My leader @ImranKhanPTI His struggle is my mission, just as my leader has been steadfast, I too am steadfast with him, this mission of mine will continue until
پاکستانی قوم اپنے خوف کے بت کو توڑ کر اپنی زنجیریں توڑ کر اپنی حقیقی ازادی کے لیے نکلے کیونکہ پاکستان اپ کا ہے اس کو اپ نے بچانا ہے عمران خان نے بہت قربانیاں دی اس قوم کے لیے اب ہماری باری ہے۔
#ReleaseLeaderOfMajority@TeamiPians
4 اکتوبر کو انشاءاللہ عوام کا سمندر سڑکوں پر ہوگا۔ ہماری تیاری مکمل ہے۔ ہمارے کارکن پُرامن لانگ مارچ کے لیے بیتاب ہیں۔ کسی بھی ایمرجنسی صورتحال میں 24 گھنٹے کی ڈیدلائن سے ہمارے لاکھوں کارکن سڑکوں پر ہونگے۔ انشاءاللہ۔
ظلم کی رات کتنی ہی لمبی کیوں نہ ہو، سچ کا سورج ضرور نکلے گا اے رب ذوالجلال والاکرام عمران خان کو صحت و تندرستی والی لمبی زندگی عطا فرمائیں آمین یارب العالمین ۔۔
Imran Khan refused to surrender and refused to accept anyone’s slavery His words, “Absolutely Not,” became a defining moment remembered around the world He stood for Pakistan’s sovereignty and an independent foreign policy.
Former Prime Minister Imran Khan's Message – July 8, 2025
Note: This is a repost of the tweet posted on July 9, 2025.
“When a nation rises for its rights, no force on earth can suppress it. I remain a free man, even in jail, but my nation is trapped in a prison where there is no independent judiciary, no genuine democracy, and no free media. Every Pakistani must rise up for their true freedom!
For two years, I have remained imprisoned solely for the sake of the Pakistani nation, so that no one can enslave you. Now, the time has come for you to stand up for your own freedom and defeat this oppressive system.
I repeatedly called for dialogue in the best interest of the country. But the time for negotiations has now passed. After the 26th Constitutional Amendment, the rule of law, the Constitution, and the very concept of justice have been buried. Any hope of receiving justice from the courts has been completely extinguished. The Pakistani nation now has only one path forward: a nationwide protest movement. Nothing short of this can pull us out of this quagmire of lawlessness.
A complete roadmap for the nationwide movement will be announced this week. I will have completed two full years of unjust imprisonment on August 5th. One that very day our nationwide protest campaign will be at its peak.
There will be no further negotiations of any kind with anyone anymore! The only path forward is mass protest in the streets, so the nation can rid itself of the puppets forcibly imposed upon it as its rulers.
Let me be clear: any officeholder in Pakistan Tehreek-e-Insaf who cannot shoulder the weight of this movement should step aside immediately. Those who have submitted to these oppressors must remember: these very people will eventually crush you, and the people will never forgive you either.
Even leaders like Nelson Mandela and Gandhi were allowed to meet other prisoners, read books, and write. I am enduring a form of solitary confinement where I am locked for 22 hours a day in a 6x8 foot cell. Police officers are forbidden from speaking to me. I have been denied books for the past six months. I am not allowed to speak to my children. My lawyers and colleagues cannot visit me. My family is allowed only a few minutes of visitation each week, and many of them are often denied even that. My personal physician has not been allowed to examine me for the past ten months. Even my access to newspapers and television has been cut off for the last week. Books sent by my family are withheld and kept in the superintendent’s office. My wife is also being held in inhumane conditions in solitary confinement.
Behind all of this is the establishment and its pawns. All of this is being done to break me. But I will continue to stand against tyranny until my very last breath.
We restored the constitutional and legal rights of the tribal areas after decades and provided full resources for reconstruction and development. The current regime not only withheld their rightful funds for three years but is now actively working to roll back their constitutional rights, an action that is utterly condemnable. I commend our parliamentarians and representatives for boycotting these unlawful measures.
As for our Punjab MPAs who were suspended for protesting during the fraudulent government’s budget session, the real reason behind it was that their protest against Maryam Nawaz was intolerable for the regime, although it is a long-standing tradition to protest during budget sessions.”
