میرے گھریلو ملازم کے گاؤں میں ٹرانسفارمر کل جل گیا۔ لیسکو کے ایک پرانے مہربان ceo کو فون کیا کے کسی کو فون کریں اور مہربانی فرمائیں ۔ ملازمین نے ٹرانسفارمر مرمت کردیا اور 80000روپے لیے اور مرمت کردیا۔ گاؤں والوں نے چندہ جمع کرکے لیسکو کے ملازمین کو ادا کردیا۔ رسید کسی نے نہیں دی۔ باقی آپ اندازہ لگا سکتے ھیں ۔ یہ حال ھے کہ ایک سابق بجلی کا وزیر سفارشی ھو اور موجودہ کابینہ کا رکن بھی ھو اسکی سفارش پہ بھی واردات سے گریز نہیں کیا جاتا۔ عام صارف کا کیا حال ھو گا۔ رقم کی باقاعدہ ادائیگی ھوئ ھے ۔ لیسکو رسید سے انکاری ھے
دنیا میں کہیں بھی کوئی حرکت ہوتی تو جناب عمران خان ایک بینک اکاونٹ کھولتے اور پھر تقریر فرما کر بھیک مانگنے نکل پڑتے اور جو کچھ ملتا وہ اشرافیہ میں بانٹ دیتے۔
اب بھی دنیا میں کچھ بھی ہو جائے جناب شہباز شریف تقریر کرتے ہیں اور پٹرول کی قیمت اور ٹیکس بڑھا دیتے ہیں۔ اور ملنے والی خیرات اشرافیہ میں بانٹ دیتے ہیں۔
طریقہ واردات بدلا ہے قوم کی قسمت نہیں بدلی
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے راولپنڈی میں معرکہ حق اسکوائر کا افتتاح کردیا،یہ منصوبہ راولپنڈی سگنل فری کوریڈور کا حصہ ہے،جو محض 8 ماہ کی محدود مدت میں وزیر مواصلات صہیب برتھ نے مکمل کرایا ہے
اگر کراچی والے کھانوں کے معاملے پر اختلاف رائے کو جرم تصور کرتے ہیں لیکن مجھے کراچی کی نسبت لاہور اور گوجرانوالہ کے کھانے پسند ہیں اب جو کرنا ہے کر لو :)
ملک سے باہر بیٹھے ننگ دین ننگ وطن والوں کا پاکستان اور پاکستان کی عوام سے کیا تعلق۔ وہ تو کب سے پاکستان اندر آگ لگانے کی کوشش میں ہیں۔ ان شاءاللہ اس کوشش میں یہ سب ناکام و نامراد ہی ہوں گے۔