کام کا پریشر اور نوکری بچانے کی کوشش۔
نئی دہلی انڈیا میں ایک شخص نے ٹریفک لائٹ ریڈ ہونے پر جیب سے فون نکالا، میسج چیک کیا اور لیپ ٹاپ نکال کر کام شروع کردیا۔
جسکے بعد پورے انڈیا میں ایک زبردست قسم کی ڈیبیٹ شروع ہوگئی ہے کہ ایک پرائیویٹ کمپنی کتنا سٹریس دیتی ہے ورکرز کو۔
جس مُلک میں استعفی دے کر بھاگنے والے جسٹس صاحبان سولہ کروڑ روپے پینشن وصول کر کے گھر جاتے ہوں بجلی گیس پانی پیٹرول سیکورٹی کے 4 پولیس اہلکار تاحیات لیتے ہوں
پانچ سو لیٹر پیٹرول تاحیات لیتے ہوں اُس مُلک کے شودرلوگوں کو ریاست مضبوط کرنے کا درس دیا جا رہا ہے سبحان اللہ
آئندہ نیشنل اسمبلی کا ووٹ ن لیگ کے لئے ختم شد !
ہم نے ووٹ نواز شریف کے وزیر اعظم بننے کے لئے دیا تھا ۔ شہباز شریف کے لئے نہیں ۔
عوام کو دو ہفتے ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا کر آج پیٹرول مہنگا کر دیا !
یہ صاحب صرف اشرافیہ کے وزیر اعظم ہیں ۔ غریب عوام کے نہیں ۔
پٹرول کی قیمتیں پورا ایک ماہ سے ذیادہ تاریخ کی کم ترین سطح پر رھیں لیکن اس حکومت نے عوام کو اس کا فائدہ عالمی مارکیٹ کے حساب سے نہیں پہنچایا ،عوام انتظار کرتی رھی لیکن یہ انتظار کوئی ریلیف کی خبر نا لایا،اب جب جنگ شروع ھوئے دو ھی دن ھوئے تو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھا دی گئیں ،اس بڑھوتری کا دفاع ھم سے نا ھوپائے گا۔معذرت
دنیا میں فرعون سے بھی بدتر حکومت نون لیگ کی موجودہ شہباز شریف والی حکومت ہے جب سستا کرنا ہوتا ایک دو روپے مر مر کر کرتے جب مہنگا کرنا ہوتا تو بارہ پندرہ روپے کرتے ہیں پیٹرول 310 روپے لیٹر کر دیا ہے ابھی عالمی منڈی میں مہنگا نہی ہوا اور ایک دن میں یہ مہنگا کر بھی چکے تین ہفتے سستا پیٹرول تھا وہ مہنگا بیچتے رہے
ان پر روز ویسے لعنت بھیجیں جیسے شیطان پر بھیجتے ہیں
الیٹ کا معاملہ ہو تو قانون موم کی ناک اور ثاقب نثار اور شہباز شریف ایک ہو جاتے ہیں جو کام ثاقب نثار نے بطور چیف جسٹس سر انجام دیا وہی شہباز شریف بطور وزیراعظم کر رہے ہیں
ون کانسٹیٹیعشن کے الیٹ کے اپارٹمنٹ پر پہلے کمیٹی بنائی اب قانونی حیثیت جانچنے کے لئے جے آئی ٹی بنا دی ہے
جبکہ عدالتیں بہت دفعہ اس عمارت کو غیر قانونی کہہ چکی مگر یہ ماورائے عدالت ھے آئی ٹی بنا کر معاملہ ہمیشہ کے لئے سرد خانے میں ڈال دیا ہے
بری امام میں غریب کی بستیاں گرانے والی خاتون افسر کو سول ایوارڈ اور الیٹ کی بلڈنگ کی دفعہ الٹا لیٹ جانے والوں کو کیا کہتے ہیں ؟
حکومت نے جیٹ فیول کی قیمت میں 7 روپے 15 پیسے فی لیٹر کمی کردی جیٹ فیول کی نئی قیمت 231.72 پیسے فی لیٹر ہوگئی
ماہانہ تیس ہزار روپے کمانے والا اپنے موٹرسائیکل میں پیٹرول 299.50 فی لیٹر پیٹرول ڈلوائے گا اور LPG کا سلنڈر 500 روپے کلو کے حساب سے بھروائے گا سبحان اللہ
بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں 25 ارب روپے کی مالی بے ضابطگیاں، 5 ہزار 558 خواتین کا شوہر ایک ہی شخص نکلا، 12 ہزار سرکاری ملازمین 51 کروڑ لے گئے، سرکاری ملازمین طالبعلم بن کر پیسے بٹورتے رہے۔۔!!
