ایم کیو ایم امریکہ کے زیر اہتمام قائد تحریک جناب الطاف حسین کی 73 ویں سالگرہ اٹلانٹا میں انتہائی جوش و خروش کیساتھ منائی گئ۔
رکنِ رابطہ کمیٹی مطلوب زیدی، سینٹرل آرگنائزر ایم کیو ایم امریکہ محب خان، جوائنٹ آرگنائزر خورشید الحق سمیت ذمہ داران و کارکنان اور ہمدردوں کی بڑی تعداد میں شرکت
#17SepBirthdayOfAltafHussain
اٹلانٹا، جارجیا، 19 ستمبر 2026ء:
متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) امریکہ کے زیرِ اہتمام قائدِ تحریک جناب الطاف حسین کی 73ویں سالگرہ کے سلسلے میں مرکزی تقریب بروز ہفتہ، 19 ستمبر 2026ء کو اٹلانٹا، جارجیا کے النور بینکوئٹ ہال میں جوش و خروش کے ساتھ منعقد ہوئی جس میں رکنِ رابطہ کمیٹی مطلوب زیدی، ایم کیو ایم امریکہ کے سینٹرل آرگنائزر محب خان، جوائنٹ آرگنائزر خورشید الحق، اٹلانٹا چیپٹر کے ذمہ داران و کارکنان سمیت امریکہ کے مختلف علاقوں سے آنے والے کارکنان اور ہمدردوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اس موقع پر سینٹرل آرگنائزر محب خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ 17ستمبر جہاں مظلوم و محروم عوام کے لیے خوشی کا دن ہے وہاں ایم کیو ایم کے کارکنان کے لئے " تجدید عہد وفا " کا دن بھی ہے کہ جب ہمیں اس بات کا فیصلہ کرنا ہے کہ ہمارا ہر عمل، ہمارا ہر کردار اور ہمارا ہر قدم جناب الطاف حسین کی تعلیمات اور ان کی تربیت کے عین مطابق ہوگا۔ انہوں نے اپنی جانب سے ایم کیو ایم کے تمام زمہ داران و کارکنان کو قائد تحریک جناب الطاف حسین کی سالگرہ پر مبارکباد دیتے ہوئے اس بات کا عزم کیا کہ وہ کٹھن سے کٹھن گھڑی میں بھی خون کے آخری قطرے تک قائدِ تحریک جناب الطاف حسین کا ساتھ نبھائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج پاکستان کے مظلوم عوام قائد تحریک جناب الطاف حسین کو اپنا نجات دہندہ سمجھتے ہیں۔ تقریب کے اختتام پر فنکاروں نے ایم کیو ایم کے نغمے گائے اور اس کی دھن میں خواتین و بچوں اور کارکنان نے قائد تحریک جناب الطاف حسین کی 73ویں سالگرہ کا کیک کاٹا اور شرکاء نے انہیں دلی مبارکباد پیش کی۔ شرکاء نے الطاف حسین کی صحت و سلامتی اور درازی عمر کے لیے خصوصی دعائیں بھی کی۔
متحدہ قومی موومنٹ
شعبہ نشرواشاعت یو ایس اے
پنجاب : ایم کیو ایم پنجاب زون کے وفا پرست کارکنان کی جانب سے لاہور داتا گنج بخش دربار میں قائد تحریک جناب الطاف حسین بھائی کی درازی عمر اور صحت یابی کے لیے خصوصی دعا کی گئی اور چارد چڑھائی گئی۔
@ZahidGishkori 17 ستمبر کو MQM کے بانی و قائد الطاف حسین کی سالگرہ کے روز لندن میں گھر پر نقاب پوشوں کا حملہ اور 19 ستمبر کو لندن میں سالگرہ کے مرکزی اجتماع کے موقع پر 10 سال پرانی رپورٹ نشر کرنا اسلام آباد میں بیٹھے دشمنانِ الطاف کی بدحواسی اور بوکھلاہٹ کو ظاہر کرتا ہے۔
شرم ان کو مگر نہیں آتی
Release of a Special Anthem on the occasion of the 73rd Birthday of Founder & Leader Altaf Hussain of MQM
“Altaf Hussain Zaroori Hay”
https://t.co/7e83mfbOVa
#17SepBirthdayOfAltafHussain#LongLiveAltafHussain#MQM
