ایک بوڑھا آدمی اور اس کی بیوی، جو سادہ کپڑے پہنے ہوئے تھے، ہارورڈ یونیورسٹی کے صدر کے دفتر کی سکریٹری کے پاس آئے۔ ہارورڈ یونیورسٹی امریکہ کی سب سے قدیم اور معزز یونیورسٹیوں میں سے ایک ہے۔ وہ صدر سے ملاقات کرنا چاہتے تھے، لیکن ان کے پاس کوئی پیشگی ملاقات نہیں تھی۔ سکریٹری نے دیہاتی جوڑے سے کہا:
"صدر بہت مصروف ہیں" اور وہ جلد ہی تم دونوں سے نہیں مل سکیں گے۔
لیکن جلد ہی دیہاتی خاتون نے اعتماد کے ساتھ جواب دیا:
"ہم انتظار کریں گے"۔ اور جوڑا طویل عرصے تک انتظار کرتا رہا۔ اس دوران سکریٹری نے انہیں مکمل طور پر نظرانداز کر دیا، اس امید میں کہ وہ مایوس ہو کر چلے جائیں گے۔
لیکن ان کے اصرار پر، صدر نے انہیں ملاقات دی، لیکن انہیں کوئی خاص توجہ نہیں دی۔
خاتون نے کہا: "ہمارا بیٹا یہاں یونیورسٹی میں پڑھتا تھا، لیکن وہ پچھلے سال ایک حادثے میں فوت ہو گیا، اور ہم یہاں اس کی یاد میں کچھ کرنا چاہتے ہیں۔"
صدر نے ان کے سادہ کپڑوں اور شکل و صورت کو دیکھتے ہوئے کہا: "ہم یونیورسٹی میں مجسمے نہیں رکھتے۔"
خاتون نے اسی سکون سے جواب دیا: "آپ نے ہمیں غلط سمجھا، ہم چاہتے ہیں کہ ہارورڈ یونیورسٹی میں ہمارے بیٹے کے نام پر ایک عمارت بنائی جائے۔"
صدر نے ان کے کپڑوں کو دیکھتے ہوئے طنزیہ انداز میں کہا: "کیا تمہیں معلوم ہے کہ ایسی عمارت کی تعمیر پر کتنی لاگت آتی ہے؟ ہماری یونیورسٹی ک�� عمارتوں پر سات اور نصف ملین ڈالر سے زیادہ لاگت آئی ہے!"
چند لمحوں تک خاموشی رہی، جس دوران صدر نے سوچا کہ اب وہ ان سے جان چھڑا سکتا ہے۔
لیکن پھر خاتون نے اپنے شوہر سے کہا: "مسٹر سٹینفورڈ، اگر یہی قیمت ایک مکمل یونیورسٹی کی تعمیر کی ہے تو ہم کیوں نہ اپنے بیٹے کے نام پر ایک نئی یونیورسٹی بنائیں؟"
شوہر نے سر ہلایا اور اتفاق کیا۔
جوڑا حیرت اور مایوسی کے ساتھ وہاں سے چلا گیا اور کیلیفورنیا چلے گئے، جہاں انہوں نے سٹینفورڈ یونیورسٹی کی بنیاد رکھی، جو امریکہ کی معزز ترین یونیورسٹیوں میں سے ایک ہے اور دنیا میں 15ویں نمبر پر ہے۔ آج بھی یہ یونیورسٹی ان کے بیٹے کی یاد کو زندہ ر��ھے ہوئے ہے، جسے ہارورڈ یونیورسٹی کے صدر کے لئے کوئی اہمیت نہیں تھی۔
کسی کو کمتر نہ سمجھیں، لوگوں کا مادی ظاہری شکل اور لباس کے مطابق فیصلہ نہ کریں تاکہ آپ اپنی زندگی میں قیمتی چیزیں نہ کھو دیں۔ ہمیں دوسروں کے ساتھ رحمت، اصولوں اور اخلاقی قدروں کے مطابق پیش آنا چاہی��۔
ظاہری شکل سے دھوکہ نہ کھائیں۔
تصویر میں مسٹر اور مسز سٹینفورڈ ہیں۔
منقول
❤️معجزہ۔❤️
💥 کہا گیا ایک دانا شخص سے
فلاں شخص پانی پر چل سکتا ہے
انہوں نے جواب دیا
