# سانس بند کرنے والے دیسی مہینے بھادوں کا آغاز 16 اگست سے ہو گا۔
حبس والی گرمی 15 ستمبر تک جاری رہے گی۔۔
*بھادوں کی حیرت انگیز معلومات*
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
16 اگست سے شروع ہونے والا پنجابی مہینہ بھادوں اور اُسکی دلچسپ روایات
بھادوں پنجابی اور نانک شاہی کیلنڈر کا چھٹا مہینا ہے جو ساؤن کے بعد آتا ہے اور آٹھویں انگریزی مہینے اگست کی 16 تاریخ سے ستمبر کی 15 تاریخ تک رہتا ہے اور اس مہینے کے 31 دن شمار کیے جاتے ہیں۔
بھارتی اور پاکستانی پنجاب میں ساؤن اور بھادوں بارشوں کے مہینے ہیں جس میں مُون سُون کی بارشیں ہاڑ یعنی جون اور جولائی کی شدید گرمی کے بعد گرمی کا زور توڑ دیتی ہیں اسی لیے بھادوں کو پنجاب میں اچھے موسم والا مہینہ جسکی گرمی برداشت کے قابل ہوتی ہے تصور کیا جاتا ہے۔
"بھادوں بارش کا مہینہ انتہائی خوبصورت مہینہ ہے اور ساؤن اور بھادوں رحمت والے مہینے ہیں جس میں بادل نیچے اُترتا ہے اور تیز بارش برساتا ہے جس سے پانی اور زمین شہد سے بھر جاتے ہیں اورخالق زمین پر گھومتا ہے”۔
روایات میں ہے کہ پنجابی کے 12 مہینوں کے نام گیاراں بھائیوں (ویساکھ، جیٹھ، ہاڑ، ساون، اسو، کتک، مگھر، پوہ، ماگھ، پھگن، جیت اور 1 بہن (بھادوں) کے نام پر رکھے گئے یعنی سال کے سارے مہینوں میں بھادوں گیاراں بھائیوں کی اکلوتی اور انتہائی لاڈلی بہن ہے۔
مزید روایات میں ہے کہ بھادوں جہاں انتہائی لاڈی اور میٹھی ہے وہاں منہ زور، نکی چڑی، تیکھی اور چُبھنے والی بھی ہے اسی لیے اس مہینے کی گرمی اگر تیز ہوجائے تو انسان پسینے سے شرابور ہوجاتا ہے، اس مہینے میں ہوا اگر چلتی ہو تو انتہائی سہانہ موسم ہوتا ہے اور ہوا اگر بند ہو جائے تو سانس بھی بند ہو جاتی ہے۔
کہتے ہیں بھادوں اگر برسے تو زمین پر رہنے والی مخلوق چرند، برند، حشرات سبھی اپنے گھروں سے باہر نکلتے ہیں اور اس دلفریب موسم کے مزے لُوٹتے ہیں اور بھادوں اگر خُشک ہو جائے تو یہ ہر چیز کو خشک کرکے رکھ دیتی ہے اس لیے اس موسم میں رب کائنات سے رحمت کی دُعائیں مانگنی چاہیے تاکہ اس موسم کی سختی سے بچا جا سکے۔
بھادوں کے متعلق کہا جاتا ہے کہ یہ جیٹھ اور ہاڑ کی شدید گرمی کو ختم کرنے کے بعد جب خُود ختم ہوتی ہے تو اپنے وجود کو کھونے کے ساتھ یہ زمین پر بہار کو جنم دیتی ہے اور موسم کو زمین والوں کے لیے انتہائی خوشگوار بنا دیتی ہے۔
#CopiedandReposted
پاک آئی ڈی میں بڑا اپ ڈیٹ، اب شکایت بھی درج کریں اور ٹریک بھی کریں!
