دلوں سے غم مٹا تا ہے، محمدﷺ نام ایسا ہے۔
نگر اجڑے بساتا ہے، محمد ﷺ نام ایسا ہے۔
کوئ یعقوب علیہ وسلم سے پوچھے کہ یوسف علیہ وسلم مل گئی کیسے ۔ یہ بچھڑوں کو ملاتا ہے، محمد ﷺ نام ایسا ہے۔
انہی کے نام سے پائ فقیر وں نے شہنشاہی۔ خدا سے بی ملاتا ہے، محمدﷺ نام ایسا ہے۔
حضرت عائشہ ؓ نے بیان کیا:
الله کی قسم! نبی کریم ﷺ کے ہاتھ نے کسی عورت کا ہاتھ بیعت لیتے وقت کبھی نہیں چھوا. صرف آپ اُن سے زبانی بیعت لیتے تھے کہ آیت [الممتحنة 60:12] میں مذکورہ باتوں پر قائم رہنا.
بخاری 4891، 5288، 7214، 2713
(مسلم 4835؛ ماجہ 2875؛ ترمذی 3306؛ ابوداؤد 2941)
معقل بن یسار ؓ سے مرفوعا مروی ہے كہ، رسول الله ﷺ نے فرمایا:
كسی آدمی كے سر میں لوہے كی کیل ٹھونک دی جائے، یہ اُس كے لئے اس بات سے بہتر ہے كہ وہ ایسی عورت كو چھوئے جو اُس كے لئے حلال نہیں (نامحرم ہو).
السلسلة الصحيحة 1657
(المعجم الکبیر طبرانی 16880)
حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ،
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
’’ سُبْحَانَ اللہِ ، وَالْحَمْدُلِلہِ ، وَلَا اِلَٰہ اِلَّا اللہُ وَاللہُ اَکْبَرُ ، پڑھ لینا مجھے پوری کائنات (کے مل جانے) سے زیادہ پسند ہے ۔‘‘
(مشکوٰۃ المصابیح : 2295)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’ جو کوئی علم حاصل کرنے کے لیے کسی راہ پر چلتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس کے لیے جنت کا راستہ آسان فرما دیتا ہے ۔ اور جسے اس کے عمل نے پیچھے رکھا اس کا نسب اسے آگے نہیں بڑھا سکتا ۔‘‘
(سنن ابی داؤد، ۳۶۴۳)
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا:
میری امت میں میرے ساتھ سب سے زیادہ محبت کرنے والوں میں وہ لوگ (بھی) ہیں جو میرے بعد ہوں گے ، ان میں سے (ہر) ایک یہ چاہتا ہوگا کہ کاش! اپنے اہل وعیال اور مال کی قربانی دے کرمجھے دیکھ لے۔
(مسلم، ۷۱۴۵)
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
رب کی رضا والد کی رضا میں ہے اور رب کی ناراضگی والد کی ناراضگی میں ہے۔
(جامع ترمذی : 1900)
رسول الله ﷺ نے فرمایا:
الله کے نزدیک کسی علاقے کی سب سے زیادہ پسندیدہ جگہیں اُس کی مساجد ہیں، اور الله کے نزدیک کسی علاقے کی سب سے زیادہ ناپسندیدہ جگہیں اُس کے بازار ہیں.
مسلم 1528
(ابن حبان 1600؛ ابن خزیمہ 1293؛ مشکوٰۃ 696)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’ جو کوئی علم حاصل کرنے کے لیے کسی راہ پر چلتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس کے لیے جنت کا راستہ آسان فرما دیتا ہے ۔ اور جسے اس کے عمل نے پیچھے رکھا اس کا نسب اسے آگے نہیں بڑھا سکتا ۔‘‘
(سنن ابی داؤد، ۳۶۴۳)
ایک بار نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنا بچاؤ (اسلحہ ، ڈھالیں) تھام لو ! صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے عرض کی کیا دشمن آگیا ہے کہ ہم اپنے ہتھیار اور بچاؤ اختیار کرلیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دشمن تو نہیں آیا لیکن تم جہنم سے اپنا بچاؤ اختیار کرلو
👇
(اور وہ یہ ہے) کہ تم کہو
*سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَر*ُ.
