پچیس کروڑ کی ہماری آبادی ہے جس میں سے نصف سے زیادہ گھرانوں کی آمدنی چالیس ہزار روپے ماہانہ سے کم ہے۔ اور جو غربت کی لکیر سے نیچے ہیں، انہیں تو ہم نے گویا کیڑے مکوڑے سمجھ رکھا ہے۔ یہ ہمیں سڑکوں، گلیوں اور بازاروں میں ہر طرف نظر آتے ہیں۔ سڑکوں پر بھیک مانگتی چھوٹی چھوٹی بچیاں، گود میں کسی نومولود کو اٹھائے ہاتھ پھیلاتی عورتیں، اپاہج مرد اور بچے۔
https://t.co/15yUOpE9xF
پڑوسی ملک کو دہشت گردی کے الزام سے بری قرار دینے کا کارنامہ بھی صرف پنجاب کی وزیراعلیٰ سرانجام دے سکتی ہے سندھ، پنجاب یا بلوچستان کا وزیراعلیٰ ایسی بات کردے تو اسکی زندگی عذاب ہو جائے
خیر پُور ، قلات، سوات اور دیر وغیرہ کو زم کرکے ون یونٹ بنانے کی فضُول حرکت کیوں کی؟ سُنا ہے کم از کم سوات زم ہونے سے پہلے بہت ہی کامیاب اور آسُودہ ریاست تھی باقی ریاستوں کا پتہ نہیں۔ خُود پسند اور خُودساختہ فیصلہ سازوں نے ون یونٹ پر اعتراض نہیں کیا تھا اور اُنہیں جیسوں کے تنگ نظر اور خُود غرضانہ پالیسیوں نے مُلک کو بعد میں دولخت کر دیا ۔ بڑی محنت سے مُشترکہ آئین ملا تو ضیا اور مُشرف نے آئین کی شکل بگاڑ دی اور اب ایک بار پھر جنگل کا شیر اس رہے سہے پاکستان کو گرداب کے حوالے کرنا چاہتا ہے کیونکہ شیر کو سب کُچھ ہڑپ کر لینے کی بھُوک لگی ہوئی ہے!!!!!
آپ تصور کریں کہ آپ اعلی تعلیم یافتہ ہوں بہتر مستقل کے لئے ملک سے باہر چلے گئے ہوں، جرمنی ، جاپان، امریکہ اور عرب ممالک کے اداروں میں کام کیا ہو ، ملک کا نام روشن کیا ہو، حوالہ ہنڈی کی بجائے ایمانداری سے اپنی کمائی بینکنگ چینلز کے ذریعے پاکستان بھجوائی ہو (جس پر حکومت شکرانے بجا لاتی ہےاور سمندر پار پاکستانیوں کو اپنا سرمایہ قرار دیتی ہے) آپ نے پاکستان میں مختلف جگہوں پر انویسٹمنٹ کر رکھی ہو ، آپ کے پاس اپنی کمائی کا تمام تر ریکارڈ موجود ہو، آپ نے برے وقتوں کے لئے کچھ رقم بچا کر رکھی ہو ،کسی بیوروکریٹ کی گودام میں نہیں ، کسی آفشور کمپنی میں نہیں ، کسی مے فئیر کے فلیٹس میں نہیں،کسی سیاستدان کی طرح سوئس بینک اکاونٹس میں نہیں بلکہ اپنے پیارے پاکستان کے بینک اکاونٹس میں ۔!