یہ کوئی بڑی بات نہیں، لکڑی بھی پانی پر تیر سکتی ہے
پھر کہا گیا
فلاں شخص اڑ سکتا ہے
انہوں نے جواب دیا
یہ بھی کوئی بڑی بات نہیں، مکھی بھی اڑ سکتی ہے
پھر ان سے پوچھا گیا
تو پھر معجزہ کیا ہے؟
انہوں نے فرمایا
معجزہ یہ ہے کہ تم لوگوں کے درمیان چلو اور ان کے ظلم و تکلیف کو برداشت کرو
لیکن اپنی اخلاقی اقدار کو نہ کھوؤ
جھوٹ نہ بولو
چوری نہ کرو
خیانت نہ کرو
دھوکہ نہ دو
غیبت نہ کرو
کسی کا دل نہ توڑو
لوگوں کی زندگیوں میں مداخلت نہ کرو
اور ان کے گھروں کے معاملات میں دخل اندازی نہ کرو
حقیقی معجزہ یہ ہے کہ تم انسان بن جاؤ
1988 میں ادت نارائن نامی بھارتی سنگر کو عامر خان کی فلم قیامت سے قیامت تک کے ذریعے بریک ملا اور پھر اس نے پیچھے مڑ کر نہیں ��یکھا۔ اسے سب سے زیادہ سخت مقابلہ کمار سانو سے کرنا پڑا لیکن کمار سانو کبھی بھی اے آر رحمان کو متاثر نہ کرسکا، تاہم ادت نارائن سے اے آر رحمان نے اپنی ہر ہندی فلم میں گانا گنوایا۔
سونو نگم، ابھیجیت جیسے پکے سر رکھنے والے بھی ادت نارائن کا کچھ نہ بگاڑ پائے اور وہ منزلوں پر منزلیں عبور کرتا گیا۔
36 سالہ ناقابل تسخیر لیگیسی کا بالآخر کل انجام اس طرح ہوا کہ ایک کنسرٹ میں کوئی خاتون اس کے ساتھ سیلفی لینے آئی تو ادت نارائن نے زبردستی اس کے ہونٹوں کا بوسہ لے لیا۔
ٹھرک ایسی شے ہے جو بستر مرگ پر بھی سانپ کی طرح پھن اٹھالیتی ہے، ادت نارائن تو ابھی ساٹھ سال کا ہی ہے اور پوری طرح سے ایکٹو بھی۔
بہرحال، یہ ایک بوسہ اب اس کا مرتے دم تک پیچھا کرے گا۔
😍ایک خاتون کی آپ بیتی جو کہ جگ بیتی بھی ھے 😍۔
کبھی کبھی مجھے اپنے اماں ابا سے شدید قسم کا گلہ ہوتا ہے کہ ہمارا سارا بچپن انہوں نے اپنے سے ڈراتے ڈراتے بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ خون خشک کرواتے گزار دیا۔۔۔تو بالکل بھی غلط نہ ��وگا۔۔۔
سارا دن کاموں میں الجھی اماں نے خود کے بچاؤ کے لیے ابا کا ایسا خوفناک نقشہ کھینچ رکھا تھا کہ سمجھ نہیں آتی تھی کہ ان کو ابا کہا جائے یا ڈریکولا۔۔۔(ابا معذرت ہم آپ کو اپنے بچپن میں یہی سمجھا کرتے تھے)۔۔
پھر میری خالص پنجابن دادی۔۔۔۔
اپنی مخصوص گرج میں پنجابی میں نعرہ لگاتیں۔۔
آ لین دیو اج تہاڈے پیو نوں۔۔
اک اک دیاں لتاں باواں تڑا کے نہ منجے تے بربر پایا تے مینوں اپنی دادی نہ آکھنا۔۔۔
نہ ٹک کے بیندے او ۔۔۔ نہ سکون نال سون دیندے او۔۔۔۔
بندہ پوچھے ایک گھر میں تین کمرے اور 9 بچے۔۔۔
ماشاءاللہ۔۔6 ہم اور 3 ہماری اکلوتی لاڈلی پھوپھو کے نونہال۔۔اماں۔۔پھوپھو۔۔۔دادی۔۔۔ایک گھریلو کام کاج کے لیے موجود ہیلپر۔۔۔ کل ملا کر 13 نفوس۔۔۔
اس گھر میں سکون کیسے آ سکتا ہے۔۔۔
