صادق آباد میں ایک سیریس مریض کو ڈاکٹر نے کہا٫
"اینوں لاہور لے جاؤ ۔"
ورثا نے ایمبونیس کروائی. ایمبونیس والے نے پوچھا کہاں جانا ہے ؟
ورثا نے کہا , رحیم یار خان
رحیم یار خان پہنچ کر ڈرائیور نے کہا، لیں جی رحیم یار خان آگیا ہے۔
انہوں نے کہا، اسے لودھراں لے چلو۔ ڈرائیور لودھراں پہنچ گیا۔
ورثا نے کہا ، اسے ملتان لے چلو ۔ ڈرائیور ملتان پہنچ گیا
تو ورثا نے کہا خانیوال لے چلو ۔ خانیوال آیا تو ورثا نے کہا
ساہیوال لے چلو۔ ساہیوال پہنچ کر ورثا بولے ، اوکاڑہ لے چلو
اوکاڑہ پہنچ کر بولے، اسے لاہور لے چلو ۔
لاہور پہنچ کر جب وہ اترے تو ڈرائیور نے پوچھا،
"اگر آپ نے لاہور ہی آنا تھا تو مجھے بتا دیتے میں سیدھا لاہور لے آتا."
تو ورثا نے کہا,
"ہم نے تو یہ سوچ کے توڑ توڑ کر سفر کیا کہ اگر مریض رستے میں دم توڑ گیا، تو کرایہ تو بچ جائے گا۔"
اب مریض بھی سخت جان تھا, پاکستانی لوگوں کی طرح ..
جن کے پیٹرول کی قیمت آپ مہینے بعد بڑھائیں
پندرہ دن بعد بڑھائیں
ہفتے بعد بڑھائیں
یا روزانہ
یہ ڈھیٹ مرنے والے نہیں..
اگر اپ غور کریں تو پتہ چلتا ہے کہ حکومت عملی طور پر ختم ہو چکی ہے !
ملک قریب قریب ڈیفالٹ کر چکا ہے۔
پوری دنیا سے بھیک مانگی جا رہی ہے۔
عوام کی زندگی اجیرن کی جا رہی ہے۔ مگر کس لیے ؟
ایسے لگتا ہے کہ نظام کی موت ہو چکی۔ صرف جنازہ کا اعلان باقی ہے۔
یہ اعلان کب ہو گا ؟
🤔
پچھلے ایک ماہ کے دوران میرا واسطہ ابوظہبی میں پاکستان اور افغانستان کے سفارت خانوں سے پڑا۔ میں بلا کسی مبالغہ آرائی کے اپنا تجربہ آپ کے ساتھ شیئر کرتا ہوں۔
پاکستانی سفارت خانے میں اپنے بیٹے کے پاسپورٹ کی تجدید کروانی تھی۔ میں نے دفتر سے چھٹی لی تاکہ سکون سے کام ہو سکے۔ بدھ کا دن تھا۔ وہاں جا کر معلوم ہوا کہ سفارت خانہ دو دن کے لیے بند ہے، کیونکہ پاکستان میں 9 اور 10 محرم کی تعطیل تھی، اس لیے یہاں بھی بند رکھا گیا تھا، حالانکہ پورے متحدہ عرب امارات میں کہیں بھی سرکاری تعطیل نہیں تھی۔یوں میرا دن اور چھٹی ضائع گئی۔
دو دن بعد، جمعہ کی صبح، میں جلدی پہنچ گیا۔ پہلے سے ایک درجن سے زیادہ دستاویزات کی فوٹو کاپیاں ساتھ لے گیا تھا۔ کافی دیر انتظار کے بعد میری باری آئی تو کہا گیا کہ افغانستان کے سفارت خانے سے این او سی لے کر آئیں، کیونکہ بچے کی والدہ کا پاسپورٹ افغان ہے۔ حالانکہ میں نے سمجھانے کی کوشش کی کہ یہ صرف تجدید ہے، پہلی مرتبہ تمام دستاویزات پہلے ہی جمع کروا چکا ہوں، مگر بات نہ بنی۔
میں افغانستان کے سفارت خانے گیا۔ وہاں زیادہ سے زیادہ دس منٹ میں این او سی جاری کر دیا گیا۔ نہ کسی فوٹو کاپی کا مطالبہ کیا گیا، نہ غیر ضروری سوالات کیے گئے۔ صرف پاسپورٹ دیکھا، اپنا ریکارڈ چیک کیا اور این او سی میرے حوالے کر دیا۔