لیکن ایک دن اچانک آ پ کا بینک آپ کو کال کرے کہ آپ تو ایف بی آر کے ڈیفالٹر ہیں ہم آپ کی رقم ایف بی آر کو منتقل کر رہے ہیں اور ساتھ ہی آپ کی تمام عمر کی جمع پونچی کا بیک جنبش قلم صفایا کر دیا جائے اور وہ کوئی کم رقم بھی نہ ہو بلکہ ڈھائی کروڑ روپیہ ہو ۔۔ تو آپ کا ردعمل کیا ہو گا؟
آپ جو اپنی حب الوطنی کو، بینکنگ چینلز استعمال کرنے کو، اوور سیز ہو کر اپنے ملک کی مٹی سے چمٹ کر رہنے کو اپنے سینے کا میڈل سمجھتے تھے آپ کو وہ میڈل یکدم عمر بھر کا پچھتاوے لگنے لگے گا۔!!
اور اب ایف بی آر کو دیکھئے یہ ایف بی آر وہ ہے جو آج تک اپنے ٹیکس اہداف پورے نہیں کر سکا، جس کے ٹیکس ہدف پورے کرنے کے لئے حکومت پٹرول پر پٹرول کی قیمت سے زیادہ لیوی لگا کر پاکستانیوں کی جیب کاٹ لیتی ہے۔ جس ایف بی آر نے کسی بیوروکریٹ سے نہیں پوچھا تمہارے گودام پیسے سے بھرے ہوئے کیوں نکلتے ہیں؟ کسی سیاستدان سے نہیں پوچھا تمہاری لندن تو چھوڑو پاکستان میں بھی کوئی جائیداد نہیں تو تمہارے پاس اربوں مالیت کی گاڑیاں ، لاکھوں مالیت کے پرس کہاں سے آئے؟ کسی بزرگ سیاستدان سے نہیں پوچھا کہ تم نے دبئی میں ایمپائر کیسے کھڑی کی ؟
اور اب اس سمندر پار پاکستانی کا وزیراعظم کے نام لکھا خط پڑھیے جو خط نہں نوحہ ہے کہ مجھے یہ صلہ ملا ہے میری پاکستانیت کا؟
اور اب خود سے سوال کیجیے کہ جو حکومت مری جا رہی ہے کہ ہمارے ملک میں باہر سے سرمایہ کاری آئے اس واردات کے بعد اس ملک میں کون سرمایہ کاری کرے گا؟ سرمایہ کاری تو دور کون سا پاکستانی اب بینکوں پر اعتماد کر کے اپنی جمع پونجی ان بینکوں کے حوالے کرے گا؟
اور ایک آخری سوال۔۔قانون کا زور صرف وہاں کیوں چلتا ہےجہاں مزاحمت کا خطرہ نہیں ہوتا؟
💥امی، یہ سب کیا ہے؟ آپ نے اتنی مہنگی ساڑی لے لی… اور ابو کے لیے ایک بنیان تک نہیں؟” 💔🥹
ابو نے الماری سے پرانی بنیان نکالی۔
کپڑا اتنا نرم ہو چکا تھا کہ جیسے وقت نے اسے گھس کر دھاگوں میں بدل دیا ہو۔ انہوں نے اسے پہن کر آئینے میں خود کو دیکھا، ہلکا سا مسکرائے… اور جیسے کسی غیر موجود شخص سے مخاطب ہوں، آہستہ سے بولے:
“ابھی نئی لینے کی ضرورت نہیں… یہ دو مہینے اور چل جائے گی۔”
یہ جملہ کسی اور کے لیے نہیں تھا…
یہ ایک عادت تھی… خود کو کم کرنے کی عادت۔
بیٹا دروازے کے پاس کھڑا سن رہا تھا۔
ابو کے جاتے ہی وہ تیز قدموں سے ماں کے پاس گیا، جیسے کوئی انصاف مانگنے آیا ہو۔
“امی، یہ سب کیا ہے؟ آپ نے اتنی مہنگی ساڑی لے لی… اور ابو کے لیے ایک بنیان تک نہیں؟”
ماں نے پلٹ کر دیکھا۔ لہجے میں خفگی تھی، مگر کہیں نہ کہیں تھکن بھی۔
