❤️ ہمارا رہنما وزیراعظم عمران خان ❤️
💩 ناپاک فوج 💩 دھرتی پر بوجھ 🤬 مردہ آباد 🤬
ناپاک فوج سے نفرت اپنی آنے والی نسلوں کو وراثت میں دے کر جائیں گے انشاءاللّٰہ
یہ سلمان فیاض غنی لاہور کور کمانڈر تھے ان کی وردی اتنی مقدس تھی کہ اس کو لہرانے والے کو دس سال قید کی سزا ہو گئی لیکن ان کی اپنی قیمت اتنی تھوڑی ہے کہ کسی کو خبر نہیں یہ کدھر کہاں کس حال میں ہیں
اس کی جان کی قیمت اتنی سستی ہے کہ جب نو مئی کو لوگ کورکمانڈر کے گھر کی طرف بڑھ رہے تھے یہ مزید سیکورٹی کا مطالبہ کرتا رہا لیکن جو سیکورٹی اس کی حفاظت پر مامور تھی اسے بھی ہٹا دیا گیا تھا
سی سی ڈی کا سربراہ ، ہزاروں لوگوں کو ٹرائل کے بغیر ماردینے کا براہ راست ذمہ دار ریٹائرمنٹ کے بعد اپنی بقایا زندگی کینیڈا گزارے گا۔ اسکا بال بچہ بھی وہاں رہے گا۔ آئین و قانون کی بالادستی والے معاشرے میں رہے گا۔ آپ کے لیے قتل عام ہے۔ کولیٹرل ڈیمج ہے۔ پولیس مقابلے ہیں اور وغیرہ وغیرہ ہے۔
پنجاب میں بے گناہوں کا کھلا قتلِ عام جاری ہے۔ سی سی ڈی کو کھلی چھوٹ ملنے کے بعد مجرموں سے زیادہ معصوم لوگ نشانہ بن رہے ہیں۔ چکوال میں کار پر اندھا دھند فائرنگ سے معصوم بچی کی ہلاکت اس کی تازہ مثال ہے۔
میں جب اسلام آباد رہتا تھا وہاں حافظ جی ہواکرتے تھے جو ویسے تو نائی کا کام کرتے تھے لیکن ضرورت کے وقت ختنے بھی کر لیا کرتے تھے انھوں نے میرے سامنے تین لوگوں کے ختنے کیے دو کا تعلق ڈی آئی خان سے تھا اور تیسرا اسلم صاحب کا لڑکا تھا ختنے تو ہو خیر ہوگے لیکن عجیب بات یہ تھی اسے ساتھ اسلم صاحب نہیں بلکہ عقیل بھائی لاۓ تھے 🤣 کہہ رہے تھے لونڈا بڑا وفادار ہے کراچی میں بھائی لوگوں کی خوب خدمت کرتا رہا ریفرنس لیٹر بھی ساتھ لایا تھا ‼️
اخے اوورسیز یوٹیوبرز و ایکٹوسٹس بھڑکاتے ہیں گراونڈ ورکرز مشکلات جھیلتے ہیں۔
لیکن صورتحال دیکھیں ڈاکٹر شہباز گل پر تشدد ہوا ، شہزاد اکبر پر تیزاب گردی ہوئی ، عادل راجہ کے خلاف آئی ایس آئی نے مقدمہ لڑا ، ڈاکٹر معید پیرزادہ کے رشتہ داروں کو تنگ کیا ، احمد نورانی کے بھائیوں کو اغواء کیا۔ احمد علی خان ، الہ دین ، ابوبکر کے گھر والوں کو دھمکایا ، اظہر مشوانی کے بھائیوں کو اغواء رکھا ، وجاہت سعید پر ، حیدر مہدی پر مقدمات بنائے ان کے اثاثے چھینے گئے ، نذر چوہان کا گھر چھین لیا۔ کتنے ہی سوشل میڈیا ایکٹوسٹس کے گھر والوں کو رسواء کرنے کی کوشش کی گئی ، انکے گھروں کی دیواریں پھلانگیں گئیں۔ ایک طویل فہرست ہے۔
اب اوورسیز یوٹیوبرز نا تو کسی متحرک ورکر پر تنقید کرتے ہیں نا ہی کسی مجبور خاموش رہنما پر تنقید کرتے ہیں۔ اسی طرح ہزاروں لوگوں پر مقدمات ہیں ، سینکڑوں آج بھی جیلوں میں ہیں ، کئی رہنما آج تک مفرور اور روپوش ہیں۔ کبھی میاں اسلم اقبال کا ذکر نہیں ہوا ، حماد اظہر کا نہیں ہوا، اسی طرح مراد سعید کی خاموشی اور روپوشی کا دفاع کیا جاتا ہے۔ تنقید مزمل اسلم جیسے ان لوگوں پر ہوتی ہے جو ہر طرح کی سہولت لے رہے ہیں۔ اقتدار میں ہیں۔ وہ فوج جو اوورسیز اور پاکستان میں موجود لوگوں کے لیے اذیت کا باعث ہے اس کے معذرت خواہ ہیں۔ اس کا دفاع کرتے ہیں۔ الٹا تنقید کرنے والوں کو غدار قرار دیتے ہیں۔