واپس پاکستانی سفارت خانے آیا اور دوبارہ لمبی قطار میں لگ گیا، مگر اتنے میں بارہ بج گئے، جمعہ کا دن تھا اور سفارت خانہ بند ہو گیا۔ یوں ایک بار پھر ناکامی ہوئی۔ وہی بدتمیزی، ہٹو، نکلو، وقت ختم ہو گیا،وہی دھکم پیل۔
اس کے بعد دو دن مزید سفارت خانہ بند رہا، کیونکہ ہفتہ اور اتوار کی تعطیل تھی۔ پیر کے روز میں سب سے پہلے پہنچا تاکہ فیملی لائن میں جلدی لگ جاؤں اور دفتر جانے سے پہلے کام مکمل ہو جائے۔ پاسپورٹ تو جمع ہو گیا، لیکن پھر تصدیق کے نام پر میرے والدین، یعنی بچے کے دادا اور دادی، کے ڈومیسائل اور شناختی کارڈ طلب کیے گئے۔ شناختی کارڈ تو دونوں کے موجود تھے، مگر ڈومیسائل نہیں بنے ہوئے تھے۔
یوں پاکستان میں میرے بڑے بھائی نے کافی تگ و دو کے بعد والدہ کا ڈومیسائل بنوایا۔ والد چونکہ وفات پا چکے تھے، اس لیے پہلے ان کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ بنوانا پڑا۔ اس تمام عمل میں تقریباً پچیس دن لگ گئے۔
پاسپورٹ کی تجدید کے بعد بچوں کے افغانستان کے ویزوں کے لیے اُن کے سفارت خانے گیا کیونکہ بچوں نے چھٹیاں گزارنے جانا تھا۔ خدا کی قسم، جیسے ہی انہوں نے میرے ساتھ فیملی دیکھی، سب اپنی جگہ سے اٹھے، ہمیں اندر ایک بہترین انتظار گاہ میں لے جایا گیا، جہاں بچوں کے لیے چاکلیٹس اور بڑوں کے لیے چائے رکھی ہوئی تھی۔ وہیں ایک اہلکار آیا، پاسپورٹ لے گیا، اور تقریباً تیس منٹ کے اندر ویزے لگا کر واپس کر دیے۔ ایک ویزے کی فیس صرف 39 درہم تھی۔
میں احتیاطاً تمام دستاویزات کی فوٹو کاپیاں بھی ساتھ لے گیا تھا، مگر انہوں نے ایک بھی کاپی نہیں لی۔ صرف اتنا کہا کہ اب تو سب آن لائن ہوجاتا ہے، اس لیے ان سب کی ضرورت نہیں۔
میں سوچ میں پڑ گیا کہ ہماری اپنی ریاست اپنے شہریوں کے ساتھ کیا سلوک کرتی ہے، جن کا پاسپورٹ ہم اٹھائے پھرتے ہیں، اور باقی دنیا کیا کر رہی ہے۔ یہ موازنہ میں بلا کسی مبالغہ آرائی کے ایک ایسے ملک سے کر رہا ہوں جو گزشتہ پچاس برس سے جنگ کی لپیٹ میں ہے۔
پاکستان ابھی تک نوآبادیاتی ورثے (Colonial Legacy) سے باہر نہیں نکل سکا۔ تنقید تو صرف ملٹری اسٹیبلشمنٹ پر ہوتی ہے، اور بجا بھی ہے، لیکن یہ سی ایس ایس کے گدھے، جنہوں نے اس نظام کو بہتر بنانا تھا، بہت سے معاملات میں خود بھی اسی فرسودہ طرزِ فکر کا حصہ بن چکے ہیں او اُن سے بڑھے فرعوں ہیں۔ پولیس، عدالت، جج، وکیل، پٹواری، الغرض ہر طرف وہی انگریزوں سے ورثے میں ملی ہوئی اکڑ، غیر ضروری پیچیدگیاں اور عوام سے فاصلہ نظر آتا ہے۔
۔
۔
نعمت وزیر!