پاک آئی ڈی ایپ کے نئے ورژن 5.7.0 میں سائبر کرائم کی شکایت درج کرانے اور اس کی پیشرفت ٹریک کرنے کی سہولت شامل کر دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ اکاؤنٹ اور OTPسے متعلق اہم مسائل بھی حل کر دیے گئے ہیں۔
کیا آپ کو معلوم ہے کہ ادویات کے پیکٹ پر لکھے
چھوٹے سے الفاظ (DT, MD, SR) آپ کی صحت اور زندگی کے لیے کتنے اہم ہیں؟
ادویات کا غلط استعمال نہ صرف دوا کے اثر کو ختم کر دیتا ہے بلکہ جسم کے لیے انتہائی نقصان دہ بھی ہو سکتا ہے۔
مختلف گولیوں کو کھانے کے صحیح طریقے:
DT (Dispersible Tablet): اسے ہمیشہ پانی میں گھول کر پیئیں۔
MD (Mouth Dissolving): اسے پانی کے بغیر زبان پر رکھیں، یہ خود بخود گھول جائے گی۔
SR / ER / CR / MR (Sustained / Extended Release): انہیں بغیر توڑے یا چبائے پانی کے ساتھ نگلیں۔ انہیں توڑ کر کھانا زہر کا اثر پیدا کر سکتا ہے!
اپنی صحت کا خیال رکھیں اور کوئی بھی دوا استعمال کرنے سے پہلے اپنے ڈاکٹر یا فارماسسٹ سے مشورہ ضرور کریں۔
یہ مفید معلومات اپنے پیاروں کے ساتھ ضرور شیئر کریں!
(Source):
Medical Pharmacology Guidelines & World Health Organization (WHO) Rational Medicine Use
بارش کے دنوں میں قبرستان کا چکر لگاتے رہا کریں
وہاں وہ انمول لوگ دفن ہیں جو ذرا سی بجلی چمکنے پرتمہیں اپنے سینے سے لگا لیا کرتے تھے۔
وہاں وہ لوگ دفن ہیں جو تمہارے بستر گیلا کردینے پر خود گیلی جگہ پر لیٹ جاتے مگر تمہیں خشک اور صاف جگہ پر سُلایا کرتے تھے
اکثر گاؤں ایسے ہیں جہاں بارش کے بعد قبرستان میں پانی جمع ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے ایک قبروں میں سراخ ہو کے پانی اندر چلا جاتا ہے تو جب بھی بارش ہو اس کے بعد لازمی چکر لگائیں۔
اللہ پاک ہمیں فکر اخرت کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین
پوسٹ کو شئیر بھی کریں تاکہ زیادہ لوگوں تک پیغام پہنچ سکے۔ جزاک اللہ
"ایک ہی گھونٹ میں 80 ہزار لیٹر پانی غائب!🐋 سمندر کے اس سب سے بڑے جاندار کا طریقہِ خوراک آپ کے ہوش اڑا دے گا۔ یہ دیو ہیکل وہیل مچھلی پانی کے ساتھ ہزاروں مچھلیاں اپنے منہ میں لیتی ہے اور پھر ایک خاص فلٹر کے ذریعے پانی باہر نکال دیتی ہے۔ قدرت کی حیرت انگیز انجینئرنگ😱🌊
گلگت بلتستان کے خوبصورت دیوسائی نیشنل پارک میں نایاب بھورے ریچھ کی دلکش ویڈیو ملاحظہ کیجیے۔
قدرت کے اس حسین منظر کو ضرور دیکھیں اور محفوظ کر لیجیے۔ ❤️🐻🌿
2 medals on the line for Pakistan tomorrow at Commonwealth Games 🚨
Fatima Zahra will fight for a place in the Gold Medal match at 11:30pm (PKT) in women's boxing 60kg category.
Meanwhile, Arshad Nadeem will feature in Javelin Throw Final at 12:15 am (Saturday).