نہایت افسوسناک صورتحال اس وقت پیدا ہوتی ہے جب قربیانیاں دینے والوں پر ، مزے لینے والوں کی آڑ میں تنقید کی جاتی ہے۔
جن شہباز گل ، مرزا شہزاد اکبر پر بدترین جسمانی تشدد ہوا ، تیزاب پھینکا گیا ، اہلخانہ اٹھائے گئے ان پر الزام تراشیاں وہ کررہا ہے جو گنڈاپور حکومت میں بھی تھا سہیل آفریدی کی حکومت میں بھی ہے۔ جو وفاق سے غیر ضروری تعاون کا بھی حامی ہے۔ جو بجٹ سرپلس کا بھی حامی ہے۔ جو عسکری منرلز بل کا بھی داعی تھا۔ جسے عمران خان حکومت میں ٹویٹس کرنے کے لیے رکھا گیا تھا۔
مزمل اسلم جیسے لوگ تحریک حقیقی آزادی پر بوجھ ہیں۔ شہباز گل اور مرزا شہزاد اکبر اس جدوجہد کے درخشاں ستارے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ یہ شکر خور عسکری اثاثے قربانیاں دینے والے اور مشکلات جھیلنے والے لوگوں کو اوورسیز ، ڈالر خور اور اس طرح کے الزامات لگا کر اپنا آپ چھپانا چاہتے ہیں۔مزمل اسلم اب بیرسٹر سیف جیسے انجام کے لیے تیار رہے۔
اس گاڑی میں ساٹھ سے زائد گولیوں کے سوراخ ہیں، ان میں سے ایک گولی اُس دس سالہ بچی کو موت کی وادی میں لے گئی جسکے چکوال سے آئے خاندان کو پہلے ڈاکوؤں نے لوٹا اور پھر محافظوں نے گولیاں مار دیں۔ بتایا جاتا ھیکہ یہ فائرنگ پنجاب کی بدنامِ زمانہ اور بھٹو دور کی فیڈرل سیکیورٹی فورس (ایف ایس ایف) کی ہم پلہ کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) پنجاب کے اہلکاروں نے کی ہے۔
اس سے پہلے ۲۰۱۹ میں ساہیوال کے قریب پنجاب کی انسدادِ دھشت گردی کے محکمے سی ٹی ڈی کے اہلکاروں نے ایک گاڑی پر فائرنگ کر کے ایک سبزی فروش، اسکی اہلیہ، بچی اور ایک جاننے والے کو قتل کر دیا تھا, لاہور کی ہی ایک انسدادِ دھشت گردی کی عدالت نے شک کا فائدہ دیکر پولیس ملزمان کو بری کر دیا تھا۔
سی ٹی ڈی کے سربراہ کو اس گاڑی اور قتل ہونے والی بچی کی تصویر اپنے دفتر میں ایک یاددھانی کے طور پر آویزاں کر دینی چاہئیے تاکہ اپنے زیر حراست اصلی ملزمان کیخلاف بھی جعلی پُلس مقابلے کی منصوبہ کرتے وقت یاد رہے کہ غلطی کے اسی امکان کے باعث ہی مہذب ملکوں میں عدالتیں بنائی جاتی ہیں۔
جناب!! آپ نے جن دو لوگوں کا نام لیا، ان میں سے ایک شہباز گل جو ہماری حکومت جانے کے بعد پہلے رہنما تھے جن پر بدترین تشدد کیا گیا، جو شاید آج تک جماعت کے کسی رہنما اور ورکر کسی پر نہیں کیا گیا، دوسرے شہزاد اکبر ہیں جن پر بیرونِ ملک حملے ہوئے اور تیزاب پھینکا گیا۔ ایسے لوگوں پر طنز کرنا اور وہی سب کہنا جو عسکری ٹاؤٹ کہتے ہیں کیا یہ سب محض اتفاق ہے؟؟ ویسے دوسروں پر انگلی اٹھانے سے پہلے اپنے سابق باس شوکت ترین پر بھی دو لفظ بول لیجیے، جنہوں نے وزارت بھی انجوائے کی، سینیٹرشپ بھی انجوائے کی، لیکن جیسے ہی مشکل وقت آیا، خاموشی اختیار کر کے منظر سے غائب ہو گئے۔