جیت کسے کہتے ہیں؟
ہر دن جب امریکہ آبناۓ ہُرمز کھولنے میں ناکام ہوتا ہے، وہ ایران کی جیت ہوتی ہے، مسلسل پانچ ماہ سے ایران ہر روز جیت رہا ہے۔
ہر امریکی حملے کے بعد ایران کا امریکی اڈوں پر خوفناک حملہ ایران کی جیت ہے۔
اسرائیل کا جنگ سے پیچھے ہٹنا ایران کی جیت ہے۔
پچھلے پانچ ماہ سے ہر روز ٹرمپ کی اپنی عوام میں مقبولیت کم ہو رہی ہے اور ایرانی لیڈرشپ کی اپنی عوام میں مقبولیت بڑھ رہی ہے، یہ بھی ایران کی جیت ہے۔
امریکی تاریخ میں سب سے غیر مقبول جنگ ایران کے خلاف ہے۔ امریکہ کی اکثریتی عوام ایران سے جنگ کے حق میں نہیں ہے۔ یہ بھی ایران کی جیت ہے۔
روس، چین،شمالی کوریا، عراق، یمن، اومان، حزب اللہ کا ایران کا ساتھ دینا بھی ایران کی جیت ہے۔
فیفا ورلڈ کپ میں ناقابل شکست رہنا بھی ایران کی جیت ہے۔
عالمی عزت و احترام حاصل کرنا بھی ایران کی جیت ہے۔
امریکہ کا عالمی ذلت سے دوچار ہونا بھی ایران کی جیت ہے۔
درجن یورپی ممالک کا حال ہی میں فلسطین کو تسلیم کرنا بھی ایران کی جیت ہے۔
ٹرمپ کا سپین اور اٹلی سے ذلیل ہونا بھی ایران کی جیت ہے۔
پہلی دفعہ نیٹو کا امریکی جنگ میں شامل ہونے سے انکار بھی ایران کی جیت ہے۔
پہلی دفعہ امریکی جنگ میں امریکی زمینی فوج کا شامل نا ہونا بھی ایران کی جیت ہے۔
اصفہان پر امریکی تاریخ کا ناکام ترین کمانڈو حملہ بھی ایران کی جیت ہے۔
ابراہام معاہدہ تاریخ کے کچرے میں چلا گیا، یہ بھی ایران کی جیت ہے۔
انسانی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ بھی ایران کی جیت ہے۔
ایرانی لیڈرشپ کی شہادت بھی ایران کی جیت ہے۔
کہاں تک سُنو گے، کہاں تک سُناؤں
ایک پاکستانی (یو-کے)میں ایک وکیل کے پاس گیا اور بولا
بھائی، اسائلم لینے کا کوئی مضبوط طریقہ بتاؤ!
وکیل نے کہا:
تمہارے پاس چار آپشن ہیں
1. مرتد بن جاؤ
2. مرزائی بن جاؤ
3. عیسائی بن جاؤ
4. یا پھر ٹرانزجینڈر بن جاؤ ۔
پاکستانی نے فوراً جواب دیا:
"ختمِ نبوت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا... چوتھا آپشن ہی ٹھیک ہے!
