ایک بات غور سے نوٹ کرلو 🚨🚨
پنجاب نکلے گا تو ہی انقلاب آئے گا، 27 ستمبر کا لانگ مارچ کامیاب ہوگا، اگر پنجاب نہ نکلا، آپ بزدل بن کر گھروں میں چھپے رہے تو پھر کوئی کامیابی نہیں ملے گی، اگر خدانخواستہ یہ مارچ بھی ناکام ہوگیا تو پھر عمران خان کو تو بھول ہی جاؤ، نام تک نہ لینا، کیونکہ 2 سال تک اس لانگ مارچ کیلئے تیاری کی گئی ہے، دو دن میں پلان نہیں بنا۔ مکمل سٹریٹیجی کے ساتھ معاملات کو طے کرکے یہ ڈیٹ اناؤنس کی گئی تھی۔ اس پر باقاعدہ اجلاس بلائے گئے ہیں۔ اب یہی آخری موقع ہے آپ کے پاس، اگر آپ واقعی عمران خان کے نظرئیے کے ساتھ مخلص ہیں تو پھر بڑی قربانی کیلئے تیار ہو جائیں، خان کو واپس لانے کیلئے سر دھڑ کی بازی لگا دیں۔ کھوکھلے نعروں سے کچھ نہیں ملنا، چاروں صوبوں سے کارکنان کو بڑی بڑی ریلیاں کی صورت میں اسلام آباد کا رخ کرنا ہوگا۔ بدل ڈالو اس نظام کو، خاموشی اب ہمیشہ کیلئے ختم کرنا ہوگی۔
سہیل آفریدی ذمے داران کو ایوان میں طلب کریں اور آئی جی ہو یا کوئی اور اس کے خلاف ایکشن لیں
سڑک پر منتخب عوامی نمایندہ کابینہ کا ممبر اغواء ہوا ہے یہ مذاق تو نہیں
خان صاحب کی فیملی کو اغوا کیا گیا
خان صاحب کو توڑنے کے لئے یہ سب کیا گیا
ذرائع سے خبر ملی ہے کہ خان صاحب کی فیملی کو تنگ کیا گیا اور ان کی ویڈیوز خان صاحب کو دیکھائی گئی اور انھیں ڈیل کے لیے بولا گیا
لیکن خان صاحب اپنی فیملی کے اوپر ظلم دیکھ کر بھی اپنی عوام کی خاطر ڈٹے ہوئے ہیں
اور تمام تر ڈیلز کو مسترد کرتے ہوئے خان صاحب نے بولا کہ میں نواز شریف نہیں بنوں گا
میرے پاکستانیوں، وہ شخص یہ سب کچھ آپ کی خاطر برداشت کر رہا ہے
اب سب کچھ آپ پر ہے
آپ اس شخص کے قرض کو اُتار نہیں سکتے ہو
لیکن کم از کم 27 ستمبر کے احتجاج کے لیے اپنے اپنے شہریوں میں باہر تو نکل سکتے ہو؟
آپ نے عمران خان کے لیے نہیں بلکہ اپنی آزادی کے لیے باہر نکلنا ہے
آج شوکت خانم کے خاندان کو تنگ کیا جا رہا ہے، کل آپ کے ساتھ بھی ایسا کیا جائے گا
اپنی فیملی کے سامنے بھی وہ نہیں ٹوٹ رہے ہیں
وہ تمام تر ٹارچر صرف آپ کی خاطر برداشت کر رہے ہیں
آخری موقع ہے
اس کے بعد کوئی موقع نہیں آئے گا۔۔۔
مبینہ اطلاعت ہیں کہ خیبر پختونخوا میں ایم آئی کا راج قائم ہو چکا ہے۔ آئی جی اور چیف سیکریٹری چیف منسٹر کی بجائے بھائی لوگ کے احکامات پر عمل پیرا ہیں
ہمارے ایک وزیر شکیل خان پر قتل کا الزام لگا دیا گیا ہے اور اس وقت پولیس کی بھاری نفری انکو تلاش کر رہی ہے
اللہ حافظ آئین پاکستان
محسن نقوی کو یہ یقین دلایا گیا ہے کہ تم عہد کے شوکت عزیز ہو کھا پی کر بحفاظت باہر پہنچائے جاو گے ! لیکن بتانے والے نے یہ نہیں بتایا کہ اُس وقت سامنے نواز شریف تھا اس بار عمران خان ہے انشا اللہ اس بار تاریخ رقم ہو گی ایک ایک جرم کی سزا بھگتے گا !
