ہم جو چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ ہمارے جنگلات، معدنیات اور وسائل سب کچھ پنجابی جرنیل لے گئے، لیکن کوئی ماننے کو تیار نہیں۔ یہ تیراہ کا علاقہ ہے، جہاں مقامی لوگوں کو بندوق کے زور پر اپنے ہی گھروں اور زمینوں سے بے دخل کر دیا گیا۔ دیکھیں، ہمارے جنگلات کا کیا حال بنا دیا گیا ہے۔
ہمیں یہ کہہ کر اپنے علاقے سے باہر پھینک دیا گیا کہ یہاں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کرنا ہے۔ نو ماہ گزر چکے ہیں، لیکن آج تک کسی دہشت گرد کے خلاف ایک گولی تک نہیں چلائی گئی؛ کسی کو مارنا یا گرفتار کرنا تو دور کی بات ہے
ریٹائر جسٹس انوارلحق پنوں نے جیسے ہی یہ بات کی کہ:
“اس ملک کو ججزز، بیوروکریٹس،فوجی انہوں نے تباہ کیا ہے اور وہ اس ڈگر پر پوری قوت سے چل رہے ہیں۔“
غریدہ فاروقی نے فوراً روک دیا۔ یہ ہیں اس ملک کے نام نہاد صحافی جنکا کام سچائی دیکھنا اور بتانا ہوتا ہے وہی اس چھپاتے ہیں تاکہ معاشرہ حقیقت سے بے خبر رہے۔
جس ملک میں آزادی سے سوچنے بات کرنے کی اجازت نہ ہو وہ ملک کسی قیمت پہ ترقی نہیں کر سکتا۔ حکمران خاندان، مقتدرہ جمہوریت میں یہ بتائیں نہیں ہوتیں ۔ جب تک یہ لوگ اپنے اپنے دائرے میں نہیں جاتے، کوئی چانس بہتری کا نہیں ہے۔ اس ملک کے وسائل کم ہوتے جا رہے ہیں اور انکی خواہشات بڑھتی جا رہی ہیں ۔ نظام فیل ہو چکا ہے یہ بات کر کون رہا ہے ؟ وہ خود کس نظام کی پیداوار ہیں؟!
اسمبلیوں میں آئینی ترامیم وزیرقانون کو بتائے بغیر کی جاتی ہیں پاکستان کی عدالتوں کو دبایا جاتا ہے ۔ اسمبلیوں میں ہاف فرائی اور فل فرائی کی ٹرم استعمال ہو یہ گڈ گورننس ہے؟ یہ کیا ہو رہا ہے اس ملک کے ساتھ ؟ کیا آپ سمجھتے ہیں اسطرح آپ بہت دیر وقت گذار لیں گے سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ تمام قوتوں کو اپنے برے دنوں کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ یہ کوئی خوشی کی بات نہیں ہے یہ ایک بھیانک سین ہے جو نظر آرہا ہے۔
ہم اپنے لوگوں کو کاکروچ ماننے کو بھی تیار نہیں ہیں ۔ وہاں جمہوریت تھی تو انکی بات مان لی گئی ۔یہاں تو آزادی سے سوچنے کسی سے شئیر کرنے کی اجازت نہیں ہے ۔یہ آفاقی اصول ہیں ۔ آپ دنیا بھر کے ملک دیکھ لیں جس ملک نے ترقی کی انہوں نے کسی اصول پر ترقی کی۔ ہمیں بھی اصول اپنانے پڑیں گے ۔
سردار امان خان کے تاریخی الفاظ 🔥
ان جرنیلوں میں کوئی بھی معزز آدمی نہیں,
کوئی منشیات فروش ہے, کوئی لینڈ مافیا ہے, کوئی بھی چور ڈاکو ہوگا, اسکے پیچھے کوئی کرنل جرنل ہوگا!!
اب یہ الفاظ کوئی نہیں بتا سکتا بس جن میں جرت ہو سچ بولنے کی ہمت ہو!!
جانی خیل میں سات دن، 5 دردناک واقعات!
