گول گپے کھانے ایک ٹھیلے پر رکا تو ایک فقرہ دیکھ کے “ شامی بھائی” کی بہت یاد ائی لکھا تھاُ
"گول گپے کھانے کے لئے دِل بڑا ہو نہ ہو، کچھ فرق نہیں پڑتا مگر “ منہ بڑا رکھیں “ اور “ پورا کھولیں “
آنکھوں کو اب نگاہ کی عادت نہیں رہی
اب کچھ بھی دیکھنے کی ضرورت نہیں رہی
سچائیوں کی راہ بہت ہو گئی کٹھن
اس راستے پہ چلنے کی ہمت نہیں رہی
دشمن ہو دوست ہو کوئی اپنا کہ غیر ہو
ہم کو تو اب کسی کی بھی حاجت نہیں رہی
دنیا عزیز تر رہی اک عرصۂ دراز
لیکن اب اس کی بھی تو محبت نہیں رہی
عرصہ ہوا کسی نے پکارا نہیں مجھے
شاید کسی کو میری ضرورت نہیں رہی
کانٹا سا ایک دل میں کھٹکتا ہے مستقل
پر دل کی بات کہنے کی عادت نہیں رہی
سرمایۂ حیات ہوا چاہتا ہے ختم
جس پر غرور تھا وہی دولت نہیں رہی
بشریٰؔ کبھی جو جاؤ وہاں عرض حال کو
کہنا کہ ہم پہ اب وہ عنایت نہیں رہی
#بشریٰ_ہاشمی
آج کی بات✨
جتنی زیادہ باتیں کرینگے اتنی ہی زیادہ غلطیاں کریں گے، جتنا کم بولیں گے اتنا ہی سکون سے رہیں گے، لیکن اسکا مطلب یہ نہیں آج ہی سے منہ پہ ٹیپ لگا لیں ورنہ وضاحتیں دینے کے لیے پہلے سے زیادہ بولنا پڑے گا۔
#میرے_مطابق
جب معاملات سمجھ سے باہر ہو جائیں تو سب اللہ پر چھوڑ دینا ہی بہتر عمل ہے اس امید کے ساتھ کہ وہ یقیناََ کوئی بہتر راستہ ہی نکالے گا تمہارے لئے
زندگی بخیر