محسن نقوی صاحب ! آپ کی باس سے ملاقات ہوئی تو انہیں بتایئے گا۔علیمہ خان کی عمر 66 برس،یاسمن راشد کی عمر 76 برس ہے،عظمی خان اور نورین نیازی کی عمریں بھی 70 برس کے آس پاس ہیں۔اور میرا،آپ کا اور آپ کے باس کا،ہم سب کا ایمان ہے کہ
اوپر جو سب کا رب بیٹھا ہے
وہ کہانی بدل بھی سکتا ہے
🚨🚨 بریکینگ نیوز : اسٹیبلشمنٹ لانگ مارچ کو امریکی میڈیا میں جانے سے روکنا چاہتی ہے, عادل راجہ کی خبر ۔!!!🔥🔥🛑
لانگ مارچ کو دھرنے کی صورت میں بدلنا ہوگا ۔ اس کو سسٹینڈ کرنا ہوگا ۔ اس وقت ساری گیم یہ ہے, کہ لانگ مارچ کو امریکی میڈیا نہ اٹھائے ۔ اگر لانگ مارچ دھرنے کی صورت میں گیا تو انٹرنیشنل میڈیا ضرور اٹھائے گا ۔
اندازہ کیجئے کہ اب PTI لانگ مارچ روکنے کیلئے خیبر پختونخواہ اسمبلی کے MPA شکیل آفریدی کو اغوا کرنے کی کوشش کی گئی۔
اگر ان کا سیکیورٹی عملہ اغوا کاروں کو جواباً فائرنگ کر کے زخمی کر کے بھاگنے پر مجبور نہ کرتا تو PTI کے MPA آج اغوا ہو چکے ہوتے۔
حد ہے ظلم و بربریت کی اور قانون کا تماشہ بنانے کی۔
پچھلی بار ہم ریاست کو ماں سمجھ کر اسلام آباد گئے تھے ، ہمارے وہم و گمان میں نہیں تھا کہ ریاست ہم پر گولیاں چلائے گی ، اس بار ہم اس یقین ہے ساتھ جارہے ہیں کہ گولی تو چلے گی، ہم ذہنی طور پر تیار ہو کر جائیں گے، جنید اکبر
جسٹس ڈوگر کی سربراہی میں قائم بینچ نے پی ٹی آئی لانگ مارچ کیس میں جو حکم دیا، سپریم کورٹ آف پاکستان پیسکو (PESCO) کیس میں اسی نوعیت کے اقدام کو غیر قانونی قرار دے کر کالعدم کر چکی ہے۔ سپریم کورٹ واضح کر چکی ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ آرٹیکل 199 کے تحت اپنے علاقائی دائرۂ اختیار سے باہر احکامات جاری نہیں کر سکتی۔ پیسکو کیس اس حوالے سے ایک اہم آئینی نظیر ہے۔
مقتدرہ کی فریسٹریشن اپنے جوبن پر ہے، اپنے رنگ جما رہی ہے، مگر طاقت کا گھمنڈ اور نشہ اس کا تعین کرنے میں رکاوٹ ہے۔
کوئی تو ہے جو آج کی عظیم طاقت کی جڑیں کھوکھلی کر چکا ہے
حفیظ اللہ نیازی
وہ میڈیا جو کل سے گھنگھرو توڑ رہا تھا کہ شکیل احمد کے گارڈز نے فائرنگ کر دی کیا وہ میڈیا اب صوبائی وزیر فضل شکور کے اغواء پر کچھ کہے گا
اب یہ سول کپڑوں ملبوس ہو کر عوام کے نمائندے کو اغواء کررہے ہیں🚨
شہباز گل کی اس خبر سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مریم نواز کی پنڈی میں الصبح عاصم منیر سے ملاقات اسی فرمائش کے لیے ہوئی کہ عمران خان کی بہن علیمہ خان اور انکے خاندان کو اب گرفتار کیا جائے ۔ اور عاصم منیر نے اسکے حکم کی تعمیل کی ۔
لوگ اکثر کہتے ہیں کہ”پورا سسٹم ایک طوائف کے اشاروں پر ناچ رہا ہے”مجھے لگتا تھا ذیادہ سخت جملہ ہے مگر اب کوئی کیا کرے مریم نواز اسے اپنی حرکتوں سے خود درست ثابت کرتی ہے😑