تقریر واقعی متاثر کن تھی، سننے والا دیر تک اس کے اثر سے نہیں نکل پاتا
ہندوستانی طلباء کی یہ تحریک وہاں کے عوام کے لیے ایک ممکنہ تبدیلی کی علامت بن چکی ہے
اصل بحران یہ ہے کہ بھارت سیکولر ریاست کے تصور سے ہٹ کر انتہا پسندی کو سیاسی ہتھیار بنا چکا ہے اس احساس کے بغیر کہ اس کی قیمت بالآخر خود ریاست کو چکانا پڑے گی یہ احتجاج فوری تبدیلی نہیں لائے گا مگر اس سفر کی ایک کڑی ضرور ہے جس کا ایک اہم موڑ شاہین باغ تھا
اکثر دوست اسے پاکستان کے حالات سے جوڑ کر طنز کرتے ہیں گویا یہاں سب ٹھیک ہے
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کا مسئلہ چہروں کا نہیں ہے کیونکہ یہاں تو حکومتیں وقتاً فوقتاً بدلتی رہتی ہیں کبھی ووٹ سے کبھی کسی اور طریقے سے اصل خرابی ان کے پیچھے موجود ان ہاتھوں کی ہے جو یہ چہرے منتخب اور تبدیل کرتے ہیں
سامنے کوئی بھی ہو، فیصلہ کہیں اور ہوتا ہے
مودی حکومت نے عدلیہ کو (ہماری طرح )ساتھ ملا کر انتخابی نظام پر اثر ڈالا بابری مسجد شہریت کا قانون یا پھرکشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ ہو یہ سب قانونی راستے سے کیے گئے
پاکستان کا مسئلہ مختلف ہے یہاں معاملہ قانون سازی کا نہیں ماورائے عدالت اقدامات کا ہے
اور موجودہ سیٹ اپ بھی اسی پرانی روش کا تسلسل ہے جہاں فیصلے پردے کے پیچھے سے ہوتے ہیں اور سامنے صرف نتائج آتے ہیں
مشرف دور سے پہلے یہ کلچر نہیں تھا نائن الیون کے بعد جو روایت پڑی اس نے یہ سکھایا کہ ماورائے عدالت جو چاہو کر گزرو اور عدالتی ریلیف کو بھی بےاثر بنا دو سیاست دان اور سیاسی کارکنان اپنے اپنے دور میں کہتے رہے ہیں “کچھ تو کیا ہو گا۔” اور جب وقت گزرتا ہے تو وہی جملہ ان کے گلے پڑ جاتا ہے
بہرحال، تقریر ضرور سنیں
اس لڑکی بات سننے کے لائق ہے
#AfaqWrites
مجھے یاد ہے جب لال مسجد کا آپریشن ہوا تھا
میں ایک دکان پر گئی تھی
پٹھان بھائی کی دکان تھی
وہ کہنے لگا باجی آج ہم دھندہ نہیں کرے گا
دل اداس ہے
میں نے پوچھا کیوں؟؟
کہنے لگا خبریں نہیں سنتا تم
لال مسجد میں بڑا ظلم ہوا ہے
میں نے کہا اچھا ہوا ناں آپریشن ہوا
وہاں دہشت گرد تھے
کہنے لگا - - - -
چلیں جو کہا اسے اک شعر میں بیان کرتی ہوں
میں آج زد پہ اگر ہوں تو خوش گمان نہ ہو
چراغ سب کے بجھیں گے ہوا کسی کی نہیں
اور ہم - - -
ہوا سے عشق کرتے تھے 💔💔💔
#موناسکندر
سب سے خوبصورت باتیں
ماں نے اپنی بہو سے مسکراتے ہوئے کہا، شادی کے بعد کے پہلے مہینے کے اختتام پر: "تم نے میرے بیٹے کو مسجد میں نماز پڑھنے کا پابند بنا دیا۔ تم نے تیس دنوں میں وہ کامیابی حاصل کی جس میں میں تیس سالوں میں ناکام رہی،" اور اس کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں۔
