Indians and Pakistanis are essentially the same people, divided by borders and kept divided by politicians on both sides who benefit politically—and perhaps financially—from hostility.
Imagine if India and Pakistan signed a real peace treaty. Trade, tourism, investment, culture and human connections could explode.
The economic upside could be enormous.
So I keep wondering: who benefits from keeping us enemies?
پاکستان کے دانشور طبقے میں غلامی اتنی گہری ہے کہ جب تک یورپ اور امریکہ وغیرہ میں بڑے بڑے مظاہرے فلسطین پر ظلم کے خلاف نہیں ہوئے، تب تک پاکستانی دانشور اس ظلم کو جائز ثابت کرنے پر تلے ہوئے تھے۔ پھر ان کو پتہ چلا کہ مغرب اسے غلط کہہ رہا ہے تو غلط ہی ہوگا۔
ہم جیسے پینڈو ڈگری بھی مکمل کر گئے اور اپنے برے بھلے accent کے ساتھ کئی سال سے بیرون ملک کام بھی کر رہے ہیں ۔ آج تک کسی انگریز نے مذاق نہیں اڑایا بلکہ تعریف کرتے ہیں کہ ایک سے زیادہ زبانیں بول لیتے ہیں جو وہ خود نہیں بول سکتے ۔ ہمیں بھی اس احساسِ کمتری سے باہر نکل آنا چاہئے ۔۔
Genuinely crazy how, in a country of 250 million, it takes the threat of carving up provinces to force provincial elites to begrudgingly agree to hold local govt elections after *11 years*. And you'll still see people defending this bizarre status quo in the name of 'democracy'.
Je voudrais vous parler d’un livre qui déplace nos certitudes.
Dans Les Mots et les choses, Foucault montre que chaque époque pense à l’intérieur d’un cadre invisible, d’une grammaire du possible, et que cet ordre change sans que nous en ayons conscience.
Il nous dit que nos débats portent sur des cadres de pensée avant de porter sur des opinions, et que contrôler le savoir, c’est contrôler le possible.
Il nous dit aussi qu’une société qui oublie que ses catégories sont construites les transforme en essences, ce qui constitue le premier pas vers la déshumanisation.
Lisons Foucault et gardons quelques gestes simples d’humanité : quand un débat s’enflamme, demandons-nous qui a le pouvoir de nommer, de définir, de classer. Quand une technologie promet l’objectivité, demandons-nous quel tableau elle construit et à qui il profite.
Quand une société devient dure, demandons-nous quel « homme » elle fabrique. Notre époque se croit moderne parce qu’elle possède des machines puissantes.
La vraie modernité serait de garder la liberté de penser autrement qu’elles, de rappeler que derrière les mots il y a des choses, et derrière les choses des vies. Si nous perdons ce lien, nous perdrons plus qu’un débat, nous perdrons notre humanité.
مشترکہ دفاع عموما” مشترکہ دشمن کے خلاف ہوتا ہے۔ دشمن مشترک نہ ہو تو دفاعی تعاون تو ہو سکتا ہے، مشترکہ دفاع نہیں۔ پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے دشمن الگ الگ ہیں۔ اس معاہدہ کے نتیجہ میں وسائل اور دفاعی سازو سامان کی ساخت میں تعاون تو بڑھ سکتا ہے لیکن مسلم نیٹو نہیں بنے گی
کچھ زیادہ ہی تعریفیں کر دیں برطانوی نظام کی۔ ان کے سیاستدان بھی پیسہ بناتے ہیں ۔ ان کے سورس مختلف ہیں۔ فنڈنگ لابیز کیلیے کام کرتے ہیں۔ نسبتا کم کرپشن ہے، جس کی کئی سماجی ، سیاسی وجوہات ہیں۔
میرا کالم/رئوف کلاسرا
ویسے عجب کہانی ہے۔ ہمارے ہاں خان صاحب نے تین سال جیل میں رہنا پسند کر لیا لیکن ڈیڑھ سال اپوزیشن میں بیٹھنا منظور نہیں کیا۔ شہباز شریف نے بھی اپنی کارکردگی کو اپنے وزیر کی زبانی ایکسپوز اور اپنا سرِعام احتساب کرانا منظور کر لیا لیکن وزیراعظم کی کرسی نہیں چھوڑی۔ یہی فرق ہے ہمارے اور برطانوی وزرائے اعظم میں جہاں ساتواں وزیراعظم حلف لے چکا ہے۔
مکمل کالم
👇
https://t.co/9UtIx1AwMK
@klasraraufاخے یورپ کے وزیراعظموں کے زاتی اور کاروباری مفادات نہیں ہوتے۔ As if you hadn’t heard of Epstein class. Pakistani journalists are perfect combination of ignorance and arrogance.
