غداری کے لیبل لگانے والوں کی کلاس کے لی گئی
"اور ایسے لوگ مولانا فضل الرحمٰن صاحب کی پاکستان سے وفاداری پر انگلی اٹھاتے ہیں۔ ارے! میں کوہاٹ کے اس جلسۂ عام سے آپ کو پیغام دے رہا ہوں کہ آپ تو ان کے لے پالک ہو، آپ تو ان کے کرایہ دار ہو۔
تمہیں مولانا فضل الرحمٰن صاحب کی وفاداری اس وقت یاد آتی ہے جب وہ اسٹیبلشمنٹ کو آئینہ دکھاتے ہیں۔ تمہیں مولانا فضل الرحمٰن صاحب کے انڈیا کے ساتھ تعلقات اس وقت نظر آتے ہیں جب وہ تمہاری پالیسیوں پر انگلی اٹھاتے ہیں۔ اس سے پہلے تم گونگے، بہرے ہوتے ہو۔
"چلا تھا ذکر میری خامیوں کا محفل میں،
جو لوگ بہرے تھے، ان کو سنائی دینے لگا۔"
انجینئر ضیاء الرحمٰن کا خطاب
#لعنتی_امریکی_پٹو #وسائل_چور #ڈیجیٹل_حرام_خور #سلیکٹڈ_بدامنی #کمپنی_کا_میڈیا_وڑگیا
@MoulanaOfficial@juipakofficial
مولانا کا شاعری کا انتخاب دیکھیں۔۔
چند روز اورمیری جان، فقط چند ہی روز
ظلم کی چھاؤں میں دم لینے پہ مجبور ہیں
اور کچھ دیر ستم سہ لیں، تڑپ لیں، رو لیں
اپنے اجداد کی میراث ہے، معذور ہیں
جس پہ قید ہے، جذبات پہ زنجیریں ہیں
فکر محبوس ہے، گفتار پہ تعزیریں ہیں
اپنی ہمت ہے کہ ہم پھر بھی جیے جاتے ہیں
جس پہ قید ہے، جذبات پہ زنجیریں ہیں
فکر محبوس ہے، گفتار پہ تعزیریں ہیں
اپنی ہمت ہے کہ ہم پھر بھی جیے جاتے ہیں
زندگی کیا کسی مفلس کی قبا ہے جس میں
ہر گھڑی درد کے پیوند لگے جاتے ہیں
لیکن اب ظلم کی میعاد کے دن تھوڑے ہیں۔
ایک ذرا صبر، فریاد کے دن تھوڑے ہیں۔
عرصۂ دہر کی جھلسی ہوئی ویرانی میں
ہم کو رہنا ہے کہ یوں ہی تو نہیں رہنا ہے
اجنبی ہاتھوں کا بے نام غبارِ ستم
آج سہنا ہے، ہمیشہ تو نہیں سہنا ہے۔
یہ ہے خیبرپختونخوا کا سرکاری ہسپتال ڈیرہ اسماعیل خان
یہ ہے وہ تبدیلی اور مثالی پختونخوا جس کا 12 سال قبل وعدہ کیا گیا تھا
12 سالہ حکمرانی میں اگر احتجاجی سیاست دوسروں پر الزامات کیساتھ ساتھ ان ہسپتالوں کی حالت زار پر توجہ دی جاتی تو آج یہ مناظر دیکھنے کو نہ ملتے
میری تقریر اول سے آخر تک آپ قوم کو کیوں نہیں سناتے؟ میں نے کوئی گالیاں تو نہیں دیں، میں نے دلائل کے ساتھ اپنا موقف بیان کیا ہے، تم میں ہمت ہے تو قوم کو پوری تقریر کیوں نہیں سناتے؟ مولانا فضل الرحمان
فوج کی بھی ایک ذمہ داری ہے
اپنی ذمہ داری پر نظر رکھو
خیبر پختونخوا میں آج کوئی حکومت نہیں ہے
مغرب کا سورج غروب ہونے کے بعد، صبح سورج طلوع ہونے تک پولیس اپنے تھانے سے باہر نہیں آتی
جب پولیس تھانے سے باہر نہیں آئے گی تو پھر سڑکیں مسلح گروہوں کے سپرد ہوں گی
پھر سڑکیں اور راستے ڈاکوؤں کے رحم و کرم پر ہوں گے
آپ کی حاکمیت کو میں اپنے صوبے میں جانتا ہوں
تمہاری کوئی حکومت نہیں ہے
تم صرف دارالحکومتوں میں اپنے اپنے بڑے بڑے بنگلوں کے اندر بیٹھے ہوئے ہو، ٹانگ پر ٹانگ ڈال کر سمجھتے ہو کہ ہم حکمران ہیں
کم از کم میرے صوبے میں تمہاری کوئی حکومت نہیں ہے۔
مولانا فضل الرحمان کا قصور میں جلسے سے خطاب
کیا مولانا فضل الرحمن پنجاب میں وڈیرہ نظام کے خلاف نکل پڑے
قصور میں اس جلسہ میں مولانا صاحب اپنے خطاب کے زیادہ تر حصہ میں وڈیرہ نظام کو کیوں للکارتا رہا
کسی جابر نے اگر آپ کے گریبان میں ہاتھ ڈالا تو وہ ہاتھ توڑ دیں گے
خیبرپختونخوااور بلوچستان کے وڈیرے کی خدائی کو زمیں بوس کرنے کے بعد پنجاب کے وڈیرے کی خدائی کو بھی زمیں بوس کرینگے
