچستان کے بڑے بڑے خانوں کو زمین بوس کیا ہے تو پنجاب کے ڈھیروں اور چوہدریوں کو
بھی زمین بوس کرنا جانتے ہیں
قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن
#عوامی_حقوق_کانفرنس_قصور
جب آپ بھارت کے ساتھ محاذ پر تھے، جمعیت علمائے اسلام آپ کے شانہ بشانہ کھڑی تھی۔
جب حرمین شریفین کے دفاع کی بات آئی، جمعیت علمائے اسلام آپ کے شانہ بشانہ کھڑی تھی۔
پھر آخر جمعیت علمائے اسلام کے مینڈیٹ پر ڈاکا کیوں ڈالا گیا؟
#عوامی_حقوق_کانفرنس_قصور
مدارسِ دینیہ ہماری نظریاتی سرحدیں ہیں۔ جو مدارس پر حملہ کرتا ہے، وہ پاکستان کی اسلامی شناخت پر حملہ کرتا ہے۔ جمعیت علماء اسلام ہر محاذ پر اس سازش کا مقابلہ کرے گی، ان شاء اللہ۔
#عوامی_حقوق_کانفرنس_قصور
قائد ملت اسلامیہ مولانا فضل الرحمن صاحب کی سربراہی میں جمعیت علمائے اسلام اب ایک صوبے یا دو صوبوں تک محدود رہنے والی جماعت نہیں بلکہ پاکستان کی سب سے پاپولر جماعت ہے۔ الحمداللہ
@MoulanaOfficial@juipakofficial#عوامی_حقوق_کانفرنس_قصور