ان ڈرامے بازیوں سے بہتر ہے کہ اپنی اپنی سیٹوں سے استعفے دیں اپ کی انہی ڈرامے بازیوں نے عمران خان کو اور پاکستان کی عوام کو اس نہج تک پہنچایا ہے
اپ لوگ ہی تو اصل سہو��ت کار ہیں
عوام کا مینڈیٹ ہے عوام نے اپ کو دیا اور اب عوام سمجھتی ہے کہ اپ اس کے قابل نہیں تھے
پاکستانی سیاست میں کردار بدل جاتے ہیں کہانی نہیں بدلتی شہباز شریف چند سال پہلے گورنر راج لگانے پر صدر زرداری کو ڈاکو قرار دیا کرتے تھے اور تحریک انصاف پیپلز پارٹی کو گورنر راج کی دھمکیاں دیا کرتی تھی آج تحریک انصاف گورنر راج کی مخالف اور شہباز شریف حامی بن چکے ہیں 🙃
آج پشاور کے ہشتنگری احتجاج میں مینا خان آفریدی، شاہد خٹک اور شفیع جان نے شرکت ہی نہیں کی۔ اگر آنا ہی نہیں تھا تو قوم کو یہ بڑھکیں کیوں ماریں کہ گورنر ہاؤس پر قبضہ کر لیں گے اور اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے؟
آپ لوگوں نے سوشل میڈیا پر ہیرو بننے کے چکر میں پوری جماعت کو تباہ کر دیا۔ عمران خان کے ساتھ آپ لوگوں نے بہت بڑا ظلم کیا۔ 💔🥹
آج کے دن 27 سال پہلے دو تہائی اکثریت والے وزیراعظم نواز شریف کو گرفتار کیا اور اسمبلی تحلیل۔ ان سیاست دانوں نےنا کچھ سیکھا ہے اور نہ سی��ھنے کے ارادہ ہے۔ ایسے ہی باری باری رگڑا کھاتے رہیں گے۔ ان کی باری بھی دوبارہ آئے گی
گورنر راج اور ایمر جنسی سے جڑی ��لخ تاریخ سے سبق حاصل کرنے کی بجائے ماضی کی غلطیوں کو دہرایا جا رہا ہے۔ گورنر راج کے نام پر ایک سیاسی جماعت کے خلاف آپریشن سے خیبر پختونخوا میں دہشت گردی ختم نہیں ہو گی۔ شہباز شریف کی حکومت عمران خان فوبیا کی قیدی بن چکی ہے۔ یہ قیدی حکومت پاکستان کو سول آمریت کی طرف دھکیل چکی ہے۔ اس حکومت کو عمران خان فوبیا سے رہا ہونا ہے اور بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم حسینہ واجد کے انجام سے سبق سیکھنا چاہئے۔
https://t.co/eYcct47Z8z
اگر آپ یہ جاننا چاہتے ہیں تحریک انصاف اور عمران خان یہاں تک کیسے پہنچے تو 👇
پاکستان کے ہر سیاست کے طالب علم @KhSaad_Rafique صاحب کو یہ انٹرویو لازمی سننا چاہیے۔
پی ٹی آئی کی فرمائش پر گورنر راج لگا دیا گیا ھے ، پی ٹی آئی میں 80% سے زیادہ عہدیداران اور پارلیمنٹیرین اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ رابطے میں ہیں اور ایک پیج پر ہیں اس لیئے کسی بڑے احتجاج کی توقع نہیں ہے ۔
No serious political party will allow Social Media trolls to hijack its decision making… a Mamooth blunder by PTI to see the situation through lense of the trolls instead of applying own mind…
جب بھی کسی صوبے پر شب خون مارا گیا، پیپلز پارٹی اور آصف زرداری کا نام سامنے آیا۔ یہ تیسری یا چوتھی بار ہے کہ ایسا ہو رہا ہے۔ عجیب بات ہے کہ جمہوریت کے علمبردار ہونے کے دعوے بھی یہی لوگ کرتے ہیں، مولانا فضل الرحمان
بات اب "ایران" کی نہیں
"ایمان"کی ہے
جب۔۔۔ایک طرف مکہ/مدینہ ہو
اور
ان پر حملوں کی مذموم کوشش کو ایران کے حمایتی جسٹیفائی کریں تو پھر
ہر اصلی مسلمان
ایران۔۔۔نہیں"ایمان"کے ساتھ
کھڑا ہو گا۔
(اسد آر چوہدری)
شہباز شریف اور زرداری نے پختون خواہ میں صرف گورنر راج اور ایمرجنسی پر دستخط نہیں کئے، اس نظام کو لپیٹنے کا سفر شروع کیا ہے۔ اس سیاسی قبر میں سب سیاسی جماعتوں کی تدفین ہونے جا رہی ہے۔
🚨پشاور: ایم پی اے ہاسٹل مکمل طور پر خالی پڑا ہے، نہ کوئی ایم پی اے نظر آ رہا ہے اور نہ ہی بڑے بڑے حکومتی نمائندگان!
میں اسی دن کے لیے چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا کہ بڑھکیں مت مارو، مت مارو، لیکن باہر بھاگے ہوئے بھگوڑوں کو خوش کرنے کے لیے پوری جماعت اور تحریک کو تباہ کر دیا گیا۔ 💔
اب کیا پچھتاوے ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت‼️‼️
🔺علی زین ایک مشہور ٹک ٹاکر تھا جس کے چار ملین کے قریب فالورز تھے۔ زیادہ شہرت اور پیسے کے لالچ میں یہ ملک دشمن عناصر اور جماعتوں کے بہکاوے میں آیا اور قومی اداروں اور ریاست مخالف کنٹینٹ بنانا شروع کیا۔
🔺پیسے، آئی فونز اورشہرت کی لالچ میں جب یہ کام کر رہا تھا تو اس زوم میں تھا کہ جو جماعت اور گروہ اس سے یہ کام کروا رہا ہے وہ اسے قانون کے شکنجے سے بھی بچا لے گا، لیکن یہ اس کا برہم نکلا۔ جب قانون نے اپنا راستہ لیا تو ان سب نے اسے جنگل میں تنہا چھوڑ دیا۔ آخر اس کی مدد اسی ریاست نے کی اور اسے ضمانت دے دی۔
🔺علی زین ان سب لوگوں کے لیے نشان عبرت ہے جو کسی سیاسی جماعت یا فرقہ واریت گروہ کے بہکاوے میں آ کر اپنی ہی ریاست اور ریاستی اداروں کے خلاف بھونکتے ہیں۔ آخر انسان ایسا کام کرے ہی کیوں کے بعد میں اسے اپنی غربت اور معصومیت کی دہائی دینی پڑے۔
سب کو یاد ہو گا کہ عمران خان کی گرفتاری سے پہلے کیسے بے شمار کوگ زمان پارک کے باہر موجود ہوتے تھے اور باقائدہ پولیس کے ساتھ مد بھیڑ ہوتی تھی اور پھر پولیس پیچھے ہٹ جاتی تھی۔ پھر ۹ مئ ہوا اور سب ختم ہو گیا۔ اس وقت بھی کسی بڑی غلطی کا انتظار ہو رہا ہے