بانی وقائد جناب الطاف حسین کی 73ویں سالگرہ کے موقع پر تقریب میں شریک امریکہ کے سینئر صحافی اور کالم نویس زاہد اختر خانزادہ کا لائق مطالعہ بہترین کالم
ضرور پڑھئیے 👇
https://t.co/KxziEqDVr6
❤️ایم کیوایم کے بانی وقائد الطاف حسین نے ماضی کے مخالف طارق چوہدری کوگلے لگایا
#17SepBirthdayOfAltafHussain
ہمیں الطاف بھائی کے خلاف ٹرک کی بتی کے پیچھے لگایا ہوا تھا، الطاف بھائی عظیم انسان ہیں۔ طارق چوہدری
برطانیہ کے ماہرقانون عمران بشیر نے اسٹیج پرآکر جناب الطاف حسین کوسالگرہ کی مبارکباد پیش کی۔
پوری قوم الطاف بھائی کاراستہ دیکھ رہی ہے اورالطاف بھائی کے ساتھ کھڑی ہے۔ سیدتسنیم حیدر
لندن …… 22 ستمبر 2026ء
لندن میں ایم کیوایم کے بانی وقائد جناب الطاف حسین کی 73 ویں سالگرہ کے اجتماع میں مختلف تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی جن میں پاکستان پیٹریاٹک فرنٹ کےچیئرمین طارق چوہدری بھی شریک تھے۔ جو کبھی جناب الطاف حسین کے شدید مخالف تھے اوران کی رہائش گاہ پراحتجاجی مظاہرے کرنے والوں میں شامل تھے۔ جناب الطاف حسین نے انہیں تقریب میں دیکھا تو اسٹیج پر بلایا،طارق چوہدری نے جناب الطاف حسین سے گلے لگ کر انہیں سالگرہ کی مبارکباد پیش کی۔ اس موقع پر طارق چوہدری نےکہا کہ خدا کی قسم ہمیں الطاف بھائی کےخلاف ٹرک کی بتی کے پیچھے لگایا ہوا تھا، جب ہمیں اپنی غلطی کااحساس ہوا تو میں نے ٹی وی پر آکرالطاف بھائی سے معافی مانگی، بھائی نےمجھے گلے سے لگایا، الطاف بھائی عظیم انسان ہیں۔ طارق چوہدری نے ”الطاف بھائی …زندہ باد“ کانعرہ بھی لگایا۔
اس موقع پر برطانیہ کے ماہرقانون اورتھنک ٹینکر عمران بشیر نے بھی اسٹیج پر آکر جناب الطاف حسین کو گلے لگ کر سالگرہ کی مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے برطانیہ میں آباد مسلم کمیونٹی کے بارے میں پائی جانےوالی نفرت کے خاتمے اور امن وبھائی چارے کے چارٹر کو ایک فریم کی شکل میں جناب الطاف حسین کو پیش کیا۔جناب الطاف حسین نے ان کی کاوش کو سراہا اور ان کا شکریہ ادا کیا۔
اس موقع پر انجمن سادات یوکے کے سربراہ سید تسنیم حیدر نےخطاب کرتے ہوئے جناب الطاف حسین کو ان کی 73 ویں سالگرہ کی مبارکباد پیش کی اور کہا کہ پوری قوم الطاف بھائی کاراستہ دیکھ رہی ہے اور الطاف بھائی کے ساتھ کھڑی ہے اور انہیں ہیپی برتھ ڈے کہتی ہے۔
I am prepared to offer my full support to Field Marshal Asim Munir to assist in fixing the country's system. Altaf Hussain
....................
Pakistan may seem like a free nation, but how many of us can say we are really free? The citizens of Pakistan are not just animals, and we need to fight for real freedom. In the past, we were under the rule of the white British, and now the black British have taken over Pakistan. Former Prime Minister Imran Khan often mentioned this in his talks, which is why the supporters of Pakistan Tehreek-e Insaf chant, “We will gain our freedom.”