بہو نے جواب دیا: "کیا آپ کو پتہ ہے، اے ماں، پتھر اور خزانے کی کہانی؟"
کہا جاتا ہے کہ ایک بڑا پتھر لوگوں کے راستے میں رکاوٹ تھا۔ ایک آدمی نے اسے توڑنے اور ہٹانے کی کوشش کی۔ اس آدمی نے پتھر پر 99 بار کلہاڑی ماری اور پھر تھک گیا۔ پھر ایک اور آدمی وہاں سے گزرا اور اس سے مدد کرنے کے لئے کہا۔ اس آدمی نے کلہاڑی لی اور ایک ہی وار میں پتھر کو توڑ دیا۔
حیرت کی بات یہ تھی کہ پتھر کے نیچے سونے سے بھری ہوئی ایک تھیلی تھی۔ اس آدمی نے کہا: "یہ میرا ہے، میں نے پتھر توڑا۔" دونوں آدمی جھگڑ کر منصف کے پاس گئے۔
پہلا آدمی بولا: "مجھے خزانے کا کچھ حصہ دو، میں نے 99 بار پتھر پر مارا اور پھر تھک گیا۔"
دوسرا آدمی بولا: "خزانہ میرا ہے، میں نے پتھر توڑا۔"
منصف نے کہا: "پہلے آدمی کو خزانے کے 99 حصے ملیں گے اور جس نے پتھر توڑا اسے ایک حصہ۔"
منصف نے کہا: "اگر پہلے آدمی کی 99 ضربیں نہ ہوتیں تو پتھر سوویں ضرب میں نہ ٹوٹتا۔"
تیس سالوں تک ماں اپنے بیٹے کو نماز کی تلقین کرتی رہی، بغیر کسی مایوسی کے۔ پھر وہ خوش ہوئی کہ اس کا بیٹا بہو کے اثر سے نماز پڑھنے لگا، حالانکہ اس نے تیس سال تک ماں کی نافرمانی کی تھی۔ بہو کا خوبصورت رویہ اور عظیم اخلاق دیکھیں جب اس نے یہ کریڈٹ خود کو نہیں دیا بلکہ ماں کو مکمل یقین دلایا کہ اس کی محنت ضائع نہیں ہوئی اور وہی تھی جس نے بنیاد رکھی اور ایک ایک اینٹ رکھ کر عمارت بنائی، آخری اینٹ بہو نے لگائی۔
اصل اخلاق صرف ایک اصلی شخص سے ہی آتے ہیں۔
اگر آپ نے پڑھ لیا ہے، تو پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجیں۔
#قومی_زبان
عشق نہ پچھے ویلا ٹیم،عشق تے منگے ویڈیو کال
جمے ہوئے لوگو! صبح صبح جم (gym ) جایا کرو بڑے مزے کے واقعات ہوتے ہیں۔ایک جوان لڑکا جو حلیہ سے لاہور مزدوری کرنے آیا لاگے تھا۔موٹر سائیکل پہ اپنی پریمیکا سے وڈیو کال پہ بات کرتا ہوا جا رہا تھا۔عشق مکمل توجہ مانگتا ہے۔ جناب اسی چکر میں اگلی موٹر سائیکل سے ٹکرا گئے۔اور ڈگ گئے۔
میں نے رک کے حضرت عاشق پاک کو کھڑا کیا اور ایک دوسرے صاحب نے گرا ہوا موبائل اٹھایا۔کال چالو تھی۔
چائنہ کا موبائل تھا۔پاٹے ہوئے سپیکر والا۔لڑکی نے نسبتاً گڈ لوکنگ بندے کو ویڈیو پہ دیکھا تو اس کا فوراً اردو والا بٹن آن ہو گیا۔گھبرا کے بولی" بھائی آپ کون ہیں" بھائی صاحب جو کسی بینک میں کام کرتے تھے بولے" بہن آپ کے " وہ"گر گئے ہیں پانچ منٹ بعد کال کرتے ہیں" باجی نے حال چال پوچھے بغیر کہا "اچھا "