رہی بات یوٹیوب پر روزی روٹی کی تو شہباز گل نے یوٹیوب عمران خان کے کہنے پر شروع کیا تھا اور آج بھی وہی مؤقف پیش کر رہے ہیں جو عمران خان اور تحریکِ انصاف کے مفاد کے مطابق ہے۔ اختلاف کیا جا سکتا ہے، جو ہم نے بھی کئی مرتبہ کیا، لیکن اختلافی رائے کو ذاتی مفاد یا ویوز کی بھوک قرار دینا تو کھلم کھلا عسکری بے غیرتی ہے۔
اگر سرپلس بجٹ کے بدلے سیاسی مطالبات یا رعایتیں حاصل کرنے کی تجویز غلط ہے تو ضرور بتائیں، جس وزیر اعظم کی آپ تعریف کرتے ہیں وہ کٹھ پتلی ہی سہی لیکن اس کی حکومت میں ہمارا لیڈر گزشتہ تین سال سے جیل میں قیدِ تنہائی کاٹ رہا ہے، اس کی حکومت میں ہمارے ورکرز کے سروں میں گولیاں ماری گئیں اور آپ جناب جو کے پی میں عمران خان کی جماعت کی حکومت کے ترجمان ہیں اس وزیرِ اعظم کے صدقے واری جا رہے ہوتے ہیں۔
جو لوگ عمران خان کے ساتھ وفادار ہیں ان کے بیانیے کا بوجھ اٹھا رہے ہیں، ان کے حقوق اور ان کے کارکنوں کے لیے آواز اٹھا رہے ہیں، ان پر عسکری لہجے میں حملے کرنے کے بجائے بہتر ہوگا کہ ان نکات کا جواب دیا جائے جو وہ اٹھا رہے ہیں۔
آخر میں سے بس اتنا پوچھنا ہے کہ کیا آپ نے یہ ٹویٹ وزیرِ اعلیٰ کے کہنے پر کیا ہے؟؟
ایک ہی کہانی آخر بدل بدل کر کتنی ہی بار کی جاسکتی ہے؟ فوج کو عمران خان سے جس تابعداری کی امید ہے وہ انہیں شریف و زرداری خاندان سے مل رہی ہے۔ فوج کو آج بھی لگتا ہے معاشی تباہی ایک دو وزیر بدلنے سے رک جائے گی اور داخلی بدامنی کو رینجرز کی کچھ مزید گاڑیاں روک سکتی ہیں۔ عمران خان کیساتھ نا تو فوج مذاکرات کررہی ہے نا کرے گی ، نا ہی عمران خان رہا ہونے والا ہے۔ جس دن عوامی ، معاشی ، عالمی یا سیاسی دباؤ میں سے ایک فوج پر حاوی ہوا اس روز عمران خان رہا ہوجائے گا۔
انڈیا میں آج پرانا آرمی چیف خاموشی سے اپنا وقت پورا کرگیا اور نیا آرمی چیف بھی لگ گیا، کوئی ملکی مفاد ، نازک دوڑ، کوئی تاحیات استنثیٰ لینے کی ضرورت نہیں پیش آئی، نیا چیف 30 جون سے عہدہ سنبھال لے گا۔ کوئی ملازمت مدت توسیع نہیں ہوئی۔
یہی وجہ ہے جمہوریت اور ترقی کی۔
𝙒𝙝𝙚𝙧𝙚 𝙞𝙨 𝙄𝙢𝙧𝙖𝙣 𝙆𝙝𝙖𝙣?
A few simple questions. No politics, just transparency, accountability, and the right to know.
If everything is lawful and transparent, let the facts be independently verified.
@PakPMO@UN@amnesty@hrw@Reuters@AP#WhereIsImranKhan
#EndKhansIsolationNow
یہ ان معصوم بچوں کی لاشیں ہیں جو ٹرمپ کے پالتو فیلڈ مارشل عاصم 'یزید' منیر کے احکامات پر افغانستان میں دو راتوں پہلے پاکستانی فوج کی بمباری میں شہید کردیے گئے۔ ان کے علاوہ بھی کئی معصوموں کی مسخ شدہ لاشوں کی تصویریں ثبوت کے طور پر موجود ہیں!
اور یہ پہلی بار نہیں ہے۔ جس فوج اور جرنیل کے منہ کو معصوموں کا خون لگ جائے، وہ یزیدی ٹولا بن جاتا ہے، پروفیشنل فوج نہیں رہتا۔ پاکستان میں بھی عاصم یزید کی زیر کمان ایسے ہی مظالم ڈھائے جارہے ہیں تاکہ خوف کا راج ہو۔ پھر چاہے وہ کشمیر ہو یا کراچی، یزید کا طریقہ کار آج بھی کربلا کا ظلم ہے۔ اور اس ظلم کیخلاف آواز ء حق بلند کرنا ہی دراصل اصل جہاد ہے۔
ہم اپنے افغان بہن بھائیوں کیساتھ ہیں۔
یزید کے ہر ظلم کا حساب ہوگا۔