In Pakistan, Imran Khan, Altaf Hussain, Baloch people, Pashtuns, Sindhis, Muhajirs, and Kashmiris are being called disloyal. If this is true, then who gets to be called loyal to the nation? The well-known Pashtun leader Bacha Khan was also labeled as disloyal. In 1986, when I spoke at the first political gathering of the MQM at Nishtar Park in Karachi, I stated that I believed Bacha Khan and Sain G M Syed were not disloyal but instead were heroes of freedom.
Today, every aware person in Pakistan is recognizing that we have learned a twisted version of our nation’s past.
When Imran Khan, the founder of PTI, called for true freedom, he was jailed as a result. He has been locked up in Adiala Jail for the last three years. The big question is: what are the PTI officials in the Senate, National Assembly, and provincial assemblies doing after getting their positions to help free Imran Khan?
Today, individuals from all areas and speakers of various languages are clearly stating that, while Pakistan might seem like a self-governing nation, its citizens do not enjoy true freedom. For this reason, I urge those in power and influential groups in the nation: please, for the sake of all that is good, pay attention to the people's concerns and see it as a serious message from a higher power. Do not distance the people from Pakistan, and put an end to the oppressive and forceful rule in the nation.
I would like to know from the people of Pakistan: what do you think is the answer to the current situation in the country?
May God give our organizations the insight and strength to think and comprehend. Pakistan is owned by its organizations just like it is owned by its citizens. Please have discussions with political groups.
Instead of making tensions worse, talk with those you have issues with and clarify what rights the organizations and citizens hold according to the Constitution of Pakistan. Instead of fighting each other, every organization and every person should act within their own constitutional boundaries.
I am willing to provide my complete support to Field Marshal Syed Asim Munir. If I get the chance, I am ready to go to Baloch, Pashtun, Kashmiri, Sindhi, and every other community. I am open to discussions with all political and religious groups, as well as the entire military leadership.
Many people have already lost their lives due to fights and disagreements. It is time for us to rethink our strategies. Personally, I do not wish to be President or Prime Minister.
Yesterday, I stood against the old and unfair system, and I am standing against it today too. I will keep fighting against it until the nation’s system is fixed.