آئیں واپس آمریت/بادشاہت کی طرف چلیں👇👇👇👇
متنازع PTA ترمیمی بل کے ذریعے ایک اور واردات/ڈاکہ ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے جس پر ابھی تک قوم کا دھیان نہیں پڑھا۔
اس متنازع ترمیمی بل کے ذریعے مرکزی قانون کی دفعہ 43 میں ترمیم کر کے وفاقی حکومت کا کردار بھی ختم کر دیا گیا ہے اور صرف اسے وزیر اعظم تک محدود کر دیا گیا ہے یعنی ایک شخص مینیج کرنا، ہینڈل کرنا آسان ہوتا ہے۔ زیر نظر تصویر کو غور سے دیکھیں، وفاقی حکومت کے لفظ کو وزیر اعظم کے لفظ سے تبدیل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ مافیا نے سوچا کہ اگر وفاقی حکومت کا لفظ قانون میں برقرار رہا ہے تو اس کا مطلب وفاقی کابینہ ہوگا اور اگر ہماری کوئی واردات یا ڈاکہ مارنے کا منصوبہ وفاقی کابینہ میں گیا تو ممکن ہے کہ کم از کم کوئی ایک دو غیرت مند کابینہ اراکین کھپ ڈال دیں لہذا یہ رولا ہی ختم کریں اور وفاقی کابینہ کا کردار ختم کرکے صرف فرد واحد یعنی وزیر اعظم کی منظوری لکھ دیں۔
اس مجوزہ ترمیم کے بعد تو یہ تاثر بھی مضبوط ہوتا ہے کہ اکیلی شیزا فاطمہ یا پی پی MNAs ملوث نہیں بلکہ شہباز شریف کو بھی اس جنگل کے قانون جیسا بل پاس کروانے پر مکمل آن بورڈ لیا گیا ہے۔
نوٹ:- سپریم کے فیصلے PLD 2016 SC 808 مصطفی ایمپیکس کیس میں وزیر اعظم کے انفرادی کردار کی تشریح کر دی گئی ہے۔ وزیر اعظم کا انفرادی حیثیت میں کوئی کام وفاقی حکومت کا کام ہی سمجھا جائیگا اور اس کیلئے کابینہ سے منظوری لازمی قانونی تقاضا ہے، وزیر اعظم کا انفرادی کردار زیرو کر دیا گیا ہے۔ اس فیصلے کی تشریح کی روشنی میں اگر PTA ترمیمی بل میں وفاقی حکومت کی جگہ وزیر لفظ تبدیل کر بھی دیا جائے تو کوئی فرق نہیں پڑے گا
زبردستی کرایہ دار بنانے کا طریقہ۔۔۔۔
قومی اسمبلی میں ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی فرح گوگیوں اور گوگوں نے PTA کے متنازع ترمیمی بل میں زبردستی کرایہ دار کی شق 5 بی ii بھی متعارف کرائی ہے جس کے تحت ٹیلی کام کمپنی اور شہری رضامندی کے ساتھ جگہ کرایہ طے کر سکتے ہیں تاہم اگر کرایہ طے ہونے میں اختلاف ہوتا ہے تو معاملہ حکومت کو بھجوایا جائیگا۔۔۔
اس شق میں پہلی خامی کہ معاملہ حکومت کو بھجوائے گا کون؟
دوسری خامی کہ حکومت کو آئین کے آرٹیکل 23/24 کی موجودگی میں یہ اختیار کیسے دیا جا سکتا ہے کہ وہ کسی شہری کی جائیداد کے کرایہ کا تعین کریں۔
تیسری خامی پورے بل میں کہیں بھی appreciate government کی تعریف اور تشریح نہیں کی گئی۔
چوتھی خامی کہ پورے بل میں جائیداد کے مالک کے حقوق کا کہیں تحفظ نہیں لکھا ہوا۔