صبح اٹھتے ہی منہ میں کڑواہٹ، سینے میں جلن، پیشاب میں جلن یا سر میں بھاری پن… یہ سب اکثر جوانوں کا روزمرہ بن چکا ہے۔
جگر، معدہ اور مثانے کی گرمی آج کل بہت عام ہو گئی ہے، اور اس کے ساتھ بلڈ پریشر اور کولیسٹرول بھی بڑھا دیتی ہے۔
ایک بہت سادہ سا گھریلو طریقہ ہے جو بغیر کسی مشکل کے کام کرتا ہے۔
گوند کتیرا، تخم بالنگو اور بہی دانہ — ہر ایک ایک تولہ لے کر رات کو سادہ پانی میں بھگو دیں۔ صبح اچھی طرح ہلا کر چھان لیں اور وہ پانی پی جائیں۔
یہ پانی جسم کی اندرونی گرمی کو آہستہ آہستہ کم کرتا ہے، ہاضمے کو ہلکا رکھتا ہے اور بلڈ پریشر و کولیسٹرول کو قابو میں لانے میں مدد دیتا ہے۔
سب سے بڑی بات یہ کہ چیزیں ہر جگہ دستیاب ہیں اور بنانا بھی بالکل آسان ہے۔
صرف خالص ادویات استعمال کریں۔
کيا آپ جانتے ہیں کہ کوئل سے دھوکہ کھانے کے بعد کوے وہ علاقہ چھوڑ دیتے ہیں؟
کیا آپ جانتے ہیں کہ نظام فطرت میں کوے کی آبادی کو قابو رکھنے کا میکنزم کیسے کام کرتا ہے؟ اور یہ کہ کوا میاں بیوی کیسے کوئل میاں بیوی سے دھوکہ کھا جاتے ہیں؟
مزید کہ کوئل کوے کو کچھ خاص پسند نہیں کرتی پر سارا سال اس کا پیچھا کرتی رہتی ہے؟
پر اس سے پہلے کوئل کا ذرا سا تعارف پڑھیے۔
کوئل ایک اومنی وور پرندہ ہے جو کہ مختلف کیڑے مکوڑے اور جنگلی فروٹس کھاتا ہے۔ سال کے نو مہینے خاموش رہنے والا یہ پرندہ اپریل کے آغاز سے اپنی مسحور کن آواز سے اپنی موجودگی کا احساس دلانا شروع کر دیتا پے جو کہ اصل میں نر پرندے کی طرف سے 'میٹنگ کال' ہوتی ہے۔ خوبصورت آواز والے پرندے کوئل کا شمار ہمارے مقامی پرندوں میں ہوتا ہے۔ کوئل کی سحر انگیز آواز سے سبھی متاثر ہیں اور ہم میں سے کافی لوگ یہ بھی جانتے ہیں کہ یہ پرندہ اپنے انڈے کوے کے گونسلے میں رکھتا ہے، پر کیسے آئیے آج اپ کو بتاتے ہیں کہ کس طرح سے یہ ذھین پرندہ کوے جیسے چالاک پرندے کو مات دے کر اپنے انڈے اس کے گھونسلے میں رکھتا ہے۔
آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ کوئل کوے کو خاص پسند نہیں کرتی لیکن باوجود اس کے کوئل کسی بھی کوے کو موجودہ سال کا ٹارگٹ سلیکٹ کرتی ہے اور سارا سال اس کوے کا پیچھا کرتی ہے اور جیسے ہی کوا گھونسلہ بنانا شروع کرتا ہے تو کوئل اندازہ لگا لیتی ہے کہ انڈے دینے کا وقت آن پہنچا ہے۔ مزید خوشگوار حیرت کی بات یہ ہے کہ انڈے کب اور کس ٹائم دینے ہیں، کوئل اس عمل پر مکمل قابو رکھتی ہے یعنی تیار انڈے پیٹ میں موجود ہیں، کب ڈلیور کرنے ہیں اس بات کا فیصلہ اچانک ہوتا ہے۔ نر کوئل کوے کے جوڑے پر مسلسل نظر رکھتا ہے،جوں ہی مادہ کوا انڈے دیتی ہے نر کوئل اس کی اطلاع مادہ کوئل کو دیتا ہے۔ نر کوئل حکمت عملی کے طور پر گونسلے کے مالکان سے الجھتا ہے، گھونسلے اور انڈوں کےدفاع میں نرکوا نر کوئل کو بھگانے لگتا ہے اور وہیں پر مادہ کوا ایک سنگین غلطی کرتی ہے اور اپنے نر کے ساتھ کوے کے خلاف لڑائی میں شامل ہو جاتی ہے۔ مادہ کوئل جو کہ قریب ہی چھپی ہوئی ہوتی ہے،کوے کے گھونسلے میں آکہ اس کے انڈے گرا کر یا انہی کے ساتھ اپنے انڈے ڈلیور کردیتی ہے۔ نر کوئل مشن کی تکمیل پر علائقہ چھوڑ دیتا ہے۔ جب انڈوں سےبچے پیدا ہوتے ہیں تب بھی کوے کو پتہ نہیں چلتا،پر بعد میں جب کوئل کے بچے بڑے ہونے لگتے ہیں تو ان کو دھوکے کا احساس ہوتا ہے، پر بہت دیر ہوچکی ہوتی ہے۔ماہرین کے مطابق دھوکے کا شکار ہونے والے کوے وہ علائقہ ہی چھوڑ دیتے ہیں۔
کوا عام طور پر چلاک سمجھا جاتا ہے اور ایسا سائنسی طور پر ہے بھی لیکن کوئل کی حکمت عملی کوے کو مات دے دیتی ہے۔
نظام فطرت کے قوانین میں حکمت ہوتی ہے۔
#SindhWildife🇵🇰
4 سال بعد معلوم ہوا بچہ اپنا نہیں!
