رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
اگر لوگ جان لیں جو ثواب نماز کے لیے جلدی آنے میں ہے تو ایک دوسرے سے آگے بڑھیں اور اگر عشاء اور صبح کی نماز کے ثواب کو جان لیں تو اس کے لیے ضرور آئیں خواہ سرین کے بل آنا پڑے اور اگر پہلی صف کے ثواب کو جان لیں تو اس کے لیے قرعہ اندازی کریں۔
(بخاری،۷۲۱)
ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نیکی اور بدی کے بارے میں سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“ نیکی اچھے اخلاق کا نام ہے اور گناہ وہ ہے جو تمہارے دل میں کھٹک پیدا کرے اور لوگوں کا اس پر مطلع ہونا تم پر ناگوار گزرے“ ۔
(جامع ترمذی، ۲۳۸۹)
نبی ﷺ سے کسی نے پوچھا:
کون سا کام بہتر ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: "الله اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان لانا"،
پوچھا گیا کہ پھر اسکے بعد؟ آپ ﷺ نے فرمایا: "الله کے راستے میں جہاد کرنا"،
پھر پوچھا گیا کہ اسکے بعد؟ آپ ﷺ نے فرمایا: "حج مبرور (مقبول)."
بخاری 1519
(مسلم 248؛ ترمذی 1658)
اور جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ لیٹے بیٹھے اور کھڑے ہوئے (ہر حالت میں) ہمیں پکارتاہے۔ پھر جب ہم اُس کی تکلیف دُور کردیتے ہیں، تو اس طرح چل کھڑا ہوتا ہے جیسے کبھی اپنے آپ کو پہنچنے والی کسی تکلیف میں ہمیں پکارا ہی نہ تھا۔
﴿سورۃ یونس، ۱۲﴾
اے ایمان والو! بہت سے گمانوں سے بچو، بعض گمان گناہ ہوتے ہیں۔اور کسی کی ٹوہ میں نہ لگو،اور ایک دُوسرے کی غیبت نہ کرو۔ کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرے گا کہ وہ اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھائے؟ اس سے تو خود تم نفرت کرتے ہو! اور اللہ سے ڈرو۔
﴿سورۃ الحجرات،۱۲﴾
رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :
حرام مال جمع کرنے والے پر رشک مت کرو یا ( شاید یہ فرمایا کہ ) ناحق مال جمع کرنے والے پر ( رشک مت کرو ) اس لیے کہ اگر وہ اس مال کو صدقہ کرے تو قبول نہیں ہے اور جو باقی رہے گا وہ اس کے لیے جہنم کا باعث ہو گا ۔
(المستدرک الحاکم : 2137)
﴿ إنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَاالَّذِينَ آَمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وسَلِّمُوا تَسْليمًا ﴾
بیشک اللہ اور اس کے فرشتے نبی (ﷺ) پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو ! تم بھی ان پر درود بھیجو ، اور خوب سلام بھیجا کرو۔
﴿سورۃ الاحزاب،۵۶﴾
اور اپنے رَبّ کا صبح و شام ذکر کیا کرو، اپنے دِل میں بھی، عاجزی اور خوف کے (جذبات کے) ساتھ، اور زبان سے بھی، آواز بہت بلند کئے بغیر! اور اُن لوگوں میں شامل نہ ہوجانا جو غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔
﴿سورۃ الاعراف، ۲۰۵﴾
اے ایمان والو ! جب جمعہ کےدن نماز کےلیے پکارا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف لپکو، اور خریدو فروخت چھوڑ دو۔ یہ تمہارےلیےبہتر ہے،اگر تم سمجھو۔
پھر جب نماز پوری ہوجائےتو زمین میں منتشر ہوجاؤ، اور اللہ کافضل تلاش کرو،اور اللہ کو کثرت سےیاد کرو، تاکہ تمہیں فلاح نصیب ہو۔
﴿الجمعہ۔۹،۱۰﴾
قالَ النبی ﷺ:
جو شخص (روزہ کی حالت میں) جھوٹ بولنا اور اس پر عمل کرنا (یعنی فریب، دھوکہ دینا)، اور جہالت کو (بیہودہ اعمال، باتیں) نہ چھوڑے تو الله کو کوئی حاجت نہیں کہ وہ شخص اپنا کھانا اور پینا چھوڑے.
بخاری 6057
(بخاری 1903؛ ترمذی 707؛ ابوداؤد 2362؛ ماجہ 1689؛ مشکوٰۃ 1999)
(اے پیغمبرﷺ!) یقین جانو ہم نے تمہیں کوثر عطا کردی ہے،
لہٰذا تم اپنے پروردگار (کی خوشنودی) کے لئے نماز پڑھو، اور قربانی کرو،
یقین جانو تمہارا دُشمن ہی وہ ہے جس کی جڑ کٹی ہوئی ہے۔
﴿سورۃ الکوثر﴾
رسول اللہ ﷺ شعبان سے زیادہ اور کسی مہینہ میں روزے نہیں رکھتے تھے ، شعبان کے پورے دنوں میں آپ ﷺ روزہ سے رہتے۔ آپ ﷺ فرمایا کرتے تھے کہ عمل وہی اختیار کرو جس کی تم میں طاقت ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ ( ثواب دینے سے ) نہیں تھکتا ۔ تم خود ہی اکتا جاؤ گے ۔
(صحیح بخاری، ۱۹۷۰)
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ اس طرح دعا فرماتے:
"اللَّهُمَّ ارْزُقْنِي شَهَادَةً فِي سَبِيلِكَ، وَاجْعَلْ مَوْتِي فِي بَلَدِ رَسُولِكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"
اے اللہ! مجھے اپنے راستے میں شہادت عطا کر اور میری موت اپنے رسول ﷺ کے شہر میں مقدر کر دے۔
(بخاری، ۱۸۹۰)