@LordRoninJ@DanTheZionist@cenkuygur@PiersUncensored What do u know abt Hassan Nasrallah? He seems like an angel compared to this demonic Israeli govt! It has also trickled down into their societies. It has made all of into killers and fags! Iran is a good lesson that u guys are being taught!
حیرت ہے جو کمرشل فلائیٹ سے اپنا سفر کر رہا ہے اس سے تقاضا کیا جارہا ہے کہ وہ احساب دے، جبکہ جنہوں نے 10 ارب کا جہاز لیا، اس پر جھوٹ بولا گیا کہ پنجاب ائیرلائن کیلئے خریدا ہے، اور پھر جب وہ جھوٹ پکڑا گیا تو دوسری وزیر صاحبہ یہاں تک کہہ گئیں کہ ’’ہاں خریدا ہے بھائی‘‘۔!۔ یعنی کچھ بھی؟۔
اب گلہ نہیں جوابدہی ہوگی۔
جنہوں نے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا، غیرقانونی احکامات دیے، ان پر عمل درآمد کیا، شہریوں کے حقوق پامال کیے یا ظلم پر خاموش تماشائی بنے ہر ذمہ دار کو جواب دینا ہوگا۔
عہدہ کوئی بھی ہو، وردی ہو یا اختیار قانون سے بالاتر کوئی نہیں۔
#ستمبر_مزاحمت_عہد_ہمارا
میں ( یاسر گیلانی) اللّٰہ کو حاضر ناظر جان کر حلف دیتا ہوں کہ 8 فروری 2024 الیکشن میں محترمہ اعظمی بخاری صاحبہ کا خاوند سمیع اللّٰہ خان میرے سے ہارا ہے۔
جھوٹوں پر اللّٰہ کی لعنت ہو۔
جو خود جھوٹا حلف اٹھا کر جعلی MPA بنا ہے وہ آج کل استحقاق کمیٹی میں افسران سے حلف لیتا ہے۔
#PTI
PTI کے بریگیڈیئر مشتاق احمد نے پنجاب اسمبلی میں ظالموں کو آئینہ دیکھا دیا ماڈل ٹاؤن، مریدکے، 9 مئی اور 26 نومبر کے قاتلوں سن لو! آپ کا حشر بہت خوفناک ہوگا۔
Hi @piersmorgan remember when you asked me on your show two years ago what Israel's goal in Gaza could be, if not fighting Hamas, and I said they wanted to depopulate the strip of Palestinians?
Well.... ⬇️⬇️⬇️⬇️
📚 ’’مطالعۂ پاکستان‘‘ کی کتاب بند کریں، تاریخ کی فائل کھولیں! 😏
ایک سوال ہے:
کیا آل انڈیا مسلم لیگ انگریزوں نے بنائی تھی؟
اس کا سیدھا جواب ’’ہاں‘‘ یا ’’نہیں‘‘ میں دینا آسان ہے، مگر تاریخ اتنی سادہ نہیں۔
1885ء میں A.O. Hume نامی سابق برطانوی ICS افسر نے ہندوستانی رہنماؤں کے ساتھ مل کر انڈین نیشنل کانگریس کے قیام میں اہم کردار ادا کیا۔ اسی کو بعد میں ’’Safety Valve Theory‘‘ کے ذریعے یوں بیان کیا گیا کہ بڑھتے ہوئے سیاسی غصے کو ایک آئینی پلیٹ فارم دیا جائے تاکہ کوئی نئی 1857ء جیسی بغاوت نہ ہو۔
لیکن ذرا ٹھہریے! 😅
یہ کہنا کہ لارڈ ڈفرن اور ہیوم نے باقاعدہ بیٹھ کر ’’انگریزوں کی کٹھ پتلی کانگریس‘‘ بنائی تھی تاریخی طور پر ثابت شدہ حقیقت نہیں۔ تاریخ دان خود اس دعوے پر اختلاف کرتے ہیں۔
اب آتے ہیں اصل دلچسپ باب کی طرف… 👇
1906ء کا شملہ وفد
یکم اکتوبر 1906ء کو آغا خان کی قیادت میں مسلم رہنماؤں کا وفد وائسرائے لارڈ منٹو سے شملہ میں ملا۔
مطالبہ؟
مسلمانوں کے لیے جداگانہ انتخابات، سیاسی نمائندگی اور سرکاری ملازمتوں میں مناسب حصہ۔
یہ ملاقات محض اتفاق نہیں تھی؛ وفد کی تیاری اور وائسرائے سے ملاقات کے انتظام میں مسلم رہنماؤں اور علی گڑھ کے حلقوں کا کردار تھا، جبکہ منٹو نے وفد کو خوش دلی سے سنا اور جداگانہ نمائندگی کے مطالبے سے ہمدردی ظاہر کی۔
پھر کیا ہوا؟
1909ء کے Morley-Minto Reforms میں جداگانہ انتخابات کو قانونی حیثیت مل گئی۔
یعنی اب مسلمان اپنے نمائندے خود منتخب کریں گے اور انتخابی سیاست میں مذہبی شناخت باقاعدہ آئینی زمرہ بن جائے گی۔
یہ وہ مقام ہے جہاں Divide and Rule کی بحث شروع ہوتی ہے۔
کیونکہ ایک طرف ہندوستان میں مشترکہ قومیت کا تصور مضبوط ہو رہا تھا، دوسری طرف نوآبادیاتی نظام مختلف مذہبی اور طبقاتی شناختوں کو الگ الگ سیاسی خانوں میں ترتیب دے رہا تھا۔