دادی کا یہ نعرہ اور ہم سب کو سانپ سونگھ جاتا تھا کہ اماں تو ابا کی مار سے بچا ہی لیں گی۔۔۔مگر دادی۔۔۔
وہ تو متوقع مار پیٹ پروگرام میں ساتھ ساتھ کمپیئرنگ کے فرائض بھی بخوبی سر انجام دیں گیں اور پرانے بھولے بسرے واقعات بھی ابا کو یاد کرانا نہیں بھولیں گیں۔۔۔
مار مار۔۔
ماردا کیوں نئیں
سارا دن گھار اچ طوفان چکی رکھ دیں نے اے سارے۔۔
ایناں دیاں جوتیاں لوا کے ایناں نوں کڈ دے گھروں بار۔۔۔
اور ہمارا بینڈ بجنا شروع ہو جاتا تھا۔۔۔
یہ اور بات کہ اب یاد آتا ہے کہ ابا نے کبھی بھی ہمیں مارا نہیں تھا۔۔۔اماں کا کہنا اور دادی کا پنجابی سٹائل میں ان کو بھڑکانا۔۔۔
ہمیں ڈرانے کے لیے ہوتا تھا۔۔۔
نتیجے کے طور پر ابا کے آتے ہی گھر میں سانپ سونگھ جاتا تھا۔۔۔
جیسے ابا آدم بو آدم بو کرتے ہمارا خون پی جائیں گے۔۔
ابا کو جمعہ کی چھٹی ہوتی تھی اور اماں ہر وہ چیز جس کو کھانے سے ہماری جان جاتی تھی جیسے کہ
خشخاص کا سالن۔۔بڑیاں۔۔کلیجی مصالحہ۔۔۔ماش کی دال۔۔پائے ۔۔۔صرف جمعہ کو ہی پکاتی تھیں۔۔۔اور اس دن ہم روٹی پانی سے نگلنے پر مجبور ہوتے تھے۔۔۔۔
اور تو اور صبح صبح ابا کے اٹھتے ہی دادی ابا سے کہتی تھیں ان کے بستے چیک کر۔۔ان سے سبق سن۔۔۔
گلی کے بچے جمعرات کو آدھی چھٹی ہوتے ہی س��را دن گلی میں کھیلا کرتے اور ہم اپنے بستے صاف کر کے سبق دہراتے کہ اگر ابا نے سن لیا اور ہمیں نہ آیا تو ہماری جوتیاں اتروا کر دادی نے گھر سے باہر نکال دینا ہے۔۔۔
اب سوچتی ہوں کہ ابا تو سارا دن گھر ہی نہیں ہوتے تھے ماسوائے جمعہ کے ۔۔اماں انتہائی سادی گھریلو خاتون اور دادی بھی۔۔
تو یہ ان کی ہمیں سیدھا رکھنے کی ایک کامیاب پالیسی تھی۔۔اللہ کا لاکھ شکر کہ اسی وجہ سے ہم نو کے نو وقت سے پڑھ کر اپنے اپنے پیروں پر خود ہی کھڑے ہو گئے۔۔۔
اب ابا کو پوتے پوتیوں۔۔نواسوں سے لاڈ کرتا دیکھتی ہوں تو دل میں ہوک سی اٹھتی ہے کہ ہائے ابا۔۔۔ہمارا سارا بچپن آپ سے پیار لاڈ اٹھوانے کی حسرت میں ہی گزر گیا۔۔۔۔
اب ابا ایسی سگھڑ زنانی بن گئے ہیں کہ بس۔۔۔
جب بھی گھر جاؤں۔۔
احمد کے کپڑے ہاتھ سے دھو لوں تو فٹا فٹ سپن کر دیتے ہیں۔۔
بازار جانا ہو تو احمد کو نہ صرف سنبھال لیتے ہیں بلکہ کھلا بھی دیتے ہیں۔۔۔
اگر کہیں جانے کا لمبا پروگرام ہو تو سب سے پہلے ابا کہتے ہیں کہ تم ضرور جاؤ احمد کو میں دیکھ لوں گا۔۔۔
اتنی مزے کی چائے بناتے ہیں مصالحے والی کہ ساری تھکن اتر جاتی ہے۔۔
کس کے بچے کو کیا پسند ہے ان کو سب کا پتہ ہے۔۔۔(ہمارا نہیں )
آج احمد کی حجامت کرنی تھی تو نہلانے سے پہلے میں اس کے بال ٹرم کر رہی تھی۔۔۔
ابا نے بڑے پیار سے میرا سر تھپتھپا کر کہا۔۔۔
