Those are the believers, truly. For them are degrees [of high position] with their Lord and forgiveness and noble provision.
سچے ایمان والے یہ لوگ ہیں ان کے لئے بڑے درجے ہیں ان کے رب کے پاس اور مغفرت اور عزت کی روزی ہے ۔
Surat ul Anfaal
#Iran
Rabbi Is with Me”
A powerful Islamic anthem for those who walk through storms — yet refuse to break. Inspired by the Qur’anic verse, “إنّ مَعيَ ربّي سَيَهدين” (Indeed, my Lord is with me; He will guide me)(Quran 26:62).
Then fight (Strive) in the Way of Allah; you are not responsible except for your own soul and encourage the believers (Mü'min). Perhaps Allah will restrain (from you) the might and attack of those who disbelieve and Allah is Stronger in Might and Stronger in inflicting punishment
اسلامی معاشرت، نسوانی شرکت اور ایرانی تہذیبی ارتقا
ایرانی قوم کی رگِ جاں میں جو مذہبیت اور قومی حمیت کا سیلِ رواں موجزن ہے، اس کے اسباب محض سطحی نہیں، بلکہ ان کی جڑیں اس گہرائی میں پیوست ہیں جہاں مذہب، سیاست اور معاشرتی ذمہ داری ایک ہو جاتے ہیں۔ ایران کا یہ امتیاز ہے کہ اس نے 'قوتین' (خواتین) کو محض خانہ داری کے حصار میں مقید نہیں رکھا، بلکہ انہیں مذہب کی اقامت، ریاستی نظم و نسق، اور حتیٰ کہ دفاعی صفوں میں بھی ایک فعال اور ناگزیر جزو کی حیثیت دی ہے۔ ان کے نزدیک عورت صرف ایک گھریلو اکائی نہیں، بلکہ وہ تہذیبی کارخانہ ہے جہاں سے معاشرے کے فکری اور اخلاقی ڈھانچے تیار ہوتے ہیں۔ آیت اللہ خمینی کے جنازے میں خواتین کی والہانہ شرکت کوئی اتفاقی امر نہ تھا، بلکہ یہ اسی شعوری بیداری کا مظہر تھا جس نے ایران کو باقی مسلم دنیا سے ممیز کر دیا۔
اگر ہم تاریخ کی گرد آلود ورق گردانی کریں تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ یہ شمولیت کوئی 'جدید اختراع' نہیں، بلکہ اسلام کے عہدِ زریں کی بازیافت ہے۔ جب اسلام کا سورج طلوع ہوا تو کیا یہ حقائق ہم سے پوشیدہ ہیں کہ بی بی خدیجۃ الکبریٰؓ نے اپنی تمام تر دولت اور فہم و فراست کو اسلام کی سربلندی کے لیے وقف کر دیا تھا؟ کیا میدانِ احد میں حضرت نسیبہ بنت کعبؓ کا شمشیر بکف ہو کر رسولِ خداؐ کی حفاظت کرنا، یا بی بی عائشہ صدیقہؓ کا علم و حکمت کے میدان میں صحابہ کرامؓ کے لیے مرجعِ خلائق ہونا، اس بات کا ثبوت نہیں کہ اسلام میں عورت کی شرکت محض ایک اخلاقی ضرورت نہیں، بلکہ ایک تاریخی تقاضا ہے؟
آخر یہ شمولیت کیوں ناگزیر ہے؟ اس کا جواب تاریخ کے ارتقائی عمل میں مضمر ہے۔ معاشرہ ایک زندہ پیکر ہے؛ اگر اس کے ایک اہم حصے کو، جو کہ خود نسلِ نو کا معمار ہے، فکر و عمل کے دھاروں سے کاٹ کر گوشہ نشین کر دیا جائے، تو گویا قوم اپنی آدھی قوت کو مفلوج کر دیتی ہے۔ عورت کی شمولیت محض ایک 'حق' نہیں، بلکہ ایک 'فرضِ کفایہ' ہے؛ کیونکہ جب تک قوم کی نصف آبادی قومی و مذہبی معاملات میں عملی شریک نہیں ہوگی، تب تک وہ 'قومی حمیت' اور 'مذہبی بصیرت' نئی نسلوں میں منتقل نہیں ہو سکے گی، جو کسی بھی ریاست کی بقا کے لیے شرطِ اول ہے۔
اس کے برعکس، آج عالمِ اسلام کے بیشتر خطوں نے روایت پسندی کی آڑ میں صنفِ نازک کو مذہبی و قومی شعائر کے دائرے سے باہر کر دیا ہے۔ وہاں جنازے، جمعہ اور دیگر عوامی تقریبات محض مردوں کی اجارہ داری بن کر رہ گئے ہیں۔ حالانکہ جس معاشرے کی نصف آبادی فکر و عمل سے لاتعلق ہو جائے، وہ کبھی اقوامِ عالم میں اپنی کھوئی ہوئی عظمت دوبارہ حاصل نہیں کر سکتا۔ ایران نے اس جمود کو توڑ کر ثابت کیا کہ جب تک قوم کی معمار، یعنی عورت، قومی اور مذہبی دھارے میں عملی طور پر شامل نہ ہو، تب تک نہ تو قومی حمیت پختہ ہو سکتی ہے اور نہ ہی مذہب کا حقیقی روحِ رواں معاشرتی زندگی میں نمایاں ہو سکتا ہے۔ پس، عورت کی شمولیت کا مطالبہ دراصل اسی بنیادی روح کی بحالی ہے جس نے اسلام کو ایک متحرک تہذیب بنایا تھا۔ جب عورت عملی طور پر مذہبی اور قومی مسائل میں شامل ہوگی تو آنے والی نسل کو بھی یہی سکھائے گی لیکن اگر عورت نے گھر میں ہی رہنا ہے اور قومی اور مذہبی معاملات میں وہ شامل ہی نہیں تو وہ آنے والی نسل کو کیا سکھائے گی
یہ جدائی صرف نگاہوں کی ہے، روحوں کی نہیں۔
بعض ہستیاں دنیا سے رخصت ہو کر بھی رخصت نہیں ہوتیں۔ وہ اپنے رب کے قرب میں ہوتے ہوئے بھی اپنے نور، اپنی نسبت اور اپنی یاد سے دلوں کو زندگی عطا کرتی رہتی ہیں۔
اے ولیِ امرِ مسلمین، سید مجتبیٰ! دلی عرضِ تسلیت۔
Pakistani famous social media influencer Mooroo reflects on his deeply moving experience at the funeral of Sayyed Ali Khamenei, an experience that profoundly changed his perspective.
سید آیت اللہ خامنہ ائی رحمہ اللہ علیہ سید الساجدین امام زین العابدین علیہ السلام کی اولاد سے ہیں ، یعنی آل رسول ﷺ ہیں کہ جن پر نماز میں درود پڑھا جاتا ہے، وہ ناعاقبت اندیش اور جاہل لوگ کہ جو سید آیت اللہ خامنہ ائی رحمہ اللہ علیہ کی توہین کے مرتکب ہو رہے ہیں
یقیناً یہ عمل ان کی آخرت کی بربادی کا سبب بنے گا اور وہ حشر میں آقا کریم ﷺ کی زیارت سے محروم رہیں گے
خدا کے بندو !
سیاسی و مذہبی اختلافات جیسے مرضی ہوں
رسول اللہ ﷺ کی آل کا احترام کسی صورت کم نہیں ہونا چاہیے
#خامنهای_ضحاک_کشیدیمت_زیرخاک