عمران خان ہمیشہ کہتے تھے یا آپ نے ٹیپو سلطان بننا ہے یا بہادر شاہ ظفر بننا ہے میں عمران خان کا سپاہی ٹیپو سلطان بننے کا اعلان کرتا ہوں ٹیپو سلطان کہتا تھا شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی 100 دن کی زندگی سے بہتر ہے میں عمران خان کا سپاہی کہتا ہوں کہ شیر کا ایک دن کا اقتدار گیدڑ کے 100 سالہ اقتدار سے بہتر ہے
آپ سوچتے ہوں گے گذشتہ چار سال میں اس ریاست نامی ڈائن کی کون سی مکروح شکل نہیں ہوگی جو آپ نے نہیں دیکھی ہوگی اور پھر یہ پہلے سے زیادہ قبیح صورت میں آپ کے سامنے آجاتی ہے۔
گذشتہ ہفتے سے خیبر پختونخواہ میں بے شرمی کا ایک بازار گرم ہے۔ جو شاید ۹ مئی کے ڈھکوسلے کے بعد بھی پختون سرزمین پر نہیں ہوا وہ حدود بھی پار کی جارہی ہیں۔ تحریک انصاف کی حکومت صبر سے اپنے خلاف ہر وار سہہ رہی ہے تاکہ ان ناجائز طاقتوں کو مزید کسی رنڈی رونے کا بہانہ نہ مہیا کیا جاسکے مگر پس پردہ حقائق ہوشربا ہیں۔
خیبر پختونخواہ کی منتخب قیادت کے خلاف ہونے والے حملوں میں “ریاست” کھلم کھلا گڈ طالبان اور کرمنلز کو استعمال کررہی ہے۔ ہر علاقے میں ایسی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جن میں متعلقہ علاقے کے سنگین ترین جرائم میں ملوث افراد، چند گڈ طالبان، آئی ایس آئی اور ایم آئی شامل ہے۔ زرا سوچیے کس حد تک طاقت کی ہوس میں اندھے ہیں یہ کہ خطرناک ترین جرائم میں ملوث عادی مجرموں کو یقین دلایا گیا ہے کہ اس آپریشن کی کامیابی کی صورت میں آپ پر ابھی تک کے سارے چارجز ختم کر دیے جائیں گے۔ گڈ طالبان تو تھے ہی ان کے اپنے، اب جرائم پیشہ افراد کو بھی، ایف سی اور کے پی پولیس کی وردیاں مہیا کی گئی ہیں۔ صوبائ وزیر فضل شکور کے اغوا میں بھی اس ٹیم کے لوگ شامل تھے۔ اگر شکیل خان بروقت ریکٹ نہ کرتا تو شاید آگے یہ ٹیم ان کے بھی انتظار میں ہوتی۔ میرے حوالے سے تو پاکستان اور پڑوس میں ایسی ٹیموں کی کاروائیاں کوئی نئی بات نہیں لیکن پورے پختونخواہ میں بلوچستان طرز پر باقاعدہ سنگین جرائم پیشہ افراد، گڈ طالبان اور تمام جاسوسی ادارے مشترکہ ٹیمیں تشکیل دے کر خیبر پختونخواہ حکومت کے منتخب نمائندگان اور تحریک انصاف کے عہدیداران کو اغوا اور ان کی املاک پر حملے کر رہے ہیں۔
میں اپنے نمائندگان سے کہتا ہوں ان کی مزید پردہ پوشی کریں گے تو یہ کل کو کسی بھی اغواشدہ لاپتہ فرد کو “فتنتہ الہندوستان” اور “فتنتہ الخوارج” کی کاروائ قرار دے کر خود کو بری الذمہ قرار دے دیں گے۔ یا تو شکیل خان کی طرح اپنا دفاع کریں یا لاپتہ افراد مسخ شدہ لاشوں اور کراس فائرنگ میں موت کا نشانہ بننے والوں میں شامل ہوں۔ اس بات کا فیصلہ کرنا ہوگا۔
میں اپنے اقرباء کو بھی واضح الفاظ میں بتا رہا ہوں فی الفور کل رات کے واقعات کی ایف آئ آر آئ ایس آئی اور ایم آئی پر درج کر آئیں۔ قانون آپ کو یہ اجازت دیتا ہے کہ بغیر وارنٹ کے یہ سادہ کپڑوں میں ملبوس دہشت گرد تو کیا اگر کوئی باوردی شخص بھی آپ کی چاردیواری کی پامالی کرتا ہے تو آپ کو اپنے گھر بار اور اپنے عیال کی حفاظت کے لیے ان سے اسی انداز میں نپٹنے کا حق حاصل ہے، جس کے یہ دہشت گرد اور دہشت گردوں کے سہولتکار مستحق ہیں۔ میری سیاست میرا نظریہ میری ذمہ داری ہے۔ میری سیاست کی خاطر اپنی غیرت اور حمیت پر کوئ بھی سمجھوتہ کرنے سے میں آپ کو آزاد کرتا ہوں۔
میں اپنے صوبے کی پولیس کو بھی کہنا چاہتا ہوں یہ ناجائز حکومت اور ان کا سہولت کار مافیہ جو خود کو ریاست کہتا ہے جس آگ کا ایندھن آپ کو بنا رہے ہیں۔ اُن پالیسیوں کے خلاف میں، تحریک انصاف اور یہ قوم ہی ہے جو کل بھی اور آج بھی آپ کی ہم نوا، آپ کے ساتھ اور آپ کے لیے کھڑے رہے ہیں۔ جرنیلوں کی ناجائز طاقت کی مدت ہوتی ہے۔ اُس کے بعد ان کے یہی ماتحت ادارے ان کی ان پالیسیوں کی ذمہ داری لینے کو تیار نہیں ہوتے جن کی وجہ سے آپ کے بچے یتیم ہوتے ہیں اور آپ کے عیال کو آپ کی مسخ شدہ لاشیں ملتی ہیں۔ کل کو ان شہروں میں، اس صوبے میں، ان کی پالیسیوں کے نتائج کے ساتھ، میں نے رہنا ہے اور آپ نے رہنا ہے۔