سنا تھا جو بیٹیاں اپنے باپ کی بہت لاڈلی ہوتیں ہیں وہ آگے اتنے ہی دکھ دیکھتی ہیں۔۔۔۔
" آرائیاں دی کڑی نائیاں دا کم وی سکھ گئی اے۔۔۔۔
وہ مجھ سے پوچھ رہا ہے سناؤ کیسا لگا
تم اگلے زخموں کو چھوڑو یہ گھاؤ کیسا لگا
عجب سوال کیا آندھیوں نے پتوں سے
شجر سے ٹوٹ کے گرنا بتاؤ کیسا لگا
وہ خود بھی خوش ہے زمانے کو مطمئن کر کے
محبتوں میں اسے رکھ رکھاؤ کیسا لگا
بجھا چکے تھے زمانے کے گرم سرد جسے
بدن کی راکھ میں پھر سے الاؤ کیسا لگا
ہمارا ذکر کیا تھا تو خود ہی کہہ ڈالو
گلابی چہرے پہ پھیلا تناؤ کیسا لگا
نکل کے آ تو گئے مصلحت کی چھاؤں سے
انا کے دشت میں پہلا پڑاؤ کیسا لگا
کسی سے کچھ بھی نہیں مفت میں خریدتے ہم
حضور آپ کو یوسف کا بھاؤ کیسا لگا
جب میں مر جاؤں گا تو مجھے کوئی فکر نہیں ہوگی… اور نہ ہی اپنے بے جان جسم کی کوئی پرواہ ہوگی… کیونکہ میرے مسلمان بھائی وہ سب کچھ کریں گے جو ضروری ہے، یعنی:
• وہ میرے کپڑے اتار دیں گے…
• مجھے غسل دیں گے…
• مجھے کفن میں لپیٹیں گے…
• مجھے میرے گھر سے نکالیں گے…
• اور مجھے میرے نئے مسکن (قبر) تک لے جائیں گے…
• بہت سے لوگ میری نمازِ جنازہ میں شریک ہوں گے…
• بلکہ کئی لوگ اپنی مصروفیات اور ملاقاتیں منسوخ کر دیں گے، صرف میری تدفین کے لیے…
یہ وہ لوگ ہوں گے جن میں سے شاید بہت کم نے کبھی میری نصیحتوں پر دھیان دیا ہو۔
پھر میری چیزیں ختم کر دی جائیں گی…
• میری چابیاں…
• میری کتابیں…
• میرا بیگ…
• میرے جوتے…
• میرے کپڑے…
اور اگر میرے اہلِ خانہ نیک ہوں گے، تو وہ ان چیزوں کو صدقہ کر دیں گے تاکہ وہ مجھے فائدہ دے سکیں۔
یقین رکھیں کہ دنیا مجھ پر نہیں روئے گی…
• دنیا کا نظام نہیں رکے گا…
• معیشت چلتی رہے گی…
• اور میری جگہ کسی اور کو نوکری مل جائے گی…
• میرا مال ورثاء کو منتقل ہو جائے گا…
جبکہ ان سب چیزوں کا حساب مجھ سے لیا جائے گا!
• تھوڑے کا بھی…
• زیادہ کا بھی…
• ذرہ ذرہ کا بھی…
اور موت کے ��قت سب سے پہلے جو چیز مجھ سے چھین لی جائے گی، وہ میرا نام ہوگا!
جب میں مر جاؤں گا تو لوگ کہیں گے: “جنازہ کہاں ہے؟”
اور میرا نام نہیں پکاریں گے!
جب وہ میری نمازِ جنازہ پڑھیں گے تو کہیں گے: “جنازہ لاؤ!”
اور میرا نام نہیں پکاریں گے!
جب وہ مجھے دفن کریں گے تو کہیں گے: “میت کو قریب کرو!”
اور میرا نام نہیں پکاریں گے!
لہذا مجھے میرے نسب، میری قومیت، میرے عہدے اور میری شہرت پر کوئی غرور نہیں ہونا چاہیے!
یہ دنیا کتنی حقیر ہے…
اور وہ حقیقت کتنی عظیم ہے جس کی طرف ہم بڑھ رہے ہیں!
لہذا اے زندہ انسان! جان لو کہ تم پر تین طرح کا غم کیا جائے گا:
1. وہ لوگ جو تمہیں سرسری جانتے ہیں، کہیں گے: “بیچارہ!”