Jamiat ulema e Islam @juipakofficial chief Maulana Fazlur Rehman @MoulanaOfficial has urged the govt to resolve problems with #Afghanistan through negotiations and diplomacy. “There may also be disagreements regarding Afghanistan, but every issue can NOT be resolved through the use of force. Many issues can be addressed more effectively through negotiations and diplomacy,” the #JUI chief told a public meeting in Kasur, Punjab, Saturday night. He said #Pakistan faces various internal and external challenges. “There are issues concerning relations with neighbouring countries, trade, and diplomacy. My position is that these problems cannot be solved through confrontation, but through effective diplomacy, dialogue, and mutual respect,” the Maulana said. Talking about the situation in #Baluchistan and #Khyber #Pakhtunkhwa, he said it is not only Balochistan, but also the #Pashtun areas that are drenched in blood. “In just a few days, dozens of lives have been lost. People have had to go to markets to buy shrouds for their loved ones, and they have had to leave their homes to carry the coffins of their relatives,” the JUI chief told thousands. He said serious questions are raised about government authority and control in some areas.
ملک میں جاری سیاسی جمود کے خاتمے کے لیے مولانا فضل الرحمٰن اس وقت سب سے منظم انداز میں سرگرم ہیں اب تک ملک کے تین صوبوں میں بڑے بڑے اجتماعات کا کامیاب انعقاد کر چکے ہیں اب انہوں نے سب سے بڑے صوبہ پنجاب میں بھی انٹری دے دی ہے تمام تر دھمکیوں اور سیکیورٹی خدشات کے باوجود قصور جیسے پسماندہ شہر میں لاکھوں افراد کو اکٹھا کرکے ثابت کر دیا کہ اس وقت صرف ان کی جماعت ہی پورے ملک میں سرگرم عمل ہے پی ٹی آئی پیپلز پارٹی اور ن لیگ اس معاملے میں جے یوآئی سے کہیں پیچھے دکھائی دیتی ہیں اگر مولانا فضل الرحمٰن نے تحریکِ تحفظ آئین کے ساتھ مل کر حکومت مخالف تحریک شروع کردی تو پھر اس کا راستہ روکنا حکومت کے بس میں نہیں رہے گا اور ن لیگ و پیپلز پارٹی کو اس کا اچھی طرح ادراک ہے دونوں جماعتیں مولانا کی امامت میں چند سال قبل تحریک چلا چکی ہیں بلکہ مولانا نے ہی ان کو کندھا فراہم کیا تھا اور اب اگر یہی کندھا تحریک تحفظ آئین کو فراہم ہوا تو وقت سے پہلے بیت کُچھ بدل سکتا ہے #كاس_العالم_٢٠٢٦ #BINIPH #Norveç @MoulanaOfficial
اپنے لئے کیا کہ تاحیات اب میں مستثنیٰ ہوں گا کوئی مقدمہ میرے خلاف نہیں ہوگا، زرداری صاحب! ہم کب آپ پر مقدمہ چلانا چاہتے ہیں، لیکن اگر یہ استثناء آپ نے حاصل کیا اور کل صدارت کے بعد تم نے کوئی جرم کر لیا، کسی کو قتل کر لیا تم سے کوئی پوچھنے والا بھی نہیں ہوگا، کیا اس طرح کا استثناء خود رسول اللہ ﷺ نے لیا ہے؟ کیا اس طرح کا استثناء خلفاء راشدین نے لیا ہے؟ اگر اس طرح کا استثناء انبیاء نے نہیں لیا، رسول اللہ ﷺ نے نہیں لیا، آپ کون ہوتے ہیں کہ آپ جرم بھی کریں گے اور آپ کی خلاف کوئی مقدمہ بھی نہیں ہو سکے گا۔ ہمارے بڑے بڑے عہدیدار اب تاحیات مراعات لیتے رہیں گے، یہ تو پاکستان کے غریب لوگوں کا استحصال ہے، غریب کو روٹی نہیں مل رہی، غریب کو زندگی نہیں مل رہی، غریب اپنے بچوں کی سکول کے فیس نہیں دے سکتا، غریب اپنے بچوں کے علاج کے لیے دوائی نہیں خرید سکتا، عام آدمی کی حالت یہ ہو گئی ہے اور آپ لوگ ہیں جو پاکستان کے خزانے کے مالک بنے ہوئے عیاشیاں کر رہے ہیں، جمعیۃ علماء اسلام تمہاری ان عیاشیوں کے خلاف ایک تحریک کا نام ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن کا چارسدہ میں خطاب