لیکن ایک بات پھر واضح:
مسلم لیگ کو انگریزوں نے براہِ راست ’’بٹھا کر‘‘ نہیں بنایا تھا۔
دسمبر 1906ء میں ڈھاکہ میں مسلم رہنماؤں نے آل انڈیا مسلم لیگ قائم کی۔ اس کے ابتدائی رہنما زیادہ تر مسلم اشرافیہ سے تعلق رکھتے تھے اور ابتدا میں اس کی سیاست برطانوی حکومت سے جنگ نہیں بلکہ مسلمانوں کے سیاسی مفادات اور آئینی تحفظات کے گرد گھومتی تھی۔
یعنی اصل کہانی یہ ہے:
مسلم لیگ ایک حقیقی مسلم سیاسی ضرورت، مسلم اشرافیہ کے مفادات اور برطانوی نوآبادیاتی سیاست—تینوں کے ملاپ سے پیدا ہونے والی جماعت تھی۔
اور یہی بات زیادہ دلچسپ ہے۔ 😏
پھر 1937ء میں کیا ہوا؟
اگر مسلم لیگ 1906ء ہی سے ’’ہندوستان کے تمام مسلمانوں کی واحد نمائندہ جماعت‘‘ تھی، تو 1937ء کے انتخابات میں اسے مسلمانوں کے اندر اتنی بڑی انتخابی کامیابی کیوں نہ مل سکی؟
کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ 1937ء تک مسلم لیگ ابھی پورے ہندوستان کے مسلمانوں کی عوامی نمائندہ جماعت نہیں بنی تھی۔
پنجاب میں یونینسٹ پارٹی، بنگال میں علاقائی مسلم سیاست، سندھ اور دوسرے علاقوں میں مقامی سیاسی گروہ—مسلم سیاست ایک ہی جماعت کے ہاتھ میں نہیں تھی۔
یہی وجہ ہے کہ 1937ء کے بعد محمد علی جناح نے مسلم لیگ کو ایک اشرافیائی تنظیم سے نکال کر عوامی مسلم سیاسی تحریک بنانے پر بھرپور توجہ دی۔
اور پھر تاریخ نے ایسا پلٹا کھایا کہ…
جس مسلم لیگ کو 1937ء میں کمزور سمجھا جا رہا تھا، وہی 1946ء تک ہندوستانی مسلمانوں کی سب سے بڑی سیاسی قوت بن گئی۔
اور اب ذرا اصل سوال! 👀
کیا انگریز Divide and Rule استعمال کرتے تھے؟
بالکل۔
کیا انہوں نے مذہبی اور سیاسی اختلافات کو اپنے اقتدار کے لیے استعمال کیا؟
بلاشبہ۔
کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر مسلم سیاسی مطالبہ ’’انگریز کی سازش‘‘ تھا؟
ہرگز نہیں۔
کیونکہ مسلمانوں کے سیاسی تحفظات حقیقی بھی تھے۔
اور یہی وہ نکتہ ہے جہاں سوشل میڈیا کی تاریخ اور اصل تاریخ الگ ہوجاتی ہے۔
اصل تاریخ یہ نہیں کہ:
’’انگریز نے مسلم لیگ بنائی، مسلمانوں کو ورغلایا اور پاکستان بنوا دیا۔‘‘
اور نہ ہی یہ کہ:
’’مسلم لیگ شروع دن سے ہی ایک مکمل عوامی آزادی کی جماعت تھی۔‘‘
حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔
ابتدا میں مسلم لیگ اور برطانوی حکومت کے درمیان مفادات کے کئی مشترک میدان موجود تھے، مگر وقت کے ساتھ یہی مسلم لیگ ایک ایسی سیاسی تحریک میں تبدیل ہوئی جس نے بالآخر پاکستان کا مطالبہ پیش کیا۔
یعنی تاریخ کا سب سے بڑا طنز شاید یہی ہے:
جس نوآبادیاتی نظام نے ہندوستانی اختلافات کو اپنے اقتدار کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی، اسی نظام کے اندر پیدا ہونے والی سیاسی طاقتیں آخرکار اسی برطانوی اقتدار کے خاتمے کا ذریعہ بن گئیں۔
جاری ہے 👇👇👇
🚨🇺🇸 Former CIA officer John Kiriakou:
"Of course, Mossad infiltrated Al-Qaeda. Of course, they knew the attack was coming. That's why there were Israelis dancing. That's why 9/11 happened."
موت کا وقت مقرر ہے لیکین یہ فیصلہ آپ نے کرنا ہے کہ آپ نے بہادر شاہ ظفر کی طرح غلامی میں مرنا ہے یا ٹیپو سلطان کی طرح حق کے لئے لڑ کر مرنا ہے !عمران خان۔
ایک عمران خان کو مائنس کرنے کے لئیے تم نے پارلیمنٹ کو مائنس کیا تم نے عدالت کو مائنس کیا تم نے آئین کو بھی مائنس کیا تم نے جمہوریت کو بھی مائنس کیا تم نے رول آف لاء کو بھی مائنس کیا تمام اداروں کو تم نے مفلوج کردیا ایک شخص کی وجہ سے
آپ پاکستان کو مائنس کررہے ہیں ! آپ نوجوانوں کو مائنس کررہے ہیں آپ ان کے ووٹ کو مائنس کررہے ہیں !! یہ بہت خطرناک بات ہے
حافظ حمد اللہ کی ٹاک شو میں گفتگو