“تمہارے ابو کو خود ہی کچھ نہیں چاہیے۔ اور میری چیزوں کا حساب لینے لگے ہو؟ تمہارے کپڑے، تمہاری بہن کی چیزیں… سب اسی گھر کے پیسوں سے آتے ہیں۔ تم روز اپنی خوشی کے لیے پٹرول جلاتے ہو، کبھی پوچھا میں نے؟”
بیٹا چپ ہو گیا… مگر اس کے اندر کچھ اب بھی کھٹک رہا تھا۔
بیٹی نے موبائل سے نظریں اٹھائے بغیر کہا:
“امی ٹھیک کہہ رہی ہیں… ابو کو جو کرنا ہے کرنے دیں۔ ہمیں اپنی زندگی کیوں روکنی چاہیے؟”
یہ جملہ کمرے میں گونجا نہیں… بس کہیں اندر جا کر بیٹھ گیا۔
اور پھر سب اپنی اپنی دنیا میں لوٹ گئے۔
گھر میں سب کچھ ویسا ہی رہا۔
صرف ایک چیز بدلتی رہی…
ابو۔
وہ پہلے بھی کم بولتے تھے…
اب تو جیسے ان کی آواز بھی اپنے اندر سمٹنے لگی تھی۔
وہ پہلے بھی کم مانگتے تھے…
اب تو جیسے مانگنے کا حق ہی بھول گئے تھے۔
وہ پہلے بھی سادہ تھے…
اب سادگی اور محرومی میں فرق مٹ گیا تھا۔
کوئی نہیں دیکھتا تھا کہ وہ صبح سویرے کیوں نکل جاتے ہیں…
اور شام کو تھکے قدموں سے کیوں لوٹتے ہیں۔
کوئی نہیں پوچھتا تھا کہ وہ رکشہ کیوں نہیں لیتے…
کیوں بیس روپے بچانے کے لیے لمبا راستہ پیدل طے کرتے ہیں۔
کوئی نہیں سمجھتا تھا کہ ان کے پاس “چاہتیں” اب بھی ہیں…
بس انہوں نے انہیں بولنے سے منع کر دیا ہے۔
وہ آہستہ آہستہ کم ہو رہے تھے۔
جیسے کوئی شخص اپنے ہی گھر میں جگہ گھیرنے سے شرمندہ ہو جائے…
اور خود کو سمیٹنا شروع کر دے۔
ایک دن بیٹے نے اچانک غور کیا…
ابو پہلے جیسے نظر نہیں آتے تھے۔
نہ قد کم ہوا تھا… نہ جسم…
مگر وہ چھوٹے لگنے لگے تھے۔
جیسے کوئی آدمی اپنی موجودگی خود مٹا رہا ہو۔
اسے یاد آیا…
وہ بنیان۔
وہ جملہ۔
“یہ دو مہینے اور چل جائے گی…”
اچانک اسے احساس ہوا…
وہ بنیان صرف کپڑا نہیں تھی۔
وہ ایک حد تھی…
جہاں ایک آدمی نے اپنی خواہش کو روکا تھا۔
پھر ایک اور حد آئی ہو گی…
جہاں اس نے اپنی ضرورت روکی ہو گی۔
پھر ایک اور…
جہاں اس نے خود کو۔
اور اب…
وہ آدمی مکمل نہیں رہا تھا۔
وہ ٹکڑوں میں بٹ چکا تھا…
اور ہر ٹکڑا اس گھر کے کسی نہ کسی فرد کے پاس تھا۔
مگر عجیب بات یہ تھی…
کسی کے پاس بھی پورا ابو نہیں تھا۔
اور شاید…
کسی کو اس کی کمی بھی محسوس نہیں ہو رہی تھی۔
افسانہ: بنیان
جو آج بھی خوش نہیں ہو پا رہے وہ انتہائی بدنصیب ہیں نفرت انکے دل و دماغ میں سرایت کر چکی ہے وہ نفرت بیچتے ہیں اور نفرت ہی کھاتے ہیں اگر اسکی کمی واقع ہو تو تڑپنا شروع کر دیتے ہیں ایسے لوگوں کو کھلا چھوڑنے کی بجائے کسی rehab center میں داخل کرانا چاہئیے