7 ستمبر 2003 کی صبح سعودی شہر نجران کے کنگ خالد جنرل اسپتال میں دو بچوں کی پیدائش ہوئی۔ ایک نومولود کا تعلق سعودی شہری محمد المنجم کے خاندان سے تھا، جبکہ دوسرا بچہ ترکی سے تعلق رکھنے والے یوسف جاوید کے گھر پیدا ہوا۔ کسی کو اندازہ بھی نہ تھا کہ ایک معمولی سی انسانی غلطی دو خاندانوں کی زندگیوں کا رخ ہمیشہ کے لیے بدل دے گی۔
اسپتال میں پیدائش کے بعد دونوں نومولود بچے غلطی سے آپس میں تبدیل ہو گئے۔ سعودی خاندان اپنے حقیقی بچے کی جگہ ترک نومولود کو لے گیا، جبکہ ترک خاندان سعودی بچے کو اپنا بیٹا سمجھ کر ترکی واپس چلا گیا۔
دن گزرتے گئے، مہینے اور پھر سال بیت گئے۔
4 برس تک محمد المنجم جس بچے کو اپنا خون سمجھ کر سینے سے لگائے رہے، وہ درحقیقت ان کا بیٹا نہیں تھا۔ دوسری طرف یوسف جاوید بھی ایک ایسے بچے کی پرورش کر رہے تھے جس کا ان سے کوئی خونی رشتہ نہیں تھا۔ مگر دونوں خاندانوں کی محبت، شفقت اور قربانی میں کوئی فرق نہیں آیا، کیونکہ ان کے لیے وہی بچے ان کی دنیا تھے۔
وقت کے ساتھ ترک والد یوسف جاوید کے دل میں ایک سوال جنم لینے لگا۔ بچے کی رنگت، چہرے کے نقوش اور جسمانی ساخت خاندان کے دیگر افراد سے مختلف محسوس ہوتی تھی۔ ابتدا میں اسے محض اتفاق سمجھا گیا، لیکن جب یہ احساس بڑھتا گیا تو سارے گھر والے بھی بات کہنے لگے۔ بالآخر یوسف نے ڈی این اے ٹیسٹ کرانے کا فیصلہ کیا۔
رپورٹ سامنے آئی تو گویا زمین پاؤں تلے سے نکل گئی۔ ٹیسٹ نے شک کو سچ ثابت کر دیا، 4 سال سے جس بچے کو وہ اپنا بیٹا سمجھ رہے تھے، وہ ان کا حقیقی بیٹا نہیں تھا۔
یہ انکشاف ہوتے ہی یوسف جاوید فوری طور پر سعودی عرب پہنچے اور نجران کے کنگ خالد جنرل اسپتال کو اس سنگین معاملے سے آگاہ کیا۔ سعودی حکام نے تحقیقات کا آغاز کیا، اسپتال کے ریکارڈ کا جائزہ لیا اور دونوں خاندانوں کے ڈی این اے ٹیسٹ کرائے۔ بالآخر حقیقت پوری طرح سامنے آ گئی۔ دونوں نومولود واقعی پیدائش کے وقت غلطی سے تبدیل ہو گئے تھے۔
یہ خبر سعودی عرب اور ترکی، دونوں ممالک میں غیرمعمولی توجہ کا مرکز بن گئی۔ میڈیا نے اسے انسانی غفلت کی ایک ایسی مثال قرار دیا، جس نے دو خاندانوں کو چار برس تک ایک دوسرے کے بچوں کی پرورش پر مجبور کر دیا۔
سوال یہ تھا کہ اب کیا کیا جائے؟
ایک طرف خون کا رشتہ تھا، دوسری طرف چار سال کی پرورش، بے شمار یادیں، محبتیں اور جذبات۔ ایسے میں بچوں کو اچانک ان خاندانوں سے جدا کرنا آسان نہیں تھا۔ اسی لیے سعودی حکومت نے ماہرین نفسیات کی مدد حاصل کی تاکہ بچوں اور دونوں خاندانوں کو اس غیر معمولی تبدیلی کے لیے ذہنی طور پر تیار کیا جا سکے۔
ماہرین نے تجویز دی کہ دونوں خاندانوں کو کچھ عرصے تک ساتھ رکھا جائے تاکہ بچے حقیقی والدین کے ساتھ مانوس ہوں اور یکدم ان خاندانوں سے جدائی کا صدمہ بھی سہنا نہ پڑے، جنہیں وہ اپنا سمجھتے رہے ہیں۔ یوں حکومتی خرچے پر ایک سال دونوں کو ایک ساتھ رکھا گیا۔ بالآخر دونوں بچوں کو ان کے حقیقی والدین کے سپرد کر دیا گیا اور اس وقت کے سعودی فرمانروا شاہ عبداللہ نے دونوں خاندانوں کو تین، تین لاکھ سعودی ریال بطور معاوضہ دینے کا حکم دیا۔ ساتھ ہی وزارتِ صحت نے واقعے کی تحقیقات کے بعد ذمہ دار ڈاکٹروں اور نرسوں کے خلاف تادیبی کارروائی کی، جبکہ بعض غیر ملکی طبی عملے کو ملک بدر کرنے کی سفارش بھی کی گئی۔