My fight is for the importance of the Constitution and laws in the nation, for a just system to be created, and for every organization to function according to its constitutional boundaries. We need a strict approach to get rid of corruption in the country.
1/2
شہید انقلاب ڈاکٹر عمران فاروق تحریک کا سرمایہ تھے، ان کی شہادت تحریک کا ناقابل تلافی نقصان تھا۔ تمام وفاپرست ڈاکٹر عمران فاروق شہید کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں اور دعا گو ہیں کہ خدا تعالیٰ ان کی قربانیوں کو قبول فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے
#شہید_انقلاب_ڈاکٹر_عمران_فاروق
برطانیہ کی سیاسی وکاروباری شخصیت سید تسلیم حیدر کامعروف پوڈ کاسٹر فراز سے گفتگو میں حقیقت پسندانہ تجزیہ
@OfficialMQM کے بانی وقائد جناب @AltafHussain_90 عوام کے دِلوں پر راج کرتے ہیں اگر ان پر سے پابندی ہٹائی گئی تو وہ چند گھنٹوں کے نوٹس پر عظیم الشان جلسہ منعقد کرسکتے ہیں
بدقسمتی سے پاکستان آزاد نہیں ہے بلکہ کرائے پرچل رہاہے، اس کاخرچہ، امریکہ، آئی ایم ایف، ورلڈبینک اورمغربی ممالک کی امداداورقرضوں پر چل رہاہے، ملک چلانے کےلئے ایک پیسہ اعلانیہ دیاجاتاہے اور دوسرا غیراعلانیہ اورانڈر ٹیبل دیا جاتا ہے۔ عالمی سامراجی قوتیں جس طرح پہلے طاقتور اور بااثرتھیں،آج بھی ویسے ہی ہیں، وہ اپنے مفادات کے حصول کے لئے اپنے ممالک کے عوام کارخ جس طرح چاہیں موڑدیتے ہیں اور ہم ان سازشوں کا شکارہوجاتے ہیں جیسے ہندوستان کی تقسیم کے وقت ہندوستان کے عوام ان سازشوں کاشکارہوگئے۔
قائداعظم محمد علی جناح کوانگریزوں نے جھوٹ اورمکروفریب کے ذریعے اپنے جال میں پھنسایا اورپھر اپنے طے شدہ منصوبے کے تحت ہندوستان میں ایسے حالات پیدا کردیے کہ ہندو اورمسلم تقسیم کی جاسکے۔ اس تقسیم کیلئے انہیں ہندوستان میں فسادات اورخون خرابےکی ضرورت تھی توپھرحالات کو قابو میں رکھنے کیلئےصلح جوئی اوربات چیت کی کوئی ضرورت ہی نہیں تھی۔
ہندوستان کی تقسیم کی سازش کی تکمیل کیلئے ایک طرف دوقومی نظریہ پیش کیاگیا کہ ہندواورمسلمان الگ الگ ہیں، اب ایک ساتھ نہیں رہ سکتے۔اسی سازش کے تحت ہندوستان میں ہندو مسلم فسادات کرائے گئے اورلوگوں کے مذہبی جذبات بھڑکانے کیلئے مسجد کے دروازے کے آگے سور اورمندرکے دروازے کے آگے گائے کاٹ کرڈال دی جاتی تاکہ مسلمانوں اورہندوؤں کے مذہبی جذبات کو بھڑکاکر انہیں مشتعل کیاجاسکے حالانکہ یہ عمل نہ مسلمان کیاکرتے تھے اورنہ ہی ہندو کیاکرتےتھے۔ قائداعظم کو فسادات اورکشت وخون کی تصاویر اور خبریں دکھائی جاتی تھیں جنہیں دیکھ کر قائداعظم محمد علی جناح انگریزوں کے اس مؤقف پر قائل ہوگئےکہ ہندو اور مسلم اب ایک ساتھ نہیں رہ سکتے لہٰذا ہندوستان کی تقسیم ناگزیر ہے۔
انگریزوں کو ہندوستان میں ایک ایسے خطے کی ضرورت تھی جو انگریزوں کے ہندوستان سے چلے جانے کے بعد بھی سلطنت برطانیہ کے مفادات کیلئے کام کرتارہے اور وہاں انگریزوں کے وفاداروں کاکنٹرول ہو۔