یہ مراسلہ کل، یعنی 5 اپریل کو، انگریزی اخبار 'ڈان' میں شائع ہوا تھا۔ یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں ہے۔ پاکستان میں جنسی ہراسانی کا قانون مارچ 2010ء میں نافذ کیا گیا تھا، اور اس کے بعد سے لے کر اب تک ایسے پتا نہیں کتنے مرد ہیں جن پر جنسی ہراسانی کے جھوٹے الزامات لگا کر ان کی زندگیاں تباہ کر دی گئیں۔ ایم اے او کالج لاہور میں میرے دوست اور انگریزی زبان و ادب کے استاد محمد افضل کی جان بھی ایسے ہی ایک جھوٹے الزام کی وجہ سے گئی۔ تا حال ایسا کوئی سرکاری، نیم سرکاری یا غیر سرکاری ادارہ سامنے نہیں آیا جو گزشتہ سولہ برس کے اعداد و شمار اکٹھے کر کے یہ بتائے کہ اس قانون کے تحت جھوٹے الزامات کا شکار ہونے والے مردوں کی تعداد کتنی ہے اور جھوٹے الزامات لگنے کے بعد انھیں پیشہ ورانہ، سماجی، عائلی اور ذاتی حوالوں سے کن کن مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ ہمارے ہاں ویسے تو ہر قانون ہی غلط استعمال ہوتا ہے لیکن جن قوانین کے غلط استعمال کے واقعات بہت زیادہ ہیں ان میں توہینِ مذہب کے قانون کے علاوہ جنسی ہراسانی کا قانون بھی شامل ہے، اور رواج یہ ہے کہ اول الذکر کے غلط استعمال کے خلاف تو بہت جوش و خروش سے بات کی جاتی ہے مگر ثانی الذکر کو کسی سنجیدہ بحث کا موضوع بھی نہیں بنایا جاتا، اسی لیے قابلِ قیاس مستقبل میں اس قانون کے غلط استعمال پر کوئی قدغن لگتی دکھائی نہیں دیتی۔
#Harassment #Law
اعتزاز احسن لکھتے ہیں ”وادی سندھ کے باشندوں میں دنیا کے دوسرے خطوں کے برعکس بچت کی عادت ناپید ہے۔ اس عادت کے پنپنے میں یہاں کے باشندوں کے تاریخ شعور میں رچی ہوئی تلخ یادیں ہیں“۔
تیمور، بابر، نادر شاہ اور احمد شاہ ابدالی جب جب اس علاقے پر حملہ اور ہوئے انہوں نے وادی سندھ کے باشندوں کی نفسیات میں گہرے نقوش ثبت کیے۔ یہاں کے باشندوں کی نفسیات میں یہ خوف بیٹھ گیا کہ اپنی جمع پونچی بچانے کی بجائے اسے خرچ کر دینا ہی بہتر ہے کیونکہ حملہ اور فوجیں وادی سندھ کو روندنے کے علاوہ یہاں کے باشندوں کی فصلوں کو تباہ کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے ڈھورڈنگر اور مال و زیورات بھی لوٹ کر لے جائیں گے۔
کھادا پیتا لاہے دا۔۔۔ باقی احمد شاہے دا
Nothing i hate more than the CSP class visiting hospitals. Yesterday i was with the staff nurse for folleys catheterization of a female and AC barged inside the patient's screen. Had to shout loudly " folleys daal rahay hain' for him to back off. Brainless creeps with ego problems.
