جیل میں ایک حکایت پڑھی
ایک پردیسی سخت سرد موسم میں کسی شہر میں داخل ہوا تو کتے حملہ آور ہو گئے اس نے پتھر اٹھا کر مارنا چاہا تو پتھر زمین میں یوں دھنسے تھے کہ پتھر نہیں اکھاڑ پایا اس بے بسی میں اس نے پکارا
"این چه حرامزاده شهریست که سگها را گشادهاند و سنگها را بسته!"
(یہ کیسا عجیب شہر ہے جہاں کتوں کو آزاد چھوڑ دیا گیا ہے اور پتھروں کو باندھ دیا گیا ہے
حوالہ: گلستانِ سعدی
مصنف:سعدی شیرازی
باب: "در سیرتِ پادشاہاں"
@khurram2247 کبھی کبھی گھوڑے کو لگامیں ڈال کر تیل اور تیل کی دھار دیکھنی پڑتی ہے۔ اپنے سپاہی جب موقع ملے گا پکڑ لیں گے، بھاگے نہیں جا رہے۔ بس ہر دوسرے بندے کو ہیرو نہیں بنانا
گوبر کہتا ہے کہ پولیس والے اور سکیورٹی ہیضے کے مرض میں مبتلا ہیں اسلئے احتجاج کو مؤخر کر رہے ہیں۔ عمران خان کا کیا ہے، جہاں اتنے سال گزار دیئے وہاں کچھ وقت اور سہی۔ ان حرامزادوں سے خیر کی کوئی امید نہیں!
قوموں کی زندگی میں فیصلہ کن موڑ آتے ہے۔
۲۷ ستمبر پاکستان کیلیے وہی فیصلہ کن دن ہوگا۔
جسکی تاریخ گواہی دے گی کہ جب فیصلہ کرنے کا وقت آیا،
تو کون تاریخ کے کس طرف کھڑا تھا۔۔۔۔
۲۷ ستمبر :فیصلہ عوام کے ہاتھ میں ہوگا کہ : آزادی یا موت