خیر میں نے لڑکے کو اٹھایا، اسے کچھ نہ سمجھایا، عشق والوں کو سمجھا کے ان کا مزہ خراب نہیں کرنا چاہیے۔بلکہ ان سے سیکھنا چاہیے۔
🌸 نیکی کبھی ضائع نہیں جاتی 🌸
شام میں پیش آنے والا ایک دل کو چھو لینے والا سچا واقعہ…
ایک درزی کے کارخانے کے مالک نے اپنی زندگی کا ایک حیران کن قصہ بیان کیا۔
وہ کہتے ہیں:
میری ایک ہمسائی تھی جس کا شوہر وفات پا چکا تھا۔ اس کے پیچھے تین یتیم بچے رہ گئے تھے۔ ایک دن وہ میرے کارخانے میں آئی۔ اس کی آنکھوں میں بے بسی تھی مگر لہجے میں خودداری۔
اس نے کہا:
“بھائی! میرے پاس ایک سلائی مشین ہے جس پر میرے شوہر کام کیا کرتے تھے۔ ہم اس پر کام کرنا نہیں جانتے۔ میں چاہتی ہوں کہ بچوں کی کفالت عزت کے ساتھ کر سکوں۔ کیا آپ یہ مشین اپنے کارخانے میں کرائے پر رکھ سکتے ہیں تاکہ مجھے کچھ آمدنی ہو جائے؟”
میں اس کی بات سن کر خاموش ہو گیا…
دل بھر آیا۔
میں نے کہا:
“بہن، ضرور… آپ مشین لے آئیں۔”
جب وہ مشین میرے پاس آئی تو میں نے دیکھا کہ وہ بہت پرانی تھی اور عملی طور پر کسی کام کی نہیں تھی۔
لیکن میں اس عورت کا دل نہیں توڑنا چاہتا تھا۔
میں نے پوچھا:
“آپ اس کا ماہانہ کرایہ کتنا چاہتی ہیں؟”
اس نے جواب دیا:
“تین ہزار لیرہ…”
یہ جنگ سے تقریباً بیس سال پہلے کی بات تھی۔
میں نے ہر ماہ اسے تین ہزار لیرہ دینا شروع کر دیے اور مشین کارخانے کے ایک کونے میں رکھ دی…
جہاں وہ بس پڑی رہتی تھی۔
یوں دس سال گزر گئے۔
ہر مہینے ام جمیل آتی، کرایہ لیتی اور چلی جاتی…
اور مشین خاموشی سے ایک کونے میں پڑی رہتی۔
پھر ہم نے پرانا کارخانہ چھوڑ کر شہر کے کنارے ایک نئے کارخانے میں منتقل ہونے کا فیصلہ کیا۔
سامان منتقل کرتے وقت میں نے کہا:
“ام جمیل کی مشین بھی ساتھ لے جانا۔”
منیجر نے حیران ہو کر کہا:
“سر! یہ بیکار مشین کیوں لے جا رہے ہیں؟”
میں نے صرف اتنا کہا:
“یہ تمہارا کام نہیں… بس اسے لے جاؤ۔”
وقت گزرتا گیا…
پھر جنگ شروع ہو گئی۔
اور خدا کی قسم…
اس علاقے میں تقریباً سب کچھ تباہ ہو گیا۔
گھر، دکانیں، کارخانے…
مگر حیرت انگیز طور پر میرا کارخانہ محفوظ رہا۔
جنگ کے بعد ام جمیل سے رابطہ بھی منقطع ہو گیا۔ ہم نے بہت کوشش کی مگر اس کا کچھ پتہ نہ چلا۔
کچھ عرصے بعد میری منیجر، جو یورپ جا چکی تھی، اس نے فون کیا اور کہا:
“میں نے ایک عجیب خواب دیکھا ہے…”
میں نے پوچھا:
“کیا؟”
وہ بولی:
“میں نے خواب میں ایک آواز سنی جو کہہ رہی تھی:
فلاں شخص سے کہو… ام جمیل کی مشین کی برکت سے ہم نے تمہارے کارخانے کی حفاظت کی۔”
یہ سن کر میرا جسم کانپ اٹھا…
آنکھوں سے آنسو بہنے لگے…
اور زبان سے صرف ایک لفظ نکلا:
الحمدللہ۔
خدا کی قسم!
