رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
جب کوئی قوم عہد توڑتی ہے تو ان میں قتل عام ہوجاتا ہے، جب کسی قوم میں فحاشی عام ہوجاتی ہے تو اللہ تعالیٰ ان پر موت کو مسلط کردیتا ہے اور جب کوئی قوم زکوٰۃ کی ادائیگی روک لیتی ہے تو اللہ تعالیٰ ان سے بارش روک لیتا ہے۔
(السلسلۃ الصحیحۃ، ۱۷۸۳)
7 ستمبر 1974 کو آئین کی دفعہ 260 میں یہ الفاظ شامل کئے گئے “ہر فرد جو حضور صَلَّىٰ اللَّٰهُ عَلَيْہِ وَآلِہِ وَسَلَّمَ کے بعد کسی مدعی نبوت کو پیغمبر یا مذہبی مصلح مانتا ہووہ آئین یا قانون کے مقاصد کے ضمن میں مسلمان نہیں” یہ ایک متفقہ آئینی ترمیم تھی مخالفت میں ایک ووٹ بھی نہ آیا
جو کوئی بندہ اللہ سے دعا کر کے مانگتا ہے اللہ اسے یا تو اس کی مانگی ہوئی چیز دے دیتا ہے، یا اس دعا کے نتیجہ میں اس دعا کے مثل اس پر آئی ہوئی مصیبت دور کر دیتا ہے، جب تک اس نے کسی گناہ یا قطع رحمی ( رشتہ ناتا توڑنے ) کی دعا نہ کی ہو۔
(ترمذی،۳۳۸۱)
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا :
’’ انصاف کرنے والے اللہ تعالیٰ کے ہاں نور کے منبروں پر رحمٰن کی دائیں جانب ہوں گے۔ جو عدل کرتے ہیں اپنے فیصلوں میں اور اپنے گھر والوں کے ساتھ اور اپنی رعایا کے ساتھ ۔‘‘
(سنن نسائی، ۵۳۸۱)