غزہ، لبنان، شام اور یمن کے معصوموں کا قاتل نیتن یاہو آج دیکھیں، غزہ کے مظلوموں کی آہوں کے باعث دنیا میں کس قدر تنہائی کا سامنا کر رہا ہے۔ نیتن یاہو تاریخ میں نفرت کی ایک علامت بن چکا ہے، جہاں جاتا ہے احتجاج اور مذمت اور نفرتوں سے بھری نگاہیں اس کا پیچھا کرتی ہیں۔
جو لوگ نیتن یاہو کا ساتھ دینے، اس سے تعلقات بڑھانے یا اس کے ساتھ کھڑے ہونے کے خواہشمند ہیں، انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ تاریخ اپنے فیصلے ضرور سناتی ہے۔
اقوام متحدہ کے فورم پر نیتن یاہو کی تقریر کے دوران بڑی تعداد میں نشستیں خالی رہیں۔ ایک ایسے عالمی رہنما کے لیے اس سے بڑا سیاسی اور سفارتی تنہائی کا منظر اور کیا ہو سکتا ہے؟
غزہ کے مظلوموں اور غزہ کے بے گناہ شہیدوں نے دنیا کے ہر اس ملک کو تنہا کر دیا ہے جو کہیں نہ کہیں ان کے خلاف کھڑا ہے۔
اسلام آباد میں 1000 کنٹینر لگا کر محسن نقوی نے اسلام آباد کا دورہ کیا، اس پر مجھے عمر شریف کا ڈائیلاگ یاد آ گیا کہ لیاقت آباد میں پولیس نے کرفیو لگا کر آزادانہ گشت کیا! مظہر عباس
#pakistan@MazharAbbasGEO
خبر کا سورس لنک جاننے کیلئے QR Code سکین کریں۔۔
جب چوکیدار کا ہاتھ اس مالک پہ اٹھ جائے جس کے گھر سے وہ کھاتا پیتا ہے تو وہ چوکیدار نہیں کہلاتا
گلی کا خارش زدہ آوارہ کتا کہلاتا ہے جسے ٹھکانے لگانا اس لئے واجب ہو جاتا کہ محلے کے بچوں میں سے کسی کو نہ کاٹ سکیں
جب ایک مزدور 12 گھنٹے کام کرکے بھی بجلی کا بل، گھر کا کرایہ ادا نہیں کرسکتا۔
تو ایسے ملک کے طرز حکومت پر لعنت۔
ایسے ملک کے نظامِ ٹیکس پر بھی لعنت۔
ایسے ملک کے نظام کو چلانے والے تمام حکمران اور افسران پر بھی لعنت جو ہوائی جہازوں پر سفر کرتے ہیں۔ بڑے گھروں میں رہتے ہیں۔ جہنیں بجلی فری ملتی ہے، پٹرول فری ملتا ہے۔
پوری دنیا میں ریاستیں امیر سے ٹیکس اکٹھا کرکے غریب پر خرچ کرتی ہیں لیکن ہمارے ملک میں غریب پر ٹیکس لگا کر امیروں اور اشرافیہ کی عیاشیوں پر خزانہ خرچ ہوتا ہے۔ 🖐🏻
ویڈیو میں نظر آنے والا یہ بچہ اور اس کے ساتھ موجود شخص پشتو زبان میں بتا رہے ہیں کہ یہ بچہ ترنول کے ایک مدرسے میں پڑھتا ہے اور اس کا تعلق ضلع تورغر، تحصیل جوجبا کا ہے۔
دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ گزشتہ روز صدر کینٹ پولیس نے اسے موبائل چوری کے الزام میں گرفتار کیا اور پھر مبینہ طور پر اس پر اتنا شدید تشدد کیا کہ آج یہ بچہ نہ ٹھیک طرح سے بول سکتا ہے، نہ اس کے دانت کھل سکتے ہیں اور نہ ہی وہ صحیح طریقے سے حرکت کر پا رہا ہے۔
جس طرح کی حالت اس بچے کی ویڈیو میں نظر آ رہی ہے، اس سے سوال پیدا ہوتا ہے کہ پنجاب پولیس میں کیا خوفِ خدا بالکل ختم ہو چکا ہے؟
ہم تو اب خدا کے در کی طرف ہی دیکھ رہے ہیں، کیونکہ یہاں جو تھوڑا بہت نظامِ انصاف کا باقی تھا وہ قاضی فائز عیسیٰ جیسے جیسے لوگوں نے ختم کردیا ۔ انصاف مانگیں تو کدھر جائیں؟ فریاد کریں تو کس دروازے پر جائیں؟
خدارا، ظلم اتنا نہ کریں کہ کل خدا کے دربار میں جواب دینا مشکل ہو جائے۔ یہاں کا قانون تو اپکوں بچانے گا وہاں کی عدالت میں پھر آپکا کوئی عہدہ اور کوئی طاقت کام نہیں آئے گی۔
اس معصوم بچے کی زندگی تباہ کر کے پنجاب پولیس کو آخر ملا کیا؟
میری پنجاب پولیس کے اعلیٰ حکام سے گزارش ہے کہ اس واقعے کا فوری نوٹس لیں، شفاف تحقیقات کرائیں اور ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف قانون سخت کاروائی کریں @OfficialDPRPP@MohsinnaqviC42@Rporwp
پیغامِ عمران خان🚨
27 ستمبر کی تاریخ آپ کے مستقبل کا فیصلہ کرے گی۔ خوف کی زنجیریں توڑ کر حق اور آئین کی بالادستی کے لیے نکلیں۔
⚠️ نوٹ: یہ ویڈیو AI کے ذریعے تیار کی گئی ہے
"اب کدھر مر گئے ہیں شاہزیب خانزادہ جیسے بے شرم اور بے حیاء نام نہاد صحافی جو روز اپنے ٹی وی شوز میں بشریٰ بی بی کی کردار کشی کرتے تھے۔ اب تھوڑی سی بھی غیرت ہے تو ہمت کریں اور بلائیں میاں داؤد ایڈووکیٹ کو اور کریں پروگرام مریم صفدر اور کیپٹن صفدر کے نکاح پر۔۔ ڈوب کر مر جاؤ لفافہ صحافیو۔۔ منٹو نے صحیح کہا تھا کہ ایک قلم فروش صحافی ایک جسم فروش طوائف سے زیادہ بد کردار ہوتا ہے"۔ شوکت بسرا
@sh_basra
سورس جاننے کیلئے QR Code سکین کریں
Hindus are weird people. They assault, molest and harm actual humans who have emotions but show empathy and love towards lifeless stones that can't even hear them.