میرے کارخانے سے ایک سوئی تک غائب نہیں ہوئی تھی۔
🌿 کیا خوب سبق ہے…
کبھی کبھی ہم کسی کے لیے معمولی سی آسانی پیدا کرتے ہیں…
مگر اللہ کے ہاں وہ عمل بہت بڑا بن جاتا ہے۔
یاد رکھیے:
🤍 نیکی کبھی ضائع نہیں جاتی
🤍 کسی کا دل نہ توڑنا بھی عبادت ہے
🤍 خالص نیت سے کیا گیا ہر عمل اللہ کے ہاں محفوظ رہتا ہے
🤍 جو دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرتا ہے، اللہ اس کے لیے مشکل وقت میں آسانیاں پیدا فرماتا ہے
یاد رکھیں…
اگر آپ کسی کی مدد کر سکتے ہیں تو حساب کتاب میں نہ پڑیں…
کیونکہ اصل حساب کہیں اور ہو رہا ہوتا ہے۔
کلیم میاں کی شادی کو دو سال ہوچکے تھے لیکن آج تک اپنی بیوی کی کوئی فرمائش خوش اسلوبی سے پوری نہیں کرپائے. شادی کے دو ہفتے بعد ان کی
بیوی نے گلاب جامن کھانے کی فرمائش کی تو کلیم میاں آفس سے گھر آتے ہوئے آدھا کلو گلاب جامن خوشی خوشی جیسے ہی گھر داخل ہوئے.
نیچے اماں نے آواز دی. کلیم میاں یہ شاپر میں کیا لیجارہے ہو؟.. اب بیچارے کلیم میاں بےبس ہوگئے. ایک پاؤ گلاب جامن وہیں اللہ کو پیاری ہوگئیں.
خیر باقی کی ایک پاؤ جیسے ہی فرسٹ فلور پر چڑھے بڑے بھائی کی بیٹی نے روک لیا. چاچو مجھے بھی دو نا گلاب جامن؛..
یہ کہہ کر اس نے تھیلی کھول کر
دو گلاب جامن اپنے معدے میں اتارلیں. سکینڈ فلور پر چھوٹی بھابھی کو خوشبو آگئی اور تھیلی خالی ہوگئی. تھرڈ فلور پر جب اپنے کمرے میں
خالی ہاتھ داخل ہوئے تو ان کی نئی نویلی دلہن نے خفا ہوکر منہ پھیر لیا. کلیم میاں نے پورے دو گھنٹے گانے گاکر اسے منایا تب جاکر وہ اس شرط پر مانی کہ
اگلے دن کلیم میاں اس کے لیے فریسکو کے مشہور دہی بھلے لیکر آئیں گے. کلیم میاں کھلے عام گلاب جامن لانے کا انجام دیکھ چکے تھے تو اگلے دن کلیم میاں
دہی بھلے اپنے ہینڈ بیگ میں چھپاکر گھر داخل ہوئے. نیچے اماں ابا سے تو بچ گئے لیکن سکینڈ فلور پر پھنس گئے. بڑی بھابھی جو اپنے شوہر سے ہر دوسرے روز
فریسکو کے دہی بھلے منگواکر کھایا کرتی تھیں انہیں خوشبو آگئی. ہائے میرا پیارا دیور کتنا اچھا ہے جو میرا خیال رکھتا ہے میرے لیے دہی بھلے لایا ہے؛؛..
یہ کہہ کر انہوں نے بیگ میں چھپے دہی بھلے برآمد کرلیے. اب کلیم میاں منع کرکے اچھے سے برے تو بن نہیں سکتے تھے تو خاموشی سے سر جھکائے
تھرڈ فلور پر خالی ہاتھ آگئے. ان کی آج کی کارگزاری سن کر بیوی نے کمرہ غصے سے بند کیا اور ناراض ہوکر سوگئی اور کلیم میاں بھوکے دوسرے کمرے میں سوگئے.
اسی طرح کلیم میاں اپنے مشن میں ناکام ہوتے رہے اور بھوکے سوتے رہے. چھ ماہ کے ناکام تجربے کے بعد وہ اپنی بیوی کے لیے جو بھی لاتے چار جگہ لاتے.
ایک اپنی اماں دوسرا منجھلی بھابھی. تیسرا بڑی بھابھی. چوتھا اور آخری اپنی بیگم کو دیتے. اب بیگم تو خوشی سے بھاری ہوجاتی لیکن جیب ہلکی ہوجاتی.