اس واقعے میں ایک اور پہلو بھی انتہائی دل چھو لینے والا ہے۔ بچوں کی تبدیلی کے باوجود دونوں خاندانوں کے درمیان محبت اور احترام کا رشتہ قائم رہا اور دونوں بچے بھی ایک دوسرے کو بھائی سمجھتے ہوئے رابطے میں رہے۔ شاید اس لیے کہ خون کے رشتے اپنی جگہ، مگر چار برس کی مشترکہ پرورش اور محبت بھی انسان کے دل پر ایسے نقوش چھوڑ جاتی ہے جنہیں وقت بھی مٹا نہیں سکتا۔
والدین کی محبت صرف خون کے رشتے کی محتاج نہیں ہوتی۔ جس بچے کو برسوں اپنے ہاتھوں سے اٹھایا، بیماری میں راتیں جاگ کر گزاریں، اس کے پہلے قدموں پر خوشی منائی اور اس کی پہلی مسکراہٹ کو اپنی زندگی کا سرمایہ سمجھا، اسے ایک لمحے میں اجنبی قرار دینا کسی کے لیے آسان نہیں۔
شاید اسی لیے اس حقیقی واقعے پر پہلی نظر میں یقین کرنا مشکل لگتا ہے، مگر یہ احساس بھی دلاتا ہے کہ تقدیر کبھی کبھی انسان کو ایسے امتحان سے گزار دیتی ہے جس کا تصور بھی ممکن نہیں ہوتا۔
(ضیاء چترالی)
ایک مراثی نے اپنی ماں کو بہت تنگ کیا کہ
"اماں مینوں نئی پتا میں بار جانا اے" اس کی ماں نے اسے کہا کہ میرے پاس پیسے نہیں ہیں جب آئیں گے تو بھیج دوں گی پر اس نے اپنی ماں کو سہی والا ستایا تو ماں نے اپنے شوہر یعنی مراثی کی دی ہوئی آخری نشانی سونے کا ہار بیچ دیا اور اس کے باہر جانے کا انتظام ہوگیا
جب جانے لگا تو اس نے اپنی ماں کے سامنے سر کیا کہ "چنگا ماں میں چلدا واں ہن" اس کی ماں غصے میں تھی اس نے کہا " شالا تیرا جہاز خراب ہو جائے " تو آگے سے مراثی بولا "میں پیراشوٹ کھول لواں گا" تو اس کی اماں نے کہا کہ " او وی نئی کھلنا"
خیر وہ جہاز پر سوار ہوا اور پائلٹ جو کہ سردار تھا اس نے سپیکر میں ساری انسٹرکشنز بولیں اور کہا کہ بیلٹ باندھ لیں پر اس کی ماں کی بددعا کی وجہ سے جہاز ہوا میں بلند ہوتے ہی خراب ہوگیا اور سارے لوگ پیراشوٹ باندھ کر کودنے لگے
تو مراثی ڈرتے کود ہی نہیں رہا تھا کہ سردار پائلٹ نے اس سے پوچھا "کاکا کی ہویا توں چھال کیوں نئی مار ریا" تو اس مراثی نے سارا معاملہ سنایا کہ میری ماں نے مجھے یوں بددعا دی تھی تو سردار نے اس سے کہا کہ " تم میرا پیراشوٹ لے کر کود جاؤ" تو وہ کود پڑا۔
سردار پائلٹ تھا اس نے آخر پر کودنا تھا تو کچھ دیر بعد مراثی اور باقی لوگ جب جھومتے جھماتے گانا گاتے ہوا میں اڑتے نیچے کو جا رہے تھے کہ ایک چیز ان کے پاس سے شووووو کر کے گزری جو کہ سردار تھا جو کہہ رہا تھا "اوئے مراثیاں تیری وی ماں دی۔۔۔۔۔۔۔"
😂😂😂😂
اس لئے کہتے ہیں ماں کی بددعا سے بچیں ایویں آپ بھی ٹنگے جائیں گے
#قومی_زبان
صرف شادی شدہ مرد اسے انجوائے کریں
دفتر میں کام کرتے ہوئے ایک صاحب کا موبائل چوری ہوگیا ...
