"I want to congratulate the Muslim Ummah today as our voice against the rising tide of Islamophobia has been heard & the UN has adopted a landmark resolution introduced by Pakistan, on behalf of OIC, designating 15 March as International Day to Combat Islamophobia." Former Prime Minister Imran Khan
#اسلاموفوبیا_ڈے_شکریہ_خان
پوری دنیا سنیں!!🚨
عمران خان کی جان خطرے میں ہے 🚨
🛑عمران خان 900 سے زائد دنوں سے ناحق قید ہیں۔ سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ کے مطابق، خون کا لوتھڑا (blood clot) بننے کی تشخیص کے بعد ان کی ایک آنکھ کی بینائی 80 فیصد سے زائد ضائع ہو چکی ہے، جبکہ انہیں ماہر ڈاکٹروں کی سہولیات فراہم نہیں کی جا رہیں اور مسلسل تنہائی میں رکھا جا رہا ہے۔
بر وقت اور آزادانہ طبی علاج کی فراہمی سے انکار اقوامِ متحدہ کے ’نیلسن منڈیلا رولز‘ اور انسانی حقوق کے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
ہم اقوامِ متحدہ (@UN)، انسانی حقوق کونسل (@UNHumanRights)، ایمنسٹی انٹرنیشنل (@amnesty)، ہیومن رائٹس واچ (@hrw) اور جمہوری حکومتوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ عمران خان تک فوری آزادانہ طبی رسائی اور شفافیت کے لیے دباؤ ڈالیں۔
تاخیر کا ہر ایک دن ناقابلِ تلافی نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔
#ImranKhanHealthEmergency
میں اپنے پت دے پیر پھڑ دئ
مینو خواب اچ آکے دس دئیں ماں اے ہویا اے ۔۔!!!
چھبیس نومبر کو ہماری ماؤں سے جوان بیٹے چھننے والو ہم تمہیں کبھی معاف نہیں کریں گے ۔
61 ہجری کے یزید پر لعنت بیجھنا بڑا آسان ہے وہ ہے ہی نہیں جہنم میں جل رہا ہو گا
2025 کے یزید کو للکارنا مشکل ہے، حسینیت یہیں درس دیتی ہے کہ اپنے وقت کے یزید کو للکارو
“وادی تیراہ میں بمباری سے معصوم بچوں، عورتوں اور عام شہریوں کے جانی نقصان پر میں شدید رنجیدہ ہوں۔ میں ایک سال سے بارہا اس بارے میں پیغام بھیج رہا ہوں کہ ان علاقوں میں آپریشن نہ کیا جائے اور نہ ہی collateral damage کے نام پر معصوم لوگوں کی جانوں کا ضیاع ہونا چاہیئے، کیونکہ اس سے دہشتگردی میں مزید اضافہ ہوتا ہے- افسوس کی بات ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت اس معاملے میں اسٹیبلشمنٹ کے ٹریپ میں آگئی ہے۔
ہمارے پڑوسی ملک افغانستان کی مثال سب کے سامنے ہے۔ ہمارے دور میں اشرف غنی نے ہمیں بتایا کہ آپریشن سے دہشتگردی میں اضافہ ہوتا ہے کیونکہ معصوم لوگ مارے جاتے ہیں اس سے پہلے حامد کرزئی نے امریکیوں کو بتایا تھا کہ جب بھی آپریشن ہوتا ہے بے گناہ لوگ مارے جاتے ہیں اور ان میں سے 90 فیصد طالبان کے ساتھ اس لیے شامل ہوتے ہیں تاکہ اپنے غم و غصے کا اظہار کر سکیں۔
ہم نے اپنے دور میں افغانستان کے ساتھ تعلقات بہتر کیے جس سے ہمارے قبائلی علاقوں میں بھی امن آیا، مگر عاصم منیر نے آتے ہی اس ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کی۔ افغانستان کے خلاف دھمکی آمیز بیانات دئیے گئے، دہائیوں سے مقیم افغان مہاجرین کو خوش اسلوبی سے نہیں بلکہ دھکے دے کر ملک بدر کیا گیا اور وہاں ڈرون حملے کیے گئے جس سے تعلقات مزید خراب ہوئے۔
عاصم منیر کے یہ سب کرنے کے پیچھے یہ مقاصد ہیں
1) خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت کو غیر مقبول کرنا
2) مغرب میں اینٹی طالبان لابیز کو خوش کرنا اور یہ ظاہر کرنا کہ عاصم منیر دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے
عاصم منیر ساری دنیا میں پھر رہا ہے لیکن اگر تدبر سے کام لے تو سب سے پہلے افغانستان جا کر ان سے بات کرنی چاہیے، جو ہمارا برادر اسلامی ملک بھی ہے اور جن کے ساتھ ہم ڈھائی ہزار کلو میٹر کی سرحد رکھتے ہیں۔ قبائلی علاقوں اور خطے کے امن کے لیے ضروری ہے کہ چار فریقین افغانستان کی حکومت، پاکستانی حکومت، قبائلی اور افغانی عوام مل کر بات چیت کے ذریعے مسائل کا حل نکالیں تاکہ امن کا راستہ نکلے اور مزید نقصان سے بچا جا سکے”
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں اہل خانہ اور وکلأ سے گفتگو (24 ستمبر، 2025)
1/2