پانچویں خامی کہ کسی بھی خلاف ورزی پر جائیداد کے مالک کو تو مافیاز کی نوکری کرنے والی حکومت یا سیکریٹری 5 کروڑ تک جرمانہ کر سکتا ہے لیکن یہ کہیں نہیں لکھا ہوا کہ کسی بھی خلاف ورزی پر ٹیلی کام کمپنی کو بھی جرمانہ ہوگا۔
Ants can build living bridges to cross rivers
Thousands of ants link their bodies together and continuously adjust the structure to help the colony reach the other side safely
جب وزارتیں سرکاری بابوؤں کے حوالے کرکے آپ صرف گاڑی پر جھنڈا لگانے اور وزارت کے مزے لوٹنے میں لگے ہوں تو ایسے ہی عوام دشمن بل آپکے علم میں لائے بغیر تیار ہو جاتے ہیں۔
وزیر پیٹرولیم نے ہی کہا تھا کہ ہمارے پاس 1 ماہ کا ذخیرہ موجود ہے اور ساتھ ہی 55 روپے فی لیٹر اضافہ کر دیا تھا اس وقت نہ جمعے کا نہ ہفتے اتوار، پیر منگل اور نہ ہی بدھ جمعرات کا انتظار کیا تھا
مگر اب ایک ہفتہ ہوگیا عالمی منڈی میں خام تیل مسلسل کم ہو رہا ہے اور وہی منسٹر صاحب فرما رہے ہیں جمعے تک انتظار کریں تاکہ غریب پیٹرولیم کمپنیوں کو نقصان کم سے کم ہو...!
عوام کی کھال اتارنی ہے بس ،، چاہے جنگ سے پہلے ہو یا بعد میں ۔
راولپنڈی تھانہ گنج منڈی کے سامنے ایک گلی کے اندر ایک کاروباری شخص نے لوہے کا کنٹینر بنا کر رکھا ہوا ہے جس سے ساری گلی بند ہے انتظامیہ کو چاہیے کہ اس کا کنٹینر یہاں سے اٹھا کر گلی کو کھلا کیا جائے کیونکہ اپ دیکھ سکتے ہیں جو موٹر سائیکل سوار گلی سے کیسے گزر رہے ہیں حیرت ہے انتظامیہ کو مین بازار کے اندر قبضہ مافیا نظر نہیں اتا ہے اور سامنے کھڑی ریڑھیاں ان کو نظر آجاتی ھیں۔
پاکستان کی ضرورت کی نوے فیصد ایل پی جی ملک کے اندر پیدا ہوتی ہے جس کی پیداواری لاگت، ٹھیکے کا خرچہ ڈال کے، چھبیس روپے فی کلو گرام ہے۔ تا ہم اوگرا کہتی ہے کہ مقامی تیار کردہ ایل پی جی بھی عالمی قیمت یعنی ساڑھے تین سو روپے پر خریدی اور بیچی جائے۔ اگر وفاقی کابینہ کے ایک رکن کو اس امر کا نہیں پتہ تو اندازہ لگا لیں کہ ملکی معاملات کیسے لوگوں کے ہاتھ میں ہیں۔
اللہ پاکستان پر رحم کرے
🚨 بھارت میں ایک مسلم منیجر کے اپنے ہی ماتحت کے ہاتھوں نہایت سفاکانہ قتل نے ایک بار پھر وہاں مسلمانوں کی سلامتی اور تحفظ کے حوالے سے سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
جو لوگ بھارت اور مقبوضہ کشمیر کو "دودھ اور شہد کی نہریں بہنے والی جنت" بنا کر پیش کرتے ہیں، انہیں ایسے واقعات پر بھی نظر ڈالنی چاہیے۔ زمینی حقائق اکثر سیاسی نعروں اور خوشنما دعوؤں سے مختلف ہوتے ہیں۔