I usually don’t comment on Pakistani politics. I disagree with IK on many political issues. But this is not about politics- it’s about my children’s father, his human rights & international law. For the past few years, I’ve been bullied & harassed into silence by PML-N goons, including rape threats & countless conspiracy theories. Meanwhile Twitter/ X is banned in Pakistan, PTI party members & civilian supporters have been abducted, anyone with a platform who was speaking out is now in jail & silenced, Imran Khan’s photo and name have been censored on state television (they have even redacted his image from any coverage of Pakistan’s World Cup win of 92!)
I owe it to my children to try to create some awareness about what is happening in Pakistan. Please help in any way that you can. Thank you.
اڈیالہ جیل میں @ImranKhanPTI صاحب نے ملاقات کے دوران واضح طور پہ یہ بتا دیا ہے کہ کس جماعت میں @PTIofficial کے ممبران جا سکتے ہیں تاکہ تحریک انصاف کی خواتین کی مخصوص اور اقلیتی نشستوں کا تحفظ کیا جا سکے اور معزز منتخب ممبران قومی و صُوبائی اسمبلی کو خرید و فروخت کے گھناؤنے کھیل سے بچایا جا سکے۔اس بارے میں سب کو آج پارٹی قیادت کی جانب سے مطلع کر دیا جائے گا انشاءاللٰہ
اس کے علاوہ خان صاحب نے سختی سے حکم دیا ہے کہ پارٹی قیادت جلد سے جلد انٹرا پارٹی الیکشن کا انعقاد کروائے تاکہ تحریک انصاف کو اس کا بلّا بھی واپس مل سکے اور ہمارے منتخب ممبران قومی و صوبائی اسمبلی پارلیمان کے اندر آخرکار اپنی جماعت تحریک انصاف میں واپس جاسکیں جو ان کا آئینی سیاسی و جمہوری حق ہے۔
یاد رہے ہم سب تحریک انصاف کے امیدواران کا بیان حلفی الیکشن کمیشن میں باقائدہ موجود ہے کہ ہم تحریک انصاف کے ممبر ہیں اور اسی جماعت سے الیکشن لڑنا چاہتے ہیں۔ ہم سے ہمارا انتخابی نشان بلّا چھین کر ہمیں جبراً آزاد الیکشن لڑنے پہ مجبور کیا گیا :
لیکن الحمدللٰہ ہم تحریک انصاف میں تھے ہم تحریک انصاف میں ہیں اور ہم تحریک انصاف میں رہیں گے انشاءاللّٰہ۔
کسی بھی جماعت میں جانا ایک عارضی انتظام ہے اور جیسے ہی ہمیں ہمارا انتخابی نشان بّلا ہمیں واپس ملتا ہے اور تحریک انصاف جو کہ ملک کی سب سے بڑی جماعت ہے اس کو فسطائیت سے نجات ملتی ہے اور بطور پارلیمانی جماعت تشخص واپس بحال ہوتا ہے ہم تمام تحریک انصاف کے ممبران واپس اپنی جماعت میں ہونگے۔
انشاءاللّٰہ
میں عمران خان سمیت تحریک انصاف کی تمام لیڈر شپ اور پنجاب کی قیادت کا شکرگزار ہوں جنھوں نے وزرات اعلی کےاہم ترین منصب کے لیے مجھ پر اعتماد کیا اور نام تجویز کیا
پاکستان میں جمہوریت کی سر بلندی کے لیے عوام نے ہمیں صوبے میں بھاری مینڈیٹ دے کر کامیاب کروایا ہے عوام کے اس اعتماد کی پوری قدر کریں گے اور اس صوبے کو چوروں اور لوٹوں کی گرفت میں نہیں جانے دینگے
انشااللہ
ایک جیل میں بند خاتون کا مینڈیٹ چوری کروا کر
اور مانسہرہ سے اتنی ہزیمت کے بعد
وکٹری سپیچ نہیں
8 فروری کی شدید مذمت کروا لیں
نواز شریف کی ساڈی گل ہو گئی اے والوں سے درخواست
“انشأللہ ہم وفاق، پنجاب اور خیبر پختونخوا میں حکومت بنائیں گے-
نتائج تبدیل کرنے کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہونے دیں گے” - بیرسٹر گوہر، چئیرمین تحریک انصاف