کسی بھی ناجائز اقدام کی سہولت کاری سے پہلے یہ یاد رکھنا یہ مُلک ہمارا ہے، اسے کسی غاصب ٹولے کی خاطر آگ میں جھونکوگے تو بھگتوگے تم بھی۔
میرے پاکستانیو اس بار اپنے خوف کے بت کو توڑ کے نکلے ان ظالموں نے جتنا ظلم پاکستانی قوم پر دو سالوں میں کیا ہے عوام سے دو وقت کی روٹی تک چھین لی ہے ۔غلامی میں مرنے سے بہتر ہے حق کے لیے لڑتے ہوئے ہم شہید ہونا قبول کریں گے ۔۔
#ستمبر27_عوام_تو_نکلے_گی
27 ستمبر پہ پورا پاکستان اپنے حق کے لیے نکلے گا کیونکہ احتجاج کرنا ہمارا ائینی حق ہے ان پر کوئی بھی گولی چلائے گا چاہے وہ رینجرز ہو پولیس ہو ارمی ہو تو ایک بار گولی چلانے سے پہلے اپنے بچوں کے چہرے بھی ضرور دیکھ لیں ۔۔
#ستمبر27_عوام_تو_نکلے_گی
پاکستانیوں وقت اگیا ہے کہ اپنی غلامی کی زنجیریں توڑ کے 27ستمبر کو اپنے حق کے لیے نکلیں ان ظالم کو خلاف جنہوں نے پاکستان کو توڑنا چاہا جنہوں نے پاکستانی لوگوں پر ظلم کیا
یاد رکھیں غلاموں کی کوئی زندگی نہیں ہوتی ۔
#ستمبر27_عوام_تو_نکلے_گی
عمران خان کے ساتھ ڈٹ کر کھڑی رہنے والی بہادر خواتین کو سلام۔ ان شاء اللہ آپ کی مشکلات، قربانیاں اور ثابت قدمی تاریخ میں لکھی جائیں گی۔
#ستمبر27_عوام_تو_نکلے_گی
My mother, Aleema Khan @Aleema_KhanPK and my aunts, Dr Uzma Khan @DrUzma_KhanPK and Noreen Niazi @Noreen_KhanPK , remain behind bars.
Their only crime is refusing to abandon their brother, Imran Khan @ImranKhanPTI throughout his imprisonment — a detention the UN Working Group on Arbitrary Detention found to be arbitrary and in violation of international law, and called for his immediate release.
For three years, they have stood outside prisons and courtrooms, enduring everything from scorching heat exceeding 45°C to near-freezing conditions, demanding justice and the rule of law.
They have endured tear gas, chemical-laced water cannons, repeated arrests and relentless intimidation. Yet no amount of pressure could silence them or force them to step aside. They stood their ground. They refused to abandon their brother.
Since their latest imprisonment, they have been denied access to their family and legal counsel. They spent three years demanding justice for their brother. Now, like him, they find themselves denied the very rights they are fighting for.
Standing by their brother is not a crime.
Raising their voice for him is not a crime.
Demanding justice and the rule of law is not a crime.
Their detention must end.
ہمیں یقین ہے کہ وہ ہمارے والد کو وہاں جیل میں آہستہ آہستہ مارنے کی کوشش کر رہے ہیں جیسے ہی دباؤ کم ہوگا ہمیں یقین ہے کہ وہ ان پر مزید سخت عائد کریں گے اور انہیں ختم کرنے کی کوشش کریں گے۔ یہاں حقیقی ذاتی عناد رکھنے والا شخص آرمی چیف عاصم منیر ہے
قاسم خان!
#ستمبر27_عوام_تو_نکلے_گی
حق کی راہ پر چلنے والے کبھی ہار نہیں سکتے جو سچ کے لیے ڈٹ جائیں اللہ ان کے ساتھ ہوتا ہے ظلم وقتی طور پر طاقتور دکھائی دے سکتا ہے مگر ہمیشہ قائم نہیں رہتا
#ستمبر27_عوام_تو_نکلے_گی
مسلح افواج اور پولیس کے اہلکاروں کے نام ایک پیغام ہے اپنے ہر عمل کو ضمیر اور قانون کی کسوٹی پر پرکھیں فاشزم کے کسی بھی غیرقانونی حکم کی پیروی آپ کے لیے آج کا فرض نہیں کل کا بوجھ بن سکتی ہے
#ستمبر27_عوام_تو_نکلے_گی