@Banariyousuf@yasminkhalid1 ھاھاھا اگر تمہیں تعلیم نہ ہوتی تو تم کشیدہ کاری کررہی ہوتی،جسکی وجہ پیسہ کماتی اور رزق آجاتا مگر تم یہاں سوشل میڈیا پہ منہ مار رہی ہو
ماں برائے فروخت
خلیجی ملک میں ایک شادی کی تقریب بڑی دھوم دھام سے جاری تھی، دولہا دلہن بڑی شان و شوکت کے ساتھ اسٹیج پر براجمان تھے۔ دلہن نے دولہا کے کان میں کہا: اپنی ماں کو اسٹیج سے اتار دو کیونکہ میں اسے ناپسند کرتی ہوں۔"
دولہا اٹھا، مائیک پکڑا اور تین دفعہ اعلان کیا مجھ سے میری ماں کون خریدے گا؟" اعلان سن کر حاضرین پر سناٹا طاری ہو گیا۔ پھر دولہا بولا: "میں اپنی ماں کو خود ہی خریدوں گا۔"
اس نے شادی کی انگوٹھی اتار کر پھینک دی اور دلہن کو طلاق دے دی اور ماں کے قدموں پر بوسہ دیتے ہوئے کہا: میں نے نفع کا سودا کیا ہے۔"
حاضرین میں سے ایک آدمی نے کھڑے ہو کر اعلان کیا: "میں" اس نوجوان کے ساتھ اپنی بیٹی کا نکاح کرتا ہوں اور کہا اس سے بہتر میری بیٹی کو خاوند نہیں مل سکتا۔" اس نوجوان نے دنیا بھی کمالی اور اپنی جنت (ماں) بھی پالی....
الله پاک ہم سب کو اپنے والدین کا فرمانبردار بنائے۔
آمین
زرمبش ٹی وی کاپہلا پرومو جاری
زرمبش میڈیا نے باقاعدہ طورپرایک نئے دورکاآغاز کرتے ہوئے اپناپہلا پروموجاری کر دیا ہے۔زرمبش اب ایک مکمل ڈیجیٹل اسٹیڈیوکی صورت اختیارکر چکا ہے،جہاں سے بلوچی زبان میں خبریں اورپروگرام پیش کیے جائیں گے
https://t.co/rWmLaYaaia
https://t.co/Q2Ug3fMEuM
یہ لاش میری لاش ہے، یہ بلوچ قوم کی لاش ہے۔ یہ کسی ماں کے جگر کا ٹکڑا ہے، کسی بہن کے ارمانوں کی لاش ہے، جسے ایک “اسلامی ریاست” کی فورسز نے بغیر کفن اور آخری رسومات کے دفن کر دیا۔ کیا بلوچ قوم اب بھی خاموش رہے؟
اب خاموشی جرم ہے، ظلم کے خلاف آواز اٹھانا ہمارا فرض ہے۔