ہر بندے نے اپنے آپ نوں کجیا اے
ہر چہرے تے نقلی چہرہ سجیا اے
نظر جے آؤندا اپنا آپ بچا لیندا
پُھلاں دے وچ لُکیا خنجر وجیا اے
دھرتی اُتے جُھگیاں دے دل ڈولے نیں
امبر اُتے جد وی بدل گجیا اے
جِنی ودھدی اونی بُھکھ ودھاندی اے
دولت نال کدوں کوئی بندہ رجیااے
(اقبال شیدا)
@Hm14tv@RaoKamranAliMD وہ ایسا نہیں کر سکتے ہیں کیونکہ ان کی جیبیں بھری ہوتی ہیں یہ مرغ مسلم کھانے والے کیا جانے
بھوکے پیٹ کا درد کیا ہوتا ہے
آئینہ دکھانے سے لوگ برا مان جاتے ہیں
حرام کی طاقت
حرام میں بہت طاقت ہوتی ہے۔
پھر وہ چاہےحرام رزق ہو،مال ہو یاپھر حرام تعلقات۔
جب انسان کسی حرام چیز میں پڑجاتا ہےنا،
تو اس کی آنکھوں پر ایک *“بالکل صحیح”*کی پٹی بندھ جاتی ہے۔
انسان خود کو ہر کام میں درست ماننے لگ جاتاہے۔
اپنے لیے*کیا غلط،کیا صحیح*کےچکر سے نکل آتا ہے۔
ہم گرنےکےبعدسنبھلنےکےبجائے*بلیم گیم*شروع کردیتےہیں
فلاں نےمیرےساتھ یہ کیا،فلاں نےمیرےساتھ وہ کیا،
اللہ ہمیشہ میرےساتھ ہی ایساکرتاہے۔میں فلاں کےوجہ سے اس حال میں ہوں۔
پھر وہ عروج، جو ہم نے حرام سے حاصل کیا تھا،
وہ زوال بن جاتا ہے — دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔
پھر ہمارا ایک اور زوال شروع ہوتا ہے۔
اور پتا ہے وہ زوال کون سا ہوتا ہے؟
ہماری عقل اور شعور کا۔
پھر ایک وقت آتا ہے،
انسان خود کو ناقابلِ شکست سمجھنے لگ جاتا ہے۔
اور اسی سمجھ میں بہت آگے بڑھ جاتا ہے۔
لیکن یہ بلندی کامیابی کی بلندی نہیں ہوتی،
بلکہ یہ وہ سیڑھی ہوتی ہے
جس کے آخری سرے پر پہنچ کر یہ آپ کو پٹخ کر نیچے مارنے والی ہے۔
تو وہ اندر کہیں نہ کہیں جانتا ہوتا ہے کہ یہ غلط ہے۔
لیکن پھر آہستہ آہستہ وہ پٹی گہری ہونا شروع ہو جاتی ہے۔
ہم خود ہی اپنے گناہوں کی دلیلیں دینا شروع کر دیتے ہیں۔
اور پھر ایک دن ہم اپنے گناہوں کی وکالت کرتے کرتے
اتنے بڑے وکیل بن جاتے ہیں کہ کوئی ہمارا مقابلہ تک نہیں کر پاتا۔
اس کےلیےہر وہ کام درست ہوجاتاہےجو وہ کررہا ہوتاہے۔
کوئی لاکھ سمجھائے،اس کےباوجود بھی نہیں سمجھتابلکہ سمجھانےوالا ہی اس کی نظرمیں غلط بن جاتاہے۔
پہلےپہل جب انسان حرام کی طرف جاتاہےنا،
تواسےخود بھی پتاہوتاہےکہ وہ غلط ہے۔
اور یہ حقیقت ہےکہ کوئی بھی انسان جب کچھ غلط کر رہا ہوتا ہے،
آپ کی پرواز کے سامنے آسمان کھلا ہواہے۔ اپنی اڑان کو اونچا کرتے جائیں تو بہت سی رکاوٹيں خود ہی دور ہوتی جائیں گی۔ اپنی طاقت عقاب کی مانند مثبت کاموں میں صرف کريں۔ اپنی پرواز کی قوت کو جان لیجیے۔ یہی کامیابی کا راز ہے۔
کوا وہ واحد پرندہ جو عقاب کو تنگ کر سکتا ہے. یہ پرندوں کے بادشاہ عقاب کی پشت پر بیٹھ جاتا ہے اور اپنی چونچ سے اسکی گردن پر کاٹتاہے۔ جبکہ کوے سے زیادہ طاقتور عقاب کوے کا مقابلہ کرنے میں اپنی طاقت اور وقت صرف نہیں کرتا۔ 👇
بلکہ وہ اپنے پر کھولتا اور آسمان کی طرف اونچی اڑان بھرنا شروع کردیتا ہے۔عقاب کی پرواز جتنی بلند ھوتی جاتی ہے کوے کی اڑان اتنی ہی مشکل ہو جاتی ہے اور بل آخر وہ آکسیجن کی کمی کی وجہ سے گر جاتاہے۔ آج سے آپ ان لوگوں کی وجہ سے پریشان ہوناچھوڑ دیں جو آپ کی پیٹھ پیچھے باتیں کرتے ھیں۔