مہینے کے آخری دنوں میں جب بجٹ آؤٹ ہوا تو ان کی بیوی نے حساب مانگ لیا اور جب سچائی سے حساب دیا تو ان کی بیگم کا پارہ چڑھ گیا.
جس کے
نتیجے میں کلیم میاں کو بخار چڑھ گیا. اسی طرح دو سال گزرگئے اور ایک بچے کے باپ بھی بن گئے لیکن کبھی اپنے مشن کو کامیابی سے پورا نہیں کرسکے.
دو دن قبل ان کی بیوی نے دلپسند کی اخروٹ والے حبشی حلوے کی فرمائش کی اور ساتھ الٹی میٹم بھی دیا کہ. اگر آدھا کلو حبشی حلوہ مجھ تک
صحیح سلامت نہیں پہنچا تو تم اپنا بوریا بسترا اپنے بھائیوں کے گھر میں ہی ڈال لینا اور خبردار جو کسی اور کے لیے لائے؛.. کلیم میاں یہ الٹی میٹم
سن کر پسینے پسینے ہوگئے. اور مشن انپاسبل کو پاسبل بنانے کی ترکیب سوچنے لگے. دماغ کی چولیں جب ہل گئیں تو مجبور ہوکر اپنے ابا کی خدمت میں
حاضری دی. اور سارا ماجرا بتاکر ہاتھ جوڑ کر کہنے لگے. ابا اب آپ ہی کوئی ترکیب بتائیے کہ مجھے اپنا بوریا بسترا سمیٹنا نہ پڑے؛؛.. ابا نے انہیں ترکیب بتادی.
کل کلیم میاں نے دلپسند کا آدھا کلو حلوہ لیا اور اسے اپنے ٹفن میں رکھ کر اسے کپڑے میں لپیٹ کر اسے دوسرے کپڑے میں رکھ کر اس کی پوٹلی بنادی.
گھر داخل ہونے سے پہلے دروازے کے باہر کھڑے ہوکر تھرڈ فلور کی بالکونی کا نشانہ لیا اور پوٹلی پوری قوت سے اپنی بالکونی میں اچھال دی.
کلیم میاں مشن کامیاب ہوتے دیکھ کر خوشی خوشی گھر داخل ہوئے. اماں کی خدمت میں حاضری دی. فرسٹ فلور پر منتظر بڑی بھابھی کو بیگ کھول کر دکھایا.
سکینڈ فلور پر چھوٹی بھابھی کو تلاشی دی. تھرڈ فلور پر ابا دھلے ہوئے کپڑوں کا ڈھیر اٹھائے چھت سے آتے مل گئے. ابا نے اشارے سے پوچھا تو کلیم میاں نے
انگوٹھا کھڑا کرکے مشن سکسیس فل کا اشارہ کیا اور گھر داخل ہوتے ہی بالکونی میں گئے. لیکن بالکونی میں پوٹلی نہیں تھی. بیگم سے پوچھا تو بتایا کہ
ابا ابھی پانچ منٹ پہلے ہی وہ کپڑے کی پوٹلی لیکر گئے ہیں. کلیم میاں دوڑے دوڑے نیچے گئے اور دیکھ کر آنکھوں کے ڈیلے باہر نکل آئے.
ابا بڑے پیار سے اماں کو حبشی حلوہ کھلارہے تھے-
کمال ھے 😍
چاروں خلفائے راشدین
رضی اللّٰہ عنہم کے نام
"ع" سے شروع ہوتے ہیں!
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ
اصل نام: عبداللہ بن عثمان بن عامر
کنیت: ابوبکر
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ
اصل نام: عمر بن خطاب
کنیت: ابوحفص
حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ
اصل نام: عثمان بن عفان بن ابی العاص
کنیت: ابوعبداللہ
حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ
اصل نام: علی بن ابی طالب بن عبدالمطلب
کنیت: ابوالحسن
اس طرح سب خلفاء راشدین کے نام عین سے شروع ہوتے ہیں 🥰