آج ایک بار پھر دن دہاڑے پاکستانی کواڈکاپٹر حملے نے سین تانگہ (پویا)، جانی خیل میں کمسن نوجوان #عالم_نور کی جان لے لی، جبکہ #عابد_علی شدید زخمی ہوگیا۔ اس کی ایک ٹانگ کی ہڈی ٹوٹ گئی اور ایک ہاتھ کے علاج کے بارے میں بھی خدشات ہیں۔ اسے مزید علاج کے لیے پشاور HMC ریفر کیا گیا۔
زخمیوں کو ہسپتال پہنچانے کا سفر بھی قیامت سے کم نہ تھا۔ راستے میں پلوں کو بموں سے اڑائے جانے کے باعث انہیں چھ گھنٹے کی اذیت ناک مسافت طے کرنا پڑی۔
صرف ایک ہفتے میں 22 بے گناہ زخمی اور 4 افراد شہید ہوچکے ہیں، جبکہ آج بچکی جانی خیل میں 5 سے زائد املاک بھی تباہ کی گئیں۔
یہ ظلم خاموشی سے ختم نہیں ہوگا؛ زخم جتنے گہرے ہوں گے، غصہ اور مزاحمت اتنی ہی بڑھے گی۔
یہ آپریشن اگر امن کے نام پر ہے تو پھر اس کے نتیجے میں امن کے بجائے خوف، نفرت اور مزید تباہی کیوں جنم لے رہی ہے؟
PTM jani khel page !
#PashtunLivesMatter
#StopPashtunGenocide
#StopStateTerorism
آج رات کراچی شفیق موڑ پر واقع پشتون چائے کے ہوٹل اور ریڑھیاں والوں کے ساتھ پولیس کا تشدد اور ناروا سلوک!
گزشتہ چند مہینوں میں سندھ پولیس نے کئی پشتونوں کو اغوا کرکے پیسوں کی ڈیمانڈ کے بعد رہا کیا ہے۔ اس طرح ان بدمعاش و عونڈہگرد پولیس کو بھتہ نہ دینے پر پشتونوں کے ہوٹلز، دکانیں، ریڑھیاں وغیرہ ضبط کرنے کے ساتھ ساتھ ان پر بے انتہا تشدد بھی کیا جاتا ہے۔
ایک طرف استعمار نے پشتونوں کی اپنی ہی اربوں ڈالرز سے مالامال وطن سے کراچی یا پنجاب جانے پر مجبور کر رکھا ہے جہاں وہ دن رات محنت کرکے دو وقت کی روٹی کمانے والوں پشتونوں کے ساتھ اسرائیلی پولیس سے بھی زیادہ بدتر سلوک اور تعصب کیا جاتا ہے۔
یہاں پورے پشتون بیلٹ پر ڈالری آپریشن مسلط کیے گئے ہیں۔ روزانہ نوجوان، بچے اور بچیاں چھین لیے جاتے ہیں۔ دوسری طرف ہزاروں میل دور روٹی کمانے والے پشتونوں کا معاشی اور روایتی قتلِ عام ہو رہا ہے۔
پھر چند پشتون ہمیں مضبوط پاکستان بنانے کا درس و تدریس دیتے ہیں۔
پنجابی استعمار نے اس قوم کو ذلت و غلامی کی علامت بنا رکھا ہے جس قوم نے فرنگ، اورنگ ، برطانیہ، امریکہ اور دیگر سامراج کو عبرتناک شکست دی۔
آج یہاں پشتون عزہ سے بدتر صورتحال سے گزر رہے ہیں۔ ظلم اور طاقت کی یہی نشہ ایک دن ختم ہوگی تو پھر تمہارا احتساب دنیا کے دیگر شکست خوردہ سامراج سے بھی زیادہ بدترین ہوگا۔
#StopStateTerrorism #StopPashtunsGenocide
سردار امان خان نر کا بچہ!!🔥
تم وردی اتارو فوج کو چھوڑو اور سامنے آؤ منشیات فروشوں, پھر دیکھو تمھاری کیا اوقات ہے, تم ہمارے لوگوں پر ظلم کرتے ہو, بیشرمو, فائرنگ کرتے ہو!!