یہ گزشتہ رات کا واقعہ ہے۔
فیصل آباد ایئرپورٹ سے آذربائیجان جانے والے ایک طالبعلم کے پاسپورٹ پر پہلے ایگزٹ کی سٹیمپ لگائی گئی اور پھر آف لوڈ کر دیا گیا۔
اس 22 سالہ طالب علم نے ڈھائی لاکھ کا ایمریٹس ایئرلائن کا ریٹرن ٹکٹ خریدا تھا۔
آذربائیجان کے سفر پر نکلنے کی وجہ یہ تھی کہ پاکستان میں یورپی ملک لیتھوینیا کا سفارتخانہ موجود نہیں، اور اس کے ویزے کے لیے باکو جانا پڑتا ہے۔
لیتھوینیا کی یونیورسٹیوں میں سینکڑوں پاکستانی زیرِتعلیم ہیں۔ اور ہر سال مزید وہاں داخلہ لیتے ہیں۔
اس طالب علم کو بھی یونیورسٹی نے تمام لوازمات مکمل کرنے کے بعد داخلہ دیا ہے۔ اس نے یونیورسٹی کی ڈیڑھ سال کی تعلیمی /ٹیوشن فیس 30 لاکھ بھی پیشگی/ ایڈوانس ادا کر رکھی ہے۔
طالب علم یونیورسٹی کا لیٹر ملنے کے بعد باکو جا رہا تھا تاکہ لیتھوینین ویزا حاصل کر سکے۔
یہ نظام کب ٹھیک کیا جائے گا؟ @MohsinnaqviC42@FIA_Agency
کل موٹر وے پر سفر کے دوران ایک بار پھر یہ احساس ہوا کہ اس ملک میں اگر کسی کی حکمرانی ہے تو وہ لا قانونیت کی ہے ۔اپ اگر قانون پسند شہری ہیں تو آپ کے پاس ایک ہی آپشن ہے کہ آپ چپ چاپ وہ گناہ بھی اپنے سر لیتے جائیں جو آپ نے کبھی کیے ہیں نہیں ۔یہ گناہ آپ کے گلے اس لیے بھی پڑ سکتے ہیں کہ کسی صاحب اختیار کو آپ کی شکل پسند نہ ہو یا آپ کا سڑک پر اس کے سامنے سے گذرنا ہی اس کو ناگوار گذرے اور آپ معتوب ٹھہریں ۔کل اسلام آباد سے لاہور جاتے ہوئے پنڈی بھٹیاں انٹر چینج کے قریب موٹروے پولس کے انسپکٹر نے ہماری گاڑی کو رکنے کا اشارہ کیا ۔ڈرائیور نے جو پروفیشنل ڈرائیور ہے اور دن رات انہی شاہراہوں پر گاڑی چلاتا ہے فوری اشارے کی تعمیل کی اور گاڑی کی سپیڈ ،سیٹ بیلٹ وغیرہ سب چیزوں کو ایک نظر پھر دیکھا سب کچھ قانون اور ضوابط کے مطابق تھا ۔۔پٹرولنگ انسپکٹر صاحب سے روکنے کی وجہ پوچھی تو انہوں نے انتظار کا مشورہ دیا ۔اس دوران وہ ایک اور گاڑی روک کر اس کے ڈرائیور سے محو تکرار رہے ۔۔کوئی دس منٹ کے انتظار کے بعد وسیم اختر صاحب ہماری طرف آئے اور کہا کہ آپ چالان کی ٹکٹ لیں ۔جرم پوچھا تو کہا کہ آپ نے لین کی خلف ورزی کی ہے اور گاڑی تھرڈ لین میں چلائی ہے ۔ہم نے عرض کی حضور جب آپ نے ہمیں روکا ہم تو سیکنڈ لائن میں تھے اور پورے سفر میں ہم نے قانون کی کہیں خلاف ورزی نہیں کی اور گاڑی میں ڈرائیور اکیلا نہیں ہم تین بندے ہیں ۔۔انسپکٹر صاحب نے فرمایا جو بھی ہے آپ کو جرمانہ مبلغ ایک ہزار روپیہ دینا ہو گا ۔