1914ء میں پہلی جنگ عظیم،1919ء میں سانحہ جلیانوالہ باغ اور1939ء میں دوسری جنگ عظیم میں موجودہ پاکستان کے صوبہ پنجاب اور خیبر پختونخوا کے لوگ برطانوی فوج میں شامل تھے اورسلطنت برطانیہ کے وفاداروں میں سرفہرست تھے، انگریزوں نے تقسیم ہند کاٹھیکہ انہی فوجیوں کو دیاتھاجبکہ قائداعظم کو انگریزوں نے محض ڈھال بناکررکھاتاکہ دنیاکو دکھایا جاسکےکہ قائداعظم مسلمانوں کےرہنما ہیں۔ہندوستان کی تقسیم انگریزوں کے سازشی منصوبے کاحصہ تھا، انگریزوں نے ہی ہندوستان میں ہندواورمسلم کی تفریق پیدا کی اورانگریزوں نے ہی 1885ء میں آل انڈین نیشنل کانگریس اور1906ء میں آل انڈیا مسلم لیگ بنوائی تھی جس کااحساس آل انڈین نیشنل کانگریس کے رہنماؤں کو نہیں تھا جبکہ مسلم لیگ کے رہنماؤں کو ہندوستان کی تقسیم کی سازش سے کوئی غرض نہیں تھی اوروہ انگریزوں سے وفاداری کاحلف اٹھاچکے تھے۔
متحدہ ہندوستان کے سب سے بڑے مبلغ کرم چند گاندھی ہندوستان کی تقسیم کے سخت خلاف تھے،انہوں نے ہندوستان کو متحد رکھنے کیلئے اپنی پوری زندگی وقف کردی تھی اور ہندوستان کی تقسیم کیلئے انگریزوں کی کسی بھی دلیل کو ماننے کیلئےتیارنہیں تھے لہٰذا انگریز انہیں اپنی سازشوں کا شکارنہیں بناسکے۔ جب ہندوستان میں ہندومسلم فسادات اپنے عروج پر پہنچے تو ان فسادات کورکوانے کیلئےکرم چند گاندھی نے تادم مرگ بھوک ہڑتال کی اورمطالبہ کیا کہ ہندو مسلم فسادات بند کیے جائیں۔کرم چند گاندھی کی یہ سوچ دیکھ کرہی انگریزوں نے آل انڈین نیشنل کانگریس کی تشکیل کی اور اس کے پہلے بانی ایک انگریز ریٹائرڈ سول سرونٹ Allan Octavian تھے۔ کانگریس کے رہنماء یہ راز نہیں سمجھ سکے کہ آخر ایک برطانوی سول سرونٹ Allan Octavian کو کیاضرورت تھی کہ وہ ہندوستان کی آزادی کے لئے کوئی جماعت تشکیل دیں اورانگریزوں کے خلاف آزادی کی تحریک چلائیں۔انگریزوں نے ہندوستان کی تقسیم کے منصوبے کے تحت ایک طرف قائداعظم محمدعلی جناح کو مسلمانوں کولیڈر اور دوسری طرف جواہر لال نہرو کو ہندوؤں کارہنمابنایا۔انگریزوں کے منصوبے کے تحت ہندوستان تقسیم ہوگیا اور قائداعظم محمد علی جناح پاکستان کے پہلے گورنر جنرل کے منصب پر فائز ہوئے۔لیکن قائداعظم محمدعلی جناح کو آزادی کے فوری بعد اندازہ ہوگیاتھا کہ تقسیم کے پیچھے اصل مقاصد کیاہیں۔ وہ ایک جمہوریت پسند تھے اورپاکستان کوایک حقیقی معنوں میں جمہوری ممالک بناناچاہتے تھے جہاں رہنے والے تمام شہریوں کومساوی حقوق میسرہوں اورفوج اور تمام ادارے اپنااپناکام کریں۔ 14جون 1948ء کوگورنرجنرل کی حیثیت سے کوئٹہ اسٹاف کالج میں فوج کے افسران سے خطاب کے دوران قائداعظم محمدعلی جناح نے واضح اوردوٹوک الفاظ میں کہاکہ ”فوج کاکام صرف سرحدوں کادفاع کرناہے، حکومتی معاملات سے فوج کاکوئی لینادینا نہیں ہے“
22 مئی 2026 کو حیدرآباد سینٹرل جیل کے باہر سے لاپتہ کیے گئے ایم کیو ایم کے سینئر کارکنان عبدالمجید بھٹی، محمد اقبال آرائیں اور حسنات احمد تاحال لاپتہ، فوری اور بحفاظت بازیاب کیا جائے — ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی
21 دسمبر 2025 سے سابق رکنِ پارلیمنٹ نثار احمد پنہور اور محسن پنہور جبکہ 17 اپریل 2026 سے سینئر فوٹو جرنلسٹ فیصل مجیب بھی تاحال لاپتہ — اہلِ خانہ شدید ذہنی اذیت اور بے یقینی کا شکار
ایم کیو ایم کے تمام لاپتہ افراد کو فوری بازیاب کرکے عدالت میں پیش کیا جائے، متعلقہ ادارے اور انسانی حقوق کی تنظیمیں مؤثر آواز بلند کریں — ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی
لندن۔۔۔ 19 اگست 2026ء
متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) رابطہ کمیٹی نے 22 مئی 2026 کو حیدرآباد سینٹرل جیل کے باہر سے ایم کیو ایم حیدرآباد کے سینئر کارکنان عبدالمجید بھٹی، محمد اقبال آرائیں اور حسنات احمد کو حراست میں لے کر لاپتہ کیے جانے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان کی فوری اور بحفاظت بازیابی کا مطالبہ کیا ہے۔
رابطہ کمیٹی نے کہا کہ مذکورہ کارکنان حیدرآباد سینٹرل جیل کے اندر قائم عدالت میں انسدادِ دہشت گردی عدالت کے مقدمے کی کارروائی میں شرکت کے بعد باہر آئے تھے، جس کے بعد انہیں حراست میں لے لیا گیا۔ کئی ماہ گزرنے کے باوجود نہ انہیں کسی عدالت کے سامنے پیش کیا گیا اور نہ ہی اہلِ خانہ کو ان کے مقام، خیریت یا قانونی حیثیت سے آگاہ کیا گیا ہے۔
رابطہ کمیٹی نے مزید کہا کہ سابق رکنِ پارلیمنٹ نثار احمد پنہور اور ان کے صاحبزادے محسن پنہور 21 دسمبر 2025 سے جبکہ ڈان نیوز سے وابستہ سینئر فوٹو جرنلسٹ فیصل مجیب 17 اپریل 2026 سے تاحال لاپتہ ہیں۔ ان کے اہلِ خانہ مسلسل شدید ذہنی اذیت اور بے یقینی کا شکار ہیں۔
ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی نے کہا کہ اگر کسی شہری کے خلاف کوئی الزام یا مقدمہ موجود ہے تو اسے قانون کے مطابق فوری طور پر عدالت کے سامنے پیش کیا جائے۔ کسی شہری کو عدالتی نگرانی اور قانونی طریقۂ کار کے بغیر طویل عرصے تک لاپتہ رکھنا بنیادی انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی کے منافی ہے۔
رابطہ کمیٹی نے وفاقی حکومت، حکومتِ سندھ، عدلیہ، وزارتِ داخلہ، قانون نافذ کرنے والے اداروں، قومی کمیشن برائے انسانی حقوق اور دیگر متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ عبدالمجید بھٹی، محمد اقبال آرائیں، حسنات احمد، نثار احمد پنہور، محسن پنہور اور فیصل مجیب کی فوری اور بحفاظت بازیابی یقینی بنائی جائے۔
رابطہ کمیٹی نے اقوامِ متحدہ، انسانی حقوق کی قومی و بین الاقوامی تنظیموں، سیاسی جماعتوں، سول سوسائٹی، وکلاء اور صحافی برادری سے بھی اپیل کی کہ وہ متاثرہ خاندانوں کی آواز بنیں اور تمام لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے مؤثر کردار ادا کریں۔
رابطہ کمیٹی نے کہا کہ اگر یہ افراد کسی ادارے کی تحویل میں ہیں تو انہیں فوری طور پر عدالت کے سامنے پیش کیا جائے، اور اگر ان کے خلاف کوئی قانونی مقدمہ موجود نہیں تو انہیں بلا تاخیر بحفاظت رہا کیا جائے۔
•••••
میر رضا قتل کیس: پولیس کی نئی تحقیقاتی ٹیم کی انویسٹی گیشن نےمزید سوالات کو جنم دیدیا۔
نئی تحقیقاتی ٹیم بھی قتل کو خود کشی ثابت کرنےکی کوشش کررہی ہے۔
آخر پولیس کا محکمہ کس کےکہنے پرکسے بچانے کی کوشش کررہا ہے؟
#MirRaza#JusticeForMirRaza#JusticeForMirRazaAli
22اگست 2016 کے بعد سے آج تک کراچی سمیت سندھ کے شہری عوام کی بنیادی سہولیات سے محرومی،
ظالم وڈیروں کے جابرانہ تسلط، جان ومال اورعزت وآبرو کے عدم تحفظ کااصل ذمہ دارضمیر فروش اور احسان فراموش ٹولہ ہے ہے
مہاجرعوام اس ٹولے کابھرپور بائیکاٹ کرے
#یوم_عزم_وفا_22_اگست