جب تک ہم ایک بھی موجود ہے, ہم کھڑے رہنگے
سوات کا 10 سالہ بچہ، جو امن کا داعی تھا، عوامی احتجاج میں شہید ہو گیا۔
پورا خیبر پختونخوا خون میں نہایا ہوا ہے, ہر طرف ریاست کی جانب سے پشتونوں کو مارا جارہا ہے، سوات میں اب تک 9 افراد ہلاک ہوئے، جن میں پانچ عام شہری اور چار پولیس اہلکار شامل ہیں۔ اسی طرح بنوں کے جانی خیل کے نور مارکیٹ پر ڈرون حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں چار افراد جاں بحق اور پندرہ دیگر زخمی ہوئے ہے ،
پشتون لینڈ پشتون قوم کیلئے قاتلگاہ بن چکا ہے ۔
#PashtunLivesMatter
#StopStateTerorism
تیسرے درجے سے میڈل اور میٹرک کر کے فوج میں بھرتی ہونے والے فوجیوں نے اسلام آباد یونیورسٹی سے PHD کرنے والے اسامہ کو گولی مار کر شہید کیا ہے ۔۔
پڑھے لکھنے اور شعور رکھنے والے نوجوان ان جاہل وردی والوں کے سب سے بڑے ٹارگٹ ہوتے ہیں ۔۔
ہمارا ایک سولین اسامہ 7 لاکھ ڈفرز سے کروڑ درجے بہتر تھا ❤️🩹
نئے صوبوں کی خواہش آخر کس کی ہے؟ وزیرِ داخلہ کس کے نمائندے ہیں؟ آج کی پریس کانفرنس میں، وزیرِ داخلہ کی تقریر پر ردِعمل نہ دینے کے اعلان کے باوجود، نئے انتظامی یونٹس کے قیام کے حوالے سے ڈی جی آئی ایس پی آر نے زور دیا۔
آخر یہ سسٹم چلا کون رہا ہے؟ ہر ادارے میں کس ادارے کے حاضر سروس یا ریٹائرڈ افسران موجود ہیں؟ اس کے باوجود ہر ناکامی کی ذمہ داری سیاسی شخصیات پر ڈال دی جاتی ہے۔
عوام کو دھوکہ نہ دیا جائے۔ سرکار بھی آپ ہیں، سسٹم بھی آپ ہی ہیں۔ اگر کل کوئی "کاکروچ" نکلتے ہیں تو ان کا نشانہ بھی آپ ہی ہوں گے، کیونکہ سب جانتے ہیں کہ یہ سسٹم کس کا ہے اور کس کے مرہونِ منت چل رہا ہے۔
اس سسٹم میں شامل تمام حکومتوں سے، خواہ وہ وفاقی ہوں یا صوبائی، یہی گزارش ہے کہ اس نظام سے خود کو الگ کریں۔ آپ کو ویسے بھی صرف برائے نام اختیارات دیے گئے ہیں۔ جن کا یہ سسٹم ہے، وہی اس کی کامیابی اور ناکامی کی ذمہ داری بھی قبول کریں اور اسی کا کریڈٹ بھی لیں۔
#زیارت_کچھ_واقعہ
فائرنگ شام 7 سےصبح 4 بجے تک جاری رہی۰
SP خود FC قلعہ میں بیٹھا رہا۰
بار بار بتانے پر نہ فورس گئی نہ ہمیں جانے دیا۰
جب مسلح افراد نے کام نمٹا دیا, تو ریاستی سہولتکار بیدار ہوئے۔ اس وقت تمام شہید و اغوا ہوئے تھے۰
اب آپ ہی بتائیں: قاتل کون ہے؟
بڑا سمجھدار دشمن ہے اسے ڈی ایچ اے کی ترقی سے کوئی مسئلہ نہیں
فوجی گروپ اور فاؤنڈیشن کی ترقی سے کوئی مسئلہ نہیں
عسکری بینک عسکری سیمنٹ عسکری یوریا کی ترقی سے کوئی مسئلہ نہیں
سمگلنگ بزنس کی ترقی سے کوئی مسئلہ نہیں
مسئلہ ہے تو صرف بلوچستان کی ترقی سے مسئلہ ہے!