2. تمہارے دوست کچھ گھنٹوں یا دنوں تک غم کریں گے، پھر اپنی باتوں اور ہنسی مذاق میں مشغول ہو جائیں گے۔
3. گہرا غم تمہارے گھر والوں کو ہوگا، جو ایک ہفتہ، دو ہفتے، ایک ماہ، دو ماہ یا ایک سال تک رہے گا…
پھر وہ تمہیں یادوں کے گوشے میں ڈال دیں گے!
تمہاری کہانی دنیا والوں کے لیے ختم ہو جائے گی…
اور تمہاری اصل کہانی شروع ہو جائے گی…
تم سے چھن جائے گا:
• حسن…
• د��لت…
• صحت…
• اولاد…
تم گھر، محلات، اور بیوی کو چھوڑ دو گے…
اور تمہارے ساتھ صرف تمہارے اعمال رہ جائیں گے!
اور یہی حقیقی زندگی کی شروعات ہوگی!
سوال یہ ہے:
آج سے اپنی قبر اور آخرت کے لیے کیا تیار کیا؟
یہ حقیقت سوچنے کی متقاضی ہے…
لہذا…
• فرض نمازوں کا خیال رکھو…
• نفل عبادات کرو…
• خفیہ صدقہ کرو…
• اچھے اعمال کرو…
• رات کی نماز ادا کرو…
تاکہ تم بچ سکو۔
اگر تم نے لوگوں کو اس تحریر کے ذریعے نصیحت کی جب تم زندہ ہو، تو قیامت کے دن تمہیں اس کا اجر ملے گا، ان شاء اللہ!
“اور نصیحت کرتے رہو، کیونکہ نصیحت مومنوں کو فائدہ دیتی ہے۔” (الذاریات: 55)
#منقول
مریم نواز ابھی تقریر فرما رہی ہیں کہ میں نے کل ٹی وی میں دیکھا کہ مخالفین کہہ رہے ہیں کہ میں جو طلبا سے جا کر ملتی ہوں، یہ سب پلانٹڈ ہے۔
آخر کار پہلی بار سچ بولنے پر مریم صاحبہ کو دلی مبارکباد۔ 😂😂🤣
عمران خان کا بھی کوئی جواب نہیں۔ ان تیس مار خان نمونوں نے عمران خان کو سزا دے کر اپنی طرف سے بڑا عمران خان مخالف بیانیہ گھڑنے کی کوشش کی۔
لیکن عمران خان کے صرف ایک جملے نے کہ آج تو بڑے بڑے بندر بھی فیصلہ سننے آئے ہیں، ایک نئی بحث چھیڑ دی کہ خان نے بندر کس کو کہا۔
😂😂
پچھلے 32 گھنٹوں سے یہی بحث چل رہی ہے کہ تمہیں کہا، نہیں نہیں ۔۔ تمہیں کہا۔ اور وہ بوگس فیصلہ کسی کو یاد ہی نہیں۔ 🤭😂
القادر یونیورسٹی میرے پاس آگئی ہےاب وہاں جادوٹونہ نہیں سکھایا جاسکےگا۔۔مریم نواز
ویسے تو جب کوئی نفرت اور انتقام میں ڈوبا ہوا ہو تو اسے کیا بتانا کیا سمجھانا لیکن پھر بھی یہ بتا دوں کہ القادر یونیورسٹی میں جادو ٹونہ نہیں سکھایا جاتا سیرت النبٌی پڑھائی جاتی ہے۔۔
اس عورت کا انداز فکر دیکھیں۔ اسے اپنی 30 سالہ investment کی فکر ہے لوگوں کی جان کی فکر نہيں جن کو جنید صفدر جیسے رئیس زادے اپنی گاڑیوں کے نیچے کچل دیتے ہیں۔ اس نے یہ نہيں کہا تم کسی معصوم کی جان لے لو گے۔ کہا کہ میری investment کے بارے میں سوچو۔
۔۔۔
"ایک دفعہ مجھے پتا چلا کہ میرے بیٹے جنید نے بہت تیز گاڑی چلائی۔ میں نے اُسے کہا کہ کیا تمہیں احساس ہے کہ تم نے اپنی جان خطرے میں نہیں ڈالی، یہ جو میری تم پر 30 سال سے کی گئی انویسٹمنٹ ہے، تم اُسے خطرے میں ڈالنے چلے تھے۔"
مریم نواز