ہم نے پوچھا کیا آپ نے ہمیں خلاف ورزی کرتے دیکھا ہے ،؟جواب ملا نہیں ،ہم نے پوچھا کوئی کیمرہ گواہی ہے؟ جواب ملا کیمرے ہر جگہ تھوڑی ہیں ۔ہم نے مزید ادب سے پوچھا پھر آپ ہم پر فرد جرم کیسے لگا رہے ہیں ؟ ۔۔۔انسپکٹر صاحب نے فرمایا کہ اصل میں آپ کے پاس سے ایک گاڑی گذری ہے اس میں ایس پی صاحب تھے انہوں نے مجھے کہا ہے اس گاڑی والے کا چالان کر دو ۔ہم نے کہا کہ ایس پی صاحب نے ہمارا کوئی جرم بھی بتایا ہے ؟انسپکٹر وسیم صاحب بولے بھائی میں ان سے آپ کا جرم پوچھنے کا مجاز نہیں انہوں نے کہہ دیا چالان کر دو تو بس صاحب کا حکم سر آنکھوں پر ۔۔۔ہم نے بے بسی سے درخواست کی کہ ہماری ایس پی صاحب سے بات کروا دیں تاکہ ہم اپنا جرم جان سکیں ۔انہوں نے کہا کہ وہ مجھ سے بات نہیں کر رہے آپ سے میں کیسے بات کراؤں ۔ساتھ ہی کہا کہ یہ دوسری گاڑی جو روکی ہے وہ بھی اپنا جرم پوچھ رہا ہے اور ایس پی صاحب بات نہیں کر رہے بس انہوں نے کہہ دیا ہے کہ ان کا چالان کر دو تو بس آپ کا چالان ہو گا ۔ہم نے مزید اصرار کی کوشش کی تو انسپکٹر صاحب نے فرمایا کہ آپ نے چالان کی ٹکٹ نہ لی تو میں آپ کا ڈرائیونگ لائسنس کینسل کردوں گا اور اگر آپ نے لائسنس بھی نہ دیا تو کار سرکار میں مداخلت کی ایف آئی آر کرا دوں گا ۔ہم نے ان دھمکیوں کی قانونی حیثیت جاننے کی کوشش کی تو جھنجھلائے ہوئے انسپکٹر نے کہا کہ سر ایک ہزار روپے کی کیا اوقات ہے آپ کی اتنی بڑی گاڑی ہے آپ ایک ہزار کا چالان کروا لیں میری نوکری کا مسئلہ ہے، ایس پی ظفر صاحب میری بات نہیں سنیں گے میں نے آپ کا چالان نہ کیا تو میری وردی اتروا دیں گے ۔۔۔۔۔۔انسپکٹر کی دھمکیوں کے بعد لجاجت اور مجبوری کا اظہار اور پھر اپنے وقت کا ضیاع دیکھتے ہوئے ہم نے ایک ہزار کی ٹکٹ لی اور چل پڑے ۔سارے راستے یہ سوچتے رہے کہ اختیار ہو تو ایس پی ظفر جیسا کہ جب صاحب سلامت کی سواری موٹروے پر آئے تو باقی لوگ سر جھکا کر اور ہاتھ باندھ کر سڑک کنارے کھڑے ہو جائیں یا پھر جرمانے اور تذلیل کے لیے تیار ہو جائیں ۔واضح رہے کہ یہ پاکستان کے ایک شاندار اور سپر سٹار ادارے موٹروے کے ایک افسر کا کروفر ہے ۔۔۔۔باقی اداروں کے بیوروکریٹس کی فرعونیت کا کیا عالم ہے یہ میرے جیسا عام آدمی روز بھگتتا ہے اور پھر بھی مایوس نہیں ہوتا ۔افرین ہے
جنیف قمر صاحب کے وال سے۔
@NHMPofficial
#NHA
@CMShehbaz@abdul_aleemkhan
#Motarwaypolice