دن بھر کی مصروفیت کے بعد تھکے ہارے صاحب بہادر نے جونہی گھر کی دہلیز پر قدم رکھا تو اگلا منظر دیکھ کر چونکے بنا نہ رہ سکے ...
گھر میں ساس اور سسر ... اپنی بیٹی کا سامان پیک کئے ان کے منتظر تھے ... بیگم اور ساس کی آنکهیں رو رو کر سرخ ہوچکی تهیں ... جبکہ ان کے داخل ہونے پر سسر کے ماتھے پر نفرت کی لکیریں بهی عیاں ہونے لگی تهیں ...
"کہاں لیکر جارہے ہیں میری بیوی کو ؟؟ خیریت تو ہے ؟؟ "
انہوں نے کچھ نہ سمجھنے والے انداز میں دریافت کیا تو سسر نے آگے بڑھ کر ان کی بیوی کا موبائل ان کے سامنے کردیا ....
"میں تمہیں تین طلاق دیتا ہوں" ....
بیوی کو ان کے نمبر سے میسج آیا تھا ...
میسیج دیکھ کر صاحب نے ایک ٹهنڈی آہ بھری اور بتایا کہ ان کا موبائل تو صبح سے چوری ہوگیا تھا ....
انہوں نے اپنی جیبیں الٹ کر سب کو یقین دلایا ... تو ان کی بیگم اپنی ماں سے لپٹ کر رونے لگیں ... اور سسر صاحب نے اپنی ٹانگیں بیٹھے بیٹھے دراز کرلیں ....
"لیکن چور نے میری بیوی کو طلاق کا میسیج کیوں کیا ؟؟؟"
الجھن کے مارے انہوں نے اپنا نمبر ڈائل کیا تو چور نے فون اٹھایا ... صاحب چهوٹتے ہی پهٹ پڑے ... " کمینے انسان !! فون چرایا سو چرایا ... میری بیوی کو طلاق دینے کیا ضرورت تھی ... ؟؟
چور نے اطمینان سے ان کی بات سنی اور کہنے لگا ...
"دیکھئے صاحب ! صبح ... جب سے آپ کا فون چرایا ہے ... مجھے آپ کی بیوی کے چھتیس میسیج موصول ہو چکے ہیں ...
کہاں ہو ؟؟؟ .... کیا کر رہے ہو .؟؟ .... کب آؤ گے ؟؟ .... آتے ہوئے یہ لے آنا ... اور ہاں یہ بھی ... !! .... جلدی آنا !!! .... دیکھو فلاں چیز ختم ہوگئی ہے !!! ... میں پاگل ہوگیا ... تب میں نے طلاق بھیجی
ڈی پی سی (DPC) کیا ہے اور یہ کب اور کیوں ضروری ہے؟ جب گھر کی بنیادیں تیار ہو جائیں، تو فرش ڈالنے سے پہلے یہ ایک پٹی آپ کے پورے گھر کی لائف بدل سکتی ہے!
