سچ لکھیں ،سچ بولیں،
اس وقت جنوبی پنجاب میں ھوں اور ماشااللہ سے مسلم لیگ نواز کو سب سے ذیادہ گالیاں اس کے اپنے سپورٹرز دے رھے ھیں۔تاجران ان میں سب سے اوپر ھیں۔
@FaizullahSwati اب کبھی ن لیگ کو ووٹ نہیں دیں گے
ویسےبھی اگرکہیں عوام کو کبھی حقیقی ووٹ ڈالنےکا موقع مل گیاتو ن لیگی دوبارا کبھی نہ تو پنجاب اور نہ ہی وفاق میں حکومت میں آئے گی
مختلف ادوار میں ن لیگ کو ختم کرنےکی کوشش ہوئیں پر ناکامی ہوئی
لیکن اب چچا بھتجی نے خود نواز لیگ کی حقیقی منجی ٹھوکی ھے
دنیا میں فرعون سے بھی بدتر حکومت نون لیگ کی موجودہ شہباز شریف والی حکومت ہے جب سستا کرنا ہوتا ایک دو روپے مر مر کر کرتے جب مہنگا کرنا ہوتا تو بارہ پندرہ روپے کرتے ہیں پیٹرول 310 روپے لیٹر کر دیا ہے ابھی عالمی منڈی میں مہنگا نہی ہوا اور ایک دن میں یہ مہنگا کر بھی چکے تین ہفتے سستا
اس وقت حکومت کے دفاع میں کچھ لکھنا پاپولر اوپینین نہیں ھوگا ،کسی بھی ملک میں مصنوعات کے مہنگے ھونے کا دفاع بہت مشکل ھے ،ھم اپنا غصہ بھی نکال لینگے لیکن اگر جنگ ھے اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں عالمی مارکیٹ میں بڑھ گئی ھیں تو آج سستی قیمتیں رکھ کر بھی کل اس سے بڑی تباھی آئے گی جیسا کہ عمران خان نے حکومت سے جاتے جاتے پٹرول کی قیمتیں کم کردی تھیں،یہ جنگ بھی کچھ دن میں رک ج��ئے گی اور قیمتیں بھی انشاء اللہ کم ھوجائینگی۔کچھ وقت اور شک کا فائدہ حکومت کو بھی دیں۔
دنیا میں فرعون سے بھی بدتر حکومت نون لیگ کی موجودہ شہباز شریف والی حکومت ہے جب سستا کرنا ہوتا ایک دو روپے مر مر کر کرتے جب مہنگا کرنا ہوتا تو بارہ پندرہ روپے کرتے ہیں پیٹرول 310 روپے لیٹر کر دیا ہے ابھی عالمی منڈی میں مہنگا نہی ہوا اور ایک دن میں یہ مہنگا کر بھی چکے تین ہفتے سستا پیٹرول تھا وہ مہنگا بیچتے رہے
ان پر روز ویسے لعنت بھیجیں جیسے شیطان پر بھیجتے ہیں
میزان بینک نے مجھے فون پر اطلاع دی ہے کہ صدرِ پاکستان کے سیکریٹریٹ کے 18 مارچ 2026 کے حتمی فیصلے پر عملدرآمد کرنے کے بجائے، صرف Rs. 216,000 کی رقم واپس نہ کرنے کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا ہے۔
میرا سوال صرف اتنا ہے کہ ایک عام پاکستانی آخر صرف Rs. 216,000 کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ میں وکیل کیسے کرے؟ مقدمے کے اخراجات کہاں سے لائے؟
میں دو سال سے زیادہ ہر قانونی فورم پر گیا۔ Meezan Bank نے میری شکایت ��سترد کی، پھر Banking Mohtasib گیا، وہاں سے بھی ریلیف نہ ملا۔ اس کے بعد میں نے صدرِ پاکستان کے سیکریٹریٹ سے رجوع کیا، جہاں باقاعدہ سماعت ہوئی۔ میں بغیر کسی وکیل کے خود پیش ہوا، جبکہ Meezan Bank کی جانب سے ان کا وکیل پیش ہوا۔ دونوں فریقین کو سننے کے بعد میرے حق میں فیصلہ آیا اور بینک کو Rs. 216,000 واپس کرنے کا حکم دیا گیا۔
لیکن ک��ی ماہ گزر جانے کے باوجود فیصلے پر عملدرآمد نہیں ہوا۔ میں نے ای میلز لکھیں، برانچ گیا، SBP Sunwai پر شکایت کی، دوبارہ Banking Mohtasib سے رجوع کیا، مگر نتیجہ صفر رہا۔ پہلے کہا گیا معاملہ Senior Management کے پاس ہے، اور اب بتایا جا رہا ہے کہ فیصلے کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا ہے۔
کیا ایک عام شہری کو انصاف حاصل کرنے کے لیے ہر دروازہ کھٹکھٹانے کے بعد بھی نئی قانونی جنگیں ہی لڑنی ہوں گی؟ اگر ایک حتمی فیصلہ بھی عام شہری کو ریلیف نہ دے سکے، تو پھر انصاف آخر کہاں ملے گا ۔
کسی نے لکھا تھا کہ صحافت کی ریٹائرمنٹ کا وقت بھی ہونا چائیے تاکہ ایسے دھرتی کے بوجھ کی بک بک سننے سے بہتر عوام کے مسائل پر بات ہو سکے
اس ٹڈل کے مطابق پرائم منسٹر و وزیراعلی کو جلسے جلوس مار دھاڑ کنٹیر و بہتان تراشی کرنی چائیے کام نہیں کرنا چائیے
آپ کے تجزیے پر سوسو کرنا بنتا ہے