فرائیڈے کالم /رئوف کلاسرا
مجھے یاد ہے کہ جب لندن میں تھا تو وہاں اکثر دوست لندن میں رہنے کے فوائد گنواتے تھے۔ میں انہیں مذاق میں کہتا کہ کیا ٹونی بلیئر سے آپ کی دوستی ہو تو وہ آپ کو بغیر ٹیسٹ ڈرائیونگ لائسنس بنوا کر دے سکتا ہے؟
وہ ہنس کر کہتے: اس کی اپنی بیوی پیشیاں بھگت رہی ہے کہ وہ بغیر ٹکٹ ٹرین پر سوار ہو گئی اور جب پکڑی گئی تو کہا: ٹکٹ مشین کام نہیں کر رہی تھی۔ لیکن ریلوے حکام نے کہا کہ وہ غلط بیانی سے کام لے رہی ہے۔ سٹیشن پر ٹکٹ مشین کام کر رہی تھی‘ اس نے خود ٹکٹ نہیں لی۔ یہاں وزیراعظم کی اپنی بیوی کی جان پر بنی ہوئی ہے اور تم کہتے ہو کہ ہمیں بغیر ٹیسٹ کے ڈرائیونگ لائسنس بنوا دے۔
اس پر میں نے کہا کہ پھر ایسے ملک میں رہنے کا کیا فائدہ جہاں وزیراعظم کی بیوی بھی ٹکٹ کی معمولی بات پر پیشیاں بھگت رہی ہو۔
ہمارے ہاں کوئی بھی وزیراعظم بنتا ہے تو وہ پارلیمانی پارٹی کے ووٹ سے نہیں بنتا۔ وہ خود ہی اپنی اپائنٹمنٹ کرتا ہے اور اس سے پہلے وہ کئی برس خفیہ ملاقاتیں‘ قسمیں کھانے اور گارنٹیاں دینے کے بعد خدا خدا کر کے وزیراعظم بنتا ہے۔ پھر وہ اپنے بچوں اور فیملی ممبران یا سسرالیوں کو بھی اقتدار میں لے آتا ہے‘ اس کے بچے شوگر ملیں‘ بجلی گھر‘ کارخانے‘ دودھ دہی کا بزنس شروع کر دیتے ہیں۔ لمبا مال کماتے ہیں۔ وہ یاروں‘ دوستوں یا خوشامدیوں اور اپنے ڈونرز کو وزیر بنا دیتا ہے اور اس کی توجہ ملک کی معیشت یا لوگوں کی حالت بہتر کرنے سے زیادہ اپنے فیملی بزنس کی ترقی ہوتا ہے یا بچوں کے کاروبار کو سیٹل کرنے پر‘ یا پھر مخالفین کو فکس کرنے پر۔
یہی وجہ ہے کہ سیاسی حکمرانوں کے اپنے کاروبار اور کارخانے تو ترقی کر رہے ہیں‘ منافع دے رہے ہیں لیکن ملک معاشی تنزلی کا شکار ہے۔ یہاں اکثر کند ذہن اور بیکار لوگوں کو بڑے بڑے عہدے دے دیے جاتے ہیں تاکہ ہمیشہ وفادار رہیں کیونکہ ذہین لوگ زیادہ وفادار نہیں ثابت ہوتے۔
اس لیے یہاں وزیراعظم اپنی کرسی سے ہر قیمت پر چمٹا رہنا چاہتا ہے کہ اس کے‘ خاندان کے اور دوستوں کے بہت سارے مفادات اس سے جڑے ہوتے ہیں۔ برسوں کی تپسیا اور منت ترلے کے بعد تو وہ وزیراعظم بنتا ہے تو ہٹائے جانے کی صورت میں آگے جیل یا اندھیرا نظر آتا ہے‘ لہٰذا استعفیٰ دینا بھیانک خواب لگتا ہے۔
مغرب میں وزیراعظم کے ایسے ذاتی‘ خاندانی یا کاروباری مسائل یا مفادات نہیں ہوتے لہٰذا وہ خراب ہونے کے بجائے خود کو پارٹی کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتے ہیں کہ جو آپ کو منظور‘ وہی مجھے منظور۔ رکھنا ہے تو جی بسم اللہ‘ ورنہ کسی اور کو لے آئیں۔
ہمارے ہاں عمران خان نے تین سال جیل میں رہنا پسند کر لیا‘ ڈیڑھ سال اپوزیشن میں بیٹھنا منظور نہیں کیا۔ شہباز شریف نے بھی اپنی کارکردگی کو اپنے وزیر کی زبانی ایکسپوز اور سرِعام احتساب کرانا منظور کر لیا لیکن وزیراعظم کی کرسی نہیں چھوڑی۔
یہی فرق ہے ہمارے اور برطانوی وزرائے اعظم میں
مکمل لنک
👇
https://t.co/9UtIx1AwMK
@roznamadunya
@shamsmomand1 If I recall correctly from some essays by him, he has not proposed any real structural reform and has emphasised on better implementation of the existing system
I agree sir. State is erroneous & ruthless everywhere. States commit more crimes against people than the good they do. People are slaves with no chance of freedom. I subscribe to 1984. But if state takes away one pain, we can at least say this is better than before.