کیونکہ یہ چیز آگے قیامت کے دن کام آنے والی اور نجات دلوانے والی ہوگی اور یہی باقی رہنے والی نیکیاں ہیں ۔
سنن الکبریٰ (امام نسائی) 10204-صحیح
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’ جو کوئی علم حاصل کرنے کے لیے کسی راہ پر چلتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس کے لیے جنت کا راستہ آسان فرما دیتا ہے ۔ اور جسے اس کے عمل نے پیچھے رکھا اس کا نسب اسے آگے نہیں بڑھا سکتا ۔‘‘
(سنن ابی داؤد، ۳۶۴۳)
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ اس طرح دعا فرماتے:
"اللَّهُمَّ ارْزُقْنِي شَهَادَةً فِي سَبِيلِكَ، وَاجْعَلْ مَوْتِي فِي بَلَدِ رَسُولِكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"
اے اللہ! مجھے اپنے راستے میں شہادت عطا کر اور میری موت اپنے رسول ﷺ کے شہر میں مقدر کر دے۔
(بخاری، ۱۸۹۰)
قالَ النبی ﷺ:
بیشک قیامت کے دن سے پہلے ایسے دن ہوں گے جن میں جہالت اتر پڑے گی، اور علم اٹھا لیا جائے گا، اور اس میں ہرج کثرت سے ہوگا، اور ہرج قتل ہے.
بخاری 7062، 7063
(مسلم 6788؛ ترمذی 2200؛ ماجہ 4050، 4051؛ مسند احمد 3817، 4306)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا فرماتے:
“اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْهُدَى وَالتُّقَى وَالْعَفَافَ وَالْغِنَى”
“اے اللہ! میں تجھ سے ہدایت کا طالب ہوں، تقویٰ کا طلب گار ہوں، پاکدامنی کا خواہشمند ہوں، مالداری اور بے نیازی چاہتا ہوں“۔
( جامع ترمذی،۳۴۸۹)
رسول الله ﷺ نے فرمایا:
اے قراء کی جماعت (قرآن و حدیث پڑھنے والو)! سیدھی راہ پر ثابت قدم رہو، اس لئے کہ تم سب سے آگے ہو. اور اگر تم دائیں بائیں چلے گئے تو تم بہت دور کی گمراہی میں گمراہ ہوجاؤ گے.
بخاری 7282
(مشکوٰۃ 274)
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایات ہیں کی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا روزانہ اپنے اوپر صدقہ کروں تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں صدقہ کیسے کروں، میرے پاس تو مال ہی نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا بیشک صدقات کے دروازے یہ ہیں
👇
اَللّٰہُ اَکْبَرُ، سُبْحَانَ اللّٰہِ، اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ، لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ اور اَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ
(یعنی ان اذکار کو پڑھنے پر صدقے کا ثواب ملتاے)
مسند احمد ٣٦١٤
حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا:
اللہ جس کے ساتھ خیر کا ارادہ کرتا ہے اسے دین کی سمجھ عطا فرما دیتا ہے اور میں تو صرف تقسیم کرنے والا ہوں اور دیتا اللہ ہے۔
(بخاری، ۷۳۱۲)
حضرت حسن بن علی ؓ فرماتے ہیں، میں نے رسول اللهﷺ کا یہ فرمان یاد کیا:
اُس چیز کو چھوڑ دو جو تمہیں شک میں ڈالے اور اُسے اختیار کرو جو تمہیں شک میں نہ ڈالے، کیونکہ سچائی میں اطمینان ہے اور جھوٹ میں شک ہے.
ترمذی 2518
(نسائی 5714؛ احمد 1723، 1727؛ المستدرک للحاكم 2169؛ مشکوٰۃ 2773)