ایئر پورٹ پر اوور سیز پاکستانی سے نامناسب رویہ اور رشوت کا مطالبہ
میرا نام محمد ارشد ہے اور میں گزشتہ 16 سال سے یورپ میں مقیم ہوں۔ میں 11 مئی 2026 کو فلائٹ PK-750 کے ذریعے پاکستان آیا تھا۔ میری واپسی کی فلائٹ PK-749 مورخہ 21 جون 2026 کو تھی۔
میں تقریباً 9:00 بجے ایئرپورٹ پہنچا۔ اندر داخل ہوتے ہی میری ملاقات ایک افسر جناب ارشد خالد سے ہوئی۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ میں لیٹ ہو چکا ہوں اور مجھ سے انتہائی غیر مہذب اور نامناسب انداز میں بات کی۔( جیسا کہ تصویر میں بھی ان کا انداز دیکھا جا سکتا ہے) حالانکہ میرے پہنچنے کے بعد بھی کئی دوسرے مسافروں کی بورڈنگ جاری تھی اور وہ میرے بعد ایئرپورٹ میں داخل ہوئے تھے۔
میں نے مؤدبانہ طور پر انہیں بتایا کہ میری فلائٹ کا مقررہ وقت 11:45 بجے تھا اور اس وقت صرف 9:00 بجے تھے۔ بظاہر فلائٹ کے وقت میں ایک گھنٹے کی تبدیلی کی گئی تھی، لیکن مجھے اس تبدیلی کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں دی گئی تھی۔
اس کے باوجود جناب ارشد خالد بار بار یہ کہتے رہے کہ میں لیٹ ہوں اور مجھے فلائٹ میں سوار ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی لیکن پھر 20 ہزار مانگ لیئے جس پر جب میں نے رقم دینے سے انکار کیا تو انہوں نے مجھے بورڈنگ کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ اور کہا کہ 20 ہزار کے بغیر سوچنا بھی مت
میں نے کئی منٹ تک انہیں سمجھانے کی کوشش کی لیکن وہ نہ مانا اور میں سفر نہ کر سکا، میرا ٹکٹ ضائع ہو گیا، اور مجھے پورے دن شدید ذہنی اذیت، پریشانی اور شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔
میں گزشتہ 16 سال سے یورپ میں مقیم ہوں اور میرے پاس تمام ضروری سفری دستاویزات موجود ہیں۔ ایک فرد کے غیر مناسب رویے کی وجہ سے مجھے مالی نقصان اور شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
مجھے امید ہے کہ اس معاملے کی مکمل تحقیقات اور انکوائری کر کے مناسب کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔اوور سیز پاکستانی
محمد ارشد
ٹکٹ نمبر: 2142431511028
آج پاکپتن کا بہشتی دروازہ کھولا گیا،یہ پانچ دن عشاء اور فجر کے درمیان کھلا رہے گا۔
روزانہ اس دروازے سے ڈیڑھ لاکھ لوگ گزریں گے جن کا یہ ماننا ہے کہ جو شخص ایک بار اس دروازے سے گزرا اس کے سبھی گناہ معاف ہونگے،یہ جنتی دروازہ ہے ۔
عالم اسلام میں گناہ بخشوانے کی یہ خصوصی سہولت و رعایت پاکستانیوں کے ہاتھ اور حصے میں آئی ہے ۔
مسجد الحرام کے 243 دروازے،مسجد نبوی شریف کے 110 دروازے ،قبلہ اوّل بیت المقدس کے 11 دروازے مسلمانوں کے تینوں مقدسات کے مجموعی 364 دروازوں میں سے کسی دروازے کے حصے میں یہ “سعادت “ نہ آئی کہ آدمی صرف نیچے سے گزرے اور گناہوں سے دھل جائے۔
میں یہ سوچ رہا ہوں کہ تیرہویں صدی سے پہلے اس خطے کے لوگ گناہ بخشوانے کے لئے کیا کرتے ہونگے ؟
جنت کے اس دروازے پر بھیڑ کی وجہ سے 2021 میں 27 افراد جاں بحق ہوئے تھے جب کہ 2010 میں ایک خودکش بمبار کو بھی باب جنت سے گزر کر، چھ افراد کو ہمراہ لیکر، بزعم خود جنت میں جانے کا “شرف” حاصل ہوا تھا۔
جنت کا یہ واحد دروازہ ہے جس پر رضوان اور دیگر فرشتے نہیں بلکہ پنجاب پولیس تعینات ہے۔۔۔سالی
منقول
جب سے مریم نواز وزیراعلی بنی ھیں پورے پنجاب میں ایسے ہی کام ہو رہا ھے۔ ہر بوسیدہ، پرانی اور گندی جگہوں کو صاف کر کے انسانوں کے رہنے کے قابل بنایا جا رہا ھے۔