@Murshedone Sir, it's hard to believe that the policy of nurturing such elements has been abandoned. It appears that a pawn has been sacrificed but the strategy is still the same
There are perhaps hundreds of things wrong with the way Pakistan is governed. But if the decision makers have done one thing right, it is better to acknowledge that, instead of muddling. But unless we say ‘why they didn’t fix that and that’ we don’t sound intellectually sound.
TLP was a product of Pk’s populist ecosystem.Rizvi’s death or army ban won’t fix blasphemy law-another Rizvi will emerge. Left fetishising of him, & a postsecular romance with piety are same failure of political imagination as relying on bans. In 2020👉 https://t.co/591UrecJ6j
I cringe this Nizamani boy but 18 years in power since 2008 is a long time to have done something to improve the situation in Karachi, if PPP had the vision and commitment. BTW i am not from Karachi and not Urdu speaking.
Mocking Sindh's history to advocate for Karachi to be handed over to the fauj?
Gen Z ka naya hero peddling establishment propaganda and making fun of Sindh. PPP destroyed Karachi but so did the Establishment. Handing them Karachi is a ridiculous suggestion.
All American president’s speeches, be they republicans or democrats, have been full of religious references. Does that affect the nature of American democracy ?
À suivre. L’islam politique est en train de phagocyter le parti démocrate. Ici dans le Michigan, le candidat qui l’emporte à la primaire fait de son appartenance à l’islam un marqueur identitaire fort en invoquant Allah dans ses discours.
اس کا مطلب پاکستان کے وزیر اعظموں کو آکسفورڈ سے تعلیم حاصل کرنی چھوڑ دینی چاہئے۔ اور چاہئے کہ وہ گجومتہ یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کریں تاکہ ان کی جان محفوظ رہے۔ اس بھائی صاحب کی منطق ہمیشہ نرالی ہوتی ہے،
پاکستان کے پانچ وزرائے اعظم نے آکسفورڈ یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی لیکن کسی کا انجام اچھا نہیں ہوا۔ بھٹوکو پھانسی پر لٹکا دیا گیا، بینظیر اور لیاقت علی خان قتل ہوگئے، ایک نے جنرل ایوب خان کے دباؤ میں سیاست چھوڑ دی اور عمران خان پچھلے تین سال سے جیل میں ہے۔ https://t.co/NQEc34LSld
ارے بھائی اپنے ذاتی غصے کو بھول کر کبھی کسی حقیقت کو مان بھی لیا کرو۔ ٹی ایل پی جو ایک ناسور بن چکی تھی اسے بند کردیا۔ اس کے سربراہ دونوں کتورے کہیں سڑ رہے ہیں۔ سڑکوں پہ مذہب کے نام پہ جو قتل وغارت تھی تھوڑی سی کم ہے۔ تو مان لو۔ مجھے نہیں پتہ اریبہ کون ہے۔
رائیٹرز میں اریبہ شاہد ہمیشہ ڈی جی ایس پی آر کے بیانات کو سورس لکھ کر چھاپتی ہے۔ فوجی پراپیگنڈا دن رات جس میں فوج اور عاصم منیر کی مارکیٹنگ ہے سب میں اریبہ شاہد اور مبشر بخاری فوجی پی آر کے علاوہ کیا رپورٹنگ رہے ہیں؟ کس ہارڈلائن گروپ کی پکڑ ہوئی اور کونسے کیس کم ہوئے؟
In a world of growing authoritarianism, where centuries old democracies have fallen, Pakistan is no more an exception. While sitting abroad is easy to criticize the degeneration of Pak intellectuals. To be there physically and speak against “dictatorship” difficult. Try it
@Razarumi should question the source of such claims. Else they will be believed as facts. I was a bit surprised when she said that. If the figure was true it would have been all over the UK media already. Not sure she erred or it was a deliberate lie.
FACT CHECK: THREAD 1
@Razarumi this is absolutely absurd - no statistics back this blatant lie of a claim. as per https://t.co/0DaSEqkopk and I quote (https://t.co/mwvM0fyF1G) - so that it is verifiable - the claims by your guest analysts are nothing but lies. Numbers coming shortly - backed by https://t.co/0DaSEqkopk's datasources available publicly.