جب ہم گھر کی بنیادیں مکمل کر لیتے ہیں، تو فرش ڈالنے سے پہلے دیواروں کے اوپر کنکریٹ اور تارکول کی ایک خاص پٹی ڈالی جاتی ہے، جسے ٹیکنیکل زبان میں DPC یعنی 'ڈیمپ پروف کورس' کہا جاتا ہے۔
یہ پٹی عام طور پر روڈ لیول یا پلنتھ لیول کے برابر لگائی جاتی ہے اور اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہ زمین کی نمی اور سیم (Seepage) کو اوپر دیواروں اور پلاسٹر تک پہنچنے سے روکتی ہے۔ اگر تعمیر کے وقت DPC نہ لگائی جائے یا اس کے کام میں ڈنڈی ماری جائے، تو چند ہی سالوں میں آپ کے لاکھوں روپے کا پینٹ اور وال پیپر سیم کی وجہ سے پپڑی بن کر جھڑنے لگتا ہے۔
اس لیے ایک پائیدار اور خوبصورت گھر کے لیے DPC کا صحیح وقت پر اور اعلیٰ مٹیریل کے ساتھ لگایا جانا انتہائی ضروری ہے۔
انسانیت اور بے رحمی کی انتہا!
ایک بے زبان جاندار کو اتنی تکلیف دے کر مارنا اور پھر اسے خوراک بنانا، سمجھ سے باہر ہے۔ یہ منظر کسی بھی حساس دل انسان کو ہلا کر رکھ دینے کے لیے کافی ہے۔ کیا جانداروں کے ساتھ ایسا سلوک کسی بھی طرح جائز قرار دیا جا سکتا ہے؟
سورج غروب ہو رہا تھا اور کیلی فورنیا کے سائپریس بیچ پر لہریں معمول سے زیادہ سرکش ہو رہی تھیں۔ لیکن وہی ایک فوٹوگرافر اپنے کیمرے کے لینز سے سمندر کی خوبصورتی کو قید کرنے میں مصروف تھا کہ اچانک اس کی نظر بپھری ہوئی لہروں کے بیچ پڑی۔ پانی کے اس خوفناک تلاطم میں ایک انسانی سر بار بار ابھرتا اور غائب ہو رہا تھا۔ اس کا دل دھک سے رہ گیا، وہ خطرے کو بھانپتے ہوئے اپنی پوری طاقت سے لائف گارڈ چوکی کی طرف بھاگا۔
وہاں ایک ۱۰ سال کا بچہ اپنے سرف بورڈ سمیت لہروں کے رحم و کرم پر تھا، جو موت سے جنگ لڑ رہا تھا۔ ساحل پر موجود ایک نوجوان لائف گارڈ نے جیسے ہی یہ دیکھا، وہ بنا ایک پل گنوائے سمندر کی خوفناک لہروں میں کود گیا۔ لہریں اتنی غضب ناک تھیں کہ انسان کو تنکے کی طرح بہا لے جائیں، لیکن اس نے اپنی جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے بچے تک رسائی حاصل کر لی اور اسے مضبوطی سے اپنی بانہوں میں جکڑ لیا۔
ساحل پر موجود کچھ لوگوں نے لائف گارڈ کی مدد کے لیے آگے بڑھنے کی کوشش کی، لیکن سمندر کے سفاک لہروں نے انہیں اٹھا کر پٹخ دیا، اور وہ خوف کے مارے پیچھے ہٹ گئے۔ میدان میں اب صرف وہ لائف گارڈ اور موت کا کھیل کھیلتی لہریں تھیں۔ لہریں اسے بار بار پیچھے دھکیلتی رہیں، لیکن اس کے ارادے چٹان سے زیادہ مضبوط تھے۔ وہ آخری سانس تک لڑتا رہا اور بالاآخر بچے کو بحفاظت ساحل پر کھینچ لایا۔
حیران کن بات یہ تھی کہ معصوم بچے کی جان بچانے والا یہ جری لائف گارڈ کوئی تجربہ کار پیشہ ور نہیں تھا، بلکہ یہ اس کی نوکری کا پہلا دن تھا، مگر پہلے ہی دن اس نے وہ کر دکھایا جو بڑے بڑے پیشہ ور بھی نہیں کر پاتے۔
یہ ہے پاکستان کا خطرناک ترین ٹریک!
گلگت بلتستان کے علاقے تھگس میں واقع مشہور "ڈیتھ ٹریک" ایک نہایت تنگ پہاڑی راستہ ہے، جہاں ایک وقت میں بمشکل ایک ہی شخص گزر سکتا ہے۔روایات کے مطابق اس راستے کی تعمیر کے دوران کئی مزدور جان کی بازی ہار گئے،اسی وجہ سے اسے "ڈیتھ ٹریک" کہا جاتا ہے💀