کشمیر کے بعد بلوچستان کے عوام نے بھی پتلونیں اتروانے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔
زیارت دھرنے میں آج وہی FC کے اہلکار آئے تھے جو گزشتہ کئی دنوں سے منظرِ عام سے مکمل طور پر غائب تھے۔ عوام نے واپس بیرکوں میں بیجھ دیا۔ اب عوام کو اندازہ ہو چکا ہے کہ دہشت گردوں کے اصل سہولت کار کون ہیں۔
یہ غزہ نہیں خیبر پختونخواہ پاکستان ہے، جہاں اسرائیلی نہیں بلکہ پاکستانی فوج نے یہ ظلم کیا ہے۔ کدھر ہے خیبر پختونخواہ حکومت اور پی ٹی آئی قیادت کی مذمت؟
ایک ماہ سے جاری مسلسل ہراسانی کے بعد گزشتہ رات تقریباً ایک بجے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور پولیس کے اہلکار، جو بائیس گاڑیوں میں سوار تھے اور جن کی تعداد تقریباً 60 سے 70 کے درمیان تھی، لیڈی پولیس اہلکاروں کے ہمراہ مجھے گرفتار کرنے کے لیے میرے گھر پہنچے۔
اس وقت میں گھر پر موجود نہیں تھی۔ اہلکاروں نے گھر کے دروازے توڑ کر زبردستی اندر داخل ہوئے اور تقریباً پانچ گھنٹے تک گھر کے اندر موجود رہے۔ اس دوران انہوں نے پورے گھر کی تلاشی لی اور گھر میں موجود تمام سامان، بشمول لیپ ٹاپ، کیمرے، موبائل فون، کتابیں، دستاویزات اور زیورات اپنے ساتھ لے گئے۔
اگر ان کا مقصد مجھے گرفتار کرنا تھا تو میری غیر موجودگی کا کنفرم کرنے کے باوجود میرے گھر کے دروازے توڑ کر داخل ہونے کی کیا مقصد تھا؟ میرے گھر میں موجود قیمتی اشیاء کو چوری کرنے، سامان کی توڑ پھوڑ کرنے اور ہمسائیوں کو تشدد اور ہراساں کرنے کا کیا مقصد تھا؟ کس قانون کے تحت یہ سب کچھ کیا جارہا ہے؟
میں متعدد بار یہ واضح کر چکی ہوں کہ اگر میرے خلاف کوئی مقدمہ ہے تو میں اسے قانونی فورمز پر سامنا کرنے کے لیے تیار ہوں۔ تاہم ایک پُرامن انسانی حقوق کے کارکن کے گھر پر رات کے اندھیرے میں دھاوا بولنا، ہمسایوں کو تشدد اور دھمکیوں کے ذریعے خوفزدہ کرنا، اور میرے خاندان کو ہراساں کرنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مقصد قانون کا نفاذ نہیں بلکہ مجھے اور میرے اہلِ خانہ کو ڈرانا اور خاموش کرانا ہے۔
میرے گھر کو پہنچنے والے تمام نقصان اور اس کارروائی کے نتائج کی ذمہ داری بغدادی پولیس، لیاری پولیس اور سندھ حکومت پر عائد ہوگی۔
مریم نواز آج اگر زندہ ھوتی تو ڈاکٹر مہرنگ بلوچ کو سزا سُنائے جانے پر رو رو کر اپنا بُرا حال کرلینا تھا اور ڈاکٹر مہرنگ بلوچ کی رہائی تک کوئٹہ جیل کے باہر دھرنہ دے دینا تھا لیکن بہرحال اس سزا سے پاکستان کی سیاسی جماعتوں کے لئے بلوچستان میں نفرت میں مزید اضافہ ھوگا
جن لوگوں کو ہم پچھلے 78 سالـــوں سے اپنے ملک کا محافظ اور وفادار سمجھتے تھـــےان لوگوں نے ہمارے ملک کے سفید پوش بزرگوں ماؤں بہنوں اور بچیوں کے ساتھ اس طرح سلوک ہونا شــروع کیا ہے آج آزادکشمیر سے مقبوضہ کشمیر جیسے مناظر سامنے آ رہے ہی۔بندوق والے کا نہ کوئی مذہب ہوتا ہے نہ اخلاقیات بس طاقت کا غرور ہوتا ہے، فرعونیت ہوتی ہے، اور نہتے لوگوں کے خلاف نفرت ہوتی ہے
#RightsMovementAJK
#کشمیر_مزاحمت
#جموں_کشمیر_جوائنٹ_عوامی_ایکشن_کمییٹی
#شہ_رگ_کا_سانس_بند_نہ_کرو
#راولاکوٹ
ن لیگ کے پاس پہلے موٹروے اور ایٹمی دھماکے والی گردان تھی اور اب امریکہ ایران صلح والی فلم ہاتھ لگ گئی ہے اور اب پٹوارخانے نے بات بات پر امریکہ ایران صلح پر بڑھکیں مارنی ہیں حالانکہ ٹرمپ کی سٹپنی بن کر اسکی جان چھڑوائی ہے